بکثرت اجر بخشنے والی فیاضی
اگر آپکو بادشاہ کے حضور تحفہ پیش کرنے کا موقع ملتا تو آپ اُسے کیا پیش کرتے؟ اگر وہ دُنیا کا امیرترین اور ذہینترین حکمران ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟ کیا آپ اُس کیلئے کسی خوشیبخش تحفے کی بابت سوچ پاتے؟ تقریباً تین ہزار سال پہلے، سبا کی ملکہ کو بھی ایک ایسے ہی حکمران—اسرائیل کے بادشاہ سلیمان—سے ملاقات کیلئے جانے کی تیاری کرتے وقت ان سوالات پر غوروخوض کرنا پڑا تھا۔
بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اُس کے تحفے میں ۱۲۰ قنطار سونا ”اور مصالح [”روغنِبَلسان“، اینڈبلیو] کا بہت بڑا انبار اور بیشبہا جواہر“ شامل تھے۔ موجودہ شرحمبادلہ کے حساب سے صرف سونے کی مالیت ہی ۴،۰۰،۰۰،۰۰۰ ڈالر تھی۔ نہایت خوشبودار اور ادویاتی روغنِبَلسان کو سونے کی طرح بیشقیمت خیال کِیا جاتا تھا۔ اگرچہ بائبل یہ بیان نہیں کرتی کہ ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو کتنا روغن پیش کِیا تھا، تاہم یہ ہمیں اتنا ضرور بتاتی ہے کہ اُسکے تحائف کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔—۱-سلاطین ۱۰:۱۰۔
سبا کی ملکہ واقعی ایک دولتمند اور فیاضدل خاتون تھی۔ مزیدبرآں، اُسے اُس کی فیاضی کا بدلہ بھی ملا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”سلیماؔن بادشاہ نے سباؔ کی ملکہ کو جوکچھ اُس نے چاہا اور مانگا اُس سے زیادہ جو وہ بادشاہ کے لئے لائی تھی دیا۔“ (۲-تواریخ ۹:۱۲) یہ سچ ہے کہ تحفےتحائف دینا شاہی خاندانوں کا رواج ہوتا ہے مگر بائبل بالخصوص سلیمان کی ”سخاوت“ کا ذکر کرتی ہے۔ (۱-سلاطین ۱۰:۱۳) سلیمان نے خود لکھا: ”فیاض دل موٹا ہو جائے گا اور سیراب کرنے والا خود بھی سیراب ہوگا۔“—امثال ۱۱:۲۵۔
بِلاشُبہ، سبا کی ملکہ نے بھی سلیمان سے ملاقات کرنے کے لئے وقت اور کوشش کی صورت میں بڑی قربانی دی تھی۔ بدیہی طور پر سبا کا علاقہ جدید زمانے کے جمہوریہ یمن میں واقع تھا؛ لہٰذا ملکہ اور اُس کے اُونٹوں کے قافلے نے یروشلیم پہنچنے کے لئے تقریباً ۱،۶۰۰ کلومیٹر کا سفر طے کِیا ہوگا۔ یسوع مسیح نے کہا کہ ”وہ دُنیا کے کنارے سے . . . آئی“ تھی۔ سبا کی ملکہ نے اتنی مشکل کیوں اُٹھائی؟ وہ دراصل ”سلیماؔن کی حکمت سننے کو آئی“ تھی۔—لوقا ۱۱:۳۱۔
پہلا سلاطین ۱۰:۱، ۲ بیان کرتی ہے کہ سبا کی ملکہ اسلئے آئی تاکہ ”مشکل سوالوں سے [سلیمان] کو آزمائے۔ . . .اُس نے اُن سب باتوں کے بارہ میں جو اُسکے دل میں تھیں اُس سے گفتگو کی۔“ سلیمان نے کیسا جوابیعمل دکھایا؟ ”سلیماؔن نے اُسکے سب سوالوں کا جواب دیا۔ بادشاہ سے کوئی بات ایسی پوشیدہ نہ تھی جو اُسے نہ بتائی۔“—۱-سلاطین ۱۰:۳۔
ملکہ یہ سب کچھ دیکھ کر اور سُن کر حیران ہو گئی اور فروتنی سے جواب دیا: ”خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سنتے ہیں۔“ (۱-سلاطین ۱۰:۴-۸) اُس نے سلیمان کے ملازموں کو دولت میں کھیلنے کی وجہ سے مبارک نہیں کہا تھا۔ اس کے برعکس، سلیمان کے ملازم ہر وقت اُسکی خداداد حکمت کو سننے کی وجہ سے مبارک تھے۔ سبا کی ملکہ خالق اور اُسکے بیٹے، یسوع مسیح کی حکمت سے لطفاندوز ہونے والے جدید زمانے کے یہوواہ کے لوگوں کے لئے کیا ہی عمدہ نمونہ ہے!
سلیمان سے مخاطب ہوتے ہوئے ملکہ کا اگلا بیان بھی غورطلب ہے: ”[یہوواہ] تیرا خدا مبارک ہو۔“ (۱-سلاطین ۱۰:۹) بدیہی طور پر، اُس نے سلیمان کی حکمت اور خوشحالی کے پیچھے یہوواہ کے ہاتھ کو دیکھ لیا تھا۔ یہ اسرائیل کیساتھ یہوواہ کے ابتدائی وعدے کے عین مطابق تھا۔ ’میرے احکام کو ماننا‘ اُس نے فرمایا، ”قوموں کے سامنے تمہاری عقل اور دانش [ٹھہریگا]۔ وہ ان تمام آئین کو سنکر کہینگی کہ یقیناً یہ بزرگ قوم نہایت عقلمند اور دانشور ہے۔“—استثنا ۴:۵-۷۔
حکمت دینے والے کی قربت میں آنا
جدید وقتوں میں لاکھوں لوگ یہوواہ کی تنظیم کی طرف آ رہے ہیں کیونکہ اُنہوں نے دیکھ لیا ہے کہ ”خدا [کا] اسرائیل“ ایک ”نہایت عقلمند اور دانشور قوم“ ہے لیکن اُنکی یہ خاصیت فطرتی نہیں بلکہ خدا کی کامل شریعت اور اصولوں کی راہنمائی کی وجہ سے ہے۔ (گلتیوں ۶؛۱۶) بپتسمے کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں کے دوران ہر سال ہزارہا نئے شاگردوں نے، درحقیقت، روحانی اسرائیل سے کہا ہے: ”ہم تمہارے ساتھ جائینگے کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔“ (زکریاہ ۸:۲۳) یہ نئے اشخاص روحانی خوراک کی اُس ضیافت کو دیکھ کر کسقدر حیران ہوتے ہیں جو یہوواہ نے اپنے خادموں کیلئے تیار کی ہے! اُنہوں نے اپنے گزشتہ مذاہب میں کبھی کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی تھی۔—یسعیاہ ۲۵:۶۔
عظیم مُعطی کو دینا
اتنا کچھ حاصل کرنے کے بعد، قدرتی بات ہے کہ قدرافزائی رکھنے والے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس کے بدلے میں وہ عظیمترین بادشاہ اور مُعطی، یہوواہ خدا کو کیا دے سکتے ہیں۔ بائبل آشکارا کرتی ہے کہ ”حمد کی قربانی“ بہترین ہدیہ ہے جو ہم یہوواہ کو پیش کر سکتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) کیوں؟ اسلئے کہ اس قربانی کا براہراست تعلق زندگی بچانے سے ہے جوکہ ان آخری ایّام میں یہوواہ کی سب سے بڑی فکر ہے۔ (حزقیایل ۱۸:۲۳) علاوہازیں، بیماروں، افسردہدلوں اور دیگر حاجتمند اشخاص کی مدد کے لئے اپنی توانائی اور وقت کو صرف کرنا بھی قابلِقبول قربانی ہے۔—۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴؛ عبرانیوں ۱۳:۱۶؛ یعقوب ۱:۲۷۔
مالی عطیات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اِن سے بائبل اور بائبل پر مبنی لڑیچر کی اشاعت اور ایسی جگہوں کا حصول ممکن ہوتا ہے جن میں مسیحی باہم جمع ہو سکتے ہیں۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) عطیات سے جنگ اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والوں کی امداد کی جا سکتی ہے۔
خدا کا کلام دینے کے اس معاملے میں ہماری راہنمائی کرنے کیلئے کچھ عمدہ اُصول وضع کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ سکھاتا ہے کہ مسیحی کوئی مخصوص رقم نہیں بلکہ معقولپسندی کیساتھ جتنا اُنہوں نے دل میں ٹھہرایا ہے خوشی کیساتھ دیتے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۹:۷) کچھ لوگ زیادہ دے سکتے ہیں جبکہ دیگر یسوع کے زمانے کی نادار بیوہ کی طرح شاید بہت کم دینے کے قابل ہیں۔ (لوقا ۲۱:۲-۴) کیا یہ اچھی بات نہیں کہ یہوواہ—تمام کائنات کا مالک—اچھے محرک کیساتھ اُسکے نام سے پیش کئے جانے والے ہر ہدیے اور قربانی کی قدر کرتا ہے؟—عبرانیوں ۶:۱۰۔
یہوواہ کے لوگوں کو مختلف ضروریات اور پھر اِن ضروریات کو پورا کرنے کے مؤثر طریقوں سے باخبر رکھا جاتا ہے جن سے اُنہیں خوشی سے دینے کی تحریک ملتی ہے۔ علاوہازیں یہوواہ کی پاک روح خوشی سے دینے والوں کے دلوں کو جوابیعمل دکھانے کی ترغیب دیتی ہے۔ قدیم اسرائیل میں، خیمہاجتماع اور بعدازاں ہیکل کی تعمیر کے سلسلے میں اسی طریقۂکار پر عمل کِیا گیا تھا۔ (خروج ۲۵:۲؛ ۳۵:۵، ۲۱، ۲۹؛ ۳۶:۵-۷؛ ۳۹:۳۲؛ ۱-تواریخ ۲۹:۱-۱۹) پہلی صدی س.ع. میں اسی طریقۂکار نے مسیحیوں کی وہ تمام چیزیں حاصل کرنے میں مدد کی جنکی اُنہیں قوموں میں بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرنے اور ایک قحط کے دوران اسرائیل کے علاقے میں رہنے والے بھائیوں کی اعانت کرنے کیلئے ضرورت تھی۔—۱-کرنتھیوں ۱۶:۲-۴؛ ۲-کرنتھیوں ۸:۴، ۱۵؛ کلسیوں ۱:۲۳۔
اسی طرح، آجکل بھی، یہوواہ نے اپنے لوگوں کو برکت سے نوازا ہے اور وہ اُنہیں منادی کرنے اور تعلیم دینے کی ایسی بڑی مہم کو مکمل کرنے کیلئے درکار سب چیزیں فراہم کرنے سے مزید برکات سے نوازتا رہیگا جو شاید ہی کبھی اس دُنیا کے تجربے میں آئی ہو۔—متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰۔
موجودہ ضروریات کیا ہیں؟
حالیہ برسوں میں یہوواہ کے گواہوں کو کئی ایک ایسے ممالک میں قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جہاں پہلے اُن کے کام پر پابندی تھی۔ نتیجتاً، ان ممالک میں پبلشروں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ یہاں بائبلوں اور بائبل پر مبنی لٹریچر کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
کنگڈم ہالز کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے۔ پوری دُنیا میں اس وقت تقریباً ۹۰۰۰ کنگڈم ہالز کی ضرورت ہے۔ اگر ہر روز ایک کنگڈم ہال تعمیر کِیا جائے تو موجودہ ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کوئی ۲۴ سال سے زیادہ وقت درکار ہوگا! اس اثنا میں، ہر روز تقریباً سات نئی کلیسیائیں تشکیل پا رہی ہیں، جن میں سے بیشتر دُنیا کے ایسے علاقوں میں ہیں جہاں مالی وسائل محدود ہیں۔ اس کے برعکس، ان میں سے کئی ایک علاقوں میں مہنگی عمارتیں بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض جگہوں پر، ضرورت کے مطابق اور علاقے میں اچھی گواہی کا باعث بننے والا کنگڈم ہال صرف ۶۰۰۰ ڈالر میں مکمل ہو سکتا ہے۔
پہلی صدی میں، بعض مسیحیوں کی مالی حالت دوسرے مسیحیوں سے بہتر تھی لہٰذا، پولس رسول نے لکھا: ”برابری کے طور پر اس وقت تمہاری دولت سے اُنکی کمی پوری ہو تاکہ اُنکی دولت سے بھی تمہاری کمی پوری ہو اور اس طرح برابری ہو جائے۔“ (۲-کرنتھیوں ۸:۱۴) آجکل، اسی طرح کی ”برابری“ کے ذریعے دُنیا کے بیشتر حصوں میں، بائبلیں، بائبل لٹریچر، کنگڈم ہالز، آفات کی صورت میں امداد کیلئے فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اِسطرح سے دینا—دینے والے اور لینے والے دونوں کیلئے کیسی بڑی برکت ہے!—اعمال ۲۰:۳۵۔
فیاضدل اشخاص کی طرف سے سوسائٹی کو موصول ہونے والے خطوط سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رسالے کے کئی ایک قاری مدد کرنا چاہتے ہیں مگر اُنہیں یہ پتہ نہیں کہ وہ کن مختلف طریقوں سے عطیات بھیج سکتے ہیں۔ اُمید ہے کہ اس مضمون کیساتھ دیا گیا بکس اُنکے سوالات کے جواب دینے میں معاون ثابت ہوگا۔
سلیمان کی عالیشان حکمرانی کے دوران، ”رُویِزمین کے سب بادشاہ“ اُسکی شہرت سن کر اُس سے ملنے کیلئے آئے۔ تاہم، بائبل محض ایک حکمران—سبا کی ملکہ کا ذکر کرتی ہے۔ (۲-تواریخ ۹:۲۳) اُس نے کتنی بڑی قربانی دی تھی! مگر اُسے اسکا بہت زیادہ اجر ملا تھا—اتنا زیادہ کہ اپنے دورے کے اختتام پر ”اُسکے ہوش اُڑ گئے۔“—۲-تواریخ ۹:۴۔
مستقبل میں، عظیمترین بادشاہ اور مُعطی، یہوواہ، اُن لوگوں کو جو اُسکے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں سلیمان کی نسبت کہیں زیادہ عطا کریگا۔ اس کے بدلے میں، ان لوگوں کے ”ہوش اُڑ“ جائینگے صرف اسلئے نہیں کہ یہوواہ اُنکو اپنے خوفناک روزِعظیم سے بچائیگا بلکہ اسکے بعد وہ ’اپنی مٹھی کھولیگا اور ہر جاندار کی خواہش پوری کریگا۔‘—زبور ۱۴۵:۱۶۔
[صفحہ 22 پر بکس]
بعض لوگ عالمگیر کام کی خاطر عطیات
دینے کیلئے جن طریقوں کا انتخاب کرتے ہیں
بہتیرے لوگ عطیات کے اُن ڈبوں میں ڈالنے کیلئے ایک مخصوص رقم مختص کر لیتے ہیں جن پر ”سوسائٹی کے عالمگیر کام کیلئے عطیات—متی ۲۴:۱۴“ کا لیبل چسپاں ہوتا ہے۔ ہر مہینے کلیسیائیں یہ رقوم بروکلن، نیو یارک میں عالمی ہیڈکوارٹرز کو یا پھر مقامی برانچ دفتر کو ارسال کر دیتی ہیں۔
رضاکارانہ مالی عطیات براہِراست مندرجہذیل پتے پر خزانچی کے دفتر کو بھیجے جا سکتے ہیں:
Heights, Brooklyn, New York 11201-2483 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania 25 Columbia
یا پھر آپکے اپنے ملک میں قائم سوسائٹی کے دفتر کو بھی ارسال کئے جا سکتے ہیں۔ زیورات یا دیگر قیمتی اشیاء بھی بطور عطیہ پیش کی جا سکتی ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک مختصر سا خط ہونا چاہئے جو یہ بیان کرتا ہو کہ یہ بطور تحفہ پیش کی جا رہی ہیں۔
مشروط عطیات کا انتظام
واچ ٹاور سوسائٹی کو رقوم ایک خاص انتظام کے تحت بھی دی جا سکتی ہیں جس میں عطیہ دینے والے کی ذاتی ضرورت کے پیشِنظر اُسے عطیات واپس کئے جا سکتے ہیں۔ مزید معلومات کیلئے، براہِمہربانی مذکورہبالا پتے پر خزانچی کے دفتر سے رابطہ کریں۔
چیریٹیبل پلاننگ
رقوم کی صورت میں تحفے اور مشروط عطیات کے علاوہ، عالمگیر بادشاہتی خدمت کو فائدہ پہنچانے کیلئے مندرجہذیل طریقوں کے علاوہ اور طریقے بھی ہیں:
انشورنس: واچ ٹاور سوسائٹی کو لائف انشورنس پالیسی یا ریٹائرؔمنٹ کے بعد پنشن سے مستفید ہونے والے کے طور پر نامزد کِیا جا سکتا ہے۔
بینک اکاؤنٹس: بینک اکاؤنٹس، ڈیپازٹ سرٹیفکیٹ یا انفرادی ریٹائرؔمنٹ اکاؤنٹس کو مقامی بینک کے تقاضوں کی مطابقت میں، واچٹاور سوسائٹی کی زیرِتولیت یا بعدازموت قابلِادائیگی کے تحت جمع کروائے جا سکتے ہیں۔
اسٹاکس اینڈ بانڈز: اسٹاکس اور بانڈز بھی براہِراست تحفے یا پھر ایسے بندوبست کے تحت واچ ٹاور سوسائٹی کے نام کئے جا سکتے ہیں جس میں آمدنی عطیہ دینے والے کو ملتی رہتی ہے۔
غیرمنقولہ جائیداد: قابلِفروخت غیرمنقولہ جائیداد بھی واچٹاور سوسائٹی کے نام کی جا سکتی ہے۔ اسے براہِراست تحفے کی صورت میں بھی پیش کِیا جا سکتا ہے۔ عطیے کے طور پر اپنی جائیداد دینے والا اپنی زندگی کے دوران اس میں رہ سکتا ہے مگر مرنے کے بعد یہ سوسائٹی کے نام ہو جائیگی۔ کسی بھی شخص کو غیرمنقولہ جائیداد سوسائٹی کے نام کرنے سے پہلے سوسائٹی سے رابطہ کرنا چاہئے۔
وصیتیں اور ٹرسٹس: املاک یا رقوم قانونی طور پر لکھی گئی وصیت کے ذریعے واچ ٹاور سوسائٹی کو ترکے میں دی جا سکتی ہیں یا سوسائٹی کو ٹرسٹ کے معاہدے کا استفادہکنندہ نامزد کِیا جا سکتا ہے۔ ایک ٹرسٹ جو کسی مذہبی تنظیم کو فائدہ پہنچا رہا ہے اُسے ٹیکس کی بعض سہولتیں دستیاب ہو سکتی ہیں۔
”چیریٹیبل پلاننگ“ کی اصطلاح سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کے عطیات کیلئے دینے والے کو خاص منصوبہسازی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُن اشخاص کی مدد کرنے کیلئے جو کسی نہ کسی طرح کی چیریٹیبل پلاننگ کے ذریعے سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کی خواہش رکھتے ہیں، سوسائٹی نے انگریزی زبان میں ایک بروشر بعنوان پلانڈ گیونگ ٹو بینیفٹ کنگڈم سروس ورلڈوائیڈ تیار کِیا ہے۔ یہ بروشر اُن بیشمار سوالات کے جواب میں تحریر کِیا گیا ہے جو سوسائٹی سے عطیات، وصیتوں اور ٹرسٹس کی بابت پوچھے گئے تھے۔ اس میں جائیداد، رقوم، نیز ٹیکس سے متعلق منصوبہ کی بابت مفید اضافی معلومات پائی جاتی ہیں۔ نیز یہ ریاستہائےمتحدہ کے اُن اشخاص کی مدد کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے جو اس وقت سوسائٹی کو خاص عطیات پیش کرنا یا موت کے بعد اپنے خاندان اور ذاتی حالات کے پیشِنظر انتہائی نفعبخش اور مؤثر طریقے کا انتخاب کرنے کی وصیت چھوڑنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا براہِراست چیریٹیبل پلاننگ آفس سے درخواست کر کے اس بروشر کی ایک کاپی حاصل کی جا سکتی ہے۔
بروشر کو پڑھنے اور چیریٹیبل پلاننگ آفس کیساتھ مشورہ کرنے کے بعد، بہتیرے لوگ سوسائٹی کی مدد کرنے اور اس کیساتھ ساتھ اِس سے متعلق ٹیکس سہولیات کو بڑھانے کے قابل ہوئے ہیں۔ چیریٹیبل پلاننگ آفس کو اس سے مطلع کِیا جانا چاہئے اور ان انتظامات سے متعلق کسی بھی قسم کی دستاویز کی ایک کاپی دی جانی چاہئے۔ اگر آپ چیریٹیبل پلاننگ آفس کے ان انتظامات میں سے کسی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر آپکو چیریٹیبل پلاننگ آفس سے خط کے ذریعے یا پھر ٹیلیفون کے ذریعے مندرجہذیل پتے پر یا پھر سوسائٹی کے اُس دفتر سے رابطہ کرنا چاہئے جو آپکے ملک میں خدمت انجام دے رہا ہے۔
CHARITABLE PLANNING OFFICE
Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
9204-12563 100 Watchtower Drive, Patterson, New York
1000-306 (914) :Telephone
[صفحہ 23 پر تصویریں]
یہوواہ کے گواہوں کی کارگزاریوں کی اعانت رضاکارانہ عطیات سے ہوتی ہے