یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏8 ص.‏ 30-‏31
  • سوالات از قارئین

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوالات از قارئین
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ازدواجی زندگی کی پائیدار بنیاد ڈالیں
    خدا کی محبت میں قائم رہیں
  • ایک کامیاب شادی کیلئے تیاری کرنا
    خاندانی خوشی کا راز
  • شادی کا بندھن خدا کی ایک نعمت
    ہم خدا کی محبت میں کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟‏
  • شادی کے بندھن کا احترام کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2018ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏8 ص.‏ 30-‏31

سوالات از قارئین

مسیحیوں کو شادی کرنے کے لئے منگنی کو کتنا سنجیدہ سمجھنا چاہئے؟‏

شادی کرنے کیلئے منگنی خوشی کا سبب ہے، تاہم، یہ ایک سنجیدہ معاملہ بھی ہے۔ کسی بھی پُختہ مسیحی کو یہ محسوس کرتے ہوئے منگنی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی وجہ سے اسے ختم کر سکتا ہے۔ منگنی کا دَور ایک جوڑے کیلئے شادی سے پہلے ایک دوسرے سے بہتر طور پر واقف ہونے کا دَور ہوتا ہے۔‏

اس موضوع پر بات‌چیت کرنے کیلئے، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شادی سے متعلق معاشرتی دستورات اور اس کی جانب اقدام مختلف جگہوں اور وقتوں میں بڑی حد تک فرق پائے جاتے ہیں۔ بائبل اس کی وضاحت کرتی ہے۔‏

لوط کی دو بیٹیاں جو ”‏مرد سے واقف نہیں“‏ تھیں کسی نہ کسی طرح سے دو مقامی آدمیوں سے منسوب تھیں۔ لوط کے ’‏دامادوں نے ابھی اسکی بیٹیوں سے شادی کرنی تھی،‘‏ تاہم، بائبل ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ اُنکی منگنی کیوں اور کیسے ہوئی تھی۔ آیا بیٹیاں بالغ تھیں؟ کیا انہوں نے ان مردوں کا انتخاب کرنے میں کوئی بڑا کردار ادا کِیا تھا جن سے انکی شادی ہونی تھی؟ کیا انہوں نے دوسرے لوگوں کے سامنے منگنی کی تھی؟ ہم نہیں جانتے۔ (‏پیدایش ۱۹:‏۸-‏۱۴‏)‏ ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ یعقوب نے راخل سے شادی کرنے کیلئے راخل کے باپ کے ساتھ اس کی سات برس خدمت کرنے کے بعد اپنا عہد کیا۔ یعقوب کے راخل کو ”‏میری بیوی“‏ کہنے کے باوجود، ان برسوں کے دوران انہوں نے کوئی جنسی تعلقات قائم نہیں کئے تھے۔ (‏پیدایش ۲۹:‏۱۸-‏۲۱‏)‏ ایک اور مثال، ساؤل کی بیٹی سے شادی کرنے سے پہلے داؤد کو فلستیوں پر فتح حاصل کرنا پڑی۔ ساؤل کا مطالبہ پورا کرنے پر، داؤد اسکی بیٹی، میکل سے شادی کر سکتا تھا۔ (‏۱-‏سموئیل ۱۸:‏۲۰-‏۲۸‏)‏ ان ”‏منگنیوں“‏ کے سلسلے میں تمام واقعات ایک دوسرے سے مختلف تھے جیسا کہ آجکل بھی بہتیرے ملکوں میں ہوتا ہے۔‏

