ایک امتیازی سال؟
کیا سن ۲۰۰۰ کی بابت کوئی خاص بات ہے؟ مغربی لوگ عموماً اسے تیسرے عہدِہزارسالہ کا پہلا سال خیال کرتے ہیں۔ اسے منانے کے لئے وسیع تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ نئے عہدِہزارسالہ کے شروع ہونے سے پہلے کے چند لمحوں کو گننے کے لئے بڑی بڑی الیکٹرانک گھڑیاں نصب کی جا رہی ہیں۔ نئے سال کی شام کا جشن منانے کے لئے تقریبات ترتیب دی جا رہی ہیں۔ عہدِہزارسالہ کا اختتام جیسے جملوں والی ٹیشرٹس بڑے بڑے شہروں کے شاپنگ مالز کے علاوہ چھوٹے چھوٹے قصبوں کی دکانوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔
چھوٹے بڑے تمام چرچ، سال بھر کے دوران ہونے والی تقریبات میں شریک ہوں گے۔ اگلے سال کے اوائل میں، ”عہدِہزارسالہ سے متعلق رومن کیتھولک چرچ کی جوبلی کی تقریبات“ کے سلسلے میں رومن کیتھولک کلیسیا کی پیشوائی کرنے کے لئے پوپ جان پال دوئم کا اسرائیل کا دورہ متوقع ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگلے سال ڈھائی ملین سے چھ ملین کے درمیان متجسس اور عقیدتمند سیاح اسرائیل کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
اتنے زیادہ لوگ اسرائیل کا دورہ کرنے کا منصوبہ کیوں بنا رہے ہیں؟ ویٹیکن سے پوپ کے نمائندے، راجر کارڈینل ایچگیری نے کہا: ”سن ۲۰۰۰ مسیح اور اس ملک میں اُس کی زندگی کے جشن کا سال ہے۔ اس لئے یہ فطری بات ہے کہ پوپ یہاں آئیگا۔“ سن ۲۰۰۰ کا مسیح کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ عام طور پر یہ خیال کِیا جاتا ہے کہ سن ۲۰۰۰ میں مسیح کی پیدائش سے لیکر ٹھیک ۲۰۰۰ سال پورے ہو جائینگے۔ تاہم کیا واقعی ایسا ہے؟ ہم دیکھیں گے۔
بعض مذہبی گروہوں کے اراکین کیلئے تو ۲۰۰۰ کا سال اور زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اگلے ایک دو سال کے اندر اندر، یسوع کوہِزیتون پر واپس آئیگا اور مکاشفہ کی کتاب میں متذکرہ ہرمجدون کی لڑائی، مجدو کی وادی میں لڑی جائیگی۔ (مکاشفہ ۱۶:۱۴-۱۶) ان واقعات کی توقع میں، ریاستہائےمتحدہ کے ہزاروں باشندے اپنے گھربار اور اپنا مالواسباب بیچ کر اسرائیل کے ملک کو جا رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، وہ لوگ جو اپنے گھربار چھوڑ کر نہیں جا سکتے، اُنکے کیلئے ریاستہائےمتحدہ کے ایک ممتاز مبشر نے رنگین ٹیلیویژن پر—مسیح کی واپسی کی بابت معلومات نشر کرنے کا وعدہ کِیا ہے!
مغربی ممالک میں، تیسرے عہدِہزارسالہ میں داخل ہونے کے منصوبوں میں تیزی آ رہی ہے۔ تاہم، دیگر ممالک میں لوگ اپنے اپنے معمول میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ—دُنیا کی بڑی آبادی—یہ ایمان نہیں رکھتے کہ ناصرۃ کا یسوع مسیحا تھا۔ وہ تاریخ ظاہر کرنے کیلئے قبلازمسیح–عیسوی کے اسلوبِتحریر کو بھی قبول نہیں کرتے۔a مثال کے طور پر، مسلمان اپنا ذاتی کیلنڈر استعمال کرتے ہیں، جسکے مطابق اگلا سال ۲۰۰۰ کی بجائے ۱۴۲۰ ہوگا۔ مسلمان سال کا شمار اُس تاریخ سے کرتے ہیں جب اُنکے نبی نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی۔ مجموعی طور پر، دُنیا بھر میں لوگ تقریباً ۴۰ مختلف قسم کے کیلنڈر استعمال کرتے ہیں۔
کیا سن ۲۰۰۰ کو مسیحیوں کیلئے کوئی خاص مطلب رکھنا چاہئے؟ کیا جنوری ۱، ۲۰۰۰ واقعی اہم دن ہے؟ ان سوالات کے جواب اگلے مضمون میں دئے جائینگے۔
[فٹنوٹ]
a تاریخ ظاہر کرنے کیلئے قبلازمسیح–عیسوی کے اسلوبِتحریر میں، یسوع کی پیدایش کے مرّوجہ وقت سے پہلے کے واقعات کو ”قبلازمسیح“ (مسیح سے پہلے) کے سال کہا جاتا ہے؛ اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات کو ”اے.ڈی“ (اینو ڈومینی—”ہمارے خداوند کے سال میں“ یا ”عیسوی“) کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم، بعض دانشور دُنیاوی نام ”ق.س.ع.“ (قبلازسنِعام) اور ”س.ع.“ (سنِعام) کو استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