خوشی سے یہوواہ کی ہدایت کو قبول کرنا
یولی سز وی۔ گلاس کی زبانی
یہ ایک غیرمعمولی موقع تھا۔ گریجوایشن کرنے والوں کی جماعت میں صرف ۱۲۷ طالبعلم تھے۔ لیکن پُرجوش حاضرین کی تعداد ۱،۲۶،۳۸۷ تھی جو کئی ممالک سے آئے ہوئے تھے۔ یہ واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ کی ۲۱ویں جماعت کی گریجوایشن تھی جو جولائی ۱۹، ۱۹۵۳ میں نیو یارک کے یانکی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ میری زندگی کا اتنا اہم موقع کیوں تھا؟ مَیں اس کا کچھ پسمنظر بیان کرتا ہوں۔
مکاشفہ ۱۲:۱-۵ میں بیانکردہ مسیحائی بادشاہت کی پیدائش سے تقریباً دو سال پہلے، مَیں فروری ۱۷، ۱۹۱۲ میں وینسینس، انڈیانا، یو.ایس.اے. میں پیدا ہوا تھا۔ اس سے ایک سال پہلے میرے والدین نے سٹڈیز ان دی سکرپچر کی جلدوں کیساتھ ساتھ بائبل مطالعہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہر اتوار کی صبح، میرا والد خاندان کیلئے ان کتابوں میں ایک سے پڑھتا اور بعدازاں سب اُسکی بابت باتچیت کرتے تھے۔
والدہ جو کچھ سیکھ رہی تھی اسے بچوں کی سوچ کو تشکیل دینے کیلئے استعمال کِیا کرتی تھی۔ وہ نہایت شفیق، انتہائی مہربان اور ہمیشہ مدد کرنے کیلئے تیار رہنے والی خاتون تھی۔ ہم چار بہن بھائی تھے مگر والدہ کی محبت سے پڑوسیوں کے بچے بھی مستفید ہوتے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ وقت صرف کرتی۔ وہ ہمیں بائبل کہانیاں سنانے اور ہمارے ساتھ گیت گانے سے محظوظ ہوتی تھی۔
وہ ایسے بہتیرے اشخاص کو اپنے گھر پر مدعو کرتی جو کُلوقتی خدمت کر رہے تھے۔ وہ ایک یا دو دن کیلئے قیام کرتے، اکثر ہمارے گھر میں اجلاس منعقد کرتے اور تقاریر دیتے تھے۔ ہم تمثیلیں اور کہانیاں بیان کرنے والوں کو خاص طور پر پسند کرتے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کے ختم ہونے کے تقریباً ایک سال بعد ۱۹۱۹ میں ایک دورہ کرنے والا بھائی خاص طور پر بچوں سے مخاطب ہوا۔ اس نے وقف ہونے پر بحث کی جسے ہم آجکل موزوں طور پر مخصوصیت کا نام دیتے ہیں، اُس نے اس بات کو سمجھنے میں ہماری مدد کی کہ اس سے ہماری زندگیاں کیسے متاثر ہوتی ہیں۔ بعدازاں اسی رات مَیں نے سونے سے پہلے اپنے آسمانی باپ سے دُعا کی اور اُسے بتایا کہ مَیں ہمیشہ اُس کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔
تاہم، ۱۹۲۲ کے بعد زندگی میں دیگر پریشانیوں نے اس عزم کو دوسرے درجے کا بنا دیا۔ ایک سے دوسری جگہ نقلمکانی کے باعث یہوواہ کے لوگوں کی کلیسیا کیساتھ ہماری کوئی رفاقت نہ رہی۔ والد ریل کی پٹری بچھانے کا کام کرتے تھے اسلئے وہ گھر سے دور تھے۔ ہمارا بائبل مطالعہ بھی بےقاعدہ تھا۔ مَیں نے کمرشل آرٹسٹ بننے کے خیال سے سکول کورسز کئے اور ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں جانے کے منصوبے بنانے لگا۔
