”آسمانی خوراک“ سے استفادہ کرنا
مصر سے اپنی معجزانہ رہائی کے کچھ ہی دیر بعد، اسرائیلیوں نے اپنے رہائی دلانے والے، یہوواہ پر ایمان کی سنگین کمی ظاہر کی۔ اس کے نتیجے میں، یہوواہ نے انہیں دشتِسینا میں ۴۰ سال تک بھٹکنے دیا۔ اس تمام عرصہ کے دوران، اسرائیلیوں اور ان کے ساتھ مل جانے والے پردیسیوں کی ”ملیجلی گروہ“ نے ”آسودہ“ ہو کر کھایا اور پیا۔ (خروج ۱۲:۳۷، ۳۸) زبور ۷۸:۲۳-۲۵ ہمیں بیان کرتی ہیں کہ یہ سب کیسے ممکن تھا: ”اُس [یہوواہ] نے افلاک کو حکم دیا اور آسمان کے دروازے کھولے اور کھانے کے لئے اُن پر من برسایا اور اُنکو آسمانی خوراک بخشی۔ انسان نے فرشتوں کی غذا کھائی۔ اُس نے کھانا بھیج کر اُنکو آسودہ کِیا۔“
من کھانے والے کی حیثیت سے موسیٰ نے اسے بےمثال خوراک کے طور پر بیان کِیا۔ وہ لکھتا ہے کہ صبح کو ”جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز ایسی چھوٹی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں زمین پر پڑی ہے۔ بنیاسرائیل اُسے دیکھکر آپس میں کہنے لگے کہ من؟“ یعنی ’یہ کیا ہے؟‘ یا اصلی عبرانی میں ”مان ہُو؟“ یہ اصطلاح لفظ ”من“ کی ابتدا تھی جسے اسرائیلیوں نے اس خوراک کے نام کے طور پر استعمال کِیا۔ موسیٰ نے کہا: ”وہ دھنئے کے بیج کی طرح سفید اور اُس کا مزہ شہد کے بنے ہوئے پوئے کی طرح تھا۔“—خروج ۱۶:۱۳-۱۵، ۳۱۔
من قدرتی طور پر حاصل ہونے والی خوراک نہیں تھی، جیسا کہ بعض بحث کرتے ہیں۔ اس کی فراہمی میں معجزانہ قوت کارفرما تھی۔ مثال کے طور پر، اس کی دستیابی کسی مقام یا موسم تک محدود نہیں تھی۔ اگر اسے راتبھر رکھا جاتا تھا تو اس میں کیڑے پڑ جاتے تھے اور وہ سڑ جاتا تھا؛ تاہم، وہ دُگنا حصہ جو ہفتہوار سبت سے پہلے کے دن ہر خاندان جمع کر لیتا راتبھر رکھنے سے خراب نہیں ہوتا تھا، پس، اُسے سبت کے دن—جب من نہیں گرتا تھا—کھایا جا سکتا تھا۔ یقیناً، من ایک معجزانہ فراہمی تھی۔—خروج ۱۶:۱۹-۳۰۔
زبور ۷۸ میں ”فرشتوں“ کا ذکر اشارہ دیتا ہے کہ یہوواہ نے من کی فراہمی کیلئے شاید فرشتوں کو استعمال کیا ہو۔ (زبور ۷۸:۲۵) معاملہ خواہ کچھ بھی ہو، لوگوں کے پاس خدا کی اس مہربانی کا شکر ادا کرنے کی ہر وجہ موجود تھی۔ تاہم، بیشتر نے اُس ہستی کیلئے جس نے انہیں مصر کی غلامی سے رہائی دلائی تھی ناشکری کا رجحان ظاہر کِیا۔ ہم بھی یہوواہ کی فراہمیوں کو معمولی خیال کر سکتے یا اس کی شفقت پر غور کرنے میں ناکام رہنے کی صورت میں ناشکرے بن سکتے ہیں۔ پس، ہم شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ یہوواہ نے ”ہماری تعلیم“ کیلئے اسرائیلیوں کی مخلصی اور بعدازاں واقعات کا ریکارڈ رکھا ہے۔—رومیوں ۱۵:۴۔
اسرائیل کیلئے سبق مسیحیوں کو فائدہ پہنچاتا ہے
جب یہوواہ نے من فراہم کِیا تو اس کے ذہن میں محض تیس لاکھ اسرائیلیوں کی جسمانی ضروریات پوری کرنے سے زیادہ کچھ تھا۔ وہ ’انہیں عاجز کرنا اور آزمایش میں ڈالنا‘ چاہتا تھا تاکہ انکے فائدے کیلئے انہیں پاک کرے اور انکی تنبیہ کرے۔ (استثنا ۸:۱۶؛ یسعیاہ ۴۸:۱۷) اگر انہوں نے پاک ہونے اور تنبیہ پانے کیلئے جوابیعمل دکھایا ہوتا تو یہوواہ انہیں ملکِموعود میں امن، خوشحالی اور خوشی بخشنے سے ’انکے آخر میں بھلا کرنے‘ سے خوش ہوا ہوتا۔
ایک اہم بات جو انہیں سیکھنے کی ضرورت تھی وہ یہ کہ ”انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو خداوند کے مُنہ سے نکلتی ہے وہ جیتا رہتا ہے۔“ (استثنا ۸:۳) اگر خدا نے انہیں من فراہم نہ کِیا ہوتا تو لوگ قحط کا شکار ہوگئے ہوتے—ایک ایسی حقیقت جسے انہوں نے فوراً تسلیم کِیا۔ (خروج ۱۶:۳، ۴) قدر دکھانے والے اسرائیلیوں کو ہر روز یہوواہ پر انکے مکمل انحصار کی یاددہانی کرائی جاتی تھی اور یوں انہیں عاجز کِیا جاتا تھا۔ باافراط مادی چیزوں سمیت ملکِموعود میں بس جانے کے بعد اُن کے پاس یہوواہ اور اس پر اپنے انحصار کو بھول جانے کی شاید ہی کوئی وجہ ہو۔
اسرائیلیوں کی مانند، مسیحیوں کو زندگی کی جسمانی اور روحانی ضروریات کیلئے خدا پر اپنے انحصار کے سلسلے میں ضرور باخبر رہنا چاہئے۔ (متی ۵:۳؛ ۶:۳۱-۳۳) ابلیس کی آزمائشوں میں سے ایک کے جواب میں یسوع مسیح نے یہ کہتے ہوئے استثنا ۸:۳ میں پائے جانے والے موسیٰ کے الفاظ کا حوالہ دیا: ”[یہ] لکھا ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہیگا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“ (متی ۴:۴) جیہاں، خدا کے سچے پرستار یہوواہ کے کلام میں پائے جانے والے اس کے الفاظ پڑھنے سے تقویت حاصل کرتے ہیں۔ علاوہازیں، جب وہ خدا کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور اسکی بادشاہت کو پہلا درجہ دیتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں ان الفاظ کے مفید اثرات کا تجربہ کرتے ہیں تو انکا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔
ناکامل انسان ان چیزوں کیلئے اپنی قدردانی کھو سکتے ہیں جو انکی زندگی کا معمول بن جاتی ہیں—خواہ وہ چیزیں یہوواہ کی پُرمحبت فکرمندی کا اظہار ہی کیوں نہ ہوں۔ مثال کے طور پر، من کی معجزانہ فراہمی نے شروع میں تو اسرائیلیوں کو چونکا دیا اور ان کی ضرورت پوری کی مگر کچھ عرصہ بعد اُن میں سے بہتیرے شکایت کرنے لگے۔ ”ہمارا جی اس نِکمّی خوراک سے کراہیت کرتا ہے،“ انہوں نے بےادبی سے واویلا کِیا جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ ’زندہ خدا سے پھرنا‘ شروع ہوگئے ہیں۔ (گنتی ۱۱:۶؛ ۲۱:۵؛ عبرانیوں ۳:۱۲) لہٰذا، انکی مثال، ”آخری زمانہ والوں [کیلئے] نصیحت“ کا کام انجام دیتی ہے۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱۔
ہم اس متنبہ کرنے والی مثال پر کیسے دھیان دے سکتے ہیں؟ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم کبھی بھی بائبل تعلیمات یا دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کی طرف سے حاصل ہونے والی فراہمیوں کو معمولی یا رسمی نہ بننے دیں۔ (متی ۲۴:۴۵) ایک مرتبہ جب ہم یہوواہ کی بخششوں کو معمولی سمجھنا شروع کر دیتے یا ان سے اُکتانے لگتے ہیں تو یہوواہ کیساتھ ہمارا رشتہ ماند پڑنے لگتا ہے۔
یہوواہ معقول طور پر ایک ساتھ ہی تمام نئی باتیں واقع نہیں ہونے دیتا۔ اس کے برعکس وہ اپنے کلام کی بابت رفتہرفتہ اور درجہبدرجہ روشنی ڈالتا ہے۔ (امثال ۴:۱۸) اس سے وہ اپنے لوگوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ جو کچھ سیکھتے ہیں اسے جذب کریں اور عمل میں لائیں۔ اپنے ابتدائی شاگردوں کو تعلیم دیتے وقت یسوع نے اپنے باپ کے نمونے کی پیروی کی۔ اس نے انہیں ”اُنکی سمجھ کے مطابق“ خدا کے کلام کی وضاحت کی۔—مرقس ۴:۳۳؛ مقابلہ کریں یوحنا ۱۶:۱۲۔
خدائی فراہمیوں کیلئے اپنی قدردانی بڑھائیں
یسوع نے بھی ان باتوں کی دہرائی کی۔ بےشک، ذہن ایک خاص نقطے—مثال کے طور پر، ایک بائبل اصول کو—فوراً سمجھ سکتا ہے لیکن اس پر دھیان دینے اور اسے ”نئی انسانیت“ کا حصہ بنانے میں کچھ دیر لگ سکتی ہے بالخصوص اگر دُنیاوی طورطریقے اور رویے گہرے طور پر نقش ہو چکے ہیں۔ (افسیوں ۴:۲۲-۲۴) جب تکبّر پر غالب آنے اور فروتنی پیدا کرنے کی بات آئی تو یسوع کے شاگردوں کے معاملے میں بھی ایسا ہی تھا۔ ہر مرتبہ ایک بنیادی نقطے کو مختلف زاویے سے پیش کرتے ہوئے یسوع کو کئی موقعوں پر انہیں فروتنی کی بابت سکھانا پڑا تاکہ وہ ان میں سرایت کر جائے اور انجامکار ایسا ہی ہوا۔—متی ۱۸:۱-۴؛ ۲۳:۱۱، ۱۲؛ لوقا ۱۴:۷-۱۱؛ یوحنا ۱۳:۵، ۱۲-۱۷۔
جدید دور میں، مسیحی اجلاس اور واچ ٹاور مطبوعات اچھی دہرائی کے لئے یسوع کے نمونے کی پیروی کرتی ہیں۔ پس آئیے اپنے لئے خدا کی پُرمحبت فکرمندی کے اظہار میں اس کی قدر کریں اور جو کچھ ہمیں حاصل ہوتا ہے اس کے سلسلے میں بیزار نہ ہوں جیسے کہ اسرائیلی من کے سلسلے میں بیزار ہو گئے تھے۔ واقعی جب ہم صبر کے ساتھ خود کو یہوواہ کی باقاعدہ یاددہانیوں کو جذب کرنے کے لئے وقف کر دیتے ہیں تو ہم اپنی زندگیوں میں عمدہ پھل دیکھیں گے۔ (۲-پطرس ۳:۱) ایسا قدرافزا رجحان واقعی ظاہر کرتا ہے کہ ہم اپنے دلوں اور ذہنوں میں خدا کے کلام کی ”سمجھ“ حاصل کر رہے ہیں۔ (متی ۱۳:۱۵، ۱۹، ۲۳) اس سلسلے میں ہمارے پاس زبورنویس داؤد کی عمدہ مثال ہے، جس نے آجکل ہماری طرح مختلف قسم کی روحانی خوراک حاصل نہ کرنے کے باوجود یہوواہ کے قوانین کو ”شہد سے بلکہ چھتے کے ٹپکوں سے بھی شریں“ بیان کِیا!—زبور ۱۹:۱۰۔
ہمیشہ کی زندگی بخشنے والا ”من“
یسوع نے یہودیوں سے کہا: ”زندگی کی روٹی مَیں ہوں۔ تمہارے باپ دادا نے بیابان میں من کھایا اور مر گئے۔ . . . مَیں ہوں زندگی کی وہ روٹی جو آسمان سے اُتری۔ اگر کوئی اس روٹی میں سے کھائے تو ابد تک زندہ رہیگا . . . جو روٹی مَیں جہان کی زندگی کے لئے دونگا وہ میرا گوشت ہے۔“ (یوحنا ۶:۴۸-۵۱) اصلی روٹی یا من نے ہمیشہ کی زندگی نہ دی اور نہ ہی دے سکتا ہے۔ تاہم، جو لوگ یسوع کے فدیہ پر ایمان لاتے ہیں وہ انجامکار ابدی زندگی کی برکات کا تجربہ کریں گے۔—متی ۲۰:۲۸۔
