سوالات از قارئین
یہوواہ کے گواہ انتخاب میں حصہ لینے کی بابت کیا نظریہ رکھتے ہیں؟
اِس معاملے کی بابت بائبل میں واضح اُصول بیان کئے گئے ہیں جو خدا کے خادموں کو مناسب نظریہ قائم کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ تاہم، انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف بظاہر کوئی اُصول نظر نہیں آتا۔ مثال کے طور پر، اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ بورڈ آف ڈائرؔیکٹرز کو اپنی کارپوریشن کو متاثر کرنے والے فیصلوں پر پہنچنے کیلئے ووٹ کیوں نہیں ڈالنے چاہئیں۔ یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیائیں اکثر اپنے اجلاسوں کے اوقات کا تعیّن کرنے اور کلیسیائی فنڈز کے استعمال کے سلسلے میں فیصلے کرنے کیلئے ہاتھ اُٹھا کر ووٹ دیتے ہیں۔
تاہم، سیاسی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی بابت کیا ہے؟ بِلاشُبہ، بعض جمہوری ممالک میں، تقریباً ۵۰ فیصد آبادی الیکشن والے دن ووٹ ڈالنے کیلئے نہیں جاتی۔ جہاں تک یہوواہ کے گواہوں کا تعلق ہے تو وہ ووٹ ڈالنے کے سلسلے میں دوسروں کے حق میں دخلاندازی نہیں کرتے؛ اِسکے علاوہ وہ کسی بھی طریقے سے سیاسی انتخابات کے خلاف مہم نہیں چلاتے۔ وہ ان انتخابات میں منتخب ہونے والے اربابِاختیار کا احترام کرتے ہیں اور اُنکے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱۳:۱-۷) جہاں تک الیکشن میں کھڑے ہونے والے کسی شخص کو ووٹ دینے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں ہر یہوواہ کا گواہ اپنے بائبل سے تربیتیافتہ ضمیر اور خدا اور ملک کیلئے اپنی ذمہداری کو سمجھتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے۔ (متی ۲۲:۲۱؛ ۱-پطرس ۳:۱۶) یہ ذاتی فیصلہ کرتے وقت گواہ کئی ایک پہلوؤں پر غور کرتے ہیں۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یسوع نے اپنے پیروکاروں کی بابت کہا تھا: ”جس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں۔“ (یوحنا ۱۷:۱۴) یہوواہ کے گواہ اس اُصول کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ وہ ”دُنیا کے“ نہ ہوتے ہوئے دُنیا کے سیاسی معاملات میں غیرجانبدار رہتے ہیں۔—یوحنا ۱۸:۳۶۔
دوسری بات یہ ہے کہ پولس رسول نے اپنا حوالہ ایک ”ایلچی“ کے طور پر دیا جو اپنے زمانے کے لوگوں کے سامنے مسیح کی نمائندگی کرتا تھا۔ (افسیوں ۶:۲۰؛ ۲-کرنتھیوں ۵:۲۰) یہوواہ کے گواہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اِس وقت یسوع مسیح خدا کی آسمانی بادشاہت کا تختنشین بادشاہ ہے اور اُنہیں ایلچیوں کے طور پر قوموں کے سامنے اس کا اعلان کرنا چاہئے۔ (متی ۲۴:۱۴؛ مکاشفہ ۱۱:۱۵) سفیروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ جن ممالک میں اُنہیں بھیجا جاتا ہے وہ وہاں غیرجانبدار رہیں اور وہاں کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے سے گریز کریں۔ خدا کی آسمانی بادشاہت کے نمائندوں کے طور پر یہوواہ کے گواہ بھی اسی طرح کی ذمہداری محسوس کرتے ہیں کہ وہ جس بھی ملک میں رہتے ہیں اُنہیں وہاں کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔
تیسرا قابلِغور پہلو یہ ہے کہ جو لوگ کسی شخص کو کسی عہدے کیلئے منتخب کرنے کیلئے ووٹ ڈالتے ہیں اُنہیں اُسکے افعال کا بھی ذمہدار بننا پڑتا ہے۔ (مقابلہ کریں ۱-تیمتھیس ۵:۲۲۔) مسیحیوں کو احتیاط کیساتھ اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آیا وہ یہ ذمہداری اُٹھانا چاہتے ہیں۔
چوتھی بات یہ ہے کہ یہوواہ کے گواہ اپنے مسیحی اتحاد کو بہت عزیز رکھتے ہیں۔ (کلسیوں ۳:۱۴) جب مذاہب سیاست میں ملوث ہو جاتے ہیں تو یہ اُسکے اراکین میں نفاق پر منتج ہوتا ہے۔ یسوع مسیح کی نقل میں، یہوواہ کے گواہ سیاست میں اُلجھنے سے گریز کرتے ہیں اور یوں اپنے مسیحی اتحاد کو برقرار رکھتے ہیں۔—متی ۱۲:۲۵؛ یوحنا ۶:۱۵؛ ۱۸:۳۶، ۳۷۔
