یہوواہ راہ تیار کرتا ہے
”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی۔“—متی ۲۴:۱۴۔
۱. پہلی اور ۲۰ویں صدی دونوں میں منادی کے کام سے کیا سرانجام پایا ہے؟
یہوواہ محبت رکھنے والا خدا ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ ”سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“ (۱-تیمتھیس ۲:۴) یہ بینالاقوامی سطح پر منادی کرنے اور تعلیم دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ پہلی صدی میں، منادی کے اِس کام نے مسیحی کلیسیا کو ”حق کا ستون اور بنیاد“ بنا دیا تھا۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱۵) بعدازاں برگشتگی کا طویل دَور شروع ہو گیا جس میں سچائی کی روشنی مدھم ہو گئی۔ ان حالیہ برسوں—”آخری زمانہ“ میں، ”حقیقی علم“ پھر سے بکثرت دستیاب ہے جس سے لاکھوں لوگوں کو بائبل پر مبنی ابدی نجات کی اُمید حاصل ہو رہی ہے—دانیایل ۱۲:۴، اینڈبلیو۔
۲. منادی کے کام کے سلسلے میں یہوواہ نے کیا کِیا ہے؟
۲ خدا کے مقصد میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے شیطان کی مسلسل کوششوں کے باوجود، منادی کے کام کو پہلی اور ۲۰ویں صدی دونوں میں حیرتانگیز کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس سے یسعیاہ کی پیشینگوئی یاد آتی ہے۔ چھٹی صدی ق.س.ع. میں یہودی اسیروں کی یہوداہ میں واپسی کی بابت یسعیاہ نے لکھا: ”ہر ایک نشیب اونچا کِیا جائے اور ہر ایک پہاڑ اور ٹیلا پست کِیا جائے اور ہر ایک ٹیڑھی چیز سیدھی اور ہر ناہموار جگہ ہموار کی جائے۔“ (یسعیاہ ۴۰:۴) یہوواہ نے پہلی اور ۲۰ ویں صدی کی عظیم منادی کی مہمات کیلئے راہ کو تیار اور ہموار کِیا ہے۔
۳. یہوواہ کس طرح اپنا مقصد پورا کرنے کے اہل ہے؟
۳ اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہوواہ خوشخبری کی منادی کو فروغ بخشنے کیلئے زمین کے ہر معاملے پر براہِراست اثرانداز ہوا ہے؛ اسکا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ یہوواہ نے آئندہ وقوع میں آنے والے ہر معاملے کی تفصیلات کو جاننے کیلئے پیشبینی سے کام لیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات کو پیشازوقت دیکھ سکتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق اُن کا رُخ موڑ سکتا ہے۔ (یسعیاہ ۴۶:۹-۱۱) تاہم، وہ بعض واقعات کیلئے بالکل برعکس کارروائی کرنے کے قابل بھی ہے۔ ایک تجربہکار چرواہے کی طرح جو اپنے گلّے کی راہنمائی اور حفاظت کرنا جانتا ہے، یہوواہ اپنے لوگوں کی رہبری کرتا ہے۔ وہ اُنکی روحانیت کی حفاظت کرتے اور اُنہیں عالمگیر پیمانے پر خوشخبری کی کامیاب منادی کو فروغ دینے والے حالاتوواقعات سے فائدہ اُٹھانے کی تحریک دیتے ہوئے، اُنکی نجات کی طرف پیشوائی کرتا ہے۔—زبور ۲۳:۱-۴۔
ایک مشکل تفویض
۴، ۵. خوشخبری کی منادی چیلنجخیز تفویض کیوں رہی ہے؟
