یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏11 ص.‏ 24-‏28
  • یہوواہ میرے لئے ایک شفیق خدا ثابت ہوا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ میرے لئے ایک شفیق خدا ثابت ہوا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • نئی نئی شادی اور جیل
  • انتخابات جن پر ہم کبھی نہیں پچھتائے
  • مشکلات کے باوجود خدمت کرنا
  • ایک خوشگوار مگر غیرمتوقع واقعہ
  • ‏”‏بیماری کے بستر پر“‏
  • یہوواہ ہمارا مددگار رہا ہے
  • ‏”‏مَیں یقین رکھتی ہوں“‏
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • یہوواہ کی خدمت سے اپنا دھیان ہٹنے نہ دیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • یسوع‌کے زمانہ میں ربّیوں کی روایات نے عورتوں پر بہت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • مہمان‌نوازی اور دُعا کے سلسلے میں سبق
    یسوع مسیح—‏راستہ، سچائی اور زندگی
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏11 ص.‏ 24-‏28

یہوواہ میرے لئے ایک شفیق خدا ثابت ہوا ہے

یانز اندرونیکوس کی زبانی

سن ۱۹۵۶ کی بات ہے۔ اپنی شادی کے صرف نو دن بعد مَیں شمالی یونان میں کوموتینی کے ایک اپیل کورٹ کے سامنے کھڑا تھا۔ مجھے اُمید تھی کہ خدا کی بادشاہت کی مُنادی کرنے کی وجہ سے میری ۱۲ مہینے کی سزا منسوخ کر دی جائیگی۔ اپیل کورٹ کے فیصلے—‏چھ ماہ کی سزا—‏نے اس اُمید پر پانی پھیر دیا اور یہ فیصلہ مقدمات کے ایک طویل سلسلے کا محض آغاز ثابت ہوا۔ تاہم، اس تمام وقت میں یہوواہ میرے لئے ایک شفیق خدا ثابت ہوا۔‏

جب مَیں اکتوبر ۱، ۱۹۳۱ میں پیدا ہوا تو میرا خاندان کوالا مکدنیہ کے قدیم نیاپلس کے شہر میں مقیم تھا، جہاں پولس رسول اپنے دوسرے مشنری دورے کے دوران آیا تھا۔ جب مَیں ابھی پانچ برس کا ہی تھا تو میری والدہ یہوواہ کی ایک گواہ بن گئی اور تقریباً اَن‌پڑھ ہونے کے باوجود اُس نے میرے اندر خدا کیلئے محبت اور اُسکے خوف کو نقش کرنے کی پوری کوشش کی۔ میرا والد ایک انتہائی قدامت‌پسند شخص تھا جو ہٹ‌دھرمی کیساتھ گریک آرتھوڈکس عقائد کا پابند رہا۔ اُسے بائبل سچائی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لہٰذا وہ میری والدہ کی مخالفت کرتا اور اُسے اکثر تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔‏

گویا میری ایک منقسم گھرانے میں پرورش ہوئی جہاں میرا والد میری والدہ کو مارتاپیٹتا اور گالی‌گلوچ کرتا تھا اور بالآخر اُس نے ہمیں چھوڑ بھی دیا۔ ہماری والدہ بچپن ہی سے مجھے اور میری چھوٹی بہن کو مسیحی اجلاسوں پر لے جایا کرتی تھی۔ تاہم، جب مَیں ۱۵ برس کا ہوا تو جوانی کی خواہشات اور خودمختاری کی رُوح نے مجھے یہوواہ کے گواہوں سے دُور کر دیا۔ تاہم، میری وفادار ماں نے سخت کوشش کی اور اُس نے میری مدد کرنے کی جدوجہد میں بہت سے آنسو بہائے۔‏

غربت اور خراب طرزِزندگی کی وجہ سے، مَیں بہت زیادہ بیمار ہو گیا اور مجھے تین مہینے سے زیادہ عرصہ تک بستر میں رہنا پڑا۔ اُس وقت ایک ازحد فروتن بھائی نے میرے اندر خدا کیلئے سچی محبت کو پہچان لیا، اِسی بھائی نے میری والدہ کو سچائی سکھانے میں مدد دی تھی۔ اُس نے محسوس کِیا کہ میری روحانی بحالی کیلئے مدد کی جا سکتی ہے۔ دوسروں نے اُسے کہا:‏ ”‏یانز کی مدد کرنے کی کوشش کر کے آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں؛ وہ کبھی راہِ‌راست پر نہیں آئیگا۔“‏ تاہم اس بھائی کا تحمل اور مجھے مدد دینے کے سلسلے میں اُسکی مستقل‌مزاجی پھلدار ثابت ہوئی۔ اگست ۱۵، ۱۹۵۲ میں، ۲۱ برس کی عمر میں، مَیں نے پانی کے بپتسمے کے ذریعے یہوواہ کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کِیا۔‏

نئی نئی شادی اور جیل

اسکے تین سال بعد میری شناسائی غیرمعمولی خوبیوں کی مالک، روحانی سوچ رکھنے والی ایک بہن—‏مارتھا سے ہو گئی اور جلد ہی ہماری منگنی ہو گئی۔ ایک دن مجھے بہت حیرت ہوئی جب مارتھا نے مجھے بتایا:‏ ”‏آج مَیں گھربہ‌گھر کی مُنادی کا منصوبہ بنا رہی ہوں۔ کیا آپ میرے ساتھ چلیں گے؟“‏ اُس وقت تک مَیں نے خدمتگزاری کے اس کام میں شرکت نہیں کی تھی میری بیشتر منادی غیررسمی تھی۔ اُس وقت یونان میں مُنادی کے کام پر پابندی تھی لہٰذا ہمیں مُنادی کا کام خفیتہً کرنا پڑتا تھا۔ نتیجتاً، کافی زیادہ گرفتاریاں، عدالتی مقدمات اور سخت سزائیں عمل میں آ رہی تھیں۔ اس کے باوجود، مَیں اپنی منگیتر کو انکار نہیں کر سکتا تھا!‏

سن ۱۹۵۶ میں مارتھا سے میری شادی ہو گئی۔ اُس وقت، ہماری شادی کے نو دن بعد ہی مجھے کوموتینی کے اُس اپیل کورٹ سے چھ ماہ قید کی سزا ملی۔ اس سے میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا جو کچھ عرصہ پہلے مَیں نے ایک مسیحی بہن سے پوچھا تھا جوکہ میری والدہ کی دوست تھی:‏ ”‏مَیں خود کو یہوواہ کا سچا گواہ کیسے ظاہر کر سکتا ہوں؟ مجھے کبھی بھی اپنے ایمان کو ثابت کرنے کا موقع نہیں ملا۔“‏ جب یہ بہن مجھے جیل میں ملنے کیلئے آئی تو اُس نے مجھے وہ سوال یاد دلایا اور کہا:‏ ”‏اب تُم یہوواہ پر ظاہر کر سکتے ہو کہ تُم اُس سے کتنی محبت رکھتے ہو۔ یہ تمہاری تفویض ہے۔“‏

جب مجھے معلوم ہوا کہ میرا وکیل مجھے ضمانت پر جیل سے رہائی دلانے کیلئے زیادہ رقم مانگ رہا ہے تو مَیں نے اُس سے کہا کہ مَیں اپنی سزا مکمل کرنا پسند کرونگا۔ مَیں کتنا خوش تھا کہ قید کے چھ ماہ بعد ہی وہاں پر رہنے والے میرے دو ساتھیوں نے سچائی قبول کر لی!‏ آئندہ سالوں کے دوران خوشخبری کی خاطر مجھے کئی مرتبہ عدالتی مقدمات میں ملوث کِیا گیا تھا۔‏

انتخابات جن پر ہم کبھی نہیں پچھتائے

میری رہائی کے چند سال بعد، ۱۹۵۹ میں، جب مَیں کانگریگیشن سرونٹ یا صدارتی نگہبان کے طور پر خدمت انجام دے رہا تھا تو مجھے کنگڈم منسٹری سکول، کلیسیائی بزرگوں کیلئے ایک تربیتی کورس میں حاضر ہونے کیلئے موعو کِیا گیا۔ تاہم، اُسی وقت مجھے ایک پبلک ہسپتال میں مستقل ملازمت کی پیشکش ہوئی، ایک ایسی ملازمت جو مجھے اور میرے خاندان کو زندگی‌بھر کیلئے مالی استحکام بخش سکتی تھی۔ مجھے کس چیز کا انتخاب کرنا چاہئے؟ مَیں پہلے ہی تین ماہ سے ہسپتال میں عارضی طور پر کام کر رہا تھا لہٰذا ڈائریکٹر میرے کام سے بہت خوش تھا تاہم جب سکول کا دعوت‌نامہ موصول ہوا تو وہ مجھے تنخواہ کے بغیر بھی ایک دن کی بھی چھٹی دینے کو تیار نہیں تھا۔ اس مسئلے کی بابت دُعائیہ سوچ‌بچار کرنے کے بعد، مَیں نے بادشاہتی مفادات کو پہلا درجہ دینے اور ملازمت کو مسترد کرنے کا فیصلہ کِیا۔—‏متی ۶:‏۳۳‏۔‏

اسی اثنا میں، ڈسٹرکٹ اور سرکٹ نگہبان ہماری کلیسیا کا دورہ کرنے کیلئے آئے۔ گریک آرتھوڈکس پادریوں اور حکام کی طرف سے سخت مخالفت کی وجہ سے ہمیں اپنے اجلاس نجی گھروں میں خفیتہً منعقد کرنے پڑتے تھے۔ ایک اجلاس کے بعد ڈسٹرکٹ اوورسیئر میرے پاس آیا اور پوچھا کہ آیا مَیں نے کبھی کُل‌وقتی خدمت کرنے کی بابت سوچا ہے۔ اُس کی تجویز مجھے بہت پسند آئی کیونکہ یہ تو بپتسمے کے وقت سے میرا خواب تھا۔ مَیں نے جواب دیا:‏ ”‏میری بڑی شدید خواہش ہے۔“‏ تاہم، میرے اُوپر ایک بیٹی کی پرورش کرنے کی اضافی ذمہ‌داری بھی تھی۔ بھائی نے مجھے کہا:‏ ”‏یہوواہ پر بھروسہ رکھو اور وہ آپکے منصوبوں کو کامیاب بنانے میں آپکی مدد کریگا۔“‏ پس، اپنی خاندانی ذمہ‌داری کو نظرانداز کئے بغیر مَیں اور میری اہلیہ اس قابل ہوئے کہ اپنے حالات میں ردوبدل کر سکیں اور یوں مَیں نے دسمبر ۱۹۶۰ میں مشرقی مکدنیہ میں ملک بھر کے کُل پانچ سپیشل پائنیروں میں سے ایک کے طور پر خدمت کا آغاز کِیا۔‏

جب مجھے سپیشل پائنیر کے طور پر خدمت کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا تو اتھینے کے برانچ آفس نے مجھے سفری نگہبان کے طور پر خدمت انجام دینے کی دعوت دی۔ جب مَیں اس خدمت کی بابت ایک ماہ کا تربیتی کورس مکمل کر کے گھر لوٹا اور مارتھا کو اپنا تجربہ سنا ہی رہا تھا تو منگنیز کی ایک بڑی کان کا ڈائریکٹر ہمارے پاس آیا اور مجھے ریفائنگ ڈویژن کا مینیجر بننے کی دعوت دی اور پانچ سالہ معاہدے کیساتھ ساتھ عمدہ گھر اور گاڑی کی بھی پیشکش کی۔ اُس نے مجھے دو دن کی مہلت دی۔ ایک مرتبہ پھر، بِلاجھجک مَیں نے یہوواہ سے دُعا کی:‏ ”‏مَیں حاضر ہوں مجھے بھیج۔“‏ (‏یسعیاہ ۶:‏۸‏)‏ میری بیوی مکمل طور پر میرے ساتھ متفق تھی۔ خدا پر بھروسے کیساتھ ہم نے سفری کام کا آغاز کِیا اور یہوواہ نے اپنی شفقت سے ہمیں کبھی مایوس نہیں کِیا ہے۔‏

مشکلات کے باوجود خدمت کرنا

اگرچہ معاشی مشکلات پیش آئیں، تو بھی ہم نے کام کو جاری رکھا اور یہوواہ نے ہماری ضروریات کو پورا کِیا۔ شروع شروع میں، مَیں ایک چھوٹی موٹر سائیکل پر کلیسیاؤں کا دورہ کرتے ہوئے کوئی ۵۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کِیا کرتا تھا۔ کئی مرتبہ مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور چند ایک حادثات بھی پیش آئے۔ ایک مرتبہ موسمِ‌سرما کے دوران ایک کلیسیا سے واپس آتے وقت، مَیں پانی سے بھری ایک ندی پار کر رہا تھا کہ موٹرسائیکل جواب دے گئی اور مَیں گھٹنوں تک بھیگ گیا۔ اسکے بعد موٹرسائیکل کے ٹائر کی ہوا نکل گئی۔ ایک راہگیر نے میری مدد کی جس کے پاس پمپ تھا اور یوں مَیں قریبی گاؤں تک پہنچنے کے قابل ہوا جہاں سے مَیں نے ٹائر کی مرمت کروائی۔ آخرکار صبح تین بجے مَیں سردی سے سکڑا اور تھکن سے چور گھر پہنچا۔‏

ایک دوسرے موقع پر، جب مَیں ایک سے دوسری کلیسیا میں جا رہا تھا تو موٹرسائیکل پھسل گئی اور مَیں گھٹنوں کے بل گِر گیا۔ نتیجتاً، میری پتلون پھٹ گئی اور خون سے لت‌پت ہو گئی۔ میرے پاس کوئی دوسری پتلون بھی نہیں تھی، لہٰذا اُس شام مَیں نے کسی دوسرے بھائی کی پتلون پہن کر تقریر پیش کی جوکہ کافی بڑی تھی۔ اسکے باوجود، کسی بھی طرح کی مشکل یہوواہ اور اپنے عزیز بھائیوں کی خدمت کرنے کی میری خواہش کو دبا نہیں سکتی تھی۔‏

ایک دوسرے حادثے میں، مَیں بُری طرح زخمی ہو گیا اور میرا بازو اور اگلا دانت ٹوٹ گیا۔ اُس وقت میری بہن جو گواہ نہیں تھی، ریاستہائے متحدہ سے مجھے ملنے کیلئے آئی۔ اُس نے ایک گاڑی خریدنے میں میری مدد کی جو کہ میرے لئے بڑی نجات ثابت ہوئی!‏ جب اتھینے کی برانچ کے بھائیوں کو معلوم ہوا کہ میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو اُنہوں نے مجھے حوصلہ‌افزا خط بھیجا اور دوسری باتوں کیساتھ ساتھ اُس میں رومیوں ۸:‏۲۸ کے الفاظ بھی شامل تھے جسکا ایک حصہ کہتا ہے:‏ ”‏سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔“‏ یہ یقین‌دہانی بارہا میری زندگی میں بالکل سچ ثابت ہوئی ہے!‏

ایک خوشگوار مگر غیرمتوقع واقعہ

سن ۱۹۶۳ میں، مَیں ایک سپیشل پائینر کیساتھ ایک گاؤں میں کام کر رہا تھا جہاں کے لوگ بہت بے‌حس تھے۔ ہم دونوں نے الگ الگ کام کرنے کا فیصلہ کِیا اور گلی کی دونوں طرف کام کرنا شروع کر دیا۔ ایک گھر پر مجھے دروازے پر دستک دئے زیادہ وقت نہیں گزرا ہوگا کہ ایک خاتون نے مجھے فوری طور پر اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر کے تالا لگا دیا۔ مَیں حیران‌وپریشان تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ ہی دیر بعد، اُس نے دوسرے سپیشل پائنیر کو بھی گھر میں بلا لیا۔ پھر اُس خاتون نے کہا:‏ ”‏خاموش!‏ حرکت نہ کرنا!‏“‏ کچھ ہی دیر بعد ہم نے مخالفین کی آوازیں سنیں۔ لوگ ہمیں تلاش کر رہے تھے۔ جب خاموشی ہو گئی تو اُس خاتون نے ہمیں بتایا:‏ ”‏مَیں نے یہ سب کچھ آپکو بچانے کی خاطر کِیا تھا۔ مَیں آپکا احترام کرتی ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ آپ سچے مسیحی ہیں۔“‏ ہم نے خلوصدلی کے ساتھ اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُس کے پاس بہت سا لٹریچر چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔‏

چودہ سال بعد، جب مَیں یونان میں ایک ڈسٹرکٹ کنونشن پر حاضر تھا تو ایک خاتون میرے پاس آئی اور کہا:‏ ”‏بھائی کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ مَیں وہی عورت ہوں جس نے آپکو مخالفین سے پناہ دی تھی جب آپ ہمارے گاؤں میں گواہی دینے کیلئے آئے تھے۔“‏ وہ جرمنی چلی گئی تھی، وہاں اُس نے بائبل کا مطالعہ کِیا اور یہوواہ کے لوگوں کیساتھ رفاقت رکھی۔ اب اُسکا پورا خاندان سچائی میں تھا۔‏

بِلاشُبہ، ان تمام سالوں کے دوران، ہمیں بڑی تعداد میں ”‏نیکنامی کے خط“‏ حاصل کرنے کی برکت حاصل ہوئی ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۳:‏۱‏)‏ اُن لوگوں میں سے کئی ایک اب بزرگوں، خدمتگزار خادموں اور پائنیروں کے طور پر خدمت انجام دے رہے ہیں جنہیں ہمیں بائبل کی سچائی کا علم حاصل کرنے میں مدد دینے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ یہ دیکھنا کتنی خوشی کی بات ہے کہ ۱۹۶۰ کے اوائل میں جن علاقوں میں مَیں نے چند ایک پبلشروں کیساتھ خدمت کی تھی وہاں اب یہوواہ کے پرستاروں کی تعداد ۱۰،۰۰۰ سے زیادہ ہے!‏ یہ تمام نیک‌نامی ہمارے شفیق خدا یہوواہ کو جاتی ہے جو ہمیں اپنے طریقے سے استعمال کرتا ہے۔‏

‏”‏بیماری کے بستر پر“‏

سفری کام کے دوران، مارتھا ہمیشہ خوشگوار میلان کیساتھ ایک غیرمعمولی مددگار ثابت ہوئی ہے۔ تاہم، اکتوبر ۱۹۷۶ میں وہ سخت بیمار ہو گئی اور اُسے ایک نہایت تکلیف‌دہ آپریشن کروانا پڑا۔ اس کے نتیجے میں دونوں ٹانگیں اور نیچے کا دھڑ مفلوج ہو جانے کی وجہ سے وہ ویل‌چیئر تک محدود ہو گئی۔ ہم اخراجات اور جذباتی دباؤ سے کیسے نپٹ سکتے تھے؟ ایک بار پھر یہوواہ پر توکل کرنے سے ہم نے اُس کے دستِ‌شفقت اور فیاضی کو محسوس کِیا۔ جب مَیں مکدنیہ میں خدمت انجام دینے کیلئے روانہ ہوا تو مارتھا نے تھراپی کیلئے اتھینے میں ایک بھائی کے ہاں قیام کِیا۔ وہ فون پر ہمیشہ کہتی ”‏مَیں ٹھیک ہوں۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں اور جب مَیں کچھ بہتر ہو جاؤنگی تو مَیں بھی ویل‌چیئر پر آپ کیساتھ جاؤں گی“‏ اِیسے حوصلہ‌افزا الفاظ کیساتھ وہ میرے ساتھ بات کرتی تھی۔ لہٰذا اُس نے یہی کِیا۔ بیت‌ایل کے ہمارے عزیز بھائیوں نے ہمیں بیشمار حوصلہ‌افزا خطوط بھیجے۔ مارتھا کو بار بار زبور ۴۱:‏۳ کے الفاط یاد دلائے جاتے تھے:‏ ”‏[‏یہوواہ]‏ اُسے بیماری کے بستر پر سنبھالیگا۔ تُو اُسکی بیماری میں اُسکے پورے بستر کو ٹھیک کرتا ہے۔“‏

صحت کے ان سنگین مسائل کی وجہ سے، ۱۹۸۶ میں یہ فیصلہ کِیا گیا کہ میرے لئے یہ مناسب ہوگا کہ کوالا میں سپیشل پائنیر کے طور پر خدمت انجام دوں جہاں مَیں اپنی پیاری بیٹی کے خاندان کے نزدیک رہتا ہوں۔ گزشتہ مارچ میری پیاری بیوی مارتھا وفات پا گئی مگر وہ آخر تک وفادار رہی۔ اُسکے مرنے سے پہلے جب بھائی اُس سے پوچھتے کہ ”‏آپ کا کیا حال ہے؟“‏ تو وہ عموماً جواب دیتی:‏ ”‏یہوواہ کے قریب ہونے کی وجہ سے مَیں بالکل ٹھیک ہوں!‏“‏ جب ہم اجلاسوں کی تیاری کرتے یا ایسے علاقوں میں کام کرنے کی پُرکشش دعوت حاصل کرتے جہاں فصل بہت زیادہ ہے تو مارتھا کہتی:‏ ”‏یانز، آئیں وہاں خدمت کریں جہاں زیادہ ضرورت ہے۔“‏ اُس نے اپنی سرگرمی میں کبھی بھی کمی نہ آنے دی۔‏

چند سال قبل مجھے بھی صحت کے سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مارچ ۱۹۹۴ میں، یہ تشخیص کِیا گیا کہ مَیں جان‌لیوا دل کے مرض میں مبتلا ہوں اور اس کیلئے سرجری نہایت ضروری تھی۔ ایک مرتبہ پھر مَیں نے یہوواہ کے دستِ‌شفقت کو اس کٹھن وقت میں اپنا حامی‌وناصر پایا۔ مَیں ایک سرکٹ اوورسیئر کی اُس دُعا کو کبھی فراموش نہیں کرؤنگا جو اُس نے اُس وقت میرے سرہانے کی تھی جب مَیں انتہائی نگہداشت سے باہر نکلا تھا، اسکے علاوہ، مَیں میموریل کی اُس تقریب کو کبھی نہیں بھول سکتا جو مَیں نے سچائی میں دلچسپی ظاہر کرنے والے چار مریضوں کیساتھ ہسپتال میں اپنے کمرے کے اندر منعقد کی تھی۔‏

یہوواہ ہمارا مددگار رہا ہے

وقت تیزی سے گزر جاتا ہے اور ہمارا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے پھر بھی مطالعے اور خدمت کے ذریعے ہماری رُوح ازسرِنو تقویت پاتی ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۶‏)‏ اُس بات کو اب ۳۹ برس ہو گئے ہیں جب مَیں نے کہا تھا، ”‏مَیں حاضر ہوں مجھے بھیج۔“‏ یہ ایک بھرپور، مسرت‌بخش اور بااجر زندگی رہی ہے۔ جی‌ہاں، بعض اوقات مَیں محسوس کرتا ہوں کہ ”‏مَیں مسکین اور محتاج ہوں،“‏ مگر مَیں اعتماد کیساتھ یہوواہ کو کہہ سکتا ہوں:‏ ”‏میرا مددگار اور چھڑانے والا تُو ہی ہے۔“‏ (‏زبور ۴۰:‏۱۷‏)‏ میرے لئے وہ واقعی شفیق خدا ثابت ہوا ہے۔‏

‏[‏صفحہ 25 پر تصویر]‏

مارتھا کیساتھ ۱۹۵۶ میں

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

کوالا کی بندرگاہ

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

مارتھا کیساتھ ۱۹۹۷ میں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں