یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏3 ص.‏ 13-‏18
  • ‏’‏ناراستی کی دولت کے ذریعے دوست بنائیں‘‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏’‏ناراستی کی دولت کے ذریعے دوست بنائیں‘‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوؔواہ کیلئے ہدیہ
  • ہیکل کیلئے ہدیے
  • مسیحی وقتوں میں وسائل کا مناسب استعمال
  • دیانتدار مختار
  • سخاوت کی ایک مثال
  • ‏’‏ناراستی کی دولت کے ذریعے دوست بنائیں‘‏
  • اُس کے حضور کیوں دیں جس کے پاس سب کچھ ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
  • حقیقی دولت کی تلاش کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
  • سچی پرستش کو فروغ دینے کیلئے رضاکارانہ قربانی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • فیاضی خوشی بخشتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏3 ص.‏ 13-‏18

‏’‏ناراستی کی دولت کے ذریعے دوست بنائیں‘‏

‏”‏ناراستی کی دولت سے اپنے لئے دوست پیدا کرو .‏ .‏ .‏ جو تھوڑے میں دیانتدار ہے وہ بہت میں بھی دیانتدار ہے۔“‏—‏لوقا ۱۶:‏۹، ۱۰‏۔‏

۱.‏ مصرؔ سے اپنی رہائی کے بعد موسیٰؔ اور بنی اسرائیل نے کیسے یہوؔواہ کی حمد کی؟‏

معجزے کے ذریعے بچائے گئے—‏ایمان کو تقویت دینے والا کیا ہی تجربہ!‏ مصرؔ سے اسرائیل کے خروج کو قادرِمطلق یہوؔواہ کے علاوہ اور کسی سے منسوب نہیں کِیا جا سکتا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ موسیٰؔ اور اسرائیلیوں نے یہ گیت گایا:‏ ”‏خداوند میرا زور اور راگ ہے۔ وہی میری نجات بھی ٹھہرا۔ وہ میرا خدا ہے۔ میں اُسکی بڑائی کرونگا۔ وہ میرے باپ کا خدا ہے۔ میں اُسکی بزرگی کرونگا۔“‏—‏خروج ۱۵:‏۱، ۲؛ استثنا ۲۹:‏۲۔‏

۲.‏ جب انہوں نے مصرؔ کو چھوڑا تو یہوؔواہ کے لوگ اپنے ساتھ کیا لے آئے؟‏

۲ اسرائیل کو ملنے والی نئی آزادی مصرؔ میں انکی حالت سے کسقدر مختلف تھی!‏ اب وہ بِلا روک ٹوک یہوؔواہ کی پرستش کر سکتے تھے۔ اور وہ مصرؔ سے خالی ہاتھ نہیں نکلے تھے۔ موسیٰؔ بیان کرتا ہے:‏ ”‏بنی اسرائیل نے .‏ .‏ .‏ مصریوں سے سونے چاندی کے زیور اور کپڑے مانگ لئے۔ اور خداوند نے اُن لوگوں کو مصریوں کی نگاہ میں ایسی عزت بخشی کہ جو کچھ انہوں نے مانگا انہوں نے دے دیا۔ سو انہوں نے مصریوں کو لُوٹ لیا۔“‏ (‏خروج ۱۲:‏۳۵، ۳۶)‏ لیکن انہوں نے مصرؔ کی اس دولت کو کیسے استعمال کِیا؟ کیا یہ ’‏یہوؔواہ کو بزرگی دینے‘‏ پر منتج ہوئی؟ ہم اُن کے نمونے سے کیا سیکھتے ہیں؟—‏مقابلہ کریں ۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۱‏۔‏

یہوؔواہ کیلئے ہدیہ

۳.‏ اسرائیل کا جھوٹی پرستش کیلئے سونے کا استعمال یہوؔواہ کی طرف سے کس ردِعمل پر منتج ہوا؟‏

۳ کوہِ‌سیناؔ پر اسرائیل کیلئے ہدایات حاصل کرنے کے موسیٰؔ کے ۴۰ دن کے طویل قیام کے دوران، نیچے منتظر لوگ خودسر ہو گئے۔ اپنی سونے کی بالیاں اُتار کر، انہوں نے ہاؔرون سے کہا کہ پرستش کرنے کی خاطر ان کے لئے ایک بچھڑا بنائے۔ ہاؔرون نے انہیں ایک قربانگاہ بھی بنا کر دی اور دوسرے دن صبح سویرے، انہوں نے وہاں قربانیاں گذرانیں۔ کیا سونے کے اس استعمال نے انہیں انکے نجات‌دہندہ کا منظورِنظر بنایا؟ ہرگز نہیں!‏ یہوؔواہ نے موسیٰؔ سے کہا کہ ”‏اسلئے تُو اب مجھے چھوڑ دے کہ میرا غضب اُن پر بھڑکے اور میں انکو بھسم کردُوں۔“‏ صرف موسیٰؔ کی منت کے باعث یہوؔواہ نے قوم کو معاف کر دیا، اگرچہ سرکش سردار خدا کی طرف سے ایک وبا کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔—‏خروج ۳۲:‏۱-‏۶، ۱۰-‏۱۴، ۳۰-‏۳۵۔‏

۴.‏ ”‏یہوؔواہ کیلئے ہدیہ“‏ کیا تھا اور یہ کس نے پیش کِیا؟‏

۴ بعد میں، اسرائیل کے پاس موقع تھا کہ اپنی دولت کو اس طریقے سے استعمال کریں جس نے یہوؔواہ کو خوش کِیا۔ وہ ”‏یہوؔواہ کیلئے ہدیے“‏ لائے۔‏a سونا، چاندی، پیتل، آسمانی رنگ، مختلف رنگی ہوئی چیزیں، مینڈھوں کی کھالیں، تخس کی کھالیں اور کیکر کی لکڑی ان ہدیوں میں شامل تھیں جو مسکن کو تعمیر اور آراستہ کرنے کیلئے پیش کئے گئے۔ بیان ہماری توجہ ہدیہ دینے والوں کے رجحان کی طرف دلاتا ہے۔ ”‏جس کسی کے دلِ کی خوشی ہو وہ خداوند کا ہدیہ لائے۔“‏ (‏خروج ۳۵:‏۵-‏۹)‏ اسرائیل نے حد سے زیادہ جوابی عمل دکھایا۔ لہٰذا، ایک مفکر کے کہنے کے مطابق مسکن ”‏پُرجلال اور پُرجمال شان‌وشوکت“‏ کا نمونہ تھا۔‏

ہیکل کیلئے ہدیے

۵، ۶.‏ ہیکل کے سلسلے میں، داؔؤد نے اپنی دولت کو کیسے استعمال کِیا اور دوسروں نے کیسا جوابی‌عمل دکھایا؟‏

۵ اگرچہ اسرائیل کے بادشاہ سلیماؔن نے یہوؔواہ کی پرستش کیلئے ایک مستقل گھر کی تعمیر کا حکم دیا، تاہم، اسکا باپ داؔؤد، اس سلسلے میں وسیع تیاری کر چکا تھا۔ داؔؤد نے بڑی مقدار میں سونا، چاندی، پیتل، لکڑی اور قیمتی پتھر جمع کئے۔ داؔؤد نے اپنے لوگوں سے کہا:‏ ”‏چونکہ مجھے اپنے خدا کے گھر کی لو لگی ہے اور میرے پاس سونے اور چاندی کا میرا اپنا خزانہ ہے۔ سو میں اُسکو بھی اُن سب چیزوں کے علاوہ جو میں نے اُس مُقدس ہیکل کیلئے تیار کی ہیں اپنے خدا کے گھر کیلئے دیتا ہوں۔ یعنی تین ہزار قنطار سونا .‏ .‏ .‏ اور سات ہزار قنطار خالص چاندی عمارتوں کی دیواروں پر منڈھنے کیلئے۔“‏ داؔؤد نے دوسروں کو بھی فیاض بننے کی حوصلہ‌افزائی دی۔ جوابی‌عمل فراخدلانہ تھا:‏ زیادہ سونا، چاندی، پیتل، لوہا اور قیمتی پتھر۔ ”‏پورے دل سے“‏ لوگوں نے ”‏خداوند کیلئے دیا تھا۔“‏—‏۱-‏تواریخ ۲۲:‏۵؛‏ ۲۹:‏۱-‏۹‏۔‏

