تیسرا عہدِہزارسالہ کب شروع ہوگا؟
کیا آپ نے کبھی یہ دعویٰ سنا ہے کہ تیسرا عہدِہزارسالہ سن ۲۰۰۰ کی بجائے ۲۰۰۱ میں شروع ہوگا؟ کسی حد تک یہ دعویٰ سچ ہے۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ یسوع مسیح کی پیدائش ۱ ق.س.ع. میں ہوئی تھی جیسے کہ ایک زمانے میں بعض لوگ سوچتے تھے، تو پھر دسمبر ۳۱، ۲۰۰۰ (۱۹۹۹ نہیں) دوسرے عہدِہزارسالہ کا آخر ہوگا اور جنوری ۱، ۲۰۰۱ تیسرے عہدِہزارسالہ کا شروع ہوگا۔a تاہم، آجکل تقریباً تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ یسوع مسیح ۱ ق.س.ع. میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ تو پھر وہ کب پیدا ہوا تھا؟
یسوع کی پیدائش کب ہوئی تھی؟
بائبل یسوع کی پیدائش کی حتمی تاریخ کا انکشاف نہیں کرتی۔ تاہم، یہ ایک بات ضرور بتاتی ہے کہ وہ ”ہیرؔودیس بادشاہ کے زمانہ میں“ پیدا ہوا تھا۔ (متی ۲:۱) بہت سے بائبل علماء کا خیال ہے کہ ہیرودیس کی وفات ۴ ق.س.ع. میں ہوئی تھی اور یسوع کی پیدائش اس سے پہلے—شاید ۵ یا ۶ ق.س.ع. میں ہو چکی تھی۔ وہ پہلی صدی کے یہودی مؤرخ فلاویس یوسیفس کے بیانات کو ہیرودیس کی موت کے سلسلے میں اپنی رائے کی بنیاد بناتے ہیں۔b
یوسیفس کے مطابق، ہیرودیس بادشاہ کی وفات سے پہلے چاند گرہن لگا تھا۔ بائبل عالم اِس سال کو ہیرودیس کی موت کا سال ظاہر کرنے کیلئے، مارچ ۱۱، ۴ ق.س.ع. کے جزوی چاند گرہن کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ تاہم، ۱ ق.س.ع. میں جنوری ۸ کو مکمل چاند گرہن تھا اور دسمبر ۲۷ کو جزوی چاند گرہن تھا۔ کوئی بھی شخص دعوےٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا یوسیفس ۱ ق.س.ع. کے کسی ایک گرہن کی طرف یا پھر ۴ ق.س.ع. کے گرہن کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ چنانچہ، ہم ہیرودیس کی وفات کے سال کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کرنے کیلئے یوسیفس کے الفاظ کو استعمال نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ایسا کر سکتے تو بھی مزید معلومات کے بغیر ہم اس بات کا تعیّن نہیں کر سکتے کہ یسوع کی پیدائش کب ہوئی تھی۔
یسوع کی پیدائش کی تاریخ کے سلسلے میں سب سے بڑا ثبوت ہمیں بائبل ہی سے ملتا ہے۔ الہامی ریکارڈ بیان کرتا ہے کہ یسوع کے رشتے کے بھائی یوحنا اصطباغی نے رومی حاکم تبریس قیصر کے پندرھویں برس میں نبی کے طور پر کام شروع کِیا۔ (لوقا ۳:۱، ۲) دُنیاوی تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ تبریس کو ستمبر ۱۵، ۱۴ س.ع. میں حاکم نامزد کِیا گیا تھا لہٰذا، اُسکا ۱۵ واں سال ۲۸ سنِعام کے آخر سے لیکر ۲۹ سنِعام کے آخر تک جائیگا۔ یوحنا نے اپنی خدمتگزاری کا آغاز اُسی وقت کے دوران کِیا اور بدیہی طور پر یسوع نے اپنی خدمتگزاری کا آغاز چھ ماہ بعد کِیا۔ (لوقا ۱:۲۴-۳۱) اِس ثبوت کیساتھ ساتھ دیگر ثبوت اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یسوع کی خدمتگزاری کا آغاز ۲۹ سنِعام کے موسمِخزاں میں ہوا ہوگا۔c بائبل بیان کرتی ہے کہ جب یسوع نے اپنی خدمتگزاری کا آغاز کِیا تو وہ ”تقریباً تیس برس کا تھا۔“ (لوقا ۳:۲۳) اگر وہ ۲۹ سنِعام کے موسمِخزاں میں ۳۰ برس کا تھا تو وہ یقیناً ۲ ق.س.ع. کے موسمِخزاں میں پیدا ہوا ہوگا۔ اب اگر ہم ۲ ق.س.ع. کے موسمِخزاں سے شروع کرکے دو ہزار سال شمار کریں (یہ یاد رکھتے ہوئے کہ صفر کا کوئی سال نہیں تھا؛ تو ۲ ق.س.ع. سے ۱ س.ع. تک دو سال ہونگے) تو ہم یہ سمجھ جائینگے کہ دوسرے عہدِہزارسالہ کا اختتام اور تیسرےعہدِہزارسالہ کا آغاز ۱۹۹۹ کے موسمِخزاں میں ہوگا!
کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ مثال کے طور، کیا تیسرے عہدِہزارسالہ کا شروع یسوع مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کے آغاز کی نشاندہی کریگا، جسکا ذکر مکاشفہ کی کتاب میں کِیا گیا ہے؟ جینہیں۔ بائبل کہیں بھی تیسرے عہدِہزارسالہ اور مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کے مابین کسی قسم کے تعلق کی نشاندہی نہیں کرتی۔
یسوع نے اپنے پیروکاروں کو تواریخ کی بابت قیاسآرائی کرنے کے خلاف خبردار کِیا تھا۔ اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا: ”اُن وقتوں اور میعادوں کا جاننا جنہیں باپ نے اپنے ہی اختیار میں رکھا ہے تمہارا کام نہیں۔“ (اعمال ۱:۷) اس سے پہلے، یسوع یہ آشکارا کر چکا تھا کہ وہ بھی نہیں جانتا کہ خدا کب مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کیلئے راہ تیار کرتے ہوئے، اس بدکار نظاماُلعمل پر سزا لائیگا۔ اُس نے کہا: ”لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔“—متی ۲۴:۳۶۔
کیا یہ توقع کرنا معقول ہے کہ مسیح بطور انسان اپنی پیدائش کی تاریخ کے ٹھیک ۲۰۰۰ سال بعد واپس آئیگا؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ یسوع اپنی تاریخ پیدائش سے ضرور واقف ہوگا۔ نیز وہ یہ بھی ضرور جانتا تھا کہ اُس تاریخ سے لیکر ۲۰۰۰ سال کیسے شمار کئے جانے چاہئیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے آنے کے دن اور گھڑی کی بابت نہیں جانتا تھا۔ واضح طور پر، اُسکی واپسی کی تاریخ کی نشاندہی کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا! ’وقت اور میعادوں‘ کا جاننا صرف باپ کے اختیار میں تھا—وقتی حساب صرف اُسی کے اختیار میں ہے۔
مزیدبرآں، یسوع نے اپنے پیروکاروں کو یہ حکم نہیں دیا تھا کہ وہ اُسکا انتظار کسی خاص جغرافیائی مقام پر کریں۔ اُس نے اُنہیں بتایا کہ ایک جگہ جمع ہو کر اُسکا انتظار نہ کریں بلکہ یہ کہ ”زمین کی انتہا تک“ پھیل جائیں اور سب قوموں کو شاگرد بنائیں۔ اُس نے اس حکم کو کبھی منسوخ نہیں کِیا ہے۔—اعمال ۱:۸؛ متی ۲۸:۱۹، ۲۰۔
کیا عہدِہزارسالہ کی بابت اُنکی اُمیدیں تِشنہ رہ جائیں گی؟
بہرصورت، بعض مذہبی بنیادپرستوں نے سن ۲۰۰۰ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ اُنکا خیال ہے کہ اگلے چند مہینوں کے دوران، مکاشفہ کی کتاب کے کچھ حصوں کی حقیقی تکمیل واقع ہوگی۔ درحقیقت، وہ دیکھتے ہیں کہ ذاتی طور پر وہ خود اسکی تکمیل میں شریک ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ مکاشفہ ۱۱:۳، ۷، ۸ میں درج پیشینگوئی کا حوالہ دیتے ہیں جو اُن گواہوں کا ذکر کرتی ہے جو ”اُس بڑے شہر [میں]“ نبوّت کرتے ہیں ”جو روحانی اعتبار سے سدؔوم اور مصرؔ کہلاتا ہے۔ جہاں اُن کا خداوند بھی مصلوب ہوا تھا۔“ جب وہ گواہی دینے کا اپنا کام مکمل کر لیتے ہیں تو وہ دونوں گواہ اتھاہگڑھے میں سے نکلنے والے حیوان کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔
دسمبر ۲۷، ۱۹۹۸ کے دی نیو یارک ٹائمز میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک مذہبی گروہ کے پیشوا نے ”اپنے پیروکاروں سے کہا ہے کہ وہ اُن دو گواہوں میں سے ایک ہے جس کیلئے پہلے سے یہ فیصلہ کِیا جا چکا ہے کہ وہ اس زمین کی بربادی اور خداوند کی آمد کا اعلان کرے گا—اور پھر شیطان کے ذریعے یروشلیم کے بازاروں میں قتل کر دیا جائے گا۔“ اسرائیلی حکمران کافی زیادہ پریشان ہیں۔ اُنہیں ڈر ہے کہ بعض انتہاپسند اس پیشینگوئی کا اپنے اُوپر ”اطلاق“ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں—خواہ اسکا مطلب مسلح جنگ کو ہوا دینا ہی کیوں نہ ہو! تاہم، اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے خدا انسانوں کی ”مدد“ کا محتاج نہیں ہے۔ بائبل کی تمام پیشینگوئیاں خدا کے مقررہ وقت پر اس کے اپنے طریقے سے تکمیل پائینگی۔
مکاشفہ کی کتاب ”رمزیہ“ ہے۔ مکاشفہ ۱:۱ کے مطابق، یسوع (عام دُنیا کی بجائے) ”اپنے بندوں“ پر یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ جلد ہی کیا واقع ہوگا۔ مکاشفہ کی کتاب سمجھنے کیلئے مسیح کے بندوں یا پیروکاروں کو خدا کی رُوحاُلقدس کی ضرورت ہوگی، جسے یہوواہ ایسے لوگوں کو دیتا ہے جنہیں اُسکی خوشنودی حاصل ہو۔ اگر مکاشفہ کی کتاب کو لفظی طور پر سمجھا جانا ہوتا تو بےایمان لوگ بھی اسے پڑھکر سمجھ سکتے تھے۔ اس صورت میں مسیحیوں کو اسے سمجھنے کی خاطر رُوحاُلقدس کیلئے دُعا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔—متی ۱۳:۱۰-۱۵۔
ہم نے دیکھ لیا ہے کہ بائبل کے دلائل کے مطابق، یسوع کی پیدائش سے لیکر تیسرا عہدِہزارسالہ ۱۹۹۹ کے موسمِخزاں میں شروع ہوتا ہے، لہٰذا اس تاریخ کو اور جنوری ۱، ۲۰۰۰ یا جنوری ۱، ۲۰۰۱ کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہے۔ البتہ، ایک عہدِہزارسالہ ہے جس میں مسیحی بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر یہ تیسرا عہدِہزارسالہ نہیں ہے تو پھر کونسا ہے؟ اس سلسلے کا آخری مضمون اِس سوال کا جواب دیگا۔
[فٹنوٹ]
a صفحہ ۵ کے بکس بعنوان ”۲۰۰۰ یا ۲۰۰۱؟“ کو دیکھیں۔
b ان علماء کی تاریخنگاری کے مطابق، تیسرے عہدِہزارسالہ کا آغاز سن ۱۹۹۵ یا ۱۹۹۶ میں ہونا چاہئے تھا۔
c مزید تفصیلات کیلئے، براہِمہربانی واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ انسائٹ آن دی سکرپچرز، جِلد ۱، صفحہ ۱۰۹۴-۱۰۹۵ کو دیکھیں۔
[صفحہ 5 پر بکس]
۲۰۰۰ یا ۲۰۰۱؟
یہ سمجھنے کے لئے بعض لوگ یہ دعویٰ کیوں کرتے ہیں کہ یسوع کی پیدائش سے لیکر تیسرا عہدِہزارسالہ جنوری ۱، ۲۰۰۱ کے ساتھ شروع ہوگا، اس مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ آپ ۲۰۰ صفحات پر مشتمل ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ جب آپ صفحہ ۲۰۰ پر پہنچتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ۱۹۹ صفحات پڑھ لئے ہیں اور اب ایک صفحہ باقی رہ گیا ہے۔ جب تک آپ صفحہ ۲۰۰ کے آخر پر نہیں پہنچتے آپ کی کتاب مکمل نہیں ہوگی۔ اسی طرح، دسمبر ۳۱، ۱۹۹۹ پر، موجودہ عہدِہزارسالہ کے ۹۹۹ سال جیسے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، مکمل ہو چکے ہوں گے اور عہدِہزار سال کے مکمل ہونے میں ایک سال باقی ہوگا۔ اس حساب سے، تیسرے عہدِہزارسالہ کا آغاز جنوری ۱، ۲۰۰۱ کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹھیک اُسی تاریخ پر یسوع کی تاریخ پیدائش سے لیکر ۲۰۰۰ سال مکمل ہو جائیں گے، جیسےکہ یہ مضمون ظاہر کرتا ہے۔
[صفحہ 6 پر بکس]
قبلازمسیح–عیسوی کی تخصیص کا نظام کیسے رائج ہوا
چھٹی صدی س.ع. کے اوائل میں، پوپ جان اول نے ڈائیوآنسیئس آکسیگوئس نامی ایک راہب کو گنتی کا ایسا نظام ترتیب دینے کا حکم دیا جو چرچز کو ایسٹر کی ایک سرکاری تاریخ مقرر کرنے کے قابل بنائیگا۔
ڈائیوآنسیئس نے یسوع کی موت سے پیچھے کیطرف اُس سال تک حساب لگانا شروع کر دیا جو اُس کے خیال میں یسوع کی پیدائش کا وقت تھا، اس کے بعد اُس نے اُس وقت سے آگے کی طرف ایک ایک سال کو شمار کِیا۔ ڈائیوآنسیئس نے یسوع کی پیدائش سے آگے کے عرصہ کو ”اے.ڈی“ (اینو ڈومینی—”ہمارے خداوند کے سال میں“ یا ”سنعیسوی“) کا نام دیا۔ ہر سال ایسٹر کا حساب لگانے کا ایک قابلِبھروسہ طریقہ ایجاد کرنے کے مقصد کے باوجود ڈائیوآنسیئس نے نادانستہ طور پر مسیح کی پیدائش سے آگے کے سال گننے کے نظریے کو متعارف کروا دیا۔
اگرچہ بیشتر عالم اس بات سے متفق ہیں کہ یسوع اُس سال میں پیدا نہیں ہوا تھا جسے ڈائیوآنسیئس نے اپنے حساب کی بنیاد کے طور پر استعمال کِیا تھا توبھی اُس کا نظامِتاریخنگاری ہمیں وقت کے دھارے میں واقعات کا تعیّن کرنے اور ایک دوسرے کیساتھ اُنکے تعلق کو سمجھنے کے قابل ضرور بناتا ہے۔