موسوی شریعت میں شادی اور منگنی کے سلسلے میں باقاعدہ ضابطے پائے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر، ایک آدمی ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتا تھا؛ وہ مختلف وجوہات کی بنا پر طلاق دے سکتا تھا، جبکہ بیوی بظاہر ایسا نہیں کر سکتی تھی۔ (‏خروج ۲۲:‏۱۶، ۱۷؛ استثنا ۲۴:‏۱-‏۴)‏ ایک آدمی جو کسی غیرمنسوبہ کنواری لڑکی کو پھسلا کر اس کے ساتھ مباشرت کرتا تو اُسے اس کے ساتھ شادی کرنا پڑتی تھی بشرطیکہ اس لڑکی کا باپ راضی ہوتا اور وہ اسے پھر کبھی طلاق نہیں دے سکتا تھا۔ (‏استثنا ۲۲:‏۲۸، ۲۹)‏ شادی کے سلسلے میں دیگر قوانین بھی تھے جیسے کہ کس وقت جنسی تعلقات سے گریز کِیا جائے۔ (‏احبار ۱۲:‏۲، ۵؛ ۱۵:‏۲۴؛ ۱۸:‏۱۹)‏ منگنی سے متعلق کونسے ضوابط تھے؟‏

ایک منگنی‌شُدہ اسرائیلی عورت کی قانونی حیثیت ایک غیرمنگنی‌شُدہ عورت سے فرق ہوتی تھی؛ بعض صورتوں میں تو اسے شادی‌شُدہ خیال کِیا جاتا تھا۔ (‏استثنا ۲۲:‏۲۳-‏۲۹؛‏ متی ۱:‏۱۸، ۱۹‏)‏ اسرائیلی بعض رشتے‌داروں سے منگنی یا شادی نہیں کر سکتے تھے۔ عام طور پر یہ خونی رشتے‌دار ہوتے تھے، تاہم بعض شادیاں اور منگنی وارثت کے حقوق کی وجہ سے ممنوع تھیں۔ (‏احبار ۱۸:‏۶-‏۲۰؛ دیکھیں مینارِنگہبانی مارچ ۱۵، ۱۹۷۸، صفحات ۲۵-‏۲۸۔)‏ یہ بات واضح ہے کہ خدا کے خادموں کو منگنی کو معمولی خیال نہیں کرنا تھا۔‏

اسرائیلی شریعت کے ایسے تمام ضابطوں کے ماتحت تھے، لیکن مسیحی اس شریعت اور منگنی یا شادی کے متعلق اس کے ضابطوں کے تحت نہیں ہیں۔ (‏رومیوں ۷:‏۴،‏ ۶؛‏ افسیوں ۲:‏۱۵؛‏ عبرانیوں ۸:‏۶،‏ ۱۳‏)‏ درحقیقت، یسوع نے تعلیم دی کہ شادی سے متعلق مسیحی قاعدہ شریعت سے فرق ہے۔ (‏متی ۱۹:‏۳-‏۹‏)‏ تاہم، اس نے شادی اور منگنی کی سنجیدگی کو کم نہیں کِیا۔ پس، مسیحیوں کے درمیان زیرِغور موضوع، منگنی کی بابت کیا ہے؟‏

بہتیرے ملکوں میں لوگ خود اس بات کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ کس سے شادی کریں گے۔ ایک مرتبہ جب ایک مرد اور عورت ایک دوسرے سے شادی کرنے کا وعدہ کر لیتے ہیں تو انہیں منسوب خیال کِیا جاتا ہے۔ عام طور پر، منگنی کو پکا کرنے کیلئے کوئی اضافی رسمی قدم نہیں اُٹھایا جاتا۔ یہ سچ ہے کہ بعض جگہوں پر آدمی کیلئے عام ہے کہ اپنی ہونے والی بیوی کو اپنی منگنی کے اظہار میں انگوٹھی پہنائے۔ یا رشتے‌داروں اور دوستوں کے سامنے ایک خاندانی ضیافت یا دیگر چھوٹے اجتماع پر منگنی کا اعلان کرنا ایک رسمی بات ہے۔ یہ ذاتی انتخابات ہیں، صحیفائی تقاضے نہیں ہیں۔ جس چیز سے منگنی قرار پاتی ہے وہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان عہد ہے۔‏a

ایک مسیحی کو کورٹ‌شپ، منگنی یا شادی کرنے میں جلدبازی نہیں کرنا چاہئے۔ ہم بائبل پر مبنی مواد شائع کرتے ہیں جو کنوارے اشخاص کی یہ فیصلہ کرنے میں مدد کر سکتا ہے کہ آیا کورٹ‌شپ شروع کرنا یا منگنی یا شادی کی جانب اقدام اُٹھانا دانشمندانہ ہوگا یا نہیں۔‏b مشورے کا کلیدی عنصر یہ ہے کہ ایک مسیحی کی شادی دائمی ہے۔—‏پیدایش ۲:‏۲۴؛‏ مرقس ۱۰:‏۶-‏۹‏۔‏

دو مسیحیوں کو منگنی کی بابت سوچنے سے پہلے ایک دوسرے کو اچھی طرح جاننے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک پوچھ سکتا ہے، ’‏کیا مَیں دوسرے شخص کی روحانیت اور خدا کیلئے اُس کی عقیدت سے واقعی مطمئن ہوں؟ کیا مَیں اس کے ساتھ زندگی‌بھر خدا کی خدمت کرنے کا تصور کر سکتا ہوں؟ کیا ہم موزوں طور پر ایک دوسرے کی شخصیتی اوصاف سے واقف ہو گئے ہیں؟ کیا مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہم میں ہمیشہ ہم‌آہنگی برقرار رہیگی؟ کیا ہم ماضی کے کاموں اور ایک دوسرے کے موجودہ حالات کی بابت کافی کچھ جانتے ہیں؟‘‏

ایک مرتبہ جب دو مسیحیوں کی منگنی ہو جاتی ہے تو ان کیلئے اور دوسروں کیلئے یہ توقع کرنا مناسب ہے کہ انکی شادی ہونے والی ہے۔ یسوع نے نصیحت کی:‏ ”‏تمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو۔“‏ (‏متی ۵:‏۳۷‏)‏ منگنی کرنے والے مسیحیوں کو شادی کرنی ہی چاہئے۔ تاہم، شاذونادر ہی یہ ہو سکتا ہے کہ کسی منگنی کرنے والے مسیحی کے علم میں یہ بات آئے کہ کسی سنگین بات کی بابت نہیں بتایا گیا تھا یا یہ کہ نسبت ہونے سے پہلے اسے پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ یہ دوسرے شخص کے ماضی کی بابت کوئی اہم حقیقت، حتیٰ‌کہ مجرمانہ یا بداخلاق کام بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسی بات جاننے والے مسیحی کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ کیا کرے۔ شاید وہ دونوں معاملے پر پوری طرح بات‌چیت کریں اور اپنی منگنی کو برقرار رکھیں۔ یا وہ باہمی طور پر، منگنی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کرنا ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے—‏ایسی بات نہیں کہ دوسروں کو مداخلت، قیاس‌آرائی یا اندازہ لگانا چاہئے—‏یہ بہت بھاری فیصلہ ہے۔ اس کی دوسری جانب کوئی شخص سنگین مسئلہ جاننے پر ذاتی طور پر منگنی کو ختم کرنے کیلئے مجبور محسوس کرے، خواہ دوسرا شخص اسے برقرار رکھنا بھی چاہے۔—‏جون ۱۵، ۱۹۷۵ کے مینارِنگہبانی میں ”‏سوالات از قارئین“‏ دیکھیں۔‏

شادی کرنے سے پہلے ایسے مسائل حل کرنے کیلئے اچھی وجہ پائی جاتی ہے۔ یسوع نے کہا کہ طلاق کیلئے واحد صحیفائی وجہ جو کسی کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت دیتی ہے وہ پورنیا یعنی دوسرے بیاہتا ساتھی کی طرف سے انتہائی جنسی بداخلاقی ہے۔ (‏متی ۵:‏۳۲؛‏ ۱۹:‏۹‏)‏ اس نے یہ نہیں کہا کہ اگر کسی شخص کو شادی سے پہلے کے کسی سنگین مسئلے یا غلط‌کاری کا علم ہو جاتا ہے تو طلاق کے ذریعے کوئی قانونی شادی ختم کی جا سکتی ہے۔‏

مثال کے طور پر، یسوع کے دنوں میں کوڑھ کا مرض لگ جانا بڑی حد تک ممکن تھا۔ اگر کوئی یہودی شوہر جان لیتا کہ جب اس نے شادی کی تھی تو اس کی بیوی (‏دانستہ یا نادانستہ)‏ کوڑھی تھی تو کیا اس کے پاس طلاق کی بنیاد ہوگی؟ شریعت کے تحت ایک یہودی شاید طلاق دے مگر یسوع نے نہیں کہا کہ یہ اس کے پیروکاروں کے لئے موزوں تھا۔ جدید دَور کی بعض حالتوں پر غور کریں۔ آتشک، تناسلی ہرپیز، ایچ‌آئی‌وی یا لگنے والی کسی سنگین بیماری میں مبتلا ایک شخص اس حقیقت کا انکشاف کئے بغیر شادی کر لیتا ہے۔ شاید یہ مرض منگنی سے پہلے یا اس کے دوران جنسی بداخلاقی کے ذریعے لگ گیا ہو۔ بیوی کا اسکی بیماری یا بداخلاقی (‏حتیٰ‌کہ بانجھ‌پن یا نامردی)‏ کی بابت بعدازاں جاننا اس حقیقت کو ہرگز تبدیل نہیں کرتا کہ وہ اب شادی‌شُدہ ہیں۔ شادی سے پہلے ناخوشگوار ماضی شادی کو ختم کرنے کے لئے کوئی صحیفائی بنیاد نہیں ہے بالکل اسی طرح اگر لڑکی کو کوئی بیماری ہے یا شادی کے وقت کسی اور آدمی کے ذریعے حاملہ ہونے کو چھپا رہی تھی۔ لیکن وہ اب شادی‌شُدہ ہیں اور انہوں نے خود ایک دوسرے کیساتھ عہد کِیا ہے۔‏

یہ سچ ہے کہ ایسی افسوسناک حالتیں شاذونادر ہی واقع ہوتی ہیں تاہم، ان مثالوں سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ منگنی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ منگنی سے پہلے یا اس کے دوران مسیحیوں کو ایک دوسرے کو اچھی طرح جاننا چاہئے۔ جو کچھ دوسرا فریق جاننا چاہتا ہے یا جاننے کا حق رکھتا ہے اس کی بابت انہیں دیانتدار ہونا چاہئے۔ (‏بعض ممالک میں جوڑوں سے قانونی طور پر تقاضا کِیا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے طبّی معائنہ کرائیں۔ دیگر شاید اپنی تسلی کے لئے ایسا معائنہ کرانا چاہیں۔)‏ لہٰذا، جب لڑکی اور لڑکا شادی کی مزید خوشی اور سنجیدہ حالت کی جانب بڑھتے ہیں تو منگنی کی خوشی اور سنجیدگی ایک باعزت مقصد انجام دیگی۔—‏امثال ۵:‏۱۸، ۱۹؛‏ افسیوں ۵:‏۳۳‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بعض معاشروں میں ابھی تک والدین اپنے بچوں کی نسبت طے کرتے ہیں۔ شاید لڑکی اور لڑکے کے شادی کرنے کی حالت میں ہونے سے کافی پہلے یہ کر دیا جائے۔ اس وقت کے دوران انہیں منگنی‌شُدہ یا ایک دوسرے سے منسوب تسلیم کِیا جاتا ہے تاہم، وہ ابھی تک شادی‌شُدہ نہیں ہوتے۔‏

b واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ سوالات نوجوان لوگ پوچھتے ہیں—‏جوابات جو کارگر ہیں، ابواب ۲۸-‏۳۲ اور خاندانی خوشی کا راز، باب ۲ کو دیکھئے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں