یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏8 ص.‏ 22-‏25
  • دوستوں کا دباؤ کیا یہ آپ کیلئے فائدہ‌مند ہو سکتا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوستوں کا دباؤ کیا یہ آپ کیلئے فائدہ‌مند ہو سکتا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تمام عمر کے لوگوں پر اثر
  • دوستوں کے خوشگوار اثر سے فائدہ اُٹھانا
  • منفی اثرات سے بچیں
  • بعض نے فائدہ اُٹھایا
  • نوجوانو!‏ اپنے ہم‌عمروں کے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • ساتھیوں کا دباؤ اور منادی کرنے کا شرف
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۰
  • مَیں اپنے ساتھیوں کے دباؤ کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہوں؟‏
    نوجوانوں کے 10 سوال اور اُن کے جواب
  • خدائی حکمت کے ذریعے اپنے بچوں کی حفاظت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏8 ص.‏ 22-‏25

دوستوں کا دباؤ کیا یہ آپ کیلئے فائدہ‌مند ہو سکتا ہے؟‏

ہم سب اس بنیادی خواہش کیساتھ پیدا ہوئے ہیں کہ ہمارے دوست ہمیں پسند کریں۔کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اُسے ناپسند یا مسترد کِیا جائے۔ لہٰذا، ہمارے دوست بڑی حد تک ہمیں متاثر کر تے ہیں۔‏

دوست سے مُراد ہے ”‏وہ شخص جس کی خیرخواہی اور محبت قابلِ‌اعتبار ہو یا جس سے سچی خیرخواہی اور محبت کی جائے۔“‏ اسکے ساتھ ہی ساتھ دوستوں کے دباؤ کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے جیسے کام کرنے پر مجبور کریں اور ہم دانستہ یا نادانستہ طور پر اُنکی سوچ یا کردار کی نقل کرنے لگیں۔ دوستوں کے دباؤ کو عموماً بُرا خیال کِیا جاتا ہے۔ تاہم، جیسے کہ ہم دیکھینگے، ہم اسے اپنے لئے مفید بنا سکتے ہیں۔‏

تمام عمر کے لوگوں پر اثر

دوستوں کا دباؤ محض نوجوانوں تک محدود نہیں ہے؛ یہ تمام عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ اسکا اثر اُس وقت دکھائی دیتا ہے جب ہم خود کو ایسے سوالات کرتے پاتے ہیں جیسے:‏ ”‏دوسرے یہ کر رہے ہیں، مَیں کیوں نہیں کر سکتا؟“‏ ”‏مجھے ہمیشہ فرق کیوں دکھائی دینا چاہئے؟“‏ ”‏دوسرے میری بابت کیا سوچیں گے اور کہیں گے؟“‏ ”‏میرے تمام دوست معاشقہ اور شادی کر رہے ہیں مگر مَیں کیوں نہیں کرتا۔ مجھ میں کیا بُرائی ہے؟“‏

اگرچہ دوسروں جیسا نظر آنے کا دباؤ تمام عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے، تاہم سنِ‌بلوغت کے دوران یہ زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے کہ ”‏بیشتر نوجوان اپنے دوستوں سے یعنی اپنے حلقہ‌احباب اور جان‌پہچان والوں سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ یہ نوجوان اپنے والدین کی بجائے اپنے دوستوں کی پسندیدگی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسی پسندیدگی حاصل کرنے کی خاطر وہ بھی اپنے طورطریقے بدل ڈالتے ہیں۔“‏ یہ مزید بیان کرتا ہے کہ نوجوان ”‏ایسا محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے دوستوں میں مقبول ہیں اور انہیں پسند کِیا جاتا ہے تو اُنکی نشوونما نارمل ہو رہی ہے۔“‏ یوں وہ ”‏طرزِلباس، قیادت کی صلاحیت اور معاشقے میں کامیابی جیسے معاملات میں مگن ہو جاتے ہیں جو اُن کے خیال میں اُن کی مقبولیت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔“‏

شادی‌شُدہ جوڑے یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ اُن کے دوست مختلف معاملات میں اُن کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں جیسے‌کہ کس قسم کا گھر خریدیں یا کرائے پر لیں، کس ماڈل کی کار چلائیں، بچے پیدا کریں یا نہ کریں اور دیگر کئی باتیں جیسے‌کہ اُن کے علاقے، رفقاء اور نسلی گروہ میں کونسی چیز مقبول ہے۔ بعض خاندان تو مالی طور پر اپنے پڑوسیوں اور دوستوں جیسے معیار قائم رکھنے کے لئے بھاری قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ جی‌ہاں، ہمارے نصب‌اُلعین، ہماری سوچ اور ہمارے فیصلے اکثر دوستوں کے دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے پیشِ‌نظر، ہم دوستوں کے دباؤ سے ایسے کارآمد طریقے سے نپٹ سکتے ہیں جو ہمیں اُس راہ پر چلنے میں مدد دے گا جس پر ہمیں چلنا چاہئے؟ بیشک، ہم نپٹ سکتے ہیں!‏

دوستوں کے خوشگوار اثر سے فائدہ اُٹھانا

ڈاکٹر اور طبّی ماہر اپنے مریضوں کو مثبت ذہنیت کے مالک لوگوں کیساتھ اور دیگر صحتمندانہ اثرات والے ماحول میں رکھنے کی اہمیت کو جانتے ہیں۔ ایسا ماحول صحت‌یابی کیلئے محرک کا کام دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، جو لوگ اپنا کوئی عضو کھو بیٹھتے ہیں اکثراوقات وہ ایسی مشکل میں مبتلا ہونے والے دیگر لوگوں کے اچھے نمونے اور حوصلہ‌افزائی کی بدولت جسمانی اور جذباتی طور پر صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ بِلاشُبہ، رجائیت‌پسند اور مثبت اشخاص کی رفاقت اچھے دوستوں سے اچھا اثر لینے کا ذریعہ ہے۔‏

یہ اُصول مسیحی کلیسیا کے اندر بھی سچ ثابت ہوتا ہے کیونکہ دوستوں کے مثبت اثر کی وجہ سے ہی یہوواہ نے اپنے لوگوں کو باقاعدگی سے باہم جمع ہونے کی ہدایت کی ہے۔ خدا ہمیں ’‏ایک دوسرے کو محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے اور ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرنے‘‏ کی تاکید کرتا ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ ایسی حوصلہ‌افزائی آج کی دُنیا کے کئی ایک منفی اور تکلیف‌دہ دباؤں کے پیشِ‌نظر نہایت گرانقدر ہے۔ ان دباؤں کے نتیجے میں، مسیحیوں کو روحانی طور پر مضبوط رہنے کیلئے ’‏جانفشانی‘‏ کرنے کی ضرورت ہے۔ (‏لوقا ۱۳:‏۲۴‏)‏ لہٰذا، ہمیں ساتھی ایمانداروں کی طرف سے پُرمحبت حمایت کی ضرورت ہے اور ہم اسکی قدر کرتے ہیں۔ علاوہ‌ازیں، بعض کو شاید بیماری یا معذوری کی صورت میں ’‏جسم میں کانٹوں‘‏ کی برداشت کرنی پڑے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۲:‏۷‏)‏ دیگر شاید بُری عادات یا مایوسی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہوں یا شاید وہ زندگی کے تقاضوں پر پورا اُترنا مشکل پاتے ہیں۔ اسلئے یہ دانشمندی کی بات ہوگی کہ ہم خود کو ایسے لوگوں کے دائرے میں رکھیں جو یہوواہ خدا کی قربت میں رہتے ہیں اور جو اُسکی خدمت کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ ایسے دوست ہمارے حوصلے کو بلند رکھینگے اور ہمیں ’‏آخر تک وفاداری کیساتھ برداشت کرنے میں مدد دینگے۔‘‏—‏متی ۲۴:‏۱۳‏۔‏

پس، درست دوستوں کا انتخاب کرنے سے، ہم اُس اثر پر قابو پا سکتے ہیں جو وہ ہم پر ڈالتے ہیں۔ مزیدبرآں، عمدہ روحانی خوراک اور مسیحی اجلاسوں پر فراہم کی جانے والی عملی راہنمائی اُس شخصی حوصلہ‌افزائی میں مزید اضافہ کرتی ہے جو ہم اپنے دوستوں کی طرف سے حاصل کرتے ہیں۔‏

بیشک، مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بعض کو شاید بیاہتا ساتھیوں کی طرف سے برائے‌نام یا پھر کوئی حمایت حاصل نہیں ہوتی اور ہو سکتا ہے کہ دوسروں کیلئے سواری کا مسئلہ ہو۔ تاہم ذرا سوچیں:‏ اگر آپ ان مشکلات کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ آپ کو روکیں تو پھر آپکا نمونہ اُن لوگوں کو تحریک دے سکتا ہے جنہیں شاید اسی طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ باالفاظِ‌دیگر، آپ اور آپ جیسے دوسرے لوگ نہ صرف اچھا نمونہ فراہم کرتے ہیں بلکہ دوستوں کی طرف سے صحتمندانہ اثر ڈالنے کا بھی سبب بنتے ہیں جس میں کسی قسم کی زبردستی نہیں کی جاتی۔‏

درحقیقت، پولس رسول نے خود بھی بیشمار مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کِیا اس لئے اُس نے مسیحیوں کی حوصلہ‌افزائی کی کہ اُس کے اور دوسرے پُختہ مسیحیوں کے عمدہ نمونے کی نقل کریں۔ اُس نے کہا:‏ ”‏اَے بھائیو!‏ تم سب مل کر میری مانند بنو اور اُن لوگوں کو پہچان رکھو جو اس طرح چلتے ہیں جسکا نمونہ تم ہم میں پاتے ہو۔“‏ (‏فلپیوں ۳:‏۱۷؛‏ ۴:‏۹‏)‏ تھسلنیکے کے ابتدائی مسیحی پولس کے نمونے کی پیروی کرتے تھے۔ اُن کی بابت پولس نے لکھا:‏ ”‏تم کلام کو بڑی مصیبت میں روح‌القدس کی خوشی کے ساتھ قبول کرکے ہماری اور خداوند کی مانند بنے۔ یہاں تک کہ مکدؔنیہ اور اؔخیہ کے سب ایمانداروں کے لئے نمونہ بنے۔“‏ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۶، ۷‏)‏ ہمارا مثبت میلان اور نمونہ اُن لوگوں پر اسی طرح کا اثر ڈال سکتا ہے جن کے ساتھ ہم رفاقت رکھتے ہیں۔‏

منفی اثرات سے بچیں

اگر ہم دوستوں کے ناخوشگوار دباؤ سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اُن لوگوں کے اثر کی مزاحمت کرنی چاہئے جو ’‏جسم کے مطابق چلتے ہیں۔‘‏ (‏رومیوں ۸:‏۴، ۵؛‏ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ بصورتِ‌دیگر، دوستوں کی طرف سے تکلیف‌دہ دباؤ ہمیں یہوواہ اور اُس کی دانشمندانہ مشورت سے دُور کر دیگا۔ امثال ۱۳:‏۲۰ کہتی ہے:‏ ”‏وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائیگا۔“‏ کیا آپ کسی ایسے شخص کی بابت سوچ سکتے ہیں جسے دوستوں کی طرف سے ناخوشگوار دباؤ کے باعث بہت نقصان اُٹھانا پڑا تھا؟ مثال کے طور پر، بعض مسیحی اپنے دوستوں کی طرف سے دباؤ کی وجہ سے مادہ‌پرستی، بداخلاقی یا منشیات اور الکحل کا شکار ہو گئے ہیں۔‏

مسیحی کلیسیا کے اندر بھی، اگر ہم روحانی طور پر کمزور اشخاص کا اپنے ساتھیوں کے طور پر انتخاب کرتے ہیں تو ہم دوستوں کے ناخوشگوار دباؤ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳؛‏ ۲-‏تھسلنیکیوں ۳:‏۱۴‏)‏ ایسے لوگ اکثر روحانی معاملات کی بابت بات‌چیت کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتے؛ شاید وہ ایسے لوگوں کا تمسخر بھی اُڑائیں جو ایسی گفت‌وشنید کرتے ہیں۔ اگر ہم ایسے اشخاص کا اپنے دوستوں کے طور پر انتخاب کرتے ہیں تو انکی طرف سے دباؤ ہمیں بھی ایسے ہی سانچے میں ڈھال سکتا ہے اور جلد ہی ہم اپنی سوچ اور میلان کو اُن ہی کی طرح کا پائینگے۔ شاید ہم بھی سچے ایمان والے اور روحانی ترقی کرنے والے لوگوں کی بابت منفی سوچ رکھنے لگیں۔—‏۱-‏تیمتھیس ۴:‏۱۵‏۔‏

تاہم یہ کتنی دانشمندی کی بات ہے کہ ہم اُن لوگوں کے ساتھ دوستی پیدا کریں جو یہوواہ کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو روحانی باتوں سے خوش ہوتے ہیں!‏ ایسے ساتھی ہمیں وہ ”‏حکمت“‏ ظاہر کرنے میں مدد دیں گے جو ”‏اُوپر سے آتی ہے۔“‏ یہ ”‏اوّل تو .‏ .‏ .‏ پاک ہوتی ہے۔ پھر ملنسار حلیم اور تربیت‌پذیر۔ رحم اور اچھے پھلوں سے لدی ہوئی۔ .‏ .‏ .‏ بے‌ریا ہوتی ہے۔“‏ (‏یعقوب ۳:‏۱۷‏)‏ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ روحانی ذہن رکھنے والے لوگ روحانی معاملات کے علاوہ کسی دوسری چیز کی بابت گفتگو کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے!‏ ذرا اُن مختلف دلچسپ مضامین کی بابت سوچیں جو جاگو!‏ رسالے جیسی واچ ٹاور مطبوعات میں زیرِغور لائے جاتے ہیں۔ واقعی گفتگو کے لئے صحتمندانہ موضوعات بیشمار ہیں اور مختلف مضامین میں دلچسپی لینے سے، ہم زندگی اور یہوواہ کی صنعت کے لئے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔‏

بالکل اُسی طرح جیسے ٹینس کا ایک اچھا کھلاڑی دوسرے اچھے کھلاڑیوں کیساتھ کھیلنے سے اپنی مہارت کو بہتر بناتا ہے، اُسی طرح دُرست ساتھی ہمیں ذہنی، جذباتی اور روحانی طور پر مضبوط بناتے ہیں۔ اسکی دوسری جانب، غلط ساتھی دہری زندگی بسر کرنے کیلئے ہماری حوصلہ‌افزائی کرنے سے ہمیں ریاکاری کی روش اختیار کرنے کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ اسکی بجائے عزتِ‌نفس کیساتھ پاک ضمیر سے لطف اُٹھانا کسقدر بہتر ہے!‏

بعض نے فائدہ اُٹھایا

بیشتر لوگ محسوس کرتے ہیں کہ بائبل عقائد اور اس کے اخلاقی اور روحانی تقاضوں کو سیکھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ تاہم، ان پر عمل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ جیسے‌کہ درج‌ذیل مثالیں ظاہر کرتی ہیں، دوستوں کا خوشگوار اثر پورے دل‌وجان سے یہوواہ کی خدمت کرنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔‏

ایک گواہ جو اپنی اہلیہ کیساتھ کُل‌وقتی خدمت میں ہے، اُس نے کہا کہ اُسکے دوست زندگی میں اُسکے نصب‌اُلعین پر اثرانداز ہوئے۔ بچپن میں اُسے ناخوشگوار اثرات کو برداشت کرنا پڑا۔ مگر اُس نے اپنے دوستوں کے طور پر ایسے لوگوں کا انتخاب کِیا جنہوں نے اُسے خدمتگزاری میں اور مسیحی اجلاسوں پر باقاعدہ رہنے کیلئے حوصلہ‌افزائی کی۔ ایسے ساتھیوں کیساتھ جڑے رہنے سے اُسے روحانی پختگی کی راہ پر گامزن رہنے میں مدد ملی۔‏

ایک دوسرا گواہ لکھتا ہے:‏ ”‏اپنی شادی کے بعد ہم دونوں میاں بیوی ایک ایسی کلیسیا میں چلے گئے جہاں ہماری عمر کا ایک جوڑا ریگولر پائنیر تھا۔ اُنکے نمونے سے ہمیں کُل‌وقتی خدمت اختیار کرنے کی تحریک ملی۔ اسکے بعد ہم نے بھی کلیسیا کے اندر پائنیر جذبے کو ترقی دینے کیلئے کام کِیا۔ نتیجتاً، بہتیروں نے پائنیر خدمت شروع کر دی۔“‏

جو لوگ تھیوکریٹک نصب‌اُلعین رکھتے ہیں وہ یہوواہ کیلئے فرمانبرداری دکھانے کو آسان بنا سکتے ہیں۔ یہ دوستوں کی طرف سے خوشگوار اثر کا ایک اَور مفید پہلو ہے۔ ایک گواہ جس نے نوجوان شخص کے طور پر کُل‌وقتی خدمت کا آغاز کِیا اور بعدازاں سفری نگہبان بن گیا اب واچ‌ٹاور سوسائٹی کے برانچ دفاتر میں سے ایک میں خدمت انجام دے رہا ہے۔ وہ لکھتا ہے:‏ ”‏میری بچپن کی یادوں میں بعض پسندیدہ یادیں اُن کُل‌وقتی خادموں کی بابت ہیں جو ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ ہمارے کھانے کے میز پر ہمیشہ ایک فالتو کُرسی کی گنجائش ہوتی تھی۔ جب مَیں دس برس کا تھا تو ایک سرکٹ اوورسیئر نے مجھے مُنادی کیلئے بیگ دیا۔ وہ بیگ مجھے آج تک نہایت عزیز ہے۔“‏

اپنی نوعمری کے سالوں کو یاد کرتے ہوئے اس گواہ نے مزید بیان کِیا:‏ ”‏کلیسیا کے بہتیرے نوجوان کلیسیائی کارگزاریوں میں بڑھ‌چڑھ کر شرکت کرنا چاہتے تھے اور اُنہی کے نمونے سے ہمیں بھی ایسا ہی کرنے کی تحریک ملی۔“‏ دوستوں کے صحتمندانہ اثر نے ایک شاخ کی مانند اس نوجوان کی ایک عمدہ، درخت‌نما مسیحی آدمی بننے میں مدد کی۔ اَے اولاد والو، کیا آپ ایسے لوگوں کو اپنے گھر مدعو کرتے ہیں جو آپ کے بچوں پر مثبت اور تعمیری اثر ڈال سکتے ہیں؟—‏ملاکی ۳:‏۱۶۔‏

بِلاشُبہ، ہم سب ان لوگوں کی طرح کُل‌وقتی خدمتگزاری میں حصہ نہیں لے سکتے جنکا ابھی ذکر کِیا گیا۔ تاہم، ہم سب یہوواہ سے ’‏اپنے سارے دل، جان اور عقل‘‏ سے محبت رکھنا ضرور سیکھ سکتے ہیں۔ (‏متی ۲۲:‏۳۷‏)‏ ہمارا دوستوں کا انتخاب ایسی محبت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یوں ہمارے لئے ابدی زندگی کے امکان روشن کرتا ہے۔‏

زبورنویس نے زندگی میں حقیقی کامیابی کا سادہ مگر مؤثر فارمولا بیان کِیا:‏ ”‏مبارک ہے وہ آدمی جو شریروں کی صلاح پر نہیں چلتا اور خطاکاروں کی راہ میں کھڑا نہیں ہوتا اور ٹھٹھابازوں کی مجلس میں نہیں بیٹھتا بلکہ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی شریعت میں اُس کی خوشنودی ہے اور اُسی کی شریعت پر دن رات اُس کا دھیان رہتا ہے وہ اُس درخت کی مانند ہو گا جو پانی کی ندیوں کے پاس لگایا گیا ہے جو اپنے وقت پر پھلتا ہے اور جس کا پتا بھی نہیں مرجھاتا۔ سو جوکچھ وہ کرے بارور ہو گا۔“‏—‏زبور ۱:‏۱-‏۳‏۔‏

کیا ہی شاندار وعدہ!‏ ناکامل ہونے اور غلطیاں کرنے کے باوجود اگر ہم یہوواہ کو اپنی راہنمائی کرنے دیتے ہیں اور اگر ہم خوشگوار اثر ڈالنے والے دوستوں—‏”‏[‏ہمارے]‏ بھائی جو دُنیا میں ہیں“‏—‏کیساتھ باقاعدہ رفاقت رکھتے ہیں تو ہماری زندگی کامیاب ہوگی۔—‏۱-‏پطرس ۵:‏۹‏۔‏

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

اَے اولاد والو، اپنے بچوں کی ترقی‌بخش دوستوں کیساتھ رفاقت رکھنے کیلئے حوصلہ‌افزائی کریں

‏[‏صفحہ 25 پر تصویر]‏

کلیسیا میں خوشگوار اثر ڈالنے والے دوست ہوتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں