کیا یہوواہ ہم سے بہت زیادہ تقاضا کرتا ہے؟
”[یہوواہ] تجھ سے اسکے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو انصاف کرے اور رحمدلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟“—میکاہ ۶:۸۔
۱. بعض لوگ کس وجہ سے یہوواہ کی خدمت نہیں کرتے؟
یہوواہ اپنے لوگوں سے کچھ تقاضا کرتا ہے۔ تاہم، میکاہ کے نبوّتی بیان سے لئے گئے مندرجہبالا الفاظ پڑھکر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ خدا کے تقاضے معقول ہیں۔ اس کے باوجود، بہتیرے لوگ ہمارے عظیم خالق کی خدمت نہیں کرتے اور بعض نے تو اُس کی خدمت کرنا ترک کر دیا ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ اُن کے خیال میں یہوواہ ہم سے بہت زیادہ تقاضا کرتا ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ یا کیا یہوواہ کے تقاضوں کے سلسلے میں کسی شخص کے نظریے میں کوئی خرابی ہو سکتی ہے؟ ایک تاریخی سرگزشت اس معاملے پر کچھ بصیرت بخشتی ہے۔
۲ ارامی فوج کا سردار نعمان کوڑھ کی بیماری میں مبتلا تھا، چنانچہ اُسے اسرائیل میں یہوواہ کے نبی کے پاس جانے کا مشورہ دیا گیا جو اُسے شفا دے سکتا تھا۔ لہٰذا، نعمان اور اُس کے خادم اسرائیل کے ملک کو روانہ ہوئے اور آخرکار خدا کے نبی الیشع کے گھر پہنچے۔ گھر سے باہر آ کر اپنے معزز مہمان کا استقبال کرنے کی بجائے الیشع نے اپنے نوکر کی معرفت یہ کہلا بھیجا: ”جا اور یردن میں سات بار غوطہ مار تو تیرا جسم پھر بحال ہو جائے گا اور تُو پاکصاف ہوگا۔“—۲-سلاطین ۵:۱۰۔
۳ اگر نعمان خدا کے نبی کی بات مانیگا تو اس نفرتانگیز بیماری سے شفا پائے گا۔ چنانچہ، کیا یہوواہ اُس سے بہت زیادہ تقاضا کر رہا تھا؟ ہرگز نہیں۔ اس کے باوجود، نعمان وہ کام کرنے کو تیار نہیں تھا جسکا یہوواہ نے تقاضا کِیا تھا۔ ”کیا دمشقؔ کے دریا اباؔنہ اور فرؔفر اسرائیلؔ کی سب ندیوں سے بڑھ کر نہیں ہیں؟“ اُس نے اعتراض کِیا۔ ”کیا مَیں اُن میں نہا کر پاکصاف نہیں ہو سکتا؟“ یوں وہ غصے میں واپس چلا گیا۔—۲-سلاطین ۵:۱۲۔
۴ نعمان کو درحقیقت کیا مسئلہ درپیش تھا؟ تقاضا پورا کرنا تو اتنا مشکل نہیں تھا۔ نعمان کے ملازموں نے بڑی موقعشناسی سے کہا: ”اگر وہ نبی کوئی بڑا کام کرنے کا حکم تجھے دیتا تو کیا تُو اُسے نہ کرتا۔ پس جب وہ تجھ سے کہتا ہے کہ نہا لے اور پاکصاف ہو جا تو کتنا زیادہ اسے ماننا چاہئے؟“ (۲-سلاطین ۵:۱۳) دراصل مسئلہ نعمان کے رویے کا تھا۔ اُس نے محسوس کِیا کہ اُس کے لئے واجب عزتواحترام نہیں دکھایا گیا تھا اور اُس سے لاحاصل اور اہانتآمیز کام کرنے کو کہا گیا ہے۔ تاہم، نعمان نے اپنے ملازموں کے موقعشناس مشورے پر عمل کِیا اور دریائےیردن میں سات بار غوطہ لگایا۔ ذرا اُس کی خوشی کا تصور تو کریں جب ”اُس کا جسم چھوٹے بچے کے جسم کی مانند ہو گیا اور وہ پاکصاف ہوا“! وہ شکرگزاری سے معمور ہو گیا۔ مزیدبرآں، نعمان نے یہ بھی کہا کہ وہ اب سے یہوواہ کے سوا کسی دوسرے معبود کی پرستش نہیں کریگا۔—۲-سلاطین ۵:۱۴-۱۷۔
۵ پوری انسانی تاریخ میں، یہوواہ نے لوگوں سے مختلف ضوابط کے مطابق زندگی گزارنے کا تقاضا کِیا ہے۔ ہم آپ کو ان میں سے چند کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ ذرا خود سے پوچھیں کہ اگر یہوواہ نے آپ سے ایسا کرنے کیلئے کہا ہوتا تو آپ نے کیسا ردِعمل دکھایا ہوتا۔ بعدازاں، ہم اس بات کا جائزہ لینگے کہ یہوواہ آجکل ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے۔
یہوواہ نے ماضی میں کیا تقاضا کِیا
۶ یہوواہ نے پہلے انسانی جوڑے، آدم اور حوا کو اولاد پیدا کرنے سے زمین کو معمورومحکوم کرنے اور جانوروں پر اختیار رکھنے کی ہدایت کی۔ آدمی اور اُسکی بیوی کو ایک باغنما وسیعوعریض گھر بھی عطا کِیا گیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۷، ۲۸؛ ۲:۹-۱۵) تاہم ایک پابندی ضرور تھی۔ اُنہیں باغِعدن کے بہتیرے پھلدار درختوں میں سے ایک درخت کا پھل نہیں کھانا تھا۔ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷) کیا یہ بہت بڑا تقاضا تھا؟ کیا آپ نے کامل صحت کیساتھ ہمیشہ زندہ رہنے کے امکان کے پیشِنظر اس تفویض کو خوشی سے پورا نہ کِیا ہوتا؟ اگرچہ باغ میں ایک ورغلانے والا آ موجود ہوا، توبھی کیا آپ نے اُسکی پیشکش کو رد نہ کر دیا ہوتا؟ پس، کیا آپ کے خیال میں یہوواہ کو ایک چھوٹی سی پابندی عائد کرنے کا بھی حق نہیں تھا؟—پیدایش ۳:۱-۵۔
۷ بعدازاں، یہوواہ نے نوح سے ایک کشتی بنانے کو کہا جو عالمگیر طوفان سے بچاؤ کا ذریعہ ہوگی۔ کشتی کی ضخامت کے پیشِنظر یہ کام آسان نہیں تھا جسے غالباً بڑے تمسخر اور دشمنی کے سامنے انجام دیا جانا تھا۔ تاہم، نوح کیلئے کتنا بڑا شرف تھا کہ وہ اپنے گھرانے اور بہتیرے جانوروں کو بھی بچانے کے قابل ہوا! (پیدایش ۶:۱-۸؛ ۱۴-۱۶؛ عبرانیوں ۱۱:۷؛ ۲-پطرس ۲:۵) اگر آپ کو ایسی تفویض سونپی جاتی تو کیا آپ نے اسے پورا کرنے کے لئے جانفشانی کی ہوتی؟ یا کیا آپ نے یہ سوچا ہوتا کہ یہوواہ آپ سے بہت زیادہ کا تقاضا کر رہا ہے؟
۸ خدا نے ابرہام سے ایک نہایت مشکل کام کرنے کے لئے کہا، اُس نے کہا: ”اپنے بیٹے اِضحاؔق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تُو پیار کرتا ہے ساتھ لیکر موؔریاہ کے مُلک میں جا اور وہاں اُسے . . . سوختنی قُربانی کے طور پر چڑھا۔“ (پیدایش ۲۲:۲) چونکہ یہوواہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ اُس وقت بےاولاد اضحاق کے ہاں بھی اولاد ہوگی اسلئے اضحاق کی زندگی بحال کرنے کی خدا کی لیاقت پر ابرہام کے ایمان کی ضرور آزمائش ہوئی ہوگی۔ جب ابرہام اضحاق کو قربان کرنے لگا تو خدا نے اُس نوجوان کو بچا لیا۔ اس واقعہ سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ خدا نوعِانسان کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کرے گا اور بعدازاں اُسے زندہ کر دیگا۔—پیدایش ۱۷:۱۹؛ ۲۲:۹-۱۸؛ یوحنا ۳:۱۶؛ اعمال ۲:۲۳، ۲۴، ۲۹-۳۲؛ عبرانیوں ۱۱:۱۷-۱۹۔
۹ بعض شاید سوچیں کہ یہوواہ ابرہام سے بہت بڑا تقاضا کر رہا تھا۔ تاہم، کیا واقعی ایسا تھا؟ کیا مُردوں کو زندہ کرنے کی طاقت رکھنے والے ہمارے خالق کے لئے یہ واقعی غیرمشفقانہ بات ہے کہ وہ ہم سے عارضی طور پر موت کی نیند سو جانے کی حد تک فرمانبردار رہنے کا تقاضا کرے؟ یسوع مسیح اور اُس کے ابتدائی پیروکاروں کا یہ خیال نہیں تھا۔ وہ خدا کی مرضی بجا لانے کے لئے جسمانی بدسلوکی، حتیٰکہ موت کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار تھے۔ (یوحنا ۱۰:۱۱، ۱۷، ۱۸؛ اعمال ۵:۴۰-۴۲؛ ۲۱:۱۳) اگر حالات کا تقاضا ہو تو کیا آپ بھی ایسا ہی کرنے کے لئے تیار ہونگے؟ ذرا اُن تقاضوں میں سے چند ایک پر غور کیجئے جو یہوواہ نے اُس کی اُمت ہونے کا عہد کرنے والے لوگوں سے کئے تھے۔
اسرائیل کیلئے یہوواہ کی شریعت
۱۰ ابرہام کی اولاد اُسکے بیٹے اضحاق اور اُس کے پوتے یعقوب یا اسرائیل کے ذریعے بڑھتے بڑھتے اُمتِاسرائیل کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ یہوواہ نے اسرائیلیوں کو مصری غلامی سے چھڑایا۔ (پیدایش ۳۲:۲۸؛ ۴۶:۱-۳؛ ۲-سموئیل ۷:۲۳، ۲۴) اسکے تھوڑی ہی دیر بعد، اُنہوں نے خدا کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کا وعدہ کِیا۔ اُنہوں نے کہا: ”جو کچھ [یہوواہ] نے فرمایا وہ سب ہم کرینگے۔“ (خروج ۱۹:۸) اسرائیلیوں کی اس خواہش کے مطابق کہ یہوواہ اُن پر حکمرانی کرے، اُس نے احکامِعشرہ سمیت اُنہیں ۶۰۰ قوانین دئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ موسیٰ کی معرفت دئے گئے یہ خدائی قوانین شریعت کہلانے لگے۔—عزرا ۷:۶؛ لوقا ۱۰:۲۵-۲۷؛ یوحنا ۱:۱۷۔
۱۱ شریعت کا ایک مقصد اسرائیلیوں کی حفاظت کرنا تھا کیونکہ اس میں جنسی معاملات، کاروباری لیندین اور بچوں کی پرورش کے سلسلے میں عمدہ اصول فراہم کئے گئے تھے۔ (خروج ۲۰:۱۴؛ احبار ۱۸:۶-۱۸، ۲۲-۲۴؛ ۱۹:۳۵، ۳۶؛ استثنا ۶:۶-۹) ساتھی انسانوں اور پالتو جانوروں کیساتھ سلوک کی بابت بھی اصول فراہم کئے گئے تھے۔ (احبار ۱۹:۱۸؛ استثنا ۲۲:۴، ۱۰) سالانہ عیدوں اور پرستش کے اجتماعات سے متعلق تقاضوں نے لوگوں کو روحانی طور پر محفوظ رکھنے میں مدد دی۔—احبار ۲۳:۱-۴۳؛ استثنا ۳۱:۱۰-۱۳۔
۱۲ پولس رسول نے شریعت کا بنیادی مقصد واضح کرتے ہوئے تحریر کِیا: ”وہ نافرمانیوں کے سبب سے بعد میں دی گئی کہ اُس نسل [مسیح] کے آنے تک رہے جس سے وعدہ کِیا گیا تھا۔“ (گلتیوں ۳:۱۹) شریعت نے اسرائیلیوں کو یاد دلایا کہ وہ ناکامل ہیں۔ پس، منطقی طور پر، اُنہیں ایسی کامل قربانی کی ضرورت تھی جو اُنکے گناہوں کو مکمل طور پر مٹا ڈالے۔ (عبرانیوں ۱۰:۱-۴) لہٰذا، شریعت کا مقصد لوگوں کو یسوع یعنی مسیحا یا مسیح کو قبول کرنے کیلئے تیار کرنا تھا۔ پولس نے لکھا: ”پس شریعت مسیح تک پہنچانے کو ہمارا اُستاد بنی تاکہ ہم ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہریں۔“—گلتیوں ۳:۲۴۔
کیا یہوواہ کی شریعت سخت تھی؟
۱۳ شریعت کے ”پاک اور راست اور اچھی“ ہونے کے باوجود بہتیروں نے اُسے سخت محسوس کِیا۔ (رومیوں ۷:۱۲) شریعت کے کامل ہونے کی وجہ سے اسرائیلی اسکے اعلیٰ معیاروں پر پورے نہیں اُتر سکتے تھے۔ (زبور ۱۹:۷) اسی لئے پطرس رسول نے اسے ”ایسا جؤا“ کہا ”جسکو نہ ہمارے باپدادا اُٹھا سکتے تھے نہ ہم۔“ (اعمال ۱۵:۱۰) بِلاشُبہ، شریعت بذاتِخود سخت نہیں تھی کیونکہ اس پر عمل کرنے سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا تھا۔
۱۴ مثال کے طور پر، شریعت کے مطابق ایک چور کو قید نہیں کِیا جاتا تھا بلکہ اُسے چرائی ہوئی چیز کے عوض دُگنی یا زیادہ رقم ادا کرنے کیلئے کام کرنا پڑتا تھا۔ اسطرح چوری کا نشانہ بننے والے شخص کو کوئی نقصان نہیں اُٹھانا پڑتا تھا اور نہ ہی جیل کے نظام کیلئے محنتی لوگوں پر کوئی بوجھ پڑتا تھا۔ (خروج ۲۲:۱، ۳، ۴، ۷) غیرمحفوظ کھانے ممنوع تھے۔ سؤر کے صحیح طرح سے نہ پکے ہوئے گوشت میں ترخینا اور خرگوش میں ہرنمکھی بخار کے جرثومے باقی رہ سکتے ہیں۔ (احبار ۱۱:۴-۱۲) اسی طرح، شریعت نے لاشوں کو چھونے کو ممنوع قرار دیکر تحفظ فراہم کِیا تھا۔ اگر کوئی کسی لاش کو چھو لیتا تو اُسے اپنے بدن اور کپڑوں کو دھونا پڑتا تھا۔ (احبار ۱۱:۳۱-۳۶؛ گنتی ۱۹:۱۱-۲۲) فضلے کو دبا دیا جاتا تھا تاکہ لوگ ایسے جراثیم سے محفوظ رہیں جنہیں سائنسدانوں نے حالیہ صدیوں میں ہی دریافت کِیا ہے۔—استثنا ۲۳:۱۳۔
۱۵ شریعت نے لوگوں سے بہت زیادہ تقاضا نہیں کِیا تھا۔ لیکن جن لوگوں نے شریعت کی وضاحت کرنے کا کام سنبھالا اُن کی بابت ایسا نہیں کہا جا سکتا تھا۔ اُنہوں نے جو اصول وضع کئے اُن کی بابت جیمز ہاسٹنگ کی مدونکردہ اَے ڈکشنری آف دی بائبل بیان کرتی ہے: ”بائبل کے ہر قانون کیساتھ لاتعداد ضمنی ضوابط بھی تھے۔ . . . لہٰذا ہر قابلِتصور معاملے کو شریعت کے دائرے میں لانے اور تمامتر انسانی طرزِعمل کو بےرحم اصولوں کیساتھ قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ . . . ضمیر کی آواز کو دبا دیا گیا تھا؛ زندہ الہٰی کلام کو ظاہری اصولوں کے انبار سے بےاثر کرکے دفن کر دیا گیا تھا۔“
۱۶ یسوع مسیح نے لاتعداد اصول بنانے والے مذہبی پیشواؤں کی ان الفاظ کیساتھ مذمت کی: ”وہ ایسے بھاری بوجھ جنکو اٹھانا مشکل ہے باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ اُنکو اپنی اُنگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔“ (متی ۲۳:۲، ۴) اُس نے واضح کِیا کہ طہارت کے نہایت دقیقوپیچیدہ طریقوں سمیت اُنکے انسانساختہ سخت اصولوں اور روایات نے ”خدا کے کلام کو . . . باطل“ کر دیا تھا۔ (مرقس ۷:۱-۱۳؛ متی ۲۳:۱۳، ۲۴-۲۶) یسوع کے زمین پر آنے سے پہلے بھی اسرائیل کے مذہبی پیشوا یہوواہ کے تقاضوں کی بابت غلطبیانی سے کام لے رہے تھے۔
دراصل یہوواہ کیا تقاضا کرتا ہے
۱۷ یسعیاہ نبی کی معرفت یہوواہ نے فرمایا: ”مَیں مینڈھوں کی سوختنی قربانیوں سے اور فربہ بچھڑوں کی چربی سے بیزار ہوں اور بیلوں اور بھیڑوں اور بکروں کے خون میں میری خوشنودی نہیں۔“ (یسعیاہ ۱:۱۰، ۱۱) شریعت کے تحت خدا نے جن قربانیوں کا تقاضا کِیا تھا اب وہ اُنہی سے بیزار کیوں تھا؟ (احبار ۱:۱–۴:۳۵) اس لئے کہ لوگوں نے اُس کے لئے بڑی بےادبی دکھائی تھی۔ لہٰذا، اُنہیں نصیحت کی گئی: ”اپنے آپ کو دھو۔ اپنے آپ کو پاک کرو۔ اپنے بُرے کاموں کو میری آنکھوں کے سامنے سے دُور کرو۔ بدفعلی سے باز آؤ۔ نیکوکاری سیکھو۔ اِنصاف کے طالب ہو۔ مظلوموں کی مدد کرو۔ یتیموں کی فریاد رسی کرو۔ بیواؤں کے حامی ہو۔“ (یسعیاہ ۱:۱۶، ۱۷) کیا اس سے یہ سمجھنے میں ہماری مدد نہیں ہوتی کہ یہوواہ اپنے خادموں سے کیا چاہتا ہے؟
۱۸ یسوع نے واضح کِیا کہ درحقیقت خدا کیا چاہتا ہے۔ یسوع سے یہ سوال پوچھا گیا کہ ”توریت میں کونسا حکم بڑا ہے؟“ یسوع نے جواب دیا: ”[یہوواہ] اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔ اور دوسرا اسکی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ انہی دو حکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے۔“ (متی ۲۲:۳۶-۴۰؛ احبار ۱۹:۱۸؛ استثنا ۶:۴-۶) موسیٰ نبی نے بھی یہ سوال پوچھ کر اسی نقطے کو واضح کِیا: ”[یہوواہ] تیرا خدا تجھ سے اسکے سوا اَور کیا چاہتا ہے کہ تُو [یہوواہ] اپنے خدا کا خوف مانے اور اُسکی سب راہوں پر چلے اور اُس سے محبت رکھے اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے [یہوواہ] اپنے خدا کی بندگی کرے۔ اور [یہوواہ] کے . . . احکام اور آئین . . . پر عمل کرے“—استثنا ۱۰:۱۲، ۱۳؛ ۱۵:۷، ۸۔
۱۹ اپنی خطاکاری کے باوجود اسرائیلی پاک دکھائی دینا چاہتے تھے۔ شریعت میں صرف سالانہ یومِکفارہ پر ہی روزہ رکھنے کا تقاضا کِیا گیا تھا مگر اُنہوں نے اکثر روزہ رکھنا شروع کر دیا تھا۔ (احبار ۱۶:۳۰، ۳۱) تاہم، یہوواہ نے ان الفاظ میں اُنہیں سرزنش کی: ”کیا وہ روزہ جو مَیں چاہتا ہوں یہی نہیں کہ ظلم کی زنجیریں توڑیں اور جوئے کے بندھن کھولیں اور مظلوموں کو آزاد کریں بلکہ ہر ایک جوئے کو توڑ ڈالیں؟ کیا یہ نہیں کہ تُو اپنی روٹی بھوکوں کو کھلائے اور مسکینوں کو جو آوارہ ہیں اپنے گھر میں لائے اور جب کسی کو ننگا دیکھے تو اسے پہنائے اور تُو اپنے ہمجنس سے روپوشی نہ کرے۔“—یسعیاہ ۵۸:۳-۷۔
۲۰ ظاہری راستباز اسرائیلیوں کیساتھ بھی اُن مذہبی ریاکاروں والا مسئلہ ہی تھا جن سے یسوع نے کہا: ”تم . . . پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو دہیکی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔“ (متی ۲۳:۲۳؛ احبار ۲۷:۳۰) کیا یسوع کی باتیں یہ سمجھنے میں ہماری مدد نہیں کرتیں کہ یہوواہ درحقیقت ہم سے کیا چاہتا ہے؟
۲۱ اس بات کو واضح کرنے کیلئے کہ یہوواہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے اور کیا نہیں کرتا، خدا کے نبی میکاہ نے استفسار کِیا: ”مَیں کیا لیکر [یہوواہ] کے حضور آؤں اور خداتعالےٰ کو کیونکر سجدہ کروں؟ کیا سوختنی قربانیوں اور یکسالہ بچھڑوں کو لیکر اسکے حضور آؤں؟ کیا [یہوواہ] ہزاروں مینڈھوں سے یا تیل کی دس ہزار نہروں سے خوش ہوگا؟ کیا مَیں اپنے پہلوٹھے کو اپنے گناہ کے عوض میں اور اپنی اولاد کو اپنی جان کی خطا کے بدلہ میں دیدوں؟ اَے انسان اُس نے تجھ پر نیکی ظاہر کر دی ہے۔ [یہوواہ] تجھ سے اسکے سوا کیا چاہتا ہے کہ تو انصاف کرے اور رحمدلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟“—میکاہ ۶:۶-۸۔
۲۲ پس، یہوواہ نے شریعت کے تحت رہنے والے لوگوں سے دراصل کیا تقاضا کِیا تھا؟ بِلاشُبہ، اُنہیں یہوواہ خدا سے محبت رکھنی تھی۔ مزیدبرآں، پولس رسول نے کہا: ”کیونکہ ساری شریعت پر ایک ہی بات سے پورا عمل ہو جاتا ہے یعنی اس سے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔“ (گلتیوں ۵:۱۴) اسی طرح، پولس نے رومی مسیحیوں کو بتایا: ”جو دوسروں سے محبت رکھتا ہے اُس نے شریعت پر پورا عمل کِیا۔ . . . محبت شریعت کی تعمیل ہے۔“—رومیوں ۱۳:۸-۱۰۔
یہ بہت زیادہ نہیں ہے
۲۳ کیا ہم اس بات سے متاثر نہیں ہیں کہ یہوواہ کتنا شفیق، خلیق، مہربان خدا ہے؟ اُس کا اکلوتا بیٹا، یسوع مسیح، خدا کی محبت کی بڑائی کرنے اور لوگوں کو یہ بتانے کے لئے زمین پر آیا کہ وہ یہوواہ کی نظر میں کتنے بیشقیمت ہیں۔ خدا کی محبت کو واضح کرنے کے لئے یسوع نے ادنیٰ چڑیوں کی بابت کہا: ”اُن میں سے ایک بھی تمہارے باپ کی مرضی کے بغیر زمین پر نہیں گِر سکتی۔“ پس اُس نے نتیجہ اخذ کِیا: ”ڈرو نہیں۔ تمہاری قدر تو بہت سی چڑیوں سے زیادہ ہے۔“ (متی ۱۰:۲۹-۳۱) یقیناً، ایسا پُرمحبت خدا جو بھی تقاضا کرتا ہے ہمیں اُسے بہت زیادہ خیال نہیں کرنا چاہئے!
۲۴ تاہم، یہوواہ آجکل ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ نیز بعض ایسا کیوں محسوس کرتے ہیں کہ خدا بہت زیادہ تقاضا کرتا ہے؟ ان سوالوں پر غور کرنے سے ہمیں یہ سمجھنے کے لائق ہو جانا چاہئے کہ یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کرنا شاندار شرف کیوں ہے۔
کیا آپ جواب دے سکتے ہیں؟
◻بعض یہوواہ کی خدمت سے انکار کیوں کر سکتے ہیں؟
◻برسوں کے دوران یہوواہ کے تقاضوں میں کیسے تبدیلی واقع ہوئی ہے؟
◻شریعت نے کیا مقصد انجام دیا تھا؟
◻یہوواہ کے تقاصوں کو پورا کرنا بہت زیادہ کیوں نہیں ہے؟
۲. نعمان کون تھا اور یہوواہ کے نبی نے اُس سے کیا کرنے کیلئے کہا تھا؟
۳. نعمان نے شروع میں یہوواہ کی بات پر عمل کرنے سے انکار کیوں کِیا تھا؟
۴، ۵. (ا) نعمان کو فرمانبرداری کا کیا صلہ ملا اور اسے پاکر اُس نے کیسا جوابیعمل دکھایا تھا؟ (ب) اب کس پر غور کرینگے؟
۶. پہلے انسانی جوڑے سے کیا کرنے کا تقاضا کِیا گیا تھا اور آپ نے ایسی ہدایات کیلئے کیسا جوابیعمل دکھایا ہوتا؟
۷. (ا) نوح کو کونسا کام سونپا گیا تھا اور اُسے کس قسم کی مخالفت کا سامنا ہوا تھا؟ (ب) یہوواہ نے نوح سے جو تقاضا کِیا آپ اُسے کیسا خیال کرتے ہیں؟
۸. ابرہام سے کیا کرنے کے لئے کہا گیا اور اُس کی تعمیل سے کس چیز کا عکس پیش کِیا گیا تھا؟
۹. یہوواہ ابرہام سے بہت زیادہ تقاضا کیوں نہیں کر رہا تھا؟
۱۰. کن لوگوں نے یہوواہ کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کا وعدہ کِیا اور اُس نے اُنہیں کیا عطا کِیا؟
۱۱. شریعت کا ایک مقصد کیا تھا اور اسکی تکمیل میں مددگار ثابت ہونے والے بعض ضابطے کونسے ہیں؟
۱۲. شریعت کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
۱۳. (ا) ناکامل انسان شریعت کو کیسا خیال کرتے ہیں اور کیوں؟ (ب) کیا شریعت واقعی سخت تھی؟
۱۴. اس بات کو واضح کرنے والی چند مثالیں کیا ہیں کہ شریعت نے اسرائیلیوں کیلئے نہایت مفید کام سرانجام دیا تھا؟
۱۵. اسرائیلیوں کیلئے کیا چیز بھاری ثابت ہوئی؟
۱۶. مذہبی پیشواؤں کے سخت اصولوں اور روایات کی بابت یسوع نے کیا کہا تھا؟
۱۷. یہوواہ بےایمان اسرائیلیوں کی سوختنی قربانیوں سے خوش کیوں نہیں تھا؟
۱۸. یہوواہ اسرائیلیوں سے درحقیقت کیا تقاضا کر رہا تھا؟
۱۹. اسرائیلیوں نے کس طرح خود کو پاک ظاہر کرنے کی کوشش کی مگر یہوواہ نے اُن سے کیا کہا؟
۲۰. یسوع نے مذہبی ریاکاروں کو کس لئے سرزنش کی؟
۲۱. میکاہ نبی نے اسکی تلخیص کیسے کی کہ یہوواہ کیا تقاضا کرتا ہے اور کیا نہیں کرتا؟
۲۲. یہوواہ شریعت کے ماتحت لوگوں سے درحقیقت کیا چاہتا تھا؟
۲۳، ۲۴. (ا) یہوواہ کے تقاضوں کو پورا کرنا ہمارے لئے کبھی بھی بہت زیادہ کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ (ب) اگلے مضمون میں ہم کس چیز پر باتچیت کرینگے؟
[صفحہ 18 پر تصویر]
طہارت کے دقیقوپیچیدہ اصولوں جیسے انسانساختہ اصولوں کی وجہ سے پرستش مشکل ہو گئی تھی