۶ اِن رضاکارانہ ہدیوں سے، اسرائیلیوں نے یہوؔواہ کی پرستش کیلئے گہری قدردانی کا اظہار کِیا۔ داؔؤد نے فروتنی سے دعا کی:‏ ”‏پر میں کون اور میرے لوگوں کی حقیقت کیا کہ ہم اسطرح سے خوشی خوشی نذرانہ دینے کے قابل ہوں؟“‏ کیوں؟ ”‏کیونکہ سب چیزیں تیری طرف سے ملتی ہیں اور تیری ہی چیزوں میں سے ہم نے تجھے دیا ہے۔ .‏ .‏ .‏ میں نے تو اپنے دل کی راستی سے یہ سب کچھ رضامندی سے دیا۔“‏—‏۱-‏تواریخ ۲۹:‏۱۴،‏ ۱۷‏۔‏

۷.‏ عاؔموس کے دنوں سے ہم متنبہ کرنے والا کونسا سبق سیکھتے ہیں؟‏

۷ تاہم، اسرائیل کے قبیلوں نے اپنے دلوں اور ذہنوں میں یہوؔواہ کی پرستش کو اوّلیت دینا جاری نہ رکھا۔ نویں صدی ق.‏س.‏ع.‏ تک، منقسم اسرائیل روحانی غفلت کا مجرم بن گیا تھا۔ اسرائیل کی دس قبائلی شمالی سلطنت کی بابت یہوؔواہ نے عاؔموس کی معرفت اعلان کروایا:‏ ”‏اُن پر افسوس جو صیوؔن میں باراحت اور کوہستانِ ساؔمریہ میں بے‌فکر ہیں۔“‏ اس نے انہیں ایسے آدمیوں کے طور پر بیان کِیا ”‏جو ہاتھی دانت کے پلنگ پر لیٹتے .‏ .‏ .‏ چارپائیوں پر دراز ہوتے .‏ .‏ .‏ گلّہ میں سے برّوں کو اور طویلہ میں سے بچھڑوں کو لے کر کھاتے ہو۔ .‏ .‏ .‏ جو پیالوں میں سے مے پیتے .‏ .‏ .‏ ہو۔“‏ لیکن انکی امارَت حفاظت نہ تھی۔ خدا نے آگاہ کِیا:‏ ”‏وہ پہلے اسیروں کیساتھ اسیر ہو کر جائینگے اور انکی عیش‌ونشاط کا خاتمہ ہو جائیگا۔“‏ ۷۴۰ ق.‏س.‏ع.‏ میں، اسرائیل نے اؔسور کے ہاتھوں تکلیف اٹھائی۔ (‏عاموس ۶:‏۱، ۴، ۶، ۷)‏ اور وقت آنے پر یہوؔداہ کی جنوبی سلطنت بھی مادہ‌پرستی کا شکار ہو گئی۔—‏یرمیاہ ۵:‏۲۶-‏۲۹‏۔‏

مسیحی وقتوں میں وسائل کا مناسب استعمال

۸.‏ جہاں تک وسائل کے استعمال کا تعلق ہے یوؔسف اور مریمؔ نے کونسا اچھا نمونہ پیش کِیا؟‏

