نسل پرستی اور مذہب
”جب مَیں ۱۹۷۸ میں ریاستہائےمتحدہ میں آیا تو میرا خیال تھا کہ امریکہ نسلیاتی مسائل پر قابو پا چکا ہوگا اور اب سیاہفام شہریوں کو بھی مساوی حقوق حاصل ہوں گے،“ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے ایک مصنف، مارک مہتابانے نے ٹائم رسالے کے ایک انٹریو میں یہ بیان کِیا۔ ”بیشتر حلقوں میں تو مجھے یہ بات درست معلوم ہوئی۔ ریاستہائےمتحدہ جنوبی افریقہ سے سو سال آگے دکھائی دیتا تھا۔ پھر مجھے حواسباختہ کرنے والی بات معلوم ہوئی کہ لوگوں کے دل ابھی تک نہیں بدلے تھے۔“ کس چیز نے اس حیرانکُن بات کو دریافت کرنے میں اُسکی مدد کی تھی؟
”امریکہ میں اتوار کے دن صبح ۱۱ بجے کا وقت نسلی امتیاز کی خوب عکاسی کرتا ہے،“ مہتابانے نے بیان کِیا۔ اُس نے دیکھا کہ لوگ چرچ میں بھی دوسری نسل کے لوگوں کیساتھ ملکر عبادت نہیں کر سکتے۔ ”ہفتے کے دوسرے دنوں کے دوران اُن کے احساسات کیا ہوتے ہونگے؟“ اُس نے استفسار کِیا۔ تبدیلی پیدا کرنے والے بنیادی عنصر کے طور پر تعلیم کی استدعا کرتے ہوئے مہتابانے نے بیان کِیا: ”تعلیم سے ہی آپ انسانی مساوات کو قبول کرنے کے قابل ہونگے۔“
یہوواہ کے گواہ بھی اس بات سے متفق ہیں کہ تعلیم ہی واحد حل ہے مگر وہ خاص طور پر خدا کے کلام سے تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جیہاں، بائبل نسلی تعصّب کی حدبندیوں کو ختم کرنے میں اُنکی مدد کرتی ہے حتیٰکہ ایسے ممالک میں بھی جہاں نسلی امتیاز زوروں پر ہے۔ اُنکے کنگڈم ہالوں میں ہر ہفتے، مختلف نسلوں اور قومیتوں کے لوگ خدا کے کلام، بائبل کے اصولوں اور قوانین کی تعلیم پانے کیلئے باہم جمع ہوتے ہیں۔ ان اجلاسوں پر چندے جمع نہیں کئے جاتے۔ آپ کو بھی آنے کی دعوت دی جاتی ہے!