پانچویں اور آخری بات یہ ہے کہ سیاست سے الگ رہنا یہوواہ کے گواہوں کو بادشاہت کے اہم پیغام کیساتھ ہر طرح کے سیاسی گروہوں کے لوگوں کے سامنے آزادانہ کلام کرنے کے قابل بناتا ہے۔—عبرانیوں ۱۰:۳۵۔
مذکورہبالا صحیفائی اُصولوں کے پیشِنظر، کئی ممالک میں یہوواہ کے گواہ سیاسی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے سلسلے میں اپنا ذاتی فیصلہ کرتے ہیں اور اُنکی اِس آزادی کو ملکی قانون کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، اگر قانون اپنے شہریوں سے ووٹ ڈالنے کا تقاضا کرتا ہے تو کیا ہو؟ ایسی صورتحال میں، ہر گواہ سوچسمجھ کر بائبل پر مبنی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نپٹے گا۔ اگر کوئی شخص پولنگ بوتھ تک جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اُسکا ذاتی فیصلہ ہے۔ پولنگ بوتھ کے اندر جا کر وہ کیا کرتا ہے یہ اسکا اور اُسکے خالق کا معاملہ ہے۔
نومبر ۱۵، ۱۹۵۰ کے دی واچٹاور نے ۴۴۵ اور ۴۴۶ صفحات پر بیان کِیا: ”اگر قیصر شہریوں کیلئے ووٹ ڈالنے کو لازمی قرار دیتا ہے . . . تو [گواہ] ووٹ ڈالنے کی جگہ تک جا سکتے ہیں اور پولنگ بوتھس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اُنہیں بیلٹ پیپر پر نشان لگانا یا اپنا مؤقف تحریر کرنا ہوتا ہے۔ رائےدہندگان اپنے بیلٹ پیپر پر جو چاہیں لکھ سکتے ہیں۔ لہٰذا، یہاں خدا کو حاضروناظر جان کر گواہوں کو اُسکے احکامات اور اپنے ایمان کی مطابقت میں عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری ذمہداری نہیں ہے کہ اُنہیں بتائیں کہ بیلٹ پیپر کیساتھ کیا کریں۔“
اُس صورت میں کیا ہے اگر ایک مسیحی خاتون کا بےایمان شوہر اصرار کرتا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کیلئے جائے؟ پس وہ اپنے شوہر کی تابع ہے جیسے مسیحی اعلیٰ حکومتوں کے تابع ہیں۔ (افسیوں ۵:۲۲؛ ۱-پطرس ۲:۱۳-۱۷) اگر وہ اپنے شوہر کی تابعداری کرتے ہوئے پولنگ بوتھ تک چلی جاتی ہے تو یہ اُسکا ذاتی فیصلہ ہے۔ کسی کو بھی اُس پر تنقید نہیں کرنی چاہئے۔—مقابلہ کریں رومیوں ۱۴:۴۔
تاہم، ایسے ملک کی بابت کیا ہے جہاں قانوناً ووٹ ڈالنے کی پابندی نہیں ہے مگر جو لوگ پولنگ بوتھ تک نہیں جاتے اُنکے خلاف عداوت کے شدید جذبات کا اظہار کِیا جاتا ہے—شاید اُنہیں جسمانی طور پر خطرہ لاحق ہے؟ یا ایسی صورت میں کیا ہو جب لوگوں کو قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے پابند نہ ہونے کے باوجود، پولنگ بوتھ تک نہ جانے کیلئے کسی نہ کسی طرح سے سخت سزا دی جاتی ہے؟ ایک مسیحی کو ایسی اور اسی طرح کی دیگر حالتوں میں اپنے لئے فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ ”ہر شخص اپنا ہی بوجھ اٹھائیگا۔“—گلتیوں ۶:۵۔
شاید کچھ لوگ اس بات سے ٹھوکر کھائیں کہ اُن کے ملک میں الیکشن کے دوران بعض یہوواہ کے گواہ تو پولنگ بوتھس تک جاتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ شاید وہ کہیں کہ ’یہوواہ کے گواہ بااصول نہیں ہیں۔‘ تاہم، لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایسے معاملات میں جہاں ذاتی ضمیر کی بات آتی ہے وہاں ہر مسیحی کو یہوواہ خدا کے حضور اپنا ذاتی فیصلہ کرنا ہے۔—رومیوں ۱۴:۱۲۔
مختلف حالات کے پیشِنظر یہوواہ کے گواہ ذاتی فیصلے کرتے وقت اپنی مسیحی غیرجانبداری اور کلام کرنے کی آزادی کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ سب باتوں میں وہ یہوواہ خدا پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ اُنہیں قوت عطا کرے اور اُنہیں کسی بھی صورت میں اپنے ایمان کے سلسلے میں مصالحت کرنے سے محفوظ رکھے۔ یوں وہ زبورنویس کے الفاظ پر توکل ظاہر کرتے ہیں: ”تُو ہی میری چٹان اور میرا قلعہ ہے۔ اسلئے اپنے نام کی خاطر میری رہبری اور رہنمائی کر۔“—زبور ۳۱:۳۔