۴ نوح کے زمانے میں کشتی کی تعمیر کی طرح، پہلی صدی اور جدید زمانے میں بادشاہتی منادی کا کام بھی ایک بہت بڑا پراجیکٹ ثابت ہوا ہے۔ ویسے تو تمام لوگوں تک کوئی بھی پیغام پہنچانا مشکل ہوتا ہے مگر یہ کام تو بالخصوص چیلنجخیز تھا۔ پہلی صدی میں، شاگرد نسبتاً تھوڑے تھے۔ اُن کے لیڈر، یسوع پر شرانگیزی کا الزام لگا کر اُسے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہودی مذہب کی جڑیں بہت مضبوط تھیں۔ یروشلیم میں ایک پُرشکوہ ہیکل قائم تھی۔ بحیرۂروم کے خطے میں دیگر غیریہودی مذاہب بھی بہت مضبوط تھے اور اُن کے اپنے مندر اور پجاری تھے۔ اسی طرح، ۱۹۱۴ میں جب ”آخری زمانہ“ شروع ہوا تو ممسوح مسیحی بہت تھوڑے تھے اور خدا کی خدمت کے دعویدار دیگر مذاہب کے پیروکار بیشمار تھے۔—دانیایل ۱۲:۹۔
۵ یسوع نے اپنے شاگردوں کو آگاہ کِیا تھا کہ اُنہیں ستایا جائیگا۔ اُس نے کہا: ”اُس وقت لوگ تمکو ایذا دینے کے لئے پکڑوائینگے اور تمکو قتل کرینگے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھینگی۔“ (متی ۲۴:۹) بالخصوص ”اخیر زمانہ“ میں ایسے مسائل کے علاوہ مسیحیوں کو ”بُرے دنوں“ کا بھی سامنا ہوگا۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱) کام کی وسعت، اذیت کے تیقّن اور کٹھن وقت نے منادی کی کارگزاری کو چیلنجخیز اور دشوار بنا دیا ہے۔ بڑے ایمان کی ضرورت رہی ہے۔
۶. یہوواہ اپنے لوگوں کو کامیابی کی کونسی ضمانت دیتا ہے؟
۶ اگرچہ یہوواہ جانتا تھا کہ مشکلات ضرور آڑے آئینگی، تاہم وہ یہ بھی جانتا تھا کہ کوئی بھی چیز اس کام کو روک نہیں پائیگی۔ ایک مشہور پیشینگوئی میں اس کامیابی کا ذکر کِیا گیا تھا جسکی تکمیل پہلی اور ۲۰ویں صدی دونوں میں ہوئی ہے: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی۔“—متی ۲۴:۱۴۔
۷. پہلی صدی میں منادی کی کارگزاری کتنی وسیع تھی؟
۷ ایمان اور روحالقدس سے معمور پہلی صدی کے خدا کے خادموں نے اپنی تفویض کو پورا کِیا۔ چونکہ یہوواہ اُن کے ساتھ تھا اسلئے اُنہوں نے اپنی توقعات سے کہیں زیادہ کامیابی حاصل کی۔ یسوع کی موت سے کوئی ۲۷ سال بعد جب پولس نے کُلسّے کے مسیحیوں کو خط لکھا تو وہ یہ کہہ سکتا تھا کہ خوشخبری کی ”منادی آسمان کے نیچے کی تمام مخلوقات میں“ کر دی گئی ہے۔ (کلسیوں ۱:۲۳) مقابلتاً، ۲۰ویں صدی کے اختتام پر ۲۳۳ ممالک میں خوشخبری کی منادی کی جا رہی ہے۔
۸. کئی لوگوں نے کس طرح کے حالات کے تحت خوشخبری قبول کی ہے؟ مثالیں دیں۔
۸ لاکھوں لوگوں نے حالیہ دہوں میں خوشخبری کو قبول کِیا ہے۔ بعض نے نہایت ناموافق حالات—جنگ، پابندی اور شدید اذیت—کے دوران ایسا کِیا ہے۔ پہلی صدی میں بھی ایسے ہی تھا۔ ایک موقع پر، پولس اور سیلاس کو بُری طرح بینت لگا کر قیدخانہ میں پھینک دیا گیا۔ شاگرد بنانے کیلئے یہ حالت بالکل نامناسب تھی! تاہم، یہوواہ نے اس حالت کو اسی کام کیلئے استعمال کِیا۔ پولس اور سیلاس کو رہا کر دیا گیا اور داروغہ اپنے خاندان سمیت ایمان لے آیا۔ (اعمال ۱۶:۱۹-۳۳) ایسے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مخالفین خوشخبری کی آواز کو کبھی بھی دبا نہیں سکتے۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۷) تاہم، مسیحی تاریخ شدید مخالفت اور اذیت کے واقعات ہی سے پُر نہیں ہے۔ آئیے اب ہم ایسے سازگار حالات پر غور کریں جنہوں نے پہلی اور ۲۰ویں صدی میں خوشخبری کی کامیاب منادی کیلئے راہ ہموار کرنے میں مدد دی ہے۔
مذہبی ماحول
۹، ۱۰. یہوواہ نے پہلی اور ۲۰ویں صدی میں خوشخبری کی منادی کیلئے توقع کو کیسے بڑھایا تھا؟
۹ عالمگیر منادی کی مہمات کے وقت پر غور کیجئے۔ پہلی صدی کے پسمنظر کے حوالے سے دانیایل ۹:۲۴-۲۷ میں درج سالوں کے ۷۰ ہفتوں کی پیشینگوئی نے اُس سال—۲۹ س.ع.—کی نشاندہی کی جس میں مسیحا کا ظہور ہونا تھا۔ پہلی صدی کے یہودی ان تمام واقعات کے صحیح وقت کو نہ سمجھتے ہوئے بھی مسیحا کے منتظر تھے۔ (لوقا ۳:۱۵) فرنچ مینویل ببلک بیان کرتا ہے: ”لوگوں کو معلوم تھا کہ دانیایل کے مقررکردہ سالوں کے ستر ہفتے اختتام کو پہنچنے والے ہیں؛ یوحنا اصطباغی کے اس اعلان سے کوئی بھی حیران نہیں تھا کہ خدا کی بادشاہت نزدیک آ چکی ہے۔“
۱۰ جدید زمانے کے پسمنظر کی بابت کیا ہے؟ درحقیقت، یادگار واقعہ آسمان میں یسوع کی تختنشینی تھی جس نے بادشاہتی اختیار کے ساتھ اُس کی موجودگی کے آغاز کی نشاندہی کی۔ بائبل پیشینگوئی آشکارا کرتی ہے کہ یہ ۱۹۱۴ میں واقع ہوا۔ (دانیایل ۴:۱۳-۱۷) اس واقعہ کی توقع میں جدید زمانے کے بعض مذہبی لوگ ابھی تک منتظر ہیں۔ بائبل سٹوڈنٹس بھی اسی چیز کی توقع میں تھے جنہوں نے اس رسالے کو ۱۸۷۹ میں زائنز واچ ٹاور اینڈ ہیرلڈ آف کرائسٹس پریزنس کے نام سے شائع کرنا شروع کِیا تھا۔ لہٰذا، پہلی صدی اور جدید زمانہ دونوں میں، ایسی مذہبی توقعات نے خوشخبری کی منادی کے لئے سازگار ماحول پیدا کر دیا۔a
۱۱. خوشخبری کی منادی کی اعانت کیلئے کونسی مذہبی بنیادیں قائم کی گئیں تھیں؟
۱۱ دونوں زمانوں میں مسیحیوں کے کام میں مدد کرنے والا ایک اَور عنصر یہ تھا کہ بیشتر لوگ پاک صحائف سے واقف تھے۔ پہلی صدی میں، یہودی غیراقوام میں جگہ جگہ آباد تھے۔ ان بستیوں میں عبادتخانے ہوتے تھے جہاں لوگ صحائف کی پڑھائی اور تشریح کو سننے کے لئے جمع ہوتے تھے۔ لہٰذا، ابتدائی مسیحی مذہب کی بابت لوگوں کے ابتدائی علم کو بنیاد بنا سکتے تھے۔ (اعمال ۸:۲۸-۳۶؛ ۱۷:۱، ۲) ہمارے زمانے کے شروع میں یہوواہ کے گواہوں کو بہتیرے ممالک میں ایسی ہی حالت کا تجربہ ہوا ہے۔ مسیحی دُنیا، بالخصوص پروٹسٹنٹ ممالک میں بائبل بآسانی دستیاب تھی۔ بہتیرے گرجاگھروں میں اسے پڑھا جاتا تھا؛ لاکھوں کے پاس اس کی کاپی موجود تھی۔ لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں میں بائبل پہلے سے موجود تھی مگر اُنہیں یہ سمجھنے کے لئے مدد درکار تھی کہ اس کے اندر کیا کچھ شامل ہے۔
قانون کے فوائد
۱۲. پہلی صدی میں رومی آئین کیسے باعثِتحفظ ہوا تھا؟
۱۲ مسیحی منادی کو اکثر حکومتی قانون سے فائدہ پہنچا ہے۔ رومی حکومت پہلی صدی کی دُنیا پر مسلّط تھی اور اسکے آئین کا روزمرّہ زندگی میں بڑا عملدخل تھا۔ یہ قوانین درحقیقت باعثِتحفظ تھے اور ابتدائی مسیحیوں نے ان سے فائدہ اُٹھایا۔ مثال کے طور پر، پولس نے رومی آئین کے مطابق اپیل کی تو وہ قید سے رہا ہو گیا اور کوڑوں سے بچ گیا۔ (اعمال ۱۶:۳۷-۳۹؛ ۲۲:۲۵، ۲۹) رومی آئین کی سہولت کی طرف توجہ دلانے سے افسس میں ایک غضبناک ہجوم کو خاموش کرانے میں مدد حاصل ہوئی۔ (اعمال ۱۹:۳۵-۴۱) ایک مرتبہ پولس رومی شہری ہونے کی وجہ سے یروشلیم میں تشدد سے بچ گیا۔ (اعمال ۲۳:۲۷) بعدازاں، رومی قانون نے اُسے قیصر کے سامنے اپنے ایمان کا قانونی طور پر دفاع کرنے کا موقع دیا۔ (اعمال ۲۵:۱۱) اگرچہ کئی قیصر ظالم حکمران تھے توبھی پہلی صدی کے آئین نے ”خوشخبری کی جوابدہی اور ثبوت“ پیش کرنے کا موقع دیا۔—فلپیوں ۱:۷۔
۱۳. ہمارے زمانے میں منادی کے کام کو قانون سے اکثر کیسے فائدہ پہنچا ہے؟
۱۳ آجکل بھی بیشتر ممالک میں ایسا ہی ہے۔ اگرچہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ’قانون کی آڑ میں مصیبت برپا‘ کرتے ہیں توبھی بیشتر ممالک کے آئین میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ (زبور ۹۴:۲۰) بہتیری حکومتوں نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ یہوواہ کے گواہ سماجی نظموضبط کیلئے خطرہ نہیں ہیں ہمارے کام کو قانونی منظوری دے دی ہے۔ گواہوں کی پرنٹنگ کا زیادہتر کام ریاستہائےمتحدہ میں ہوتا ہے، یہاں کے موجودہ آئین کی بدولت مینارِنگہبانی رسالہ ۱۲۰ سالوں سے مسلسل شائع ہو رہا ہے اور تمام دُنیا میں پڑھا جا رہا ہے۔
امن اور رواداری کے دَور
۱۴، ۱۵. پہلی صدی میں نسبتی امن سے منادی کی کارگزاری کو کیسے فائدہ پہنچا تھا؟
۱۴ نسبتی امن کے ادوار سے بھی منادی کی کارگزاری کو فائدہ پہنچا ہے۔ اگرچہ یسوع نے درست پیشینگوئی کی کہ پہلی اور ۲۰ویں صدی میں ’قوم پر قوم چڑھائی کریگی،‘ توبھی وقفے وقفے سے امن کا دَور بھی آتا رہا ہے جس نے بادشاہتی منادی کو وسیع پیمانے پر ممکن بنایا ہے۔ (متی ۲۴:۷) پہلی صدی کے مسیحی پاکس رومانا یا رومی امن کے تحت رہتے تھے۔ ایک مؤرخ نے لکھا: ”روم نے بحیرۂروم کے خطے کی اقوام کو مکمل طور پر مطیع کر لیا تھا جس کے نتیجے میں اُنہیں طویل جنگ سے چھٹکارا مل گیا۔“ اس صورتحال سے ابتدائی مسیحیوں کے لئے پوری رومی دُنیا میں نسبتاً محفوظ سفر کرنے کا موقع مِل گیا۔
۱۵ رومی حکومت نے لوگوں کو اپنے قوی ہاتھ کے نیچے متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس پالیسی سے نہ صرف سفر، رواداری اور تبادلۂخیالات کو بلکہ بینالاقوامی برادری کے نظریے کو بھی فروغ ملا۔ کتاب تہذیب کی راہ پر بیان کرتی ہے: ”[رومی] حکومت کے اتحاد نے میدان کو [مسیحی کارگزاری کیلئے] موزوں بنا دیا۔ قومی حدبندیاں ختم کی جا چکی تھیں۔ رومی شہری کو درحقیقت دُنیا کا شہری سمجھا جاتا تھا۔ . . . مزیدبرآں، انسانی برادری کا درس دینے والا مذہب عالمگیر شہریت کے خیال کو فروغ دینے والی ریاست ہی میں ترقی پا سکتا تھا۔“—مقابلہ کریں اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵؛ ۱-پطرس ۲:۱۷۔
۱۶، ۱۷. جدید زمانہ میں امن کو فروغ دینے کی کوششوں کو کس چیز نے تحریک دی ہے اور بہتیرے لوگ کس نتیجے پر پہنچے ہیں؟
۱۶ ہمارے زمانے کی بابت کیا خیال ہے؟ تاریخ کی تباہکُن جنگیں ۲۰ویں صدی ہی میں لڑی گئی ہیں اور بعض ممالک میں تو علاقائی جنگیں ہوتی رہتی ہیں۔ (مکاشفہ ۶:۴) اسکے باوجود نسبتی امن کے دَور ضرور آئے ہیں۔ دُنیا کی بڑی طاقتوں نے ۵۰ سال سے لیکر ایک دوسرے کے ساتھ جنگ نہیں کی ہے۔ ان ممالک میں ایسی حالت کی وجہ سے خوشخبری کی منادی کو فائدہ پہنچا ہے۔
۱۷ لوگ ۲۰ویں صدی کے جنگوجدل سے اب ایک عالمی حکومت کی ضرورت محسوس کرنے لگے ہیں۔ عالمی جنگ کا خوف ہی انجمنِاقوام اور اقوامِمتحدہ کی تشکیل کا سبب بنا تھا۔ (مکاشفہ ۱۳:۱۴) ان دونوں تنظیموں کا باضابطہ منشور بینالاقوامی تعاون اور امن کو فروغ دینا ہے۔ ایسی ضرورت کو محسوس کرنے والے لوگ اکثر حقیقی اور دائمی امن لانے والی عالمی حکومت—خدا کی بادشاہت—کی بابت خوشخبری کیلئے موافق جوابیعمل دکھاتے ہیں۔
۱۸. مذہب کی بابت کس رُجحان نے منادی کے کام کی حمایت کی ہے؟
۱۸ اگرچہ مسیحیوں کو بعضاوقات بُری طرح اذیت دی گئی ہے توبھی پہلی اور ۲۰ویں صدی دونوں نے مذہبی رواداری کے دَور بھی دیکھے ہیں۔ (یوحنا ۱۵:۲۰؛ اعمال ۹:۳۱) رومیوں نے جن قوموں کو زیر کِیا اُنکے دیوی دیوتاؤں اور اُنکی پرستش کو فراخدلی سے قبول کر لیا۔ پروفیسر روڈنی سٹارک نے لکھا: ”کئی لحاظ سے روم نے ایسی مذہبی آزادی دی کہ امریکی انقلاب کے بعد تک ایسی آزادی دیکھنے میں نہیں آتی۔“ جدید زمانے میں، بہتیرے ممالک کے اندر لوگ دیگر نظریات کیلئے زیادہ روادار ہو گئے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ یہوواہ کے گواہوں کے بائبل پیغام کو سننے کیلئے تیار ہیں۔
ٹیکنالوجی کا کردار
۱۹. پہلی صدی کے مسیحیوں نے مخطوطہ کو کیسے استعمال کِیا تھا؟
۱۹ آخر میں اس بات پر غور کیجئے کہ یہوواہ نے اپنے لوگوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقیوں سے کیسے فائدہ اُٹھانے کے قابل بنایا ہے۔ اگرچہ ابتدائی مسیحی ٹیکنالوجی کی تیزرَو ترقی کے زمانے میں نہیں رہتے تھے توبھی اُنہوں نے جس ایک ترقی سے فائدہ اُٹھایا وہ مخطوطہ یا تحریری کتاب کا استعمال تھا۔ مخطوطہ نے بھاریبھرکم طوماروں کی جگہ لے لی۔ کتاب ابتدائے مخطوطہ بیان کرتی ہے: ”دُنیاوی ادب نے تو مخطوطہ کا استعمال بڑی دیر سے شروع کِیا مگر مسیحیوں نے اسے فوراً اور ہر جگہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔“ یہی کتاب بیان کرتی ہے: ”دوسری صدی میں مسیحی اسے اتنا زیادہ استعمال کرتے تھے کہ اس کی ابتدا یقیناً ۱۰۰ عیسوی میں ہوئی ہوگی۔“ طومار کی نسبت مخطوطہ کو استعمال کرنا آسان تھا۔ صحائف کو آسانی سے تلاش کِیا جا سکتا تھا۔ اس سے پولس جیسے ابتدائی مسیحیوں کی یقیناً مدد ہوئی ہوگی جو نہ صرف صحائف کی تشریح کرتے تھے بلکہ اپنی تعلیمات کو ’حوالہجات سے ثابت‘ بھی کرتے تھے۔—اعمال ۱۷:۲، ۳۔
۲۰. عالمگیر منادی کی کارگزاری میں خدا کے لوگوں نے جدید ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کِیا ہے اور کیوں؟
۲۰ ہمارے زمانے میں ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرتانگیز ترقیاں ہوئی ہیں۔ تیزرفتار پرنٹنگ پریسوں نے کئی زبانوں میں مسلسل بائبل لٹریچر کی اشاعت کو ممکن بنایا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے بائبل ترجمے کے کام کو تیز کر دیا ہے۔ ٹرکوں، ریلگاڑیوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے بائبل لٹریچر کو تیزی کے ساتھ پوری دُنیا میں منتقل کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ٹیلیفون اور فیکس مشین کے ذریعے فوری رابطہ حقیقت بن گیا ہے۔ یہوواہ نے اپنی روح کے ذریعے اپنے خادموں کو تحریک دی ہے کہ وہ پوری دُنیا میں خوشخبری کے فروغ کے لئے اس ٹیکنالوجی کو عملی طریقے سے استعمال کریں۔ وہ ان ترقیوں کو یہ جاننے کے لئے استعمال نہیں کرتے کہ دُنیا میں کونسی چیز اب جدیدترین ہے۔ اس کی بجائے اُن کی اوّلین دلچسپی یہ جاننے میں ہے کہ کونسی چیز زیادہ مؤثر طریقے سے منادی کے کام کو پورا کرنے میں اُن کی مدد کریگی۔
۲۱. ہم کس بات پر اعتماد رکھ سکتے ہیں؟
۲۱ یسوع نے پیشینگوئی کی تھی کہ ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی۔“ (متی ۲۴:۱۴) جیسے ابتدائی مسیحیوں نے اس پیشینگوئی کی تکمیل کو دیکھا تھا ویسے ہی آجکل ہم وسیع پیمانے پر اس کی تکمیل دیکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ کام بہت بڑا اور مشکل ہے، موافق اور غیرموافق حالات میں، تغیرپذیر قوانین اور رُجحانات میں، جنگ اور امن میں اور ٹیکنالوجی کی تمام ترقیوں میں خوشخبری کی منادی کی گئی ہے اور کی جا رہی ہے۔ کیا یہ بات آپ کو یہوواہ کی حکمت اور حیرانکُن دُوراندیشی کا گرویدہ نہیں بنا دیتی؟ ہم قطعی یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ کے مقررہ وقت تک منادی کا کام مکمل ہو جائے گا اور راستبازوں کی برکت کے لئے اُس کا پُرمحبت مقصد پورا ہو جائے گا۔ وہ زمین کے وارث بنیں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔ (زبور ۳۷:۲۹؛ حبقوق ۲:۳) اگر ہم اپنی زندگیوں کو یہوواہ کے مقصد کے ساتھ ہمآہنگ کر لیتے ہیں تو ہم ایسے ہی لوگوں میں شامل ہوں گے۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
[فٹنوٹ]
a ان دونوں مسیحائی پیشینگوئیوں کی تفصیلی وضاحت کیلئے واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کے ۳۶، ۹۷ اور ۹۸-۱۰۷ صفحات کو دیکھیں۔
نکات برائے اعادہ
◻خوشخبری کی منادی ایک چیلنجخیز تفویض کیوں رہی ہے؟
◻کن طریقوں سے مسیحیوں کے کام کو حکومتی انتظام اور نسبتی امن سے فائدہ پہنچا ہے؟
◻منادی کے کام پر یہوواہ کی برکت ہمیں مستقبل میں کن تبدیلیوں کا یقین دلاتی ہے؟