زندگی کے نصبالعین میں تبدیلی
دُنیا ۱۹۳۰ کے دہے کے دوران ایک بار پھر عالمی جنگ کی طرف بڑھنے لگی۔ اُس وقت ہم کلیولینڈ، اوہائیو میں رہتے تھے جب یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک نے ہمارے دروازے پر دستک دی۔ ہم نے بچپن میں جوکچھ سیکھا تھا اب اُس کی بابت زیادہ سنجیدگی سے سوچنے لگے۔ میرا بڑا بھائی رسل، خاص طور پر سنجیدہ ذہنیت کا مالک تھا اور سب سے پہلے اُسی نے بپتسمہ لیا۔ مَیں زیادہ سنجیدہ طبیعت نہیں رکھتا تھا لیکن مَیں نے بھی فروری ۳، ۱۹۳۶ میں بپتسمہ لے لیا۔ یہوواہ کیلئے مخصوصیت میں جو کچھ شامل تھا اُس کیلئے میری قدردانی بڑھنے لگی اور مَیں یہوواہ کی ہدایت کو قبول کرنا سیکھ رہا تھا۔ اسی سال میری دو بہنوں، کیتھرین اور گرٹروڈ نے بھی بپتسمہ لے لیا۔ ہم سب نے پائنیروں کے طور پر کلوقتی خدمت اختیار کر لی۔
تاہم، اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہم نے کسی اَور چیز کی بابت سوچا ہی نہیں تھا۔ جب میری بھابی نے این نام کی ایک خوبصورت لڑکی کی بابت مجھے بتایا تو مَیں نے دھیان سے سنا، جو سچائی سننے کے وقت سے لیکر ”سرگرم“ تھی اور جو ہمارے گھر اجلاس پر آنے والی تھی۔ اُس وقت این ایک سرکاری دفتر میں سیکرٹری کے طور پر کام کر رہی تھی لیکن ایک ہی سال میں اُس نے بپتسمہ لے لیا۔ میرا شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر یہ بات عیاں تھی کہ این سو فیصد سچائی کیلئے آئی تھی۔ وہ یہوواہ کی خدمت میں مکمل طور پر مگن ہو جانا چاہتی تھی۔ اُس نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ ”مَیں کیا کر سکتی ہوں؟“ اس کی بجائے، وہ خود سے پوچھتی کہ ”میرے لئے ایسا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟“ چنانچہ وہ آگے بڑھنے کا عزم رکھتی تھی۔ یہ مثبت نقطۂنظر مجھے اچھا لگا۔ اس کے علاوہ وہ بہت پیاری بھی تھی اور پیاری تو وہ اب بھی ہے۔ وہ نہ صرف میری جیون ساتھی بنی بلکہ جلد ہی پائنیر خدمت میں بھی میری ساتھی بن گئی۔
پائنیروں کے طور پر قابلِقدر تربیت
ہم نے پائنیروں کے طور پر چیزوں کی کمیبیشی کے وقت قناعت کرنے کی کُنجی کی بابت سیکھ لیا۔ (فلپیوں ۴:۱۱-۱۳) ایک دن شام کے وقت ایسا ہوا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ ہمارے پاس صرف پانچ سینٹ تھے۔ ہم ایک گوشت کی دُکان پر گئے اور مَیں نے پوچھا، ”کیا آپ ہمیں پانچ سینٹ کا قیمہ دے سکتے ہیں؟“ اُس نے ہماری طرف دیکھا اور پھر چار ٹکڑے کاٹ دئے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پانچ سینٹ سے زیادہ کا تھا۔ لہٰذا، اُس سے ہمیں کچھ غذائیت ملی۔