۸ اس کے برعکس، بعد کے وقتوں میں خدا کے خادموں کی نسبتاً مفلس حالت نے بھی انہیں سچی پرستش کیلئے گرمجوشی کو ظاہر کرنے سے باز نہ رکھا۔ مریمؔ اور یوؔسف کو ہی لے لیں۔ قیصر اَوگوستُسؔ کے حکم کی تعمیل میں، وہ اپنے آبائی شہر، بیتؔ‌لحم گئے۔ (‏لوقا ۲:‏۴، ۵‏)‏ وہاں یسوؔع کی پیدائش ہوئی۔ چالیس دن بعد، یوؔسف اور مریمؔ پاک ہونے کی قربانی گذراننے کیلئے یرؔوشلیم میں ہی عبادتخانہ میں گئے۔ اپنی ادنیٰ مادی حالت کی علامت میں، مریمؔ نے دو چھوٹے پرندے پیش کئے۔ نہ اُس نے اور نہ ہی یوؔسف نے غربت کو قربانی نہ گذراننے کا بہانہ بنایا۔ اسکی بجائے، انہوں نے فرمانبرداری کیساتھ اپنے محدود وسائل کو استعمال کِیا۔—‏احبار ۱۲:‏۸؛‏ لوقا ۲:‏۲۲-‏۲۴‏۔‏

۹-‏۱۱.‏ (‏ا)‏ متی ۲۲:‏۲۱ میں یسوؔع کے الفاظ پیسے کے استعمال کے سلسلے میں ہمیں کونسی راہنمائی فراہم کرتے ہیں؟ (‏ب)‏ بیوہ کی طرف سے پیش‌کردہ چھوٹا سا ہدیہ بیکار کیوں نہ تھا؟‏

۹ بعد میں، فریسیوں اور ہیرودیوں نے یہ کہتے ہوئے یسوؔع کو پھنسانے کی کوشش کی:‏ ”‏پس ہمیں بتا۔ تُو کیا سمجھتا ہے؟ قیصرؔ کو جزیہ دینا روا ہے یا نہیں؟“‏ یسوؔع کے جواب نے اسکے فہم کو آشکارا کِیا۔ جو سکہ وہ اُسکے پاس لائے تھے اُسکا حوالہ دیتے ہوئے، یسوؔع نے پوچھا:‏ ”‏یہ صورت اور نام کس کا ہے؟“‏ انہوں نے جواب دیا:‏ ”‏قیصرؔ کا۔“‏ اس نے دانشمندی سے جواب دیا:‏ ”‏پس جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو۔“‏ (‏متی ۲۲:‏۱۷-‏۲۱‏)‏ یسوؔع جانتا تھا کہ سکہ جاری کرنے والے حکمران خراج ادا کرنے کی توقع کرتے تھے۔ لیکن وہاں اُس نے اپنے پیروکاروں اور دشمنوں دونوں کو یکساں طور پر یہ احساس دلایا کہ ایک سچا مسیحی ”‏جو خدا کا ہے خدا کو“‏ ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس میں کسی کے مادی اثاثوں کا مناسب استعمال بھی شامل ہے۔‏

۱۰ ایک واقعہ جو یسوؔع نے ہیکل میں دیکھا اسکی مثال پیش کرتا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے اس نے لالچی فریسیوں کو مجرم ٹھہرایا تھا جو ’‏بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھتے ہیں۔‘‏ ”‏پھر اس نے آنکھ اٹھا کر ان دولتمندوں کو دیکھا جو اپنی نذروں کے روپے ہیکل کے خزانہ میں ڈال رہے تھے،“‏ لوؔقا بیان کرتا ہے۔ ”‏اور [‏یسوؔع نے]‏ ایک کنگال بیوہ کو بھی اُس میں دو دمڑیاں ڈالتے دیکھا۔ اِس پر اُس نے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس کنگال بیوہ نے سب سے زیادہ ڈالا۔ کیونکہ اُن سب نے تو اپنے مال کی بہتات سے نذر کا چندہ ڈالا مگر اس نے اپنی ناداری کی حالت میں جتنی روزی اسکے پاس تھی سب ڈال دی۔“‏ (‏لوقا ۲۰:‏۴۶، ۴۷؛‏ ۲۱:‏۱-‏۴‏)‏ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ ہیکل قیمتی پتھروں سے آراستہ ہے۔ یسوؔع نے جواب دیا:‏ ”‏وہ دن آئینگے کہ ان چیزوں میں سے جو تم دیکھتے ہو یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہیگا جو گرایا نہ جائے۔“‏ (‏لوقا ۲۱:‏۵، ۶‏)‏ کیا اس بیوہ کا چھوٹا ہدیہ بیکار تھا؟ یقیناً نہیں۔ اُس نے اس وقت پر یہوؔواہ کے قائم‌کردہ انتظام کی حمایت کی۔‏

۱۱ یسوؔع نے اپنے سچے پیروکاروں کو بتایا:‏ ”‏کوئی نوکر دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھیگا اور دوسرے سے محبت یا ایک سے ملا رہیگا اور دوسرے کو ناچیز جانیگا۔ تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔“‏ (‏لوقا ۱۶:‏۱۳‏)‏ لہٰذا، اپنے مادی وسائل کے استعمال کے سلسلے میں ہم درست توازن کو کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟‏

دیانتدار مختار

۱۲-‏۱۴.‏ (‏ا)‏ مسیحی کن وسائل کے مختار ہیں؟ (‏ب)‏ آجکل یہوؔواہ کے لوگ کن نمایاں طریقوں سے وفاداری کیساتھ اپنی مختاری کو سرانجام دیتے ہیں؟ (‏پ)‏ آجکل خدا کے کام کی کفالت کیلئے پیسے کہاں سے آتے ہیں؟‏

۱۲ جب ہم اپنی زندگیاں یہوؔواہ کیلئے مخصوص کرتے ہیں تو درحقیقت ہم یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، ہمارے تمام وسائل، اُس کی ملکیت ہیں۔ تو پھر، جو کچھ ہمارے پاس ہے، ہمیں اُسے کیسے استعمال کرنا چاہئے؟ کلیسیا میں مسیحی خدمت پر گفتگو کرتے ہوئے، واچ ٹاور سوسائٹی کے پہلے صدر، بھائی سی.‏ٹی.‏ رسلؔ، نے لکھا:‏ ”‏ہر ایک کو اپنے وقت، اثرورسوخ، پیسے، وغیرہ کے سلسلے میں خداوند کی طرف سے خود کو مقررشُدہ مختار سمجھنا چاہئے اور ہر ایک کو اپنی ان صلاحیتوں کو مالک کے جلال کی خاطر حتی‌المقدور استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔“‏—‏دی نیو کریئشن، صفحہ ۳۴۵۔‏

۱۳ ”‏مختار میں یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ دیانتدار نکلے،“‏ ۱-‏کرنتھیوں ۴:‏۲ بیان کرتا ہے۔ ایک بین‌الاقوامی تنظیم کے طور پر، یہوؔواہ کے گواہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت مسیحی خدمتگزاری میں صرف کرنے سے، احتیاط کے ساتھ اپنی تعلیم دینے کی لیاقتوں کو فروغ دینے سے، اس بیان پر پورا اُترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزیدبرآں، ریجنل بلڈنگ کمیٹیوں کی زیرِہدایت رضاکاروں کی ٹیمیں، بخوشی اپنا وقت، قوت اور پرستش کیلئے خوبصورت کنگڈم ہال بنانے کی لیاقتیں پیش کرتے ہیں۔ اس سب سے، یہوؔواہ بہت خوش ہوتا ہے۔‏

۱۴ تعلیم دینے اور تعمیراتی کام کی اس وسیع مہم کی کفالت کیلئے پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ دلی خوشی سے دینے والوں کی طرف سے، جیسے کہ مسکن کی تعمیر کے دنوں میں بھی ہوا تھا۔ انفرادی طور پر، کیا ہم اس میں حصہ لے رہے ہیں؟ جس طریقے سے ہم اپنے مالی وسائل کو استعمال کرتے ہیں کیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہوؔواہ کی خدمت ہمارے لئے پہلی اُہمیت کی حامل ہے؟ پیسے کے معاملے میں، آئیے ہم دیانتدار مختار ثابت ہوں۔‏

سخاوت کی ایک مثال

۱۵، ۱۶.‏ (‏ا)‏ پولسؔ کے زمانے کے مسیحیوں نے کسطرح فیاضی دکھائی؟ (‏ب)‏ ہمیں اپنی زیرِبحث گفتگو کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏

۱۵ پولسؔ رسول نے مکدؔنیہ اور اؔخیہ کے مسیحیوں کے جذبۂ‌سخاوت کی بابت لکھا۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۲۶‏)‏ اگرچہ وہ خود بھی مصیبت‌زدہ تھے، تو بھی انہوں نے فوری طور پر اپنے بھائیوں کی امداد کیلئے عطیہ دیا۔ پولسؔ نے کرنتھسؔ کے مسیحیوں کی بھی اپنی زائد چیزوں میں سے دوسروں کی حاجت کو پورا کرنے کیلئے اسی طرح فیاضی سے دینے کیلئے حوصلہ‌افزائی کی۔ کوئی بھی واجب طور پر پولسؔ پر کچھ ہتھیانے کا الزام نہیں لگا سکتا تھا۔ اس نے لکھا:‏ ”‏جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹیگا اور جو بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹیگا۔ جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے نہ دریغ کر کے نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۸:‏۱-‏۳،‏ ۱۴؛‏ ۹:‏۵-‏۷،‏ ۱۳‏۔‏

۱۶ پوری دنیا میں بادشاہتی کام کیلئے ہمارے بھائی اور دلچسپی رکھنے والے اشخاص آجکل جو فیاضانہ عطیات پیش کرتے ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے اس استحقاق کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ لیکن جیسے پولسؔ نے کرنتھیوں کو یاد کرایا، ہم بھی اس گفتگو پر بطور یاددہانی غور کر کے اچھا کرتے ہیں۔‏

۱۷.‏ پولسؔ نے دینے کے کس نمونے کی حوصلہ‌افزائی کی اور کیا آجکل اس کا اطلاق کِیا جا سکتا ہے؟‏

۱۷ پولسؔ نے بھائیوں کو دینے کے سلسلے میں ایک منظم انتظام کی پیروی کرنے کی تاکید کی۔ اُس نے کہا، ”‏ہفتہ کے پہلے دن تم میں سے ہر شخص اپنی آمدنی کے موافق کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑا کرے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۶:‏۱، ۲‏)‏ عطیات دینے میں ہمارے لئے اور ہمارے بچوں کیلئے یہ ایک نمونے کے طور پر کام دے سکتا ہے، خواہ ہم یہ کلیسیا کے ذریعے کرتے ہیں یا براہِ‌راست واچ ٹاور سوسائٹی کے قریبی برانچ آفس کو بھیجتے ہیں۔ مشرقی افریقہ کے ایک شہر میں منادی کرنے کے لئے تفویض‌کردہ ایک مشنری جوڑے نے دلچسپی رکھنے والوں کو اپنے ساتھ بائبل مطالعہ میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ اس پہلے اجلاس کے اختتام پر، مشنریوں نے بڑی عقلمندی سے ایک ڈبے میں جس پر ”‏بادشاہتی کام کیلئے عطیات“‏ لکھا تھا کچھ سکے ڈالے۔ دوسرے حاضرین نے بھی ایسے ہی کِیا۔ بعد میں، جب یہ نئے اشخاص ایک مسیحی کلیسیا کے طور پر منظم ہو چکے تھے تو سفری نگہبان نے دورہ کِیا اور انکے عطیات کی باقاعدگی کی تعریف کی۔—‏زبور ۵۰:‏۱۰،‏ ۱۴،‏ ۲۳‏۔‏

۱۸.‏ ہم مشکل میں اپنے بھائیوں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۱۸ ہم اپنے وسائل کو قدرتی آفات سے متاثرہ اور جنگ سے تباہ حال علاقے میں رہنے والوں کی امداد کے لئے استعمال کرنے کا شرف بھی رکھتے ہیں۔ ہم مشرقی یورپ میں بھیجی جانے والی امدادی رسد کی بابت پڑھ کر کتنے خوش تھے جبکہ دنیا کے اس حصے میں سے بڑی تیزی کیساتھ معاشی اور سیاسی انقلاب آیا!‏ چیزوں اور پیسے دونوں صورتوں میں دئیے گئے عطیات نے ناموافق صورتِ‌حال والے مسیحیوں کے سلسلے میں ہمارے بھائیوں کی فیاضی اور اتحاد کو ظاہر کِیا۔‏b‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۸:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

۱۹.‏ جو کُل‌وقتی خدمت میں ہیں اُن کی مدد کرنے کیلئے ہم کونسے عملی اقدامات کر سکتے ہیں؟‏

۱۹ ہم اپنے اُن بھائیوں کے کام کی بہت قدر کرتے ہیں جو پائنیروں، سفری نگہبانوں، مشنریوں اور بیت‌ایل رضاکاروں کے طور پر کُل‌وقتی خدمت میں مشغول ہیں، کیا ہم نہیں کرتے؟ جب ہمارے حالات اجازت دیتے ہیں، تو ہم براہِ‌راست انہیں کچھ مادی امداد پیش کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب سفری نگہبان آپ کی کلیسیا کا دورہ کرتا ہے تو آپ اُسے رہائش، کھانا یا اس کے سفری اخراجات میں مدد فراہم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ہمارا آسمانی باپ، جو چاہتا ہے کہ اس کے خادموں کی دیکھ‌بھال ہو، ایسی فیاضی کو نہیں بھولتا۔ (‏زبور ۳۷:‏۲۵‏)‏ چند سال پہلے ایک بھائی جو کہ صرف چائے پانی ہی پیش کرنے کے قابل تھا اس نے ایک سفری نگہبان اور اس کی بیوی کو گھر پر مدعو کِیا۔ جب جوڑا شام کی میدانی خدمت کے لئے جانے لگا تو بھائی نے اپنے مہمانوں کو ایک لفافہ دیا۔ اس کے اندر ایک ڈالر کی مالیت کے ایک نوٹ کے ساتھ یہ دستی تحریر موجود تھی:‏ ”‏چائے کے ایک کپ یا ایک گیلن پٹرول کے لئے۔“‏ اس فروتن طریقے سے کیسی شاندار قدردانی کا اظہار کیا گیا!‏

۲۰.‏ ہم کس استحقاق اور ذمہ‌داری کو نظرانداز کرنا نہیں چاہتے؟‏

۲۰ روحانی طور پر، یہوؔواہ کے لوگ بابرکت ہیں!‏ ہم اپنی اسمبلیوں اور کنونشنوں پر روحانی ضیافتوں سے لطف‌اندوز ہوتے ہیں، جہاں ہم نئی اشاعتیں، عمدہ تعلیم اور عملی مشورت حاصل کرتے ہیں۔ اپنی روحانی برکات کیلئے قدردانی سے معمور دلوں کیساتھ ہم عالمی پیمانے پر خدا کے بادشاہتی مفادات کو فروغ دینے کیلئے مالی امداد پیش کرنے کے اپنے استحقاق اور ذمہ‌داری کو نہیں بھولتے۔‏

‏’‏ناراستی کی دولت کے ذریعے دوست بنائیں‘‏

۲۱، ۲۲.‏ جلد ہی ”‏ناراستی کی دولت“‏ کیساتھ کیا واقع ہوگا، جو ہم سے اب کیا کرنے کا تقاضا کرتا ہے؟‏

۲۱ سچ ہے کہ ایسے بے‌شمار طریقے ہیں جن سے ہم یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ یہوؔواہ کی پرستش ہماری زندگیوں میں پہلا درجہ رکھتی ہے اور اسے ظاہر کرنے کے خاص طور پر نمایاں طریقے میں ہمارا یسوؔع کی مشورت پر دھیان دینا شامل ہے:‏ ”‏ناراستی کی دولت سے اپنے لئے دوست پیدا کرو تاکہ جب وہ جاتی رہے تو یہ تمکو ہمیشہ کے مسکنوں میں جگہ دیں۔“‏—‏لوقا ۱۶:‏۹‏۔‏

۲۲ غور کریں کہ یسوؔع نے ناراستی کی دولت کے جاتے رہنے کا ذکر کِیا۔ جی‌ہاں، وہ دن آئیگا جب اس نظام کی دولت بے‌وقعت ہو جائیگی۔ ”‏وہ اپنی چاندی سڑکوں پر پھینک دیں گے اور اُنکا سونا ناپاک چیز کی مانند ہوگا،“‏ حزؔقی‌ایل نے پیشینگوئی کی۔ ”‏خداوند کے غضب کے دن میں اُنکا سونا چاندی اُنکو نہ بچا سکے گا۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۷:‏۱۹)‏ جبتک یہ واقع نہیں ہوتا، جس طریقے سے ہم اپنے مادی اثاثوں کو استعمال میں لاتے ہیں ہمیں اسکی بابت عقل اور فہم کو عمل میں لانا چاہئے۔ لہٰذا ہمیں بعد میں یسوؔع کی آگاہی پر دھیان دینے میں ناکامی کی وجہ سے پچھتانا نہیں پڑیگا:‏ ”‏پس جب تم ناراست دولت میں دیانتدار نہ ٹھہرے تو حقیقی دولت کون تمہارے سپرد کریگا؟ .‏ .‏ .‏ تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔“‏—‏لوقا ۱۶:‏۱۱-‏۱۳‏۔‏

۲۳.‏ ہمیں کس چیز کو دانشمندی سے استعمال کرنا چاہئے اور ہمارا اجر کیا ہوگا؟‏

۲۳ پس آئیے، یہوؔواہ کی پرستش کو اپنی زندگیوں میں پہلا درجہ دینے کیلئے اور اپنے وسائل کا دانشمندانہ استعمال کرنے کیلئے ان یاددہانیوں پر دھیان دیں۔ اسطرح ہم یہوؔواہ اور یسوؔع کیساتھ اپنی دوستی برقرار رکھ سکتے ہیں جو وعدہ کرتے ہیں کہ جب دولت جاتی رہتی ہے تو وہ ہمیں ”‏ہمیشہ کے مسکنوں“‏ میں آسمانی بادشاہت یا فردوسی زمین پر ابدی زندگی کے امکان کیساتھ جگہ دینگے۔—‏لوقا ۱۶:‏۹‏۔ (‏۱۳ ۱۲/۱ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a عبرانی لفظ جسکا ترجمہ ”‏ہدیہ“‏ کِیا گیا ہے وہ ایک فعل سے مشتق ہے جسکا لفظی مطلب ”‏اونچا ہونا؛ سرفراز ہونا؛ بلند کرنا“‏ ہے۔‏

b دیکھیں ۱۹۹۳ میں واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ جیہوواز وٹنسز—‏پروکلیمرز آف گاڈز کنگڈم، کے صفحات ۳۰۷-‏۳۱۵۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ مسکن کی تعمیر کے سلسلے میں ہدیے لانے کی یہوؔواہ کی دعوت کا اسرائیلیوں نے کیسا جواب دیا؟‏

▫ بیوہ کا ہدیہ بیکار کیوں نہ تھا؟‏

▫ جس طریقے سے مسیحی اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہیں اس سلسلے میں ان پر کیا ذمہ‌داری عائد ہوتی ہے؟‏

▫ ہم پیسے کے اپنے استعمال کے سلسلے میں پچھتاوے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

بیوہ کا ہدیہ، اگرچہ چھوٹا، مگر بیکار نہیں تھا

‏[‏تصویریں]‏

ہمارے ہدیے عالمگیر بادشاہتی کام کی کفالت کر تے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں