اہمیت کے حامل عہدِہزارسالہ کیلئے تیاری کریں!
مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی انسانی خاندان کے لئے اَنگنت برکات لائے گی۔ نوعِانسان کو یسوع کی پُرمحبت نگرانی کے تحت، اُن کی موجودہ افسوسناک حالت سے نکال کر پُرجلال کاملیت میں داخل کر دیا جائیگا۔ ذرا سوچیں کہ اس کا آپ کیلئے کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ اچھی صحت! تصور کریں کہ جب آپ ہر صبح بیدار ہوتے ہیں تو پہلے دن کی نسبت زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں۔ لاکھوں مردوزن اور بچے اُس پُرمسرت دور میں زندگی بسر کرنے کے متمنی ہیں۔ وہ اُس کے انتظار میں ہیں اور اُس کیلئے دُعاگو ہیں۔ وہ اپنے بائبل مطالعہ سے اِس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ وہ ان برکات سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں۔
تاہم، اپنی ہزار سالہ حکمرانی شروع کرنے سے پیشتر، ضرور ہے کہ یسوع مسیح زمین پر سے اُن تمام لوگوں کو ختم کر دے جو اُس کی حکومت کے مخالف ہیں۔ وہ بائبل میں بیانکردہ ہرمجدون کی لڑائی پر ایسا کرے گا۔ (مکاشفہ ۱۶:۱۶) زمین پر رہنے والے سچے مسیحی اس جنگ میں حصہ نہیں لینگے۔ یہ خدا کی جنگ ہے۔ نیز یہ کسی ایک جغرافیائی مقام تک محدود نہیں ہوگی۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ یہ زمین کی انتہا تک مار کریگی۔ مسیح کی حکومت کے دشمنوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ اُن میں سے کوئی بھی نہیں بچیگا!—یرمیاہ ۲۵:۳۳۔
اسکے بعد یسوع شیطان ابلیس اور اُسکے شیاطین کی طرف متوجہ ہوگا۔ ذرا مکاشفہ کی کتاب کے تحریر کرنے والے کو نظر آنے والے اِس منظر کا تصور کریں: ”پھر مَیں نے ایک فرشتہ کو آسمان سے اُترتے دیکھا جسکے ہاتھ میں اتھاہ گڑھے کی کُنجی اور ایک بڑی زنجیر تھی۔ اُس نے اُس اژدہا یعنی پرانے سانپ کو جو ابلیس اور شیطان ہے پکڑ کر ہزار برس کے لئے باندھا۔“ (مکاشفہ ۲۰:۱، ۲) اسکے بعد شیطان اور اُسکے شیاطین کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نابود کر دیا جائیگا۔—متی ۲۵:۴۱۔
”ایک ایسی بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا،“ ہرمجدون سے بچ جائیگی۔ (مکاشفہ ۷:۹) مسیح ان لوگوں کو پوری طرح فائدہ اُٹھانے کیلئے ”آبِحیات کے چشموں“ کے پاس لے جائیگا بالکل اُسی طرح جیسے ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کو زندگیبخش پانیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ (مکاشفہ ۷:۱۷) اپنی روحانی ترقی میں شیطان اور اُسکے شیاطین کی طرف سے ہر طرح کی مداخلت کے بغیر ہر مجدون سے بچنے والے لوگوں کو اپنی گنہگارانہ رغبتوں پر قابو پانے کیلئے بتدریج مدد دی جائیگی جبتک کہ وہ کاملیت کو نہیں پہنچ جاتے!
مسیح کی پُرمحبت حکومت کے تحت معیارِزندگی میں بھی بتدریج بہتری آئے گی۔ یہوواہ خدا، یسوع مسیح کے ذریعے دُکھدرد اور رنجوالم کے تمام اسباب کو ختم کر دے گا۔ وہ ”اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اِس کے بعد نہ موت رہیں گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔“ (مکاشفہ ۲۱:۴) یسعیاہ نبی یہ کہتے ہوئے منظرکشی کرتا ہے: ”اس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائیں گی اور بہروں کے کانکھولے جائیں گے۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرینگے اور گونگے کی زبان گائیگی کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلینگی۔“ (یسعیاہ ۳۵:۵، ۶) پس ”چھوٹے بڑے“ سب مُردے زندہ کر دئے جائیں گے جنہیں پھر کبھی مرنا نہیں پڑیگا!—مکاشفہ ۲۰:۱۲۔
اِس وقت بھی اُس ”بڑی بِھیڑ“ کو جمع کِیا جا رہا ہے جو ہرمجدون سے بچ جائیگی۔ وہ مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کیلئے تیار ہو رہی ہے۔ اگرچہ وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ حکمرانی کب شروع ہوگی، تاہم اُنہیں یقین ہے کہ یہ خدا کے وقتِمقررہ پر اپنا کام شروع کر دے گی۔ آپ بھی اُن لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں مگر آپکو—اپنا مالومتاع بیچنے اور کسی جغرافیائی مقام کی طرف نقلمکانی کرنے کی بجائے بائبل کے مطالعے سے یہوواہ خدا اور اُسکے مقاصد کی بابت صحیح علم حاصل کرنے سے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہوواہ کے گواہ، مُفت اور کوئی بوجھ محسوس کئے بغیر بڑی خوشی کیساتھ آپکو بتائینگے کہ بائبل کا مطالعہ آپکو اور آپکے خاندان کو کیسے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس رسالے کے پبلشر بھی آپکو مزید معلومات فراہم کر کے خوش ہونگے۔
[صفحہ 7 پر بکس]
ہزار سال—حقیقی یا علامتی؟
بائبل میں مکاشفہ کی کتاب کے علامتی زبان میں تحریر کئے جانے کی وجہ سے ایک سوال اُٹھتا ہے۔ مکاشفہ میں متذکرہ مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کی بابت کیا ہے؟ کیا یہ حقیقی یا علامتی دور ہے؟
اس کی ہر شہادت موجود ہے کہ اس سے مُراد حقیقی ہزار سال ہیں۔ غور کریں: پولس مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی کا ذکر ایک دن کے طور پر کرتا ہے، جسکے دوران نوعِانسان کا انصاف کِیا جاتا ہے۔ (اعمال ۱۷:۳۱؛ مکاشفہ ۲۰:۴) پطرس رسول نے لکھا کہ یہوواہ کے نزدیک ایک دن (۲۴ گھنٹے) ہزار سال کے برابر ہے۔ (۲-پطرس ۳:۸) اس سے پتہ چلتا ہے کہ عدالت کا یہ ”دن“ حقیقی ہزار سال ہے۔ مزیدبرآں، ہم مکاشفہ ۲۰:۳، ۵-۷ میں چار مختلف مرتبہ ہزار سال کی بابت پڑھتے ہیں جنہیں اسمِنکرہ کے طور پر بیان کِیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک حتمی وقتی مدت ہے۔