یسوع کے فدیے سے فائدہ اُٹھانے والی اکثریت فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی کا تجربہ کرے گی۔ ان کی ایک ”بڑی بھیڑ“—جس کی تصویرکشی مصر سے خروج کرنے والے اسرائیلیوں کے ساتھ مل جانے والے پردیسیوں کی ”ملیجلی گروہ“ سے کی گئی ہے—آنے والی اس ”بڑی مصیبت“ سے بچ جائے گی جو زمین پر سے تمام بدکاری کا خاتمہ کر دے گی۔ (مکاشفہ ۷:۹، ۱۰، ۱۴؛ خروج ۱۲:۳۸) وہ لوگ اس سے بھی بڑے اجر سے استفادہ کرتے ہیں جن کی عکاسی خود اسرائیلیوں نے کی۔ پولس رسول خدا کے روحانی اسرائیل کو تشکیل دینے والے کے طور پر ایسے اشخاص کو بیان کرتا ہے جن کی تعداد ۱،۴۴،۰۰۰ ہے۔ موت کے وقت ان کا اجر آسمان میں زندگی کی قیامت ہے۔ (گلتیوں ۶:۱۶؛ عبرانیوں ۳:۱؛ مکاشفہ ۱۴:۱) وہاں یسوع انہیں ایک خاص قسم کا من عطا کرے گا۔
”پوشیدہ من“ کا مطلب
قیامتیافتہ یسوع نے روحانی اسرائیل سے کہا: ”جو غالب آئے مَیں اُسے پوشیدہ من میں سے دوں گا۔“ (مکاشفہ ۲:۱۷) یہ علامتی پوشیدہ من اس من کی یاد دلاتا ہے جسے خدا نے موسیٰ کو سونے کے مرتبان میں عہد کے مُقدس صندوق کے اندر رکھنے کا حکم دیا تھا۔ عہد کا صندوق خیمۂاجتماع کے پاکترین مقام میں رکھا جاتا تھا۔ وہاں یہ نظروں سے اوجھل گویا پوشیدہ رہتا تھا۔ یادگار کے طور پر رکھا گیا من کا یہ نمونہ صندوق میں رکھے جانے کے باوجود خراب نہیں ہؤا تھا، پس یہ خراب نہ ہونے والی خوراک کی رسد کی موزوں علامت ہوگا۔ (خروج ۱۶:۳۲؛ عبرانیوں ۹:۳، ۴، ۲۳، ۲۴) یسوع نے ۱،۴۴،۰۰۰ کو پوشیدہ من دینے سے، خدا کے روحانی بیٹوں کے طور پر اُنہیں غیرفانیت اور بقا حاصل کرنے کی ضمانت دی۔—یوحنا ۶:۵۱؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۴۔
”زندگی کا چشمہ [یہوواہ] تیرے پاس ہے،“ زبورنویس نے کہا۔ (زبور ۳۶:۹) حقیقی اور علامتی دونوں طرح کے من کی فراہمی اس بنیادی سچائی کی تصدیق کرتی ہے! وہ من جو خدا نے قدیم اسرائیل کو دیا، وہ علامتی من ہے جو اس نے یسوع کے بدن کی صورت میں ہماری خاطر فراہم کِیا اور پوشیدہ من وہ ہے جو وہ یسوع کے ذریعے ۱،۴۴،۰۰۰ کو دیتا ہے جو کہ ہم سب کو زندگی کیلئے خدا پر ہمارے مکمل انحصار کی یاد دلاتا ہے۔ (زبور ۳۹:۵، ۷) آئیے فروتنی، انکساری اور باقاعدگی سے اس انحصار کو تسلیم کریں۔ اس کے جواب میں یہوواہ ’آخر میں ہمارا بھلا کرے‘ گا۔—استثنا ۸:۱۶۔
[صفحہ 26 پر تصویریں]
ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کیلئے، تمام انسانوں کا انحصار ”زندگی کی [اس] روٹی“ پر ہے ”جو آسمان سے اتری“
[صفحہ 28 پر تصویر]
تمام مسیحی اجلاسوں پر حاضری یہوواہ کی یاددہانیوں کیلئے ہماری قدردانی ظاہر کرتی ہے