اپنی خدمتگزاری کو جاری رکھنے کی وجہ سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں تھی۔ ایک مرتبہ سائراکیوز، نیو یارک کے نزدیک ایک قصبے میں، ہم دستی اشتہار تقسیم کرتے اور پلےکارڈ گلے میں ڈالے ہوئے لوگوں کو ایک خاص عوامی اجلاس کی دعوت دینے کیلئے کھڑے تھے۔ اِسی دوران دو ہٹےکٹے آدمیوں نے مجھے پکڑ لیا اور دھکے دئے۔ ایک پولیس آفیسر تھا لیکن وہ یونیفارم میں نہیں تھا اور اُس نے میری اس درخواست کو مسترد کر دیا کہ اس کا بیج دیکھوں۔ اس کے بعد، بروکلن بیتایل سے گرانٹ سوٹر آئے اور کہا کہ ہمیں اس معاملے کو نپٹانے کیلئے پولیس اسٹیشن جانا ہوگا۔ اس کے بعد اُس نے بروکلن میں سوسائٹی کے دفتر فون کِیا اور ہمیں ہدایت کی گئی کہ ہم دونوں میاں بیوی اُسی روز مقدمے کی بنیاد فراہم کرنے کیلئے دستی اشتہارات اور پلےکارڈز سمیت دوبارہ اُسی قصبے میں جائیں۔ ہماری توقع کے مطابق ہمیں گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم، جب ہم نے پولیس کو بتایا کہ ہمیں بِلاوجہ گرفتار کرنے سے اُنکے خلاف قانونی کارروائی کی جائیگی تو اُنہوں نے ہمیں جانے دیا۔
اگلے دن نوعمروں کے ایک فسادی گروہ نے ایک پادری کے اُکسانے پر ہمارے اسمبلی ہال پر حملہ کر دیا اور پولیس کا دُور دُور تک نامونشان نہیں تھا۔ یہ غنڈے لکڑی کے فرش پر بیسبال کے بیٹ مارنے لگے، بعض حاضرین کو سیٹوں سے نیچے گرا دیا اور پلیٹ فارم پر چڑھ گئے جہاں اُنہوں نے امریکی جھنڈا لہرایا اور چلائے کہ اسے ”سلامی دو! اسے سلامی دو!“ اور ”بیئر بیرل پولکا“ (ایک مشہور امریکی گیت) گانے لگے۔ اُنہوں نے اجلاس کو مکمل طور پر منتشر کر دیا۔ ہم یسوع کی بات کا براہِراست تجربہ کر رہے تھے: ”چونکہ تم دُنیا کے نہیں بلکہ مَیں نے تم کو دُنیا سے چن لیا ہے اس واسطے دُنیا تم سے عداوت رکھتی ہے۔“—یوحنا ۱۵:۱۹۔
عوامی تقریر درحقیقت اس وقت کے واچٹاور سوسائٹی کے صدر جے.ایف. رتھرفورڈ کے ایک خطاب کی ریکارڈنگ تھی۔ مَیں نے اور این نے اس قصبے میں چند دن قیام کِیا اور لوگوں کو اُن کے گھر میں تقریر سننے کے موقع کی پیشکش کرنے کی دعوت دی۔ اس پیشکش کو چند ایک نے قبول کِیا۔
غیرملکی خدمت کیلئے رضاکارانہ پیشکش
وقت آنے پر، خدمت کے نئے راستے کھل گئے۔ میرے بھائی رسل اور اُسکی بیوی ڈورتھی کو ۱۹۴۳ میں گلئیڈ سکول کی پہلی جماعت میں ایک جوڑے کے طور پر شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور پھر اُنہیں مشنری کے طور پر کیوبا بھیج دیا گیا۔ میری بہن کیتھرین بھی گلئیڈ سکول کی چوتھی جماعت میں تھی۔ اُسے بھی کیوبا کیلئے تفویض کِیا گیا تھا۔ بعدازاں اُسے ڈومینیکن ریپبلک اور اس کے بعد پورٹوریکو بھیج دیا گیا۔ این اور میری بابت کیا ہے؟
جب ہم نے گلئیڈ سکول اور اس حقیقت کی بابت سنا کہ سوسائٹی دوسرے ممالک میں مشنریوں کو بھیجنا چاہتی ہے تو ہم نے محسوس کِیا کہ ہمیں خود کو غیرملکی خدمت کیلئے پیش کرنا چاہئے۔ پہلے، ہم نے خود ہی شاید میکسیکو جانے کیلئے سوچا۔ اس کے بعد ہم نے فیصلہ کِیا کہ گلئیڈ سکول میں شرکت کرنے کے بعد غالباً انتظار کرنا اور سوسائٹی کا ہمیں کسی علاقے میں تفویض کرنا بہتر ہوگا۔ ہم نے محسوس کِیا کہ یہ یہوواہ کا بندوبست تھا۔
ہمیں بھی گلئیڈ سکول کی چوتھی جماعت کیلئے مدعو کِیا گیا۔ لیکن جماعت شروع ہونے سے کچھ عرصہ پہلے، اُس وقت کے واچٹاور سوسائٹی کے صدر بھائی این. ایچ. نار، کو اُن کمزوریوں کا پتہ چل گیا جو این میں بچپن کے پولیو کی وجہ سے تھیں۔ اُس نے اِس کی بابت مجھ سے بات کی اور فیصلہ کِیا کہ ہمیں دوسرے ملک میں خدمت کیلئے بھیجنا عقلمندی نہیں ہوگی۔
تقریباً دو سال کے بعد، جب مَیں کنونشن سے پہلے کام کر رہا تھا تو بھائی نار نے مجھے پھر دیکھا اور پوچھا کہ آیا ہم اب بھی گلئیڈ سکول میں شرکت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اگر ہم گلئیڈ میں شرکت کریں گے توبھی ہمیں غیرملکی تفویض نہیں دی جائے گی؛ اُس کے ذہن میں کچھ اَور تھا۔ پس جب فروری ۲۶، ۱۹۴۷ میں نویں جماعت رجسٹرڈ ہوئی تو ہم طالبعلموں کی جماعت میں شامل تھے۔
گلئیڈ سکول کے وہ دن ہمارے لئے ناقابلِفراموش تھے۔ کورس روحانی طور پر قابلِقدر تھا۔ عمربھر کی دوستیاں قائم کی گئیں۔ لیکن سکول کیساتھ میری وابستگی اس سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔
واشنگٹن اور گلئیڈ کے درمیان
گلئیڈ سکول ابھی تک نسبتاً نیا تھا۔ ریاستہائےمتحدہ کی حکومت سکول کے مقاصد سے اچھی طرح واقف نہیں تھی اسلئے بہت سے اعتراضات اُٹھائے گئے تھے۔ سوسائٹی واشنگٹن، ڈی.سی. میں ایک نمائندہ رکھنا چاہتی تھی۔ جہاں ہمیں گلئیڈ سے فارغالتحصیل ہونے کے چند مہینے بعد بھیجا گیا تھا۔ مجھے دوسرے ممالک سے گلئیڈ کیلئے مدعو کئے گئے لوگوں کیلئے ویزے حاصل کرنے اور پھر اُن گریجوایٹس کو مشنری کام پر بھیجنے کیلئے قانونی کاغذات حاصل کرنے میں مدد دینا تھی۔ بعض اہلکار نہایت معقول اور معاون تھے۔ دیگر گواہوں کے خلاف شدید احساسات رکھتے تھے۔ بعض مضبوط سیاسی نظریات رکھنے والوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات ایسے عناصر سے ہیں جنہیں وہ ناپسندیدہ خیال کرتے ہیں۔
مَیں جس شخص کے دفتر گیا اُس نے گواہوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ گواہ پرچم کو سلامی نہیں دیتے یا جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔ جب کچھ دیر تک وہ اپنی بھڑاس نکال چکا تو مَیں نے کہا: ”مَیں آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور آپ جانتے بھی ہیں کہ یہوواہ کے گواہ دُنیا میں کسی بھی جگہ پر جنگ میں ملوث نہیں ہیں۔ ہم دُنیا کے معاملات میں حصہ نہیں لیتے۔ ہم اُن کی جنگوں، اُن کی سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔ ہم مکمل طور پر غیرجانبدار ہیں۔ ہم اُن مسائل پر پہلے ہی فتح پا چکے ہیں جن کا آپ سامنا کر رہے ہیں؛ ہماری تنظیم میں اتحاد ہے۔ . . . اب آپ ہم سے کیا کرانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے طورطریقوں پر چلیں اور اپنے چھوڑ دیں؟“ اس کے بعد اُس نے کچھ نہیں کہا۔
ہفتے میں دو دن حکومتی دفاتر کیساتھ کام کرنے کیلئے مختص کر دئے گئے تھے۔ اسکے علاوہ، ہم سپیشل پائنیروں کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔ اسکے بعد، اس میں ہر مہینے میدانی خدمتگزاری میں ۱۷۵ گھنٹے صرف کرنا شامل تھا (بعدازاں اسے ۱۴۰ گھنٹوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا)، اسلئے ہم اکثر شام تک خدمت میں مصروف رہتے تھے۔ ہم نے اچھا وقت گزارا تھا۔ ہم نے بہتیرے خاندانوں کیساتھ عمدہ مطالعے کرائے اور اُنہوں نے اچھی ترقی کی۔ این اور مَیں نے بچے پیدا نہ کرنے کا فیصلہ کِیا لیکن روحانی طور پر ہمارے نہ صرف بچے ہی تھے بلکہ پوتے اور پڑپوتے بھی تھے۔ وہ ہمارے دلوں کی ٹھنڈک ہیں!
بعدازاں ۱۹۴۸ میں، مجھے ایک اَور تفویض دی گئی۔ بھائی نار نے بیان کِیا کہ بھائی شروڈر جو کہ گلئیڈ سکول کے رجسٹرار اور انسٹرکٹر ہیں وہ کسی دوسرے اہم کام میں مصروف ہونگے اسلئے مجھ سے بوقتِضرورت گلئیڈ کلاسوں کی رہنمائی کرنے کیلئے کہا۔ میرا کلیجہ میرے مُنہ کو آنے لگا اور میں دسمبر ۱۸ کو این کیساتھ ساؤتھ لاسنگ، نیو یارک میں واپس گلئیڈ پہنچا۔ شروع میں، ہم گلئیڈ میں صرف چند ہفتوں کیلئے گئے تھے اور اس کے بعد ہمیں واپس واشنگٹن جانا تھا۔ تاہم، بالآخر ہم واشنگٹن کی نسبت گلئیڈ میں زیادہ وقت صرف کرنے لگے۔
جیساکہ مَیں نے شروع میں بیان کِیا اس وقت ۲۱ویں کلاس کی گریجوایشن نیو یارک کے یانکی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔ پس مجھے ایک انسٹرکٹر کے طور پر، اس گریجوایشن پروگرام میں شرکت کرنے کا شرف حاصل تھا۔
عالمی ہیڈکوارٹر میں خدمت
فروری ۱۲، ۱۹۵۵ کو ہمارے لئے ایک اَور خدمتی تفویض کا آغاز ہوا۔ ہم یہوواہ کی دیدنی تنظیم کے عالمی ہیڈکوارٹر کے بیتایل خاندان کے رُکن بن گئے۔ لیکن اس میں کیا کچھ شامل تھا؟ بنیادی طور پر، ہمیں جو کچھ تفویض کِیا گیا تھا اُسے کرنے کیلئے آمادہ ہونے سے، اُن پروجیکٹس میں حصہ لینا تھا جس کیلئے دوسروں کیساتھ تعاون کرنے کا تقاضا کِیا گیا۔ بِلاشُبہ، ہم اس سے قبل ایسا کر چکے تھے لیکن اب ہم بہت بڑے گروپ—ہیڈکوارٹر میں بیتایل خاندان—کا حصہ بن گئے۔ ہم نے یہوواہ کی راہنمائی کے ثبوت کے طور پر اس نئی تفویض کو خوشی سے قبول کر لیا۔
میرے کام کے بڑے حصے میں نیوز میڈیا سے متعلق معاملات شامل تھے۔ سنسنیخیز کہانیوں کی خواہش اور متعصّب ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی وجہ سے پریس نے یہوواہ کے گواہوں کی بابت کچھ ناگوار باتیں لکھ ڈالیں۔ ہم نے اس صورتحال میں بہتری لانے کی کوشش کی۔
بھائی نار اس بات کا یقین کر لینا چاہتے تھے کہ ہم سب کے پاس بہت زیادہ کام ہو اسلئے دیگر تفویضات بھی تھیں۔ اُن میں سے بعض نے کمرشل آرٹسٹ کے طور پر میری مہارتوں کو استعمال کرنے کا تقاضا کِیا۔ دیگر میں سوسائٹی کا ریڈیو اسٹیشن، ڈبلیوبیبیآر شامل تھا۔ وہاں سوسائٹی کی تیارکردہ موشن پکچرز کے سلسلے میں کام کرنا تھا۔ بلاشُبہ، گلئیڈ سکول تھیوکریٹک تاریخ کا حصہ تھا لیکن اب یہوواہ کے لوگوں کو جدید زمانے کی تھیوکریٹک تنظیم کی تاریخ کی تفصیلات سے واقف کرانے اور اسے عوام کیلئے دستیاب بنانے کیلئے بہت سے پروجیکٹس شروع کر دئے گئے تھے۔ گلئیڈ کی تربیت کا ایک اَور پہلو عوامی خطاب تھا اور کلیسیا میں بھائیوں کیلئے عوامی خطاب کی بنیادی چیزوں کو دستیاب کرنے کیلئے کام کرنے کی ضرورت تھی۔ اسلئے کام بہت زیادہ تھا۔
گلئیڈ باقاعدہ بنیادوں پر
۱۹۶۱ میں، مستقبل قریب میں سفری نگہبانوں اور برانچ کے عملے کی تربیت کیساتھ، گلئیڈ سکول بروکلن منتقل ہو گیا تھا جہاں واچٹاور سوسائٹی کے بڑے دفاتر تھے۔ مَیں ایک بار پھر کمرۂجماعت میں تھا—اس مرتبہ ایک متبادل انسٹرکٹر کے طور پر نہیں بلکہ شعبے کے باقاعدہ رکن کے طور پر۔ کیا ہی شرف! مَیں اس بات کا پوری طرح سے قائل ہوں کہ گلئیڈ سکول یہوواہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے ایک ایسا تحفہ جو پوری دیدنی تنظیم کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
بروکلن میں گلئیڈ کی کلاسوں کیلئے ایسے مواقع تھے جو ان سے پچھلی کلاسوں کے طالبعلموں کو حاصل نہیں تھے۔ وہاں کافی زیادہ مہمان لیکچرار تھے، گورننگ باڈی کیساتھ قریبی رفاقت اور ہیڈکوارٹر بیتایل خاندان کیساتھ زیادہ قربت تھی۔ طالبعلموں کیلئے دفتری طریقِکار میں، بیتایل ہوم کے کاموں میں اور فیکٹری کے کام کے مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کرنا بھی ممکن تھا۔
سالوں کے دوران، طالبعلموں کی تعداد کی طرح انسٹرکٹروں کی تعداد میں ردوبدل ہوتا رہا ہے۔ سکول کے محلِوقوع کو بھی کئی مرتبہ تبدیل کِیا گیا ہے۔ اب یہ پیٹرسن، نیو یارک کے خوبصورت گردونواح میں واقع ہے۔
طالبعلموں کیساتھ کام کرنا
ان کلاسوں کو تعلیم دینا میرا خوشکُن تجربہ رہا ہے! یہاں وہ نوجوان ہیں جو فرسودہ نظام کے تحت کام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اُنہوں نے اپنے خاندان، اپنے دوست، اپنے گھر اور اپنی زبان بولنے والے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آبوہوا، کھانا—سب کچھ مختلف ہوگا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کونسے ملک میں جائیں گے لیکن اُن کا نشانہ مشنری بننا ہے۔ آپ کو اس قسم کے لوگوں کو تحریک دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
جب مَیں کلاسروم میں داخل ہوتا تو ہمیشہ سے میرا یہی مقصد رہا کہ طالبعلم پُرسکون محسوس کریں۔ جب کوئی تناؤ یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اچھی طرح نہیں سیکھتا۔ یہ سچ ہے کہ مَیں انسٹرکٹر تھا لیکن مَیں جانتا تھا کہ ایک طالبعلم کیا ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ مَیں بھی اُن سیٹوں پر بیٹھا تھا۔ بِلاشُبہ، اُنہوں نے گلئیڈ میں سخت محنت کی اور بہت کچھ سیکھا لیکن مَیں یہ بھی چاہتا تھا کہ وہ اس وقت سے خوب لطفاندوز ہوں۔
مَیں جانتا تھا کہ جب وہ اپنی تفویضات پر جائیں گے تو کامیابی حاصل کرنے کیلئے بعض ایسی باتیں ہونگی جنکی انہیں ضرورت پڑے گی۔ اُنہیں مضبوط ایمان کی ضرورت ہوگی۔ اُنہیں فروتنی کی بھی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ اُنہیں دوسرے لوگوں کیساتھ رہنے، حالات کو قبول کرنے اور خوشی سے معاف کر دینے کی بابت سیکھنے کی ضرورت تھی۔ اُنہیں روح کے پھلوں کو پیدا کرتے رہنے کی ضرورت تھی۔ اُنہیں لوگوں سے اور اپنے کام سے محبت کرنے کی بھی ضرورت تھی جس کیلئے اُنہیں بھیجا گیا تھا۔ میں نے گلئیڈ طالبعلموں کے سامنے ہمیشہ یہ باتیں رکھنے کی کوشش کی۔
درحقیقت مَیں یہ نہیں جانتا کہ مَیں نے کتنے طالبعلموں کو تعلیم دی ہے۔ لیکن مَیں یہ جانتا ہوں کہ مَیں اُن کی بابت کیسا محسوس کرتا ہوں۔ کلاسروم میں اُن کیساتھ پانچ مہینے صرف کرنے کے بعد، مَیں اُن سے لگاؤ رکھے بغیر اُن کی مدد ہی نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد جب مَیں اُنہیں گریجوایشن کے دن پر پلیٹفارم پر چلتے اور اپنے ڈپلومے حاصل کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مَیں سمجھ جاتا کہ وہ کامیابی کیساتھ کورس مکمل کر چکے ہیں اور وہ جلد رخصت ہو جائیں گے۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے میرا خاندان جدا ہو رہا ہے۔ آپ خود کو پُرمحبت لوگوں سے کیسے دور رکھ سکتے ہیں جو خود کو وقف کر ڈالنے اور وہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں جو ان نوجوان لوگوں کو کرتے ہونا چاہئے؟
سالوں بعد، جب وہ ملاقات کرنے کیلئے دوبارہ واپس آتے ہیں تو مَیں اُنہیں خدمت میں اپنی خوشیوں کی بابت بتاتے سنتا ہوں اور مَیں جانتا ہوں کہ وہ ابھی بھی اپنی تفویضات کو انجام دے رہے ہیں یعنی وہ کام کر رہے ہیں جس کی تربیت اُنہیں دی گئی تھی۔ اس سے مجھے کیسا محسوس ہوتا ہے؟ مَیں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بہت خوشگوار احساس ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھنا
اس وقت میری آنکھیں دھندلا گئی ہیں اور اس سے پیدا ہونے والی مایوسیوں کا مَیں تجربہ کر رہا ہوں۔ اب مَیں گلئیڈ کے کلاسروم میں تعلیم دینے کے قابل نہیں رہا ہوں۔ شروع میں تو ایسی بڑی تبدیلی لانا مشکل تھا لیکن اپنی پوری زندگی کے دوران مَیں نے حالات کو قبول کرنا اور اُن کا مقابلہ کرنا سیکھا ہے۔ مَیں اکثر پولس رسول اور اُس کے ”جسم میں کانٹے“ کی بابت سوچتا ہوں۔ پولس نے تین بار اُس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کیلئے دُعا کی لیکن خداوند نے اُسے بتایا: ”میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔“ (۲-کر ۱۲:۷-۱۰) پولس نے اُس کے ساتھ زندگی گزاری۔ اگر وہ ایسا کر سکتا تھا تو مجھے ایسا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگرچہ اب مَیں کلاس کے سیشن نہیں لیتا توبھی مَیں شکرگزار ہوں کہ مَیں وہاں کام کر سکتا ہوں جہاں ہر روز طالبعلم آتے جاتے ہیں۔ بعضاوقات مَیں اُن سے بات کرنے کے قابل ہوتا ہوں اور اُنکے عمدہ جذبے کی بابت سوچنا میرے دل کیلئے خوشی کا باعث بنتا ہے۔
مستقبل جو کچھ تھامے ہوئے ہے اُس پر غور کرنا واقعی حیرتانگیز ہے۔ اب ایک بنیاد ڈالی جا رہی ہے۔ گلئیڈ کو اس میں نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ بڑی مصیبت کے بعد جب مکاشفہ ۲۰:۱۲ کا حوالہ دینے والے طومار کھولے جائیں گے تو وہاں یہوواہ کے طریقوں کی مفید تعلیم پانے کیلئے ہزار سال ہونگے۔ (یسعیاہ ۱۱:۹) لیکن یہ بھی اختتام نہیں ہوگا۔ درحقیقت یہ تو محض ابتدا ہی ہے۔ پوری ابدیت تک، یہوواہ کی بابت جاننے کیلئے بہت کچھ ہوگا اور جب ہم اُس کے مقاصد کا انکشاف دیکھیں گے تو ہمارے پاس کرنے کیلئے بہت کام ہوگا۔ مجھے پورا اعتماد ہے کہ وہ تمام شاندار وعدے جو یہوواہ نے کئے ہیں وہ اُنہیں ضرور پورا کریگا اور اُس وقت یہوواہ کی ہدایت قبول کرنے میں حصہ لینے کیلئے مَیں وہاں موجود ہونا چاہتا ہوں۔
[صفحہ 26 پر تصویر]
۱۹۵۳ میں نیو یارک کے یانکی اسٹیڈیم میں گلیئڈ گریجوایشن
[صفحہ 26 پر تصویر]
گرٹروڈ، مَیں، کیتھرین اور رسل
[صفحہ 26 پر تصویر]
کنونشن پر این۔ ایچ۔ نار (بالکل بائیں) اور ایم۔ جی۔ ہینشل کیساتھ کام کرنا
[صفحہ 26 پر تصویر]
ڈبلیوبیبیآر براڈکاسٹنگ سٹوڈیو میں
[صفحہ 29 پر تصویر]
گلیئڈ کلاسروم میں
[صفحہ 31 پر تصویر]
کچھ عرصہ پہلے این کیساتھ