دوسروں کی عزت کریں
”عزت کی رُو سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھو۔“—رومیوں ۱۲:۱۰۔
۱، ۲. (ا) فروتنی کا اظہار کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ (ب) بائبل میں لفظ ”عزت“ کو اکثر کیسے استعمال کِیا جاتا ہے اور کن کے لئے اسے ظاہر کرنا آسان ہوتا ہے؟
ہمارے پچھلے مضمون نے خدا کے کلام کی اس مشورت پر زور دیا تھا: ”تم . . . سب کے سب ایک دوسرے کی خدمت کے لئے فروتنی سے کمربستہ رہو اس لئےکہ خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے۔“ (۱-پطرس ۵:۵) فروتنی سے کمربستہ رہنے کا ایک طریقہ دوسروں کی عزت کرنا ہے۔
۲ بائبل میں لفظ ”عزت“ اکثر احترام، توقیر اور پاسولحاظ دکھانے کے لئے استعمال کِیا جاتا ہے جو ہمیں دوسروں کے لئے دکھانا چاہئے۔ ہم دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنے، اُن کے وقار کا لحاظ رکھنے، اُن کے نقطۂنظر کو سننے اور معقول درخواستوں کو پورا کرنے کے لئے تیار رہنے سے دوسروں کی عزت کرتے ہیں۔ فروتن اشخاص کو ایسا کرنا مشکل معلوم نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس، متکبر لوگ حقیقی عزت دکھانا مشکل پا سکتے ہیں اور غیرمخلصانہ خوشامد سے نظرِعنایت اور فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہوواہ انسانوں کی عزت کرتا ہے
۳، ۴. یہوواہ نے ابرہام کے لئے کیسے عزت دکھائی اور کیوں؟
۳ عزت کرنے کے معاملے میں یہوواہ خود مثال قائم کرتا ہے۔ اُس نے انسانوں کو آزاد مرضی کے ساتھ خلق کِیا اور وہ اُنہیں کبھی بھی روبوٹس کی طرح خیال نہیں کرتا۔ (۱-پطرس ۲:۱۶) مثال کے طور پر، جب اُس نے ابرہام کو بتایا کہ سدوم کو اُس کی سنگین بدکاری کی وجہ سے برباد کر دیا جائیگا تو ابرہام نے پوچھا: ”کیا تُو نیک کو بد کے ساتھ ہلاک کریگا؟ شاید اُس شہر میں پچاس راستباز ہوں۔ کیا تُو اُسے ہلاک کریگا اور اُن پچاس راستبازوں کی خاطر جو اُس میں ہوں اُس مقام کو نہ چھوڑیگا؟“ یہوواہ نے جواب دیا کہ وہ ۵۰ راستبازوں کی خاطر شہر کو چھوڑ دیگا۔ ابرہام نے پھر عاجزانہ التجا کی۔ اگر وہاں پر صرف ۴۵، ۴۰، ۳۰، ۲۰، ۱۰، ہی ہوں تو پھر کیا ہوگا؟ یہوواہ نے ابرہام کو یقین دلایا کہ اگر وہاں صرف دس راستباز بھی ہوئے تو وہ سدوم کو تباہ نہیں کریگا۔—پیدایش ۱۸:۲۰-۳۳۔
۴ یہوواہ کو معلوم تھا کہ سدوم میں دس راستباز بھی نہیں تھے لیکن اس کے باوجود اُس نے ابرہام کی بات سنی اور اُس کے ساتھ عزت سے پیش آیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ابرہام ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] پر ایمان لایا اور اِسے اُس نے اُس کے حق میں راستبازی شمار کِیا۔“ ابرہام ”خدا کا دوست کہلایا۔“ (پیدایش ۱۵:۶؛ یعقوب ۲:۲۳) مزیدبرآں، یہوواہ جانتا تھا کہ ابرہام دوسروں کی عزت بھی کرتا ہے۔ جب اُس کے اور لوط کے چرواہوں میں علاقے کی بابت جھگڑا ہوا تو ابرہام نے پہلے لوط کو علاقے کا انتخاب کرنے کی اجازت دے کر اُس کی عزت کی تھی۔ لوط نے زرخیز علاقے کا انتخاب کِیا جبکہ ابرہام کہیں اَور چلا گیا۔—پیدایش ۱۳:۵-۱۱۔
۵. یہوواہ نے لوط کی عزت کیسے کی؟
۵ یہوواہ نے راستباز لوط کے لئے عزت دکھائی۔ سدوم کی بربادی سے پہلے اُس نے لوط کو پہاڑی علاقے میں بھاگ جانے کا حکم دیا۔ تاہم، لوط نے کہا کہ وہ وہاں نہیں جانا چاہتا؛ اُس نے قریبی علاقے ضغر میں جانا چاہا، اگرچہ یہ شہر بھی اُسی علاقے کا حصہ تھا جو تباہ کِیا جانے والا تھا۔ یہوواہ نے لوط سے کہا: ”دیکھ مَیں اس بات میں بھی تیرا لحاظ کرتا ہوں کہ اِس شہر کو جس کا تُو نے ذکر کِیا غارت نہیں کرونگا۔“ یہوواہ نے لوط کی درخواست سننے سے اُس کے لئے عزت دکھائی۔—پیدایش ۱۹:۱۵-۲۲؛ ۲-پطرس ۲:۶-۹۔
۶. یہوواہ نے موسیٰ کی عزت کیسے کی؟
۶ جب یہوواہ نے موسیٰ کو واپس مصر بھیجا تاکہ وہ اُس کی قوم کو غلامی سے چھڑائے اور فرعون سے کہے کہ وہ اُس کے لوگوں کو جانے دے تو موسیٰ نے جواب دیا: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو]! مَیں فصیح نہیں۔“ یہوواہ نے موسیٰ کی حوصلہافزائی کی: ”مَیں تیری زبان کا ذمہ لیتا ہوں اور تجھے سکھاتا رہونگا کہ تُو کیا کیا کہے۔“ اس کے باوجود موسیٰ متذبذب تھا۔ لہٰذا، یہوواہ نے موسیٰ کو یقیندہانی کرائی اور اُس کے بھائی ہارون کو اُس کا نمائندہ مقرر کرکے اُس کے ساتھ بھیجا۔—خروج ۴:۱۰-۱۶۔
۷. یہوواہ دوسروں کی عزت کرنے کے لئے کیوں تیار ہے؟
۷ ان تمام واقعات میں، یہوواہ نے ظاہر کِیا کہ وہ دوسروں کی عزت کرنے کے لئے تیار ہے خاص طور پر اُن کی جو اُس کی خدمت کرتے ہیں۔ اگرچہ اُنہوں نے جو کچھ مانگا وہ یہوواہ کے حقیقی مقصد سے کچھ فرق تھا توبھی اگر اُن کی درخواستیں اُس کے مقصد کے خلاف نہیں تھیں تو اُس نے اُن پر غور کِیا اور اُنہیں پورا کِیا۔
یسوع نے دوسروں کی عزت کی
۸. یسوع نے ایک بیمار عورت کی عزت کیسے کی؟
۸ دوسروں کی عزت کرنے کے سلسلے میں یسوع نے یہوواہ کی نقل کی۔ ایک مرتبہ ایک بڑی بِھیڑ میں ایک عورت بھی شامل تھی جو ۱۲ برس سے جریانِخون کی بیماری میں مبتلا تھی۔ ڈاکٹر اُس کا علاج کرنے کے قابل نہیں تھے۔ موسوی شریعت کے مطابق، وہ رسمی طور پر ناپاک تھی اور اُسے وہاں نہیں ہونا چاہئے تھا۔ وہ یسوع کے پیچھے ہو لی اور جب اُس نے اُس کی پوشاک کو چھوا تو وہ ٹھیک ہو گئی۔ ایسی صورت میں یسوع نے نہ تو شریعتی باریکیوں کی پابندی پر اصرار کِیا اور نہ ہی اُس کے اس فعل کے لئے اُسے ڈانٹا۔ اس کے برعکس، حالات سے واقف ہوتے ہوئے اُس نے اُس کی عزت کی اور کہا: ”بیٹی تیرے ایمان سے تجھے شفا ملی۔ سلامت جا اور اپنی اِس بیماری سے بچی رہ۔“—مرقس ۵:۲۵-۳۴؛ احبار ۱۵:۲۵-۲۷۔
۹. یسوع نے ایک غیرقوم عورت کی عزت کیسے کی؟
۹ ایک دوسرے موقع پر، ایک کنعانی عورت نے یسوع سے کہا: ”اَے خداوند ابنِداؔؤد مجھ پر رحم کر۔ ایک بدروح میری بیٹی کو بہت ستاتی ہے۔“ یہ جانتے ہوئے کہ اُسے غیرقوموں کی بجائے اسرائیل کے پاس بھیجا گیا ہے یسوع نے کہا: ”[اسرائیل کے] لڑکوں کی روٹی لیکر کتوں [”پلوں،“ اینڈبلیو] [غیرقوموں] کو ڈال دینا اچھا نہیں۔“ عورت نے جواب میں کہا: ”کتّے [”پلے،“ اینڈبلیو] بھی ان ٹکڑوں میں سے کھاتے ہیں جو ان کے مالکوں کی میز سے گرتے ہیں۔“ اس پر یسوع نے کہا: ”اَے عورت تیرا ایمان بہت بڑا ہے۔ جیسا تُو چاہتی ہے تیرے لئے ویسا ہی ہو۔“ اُس کی بیٹی نے شفا پائی۔ یسوع نے اس غیرقوم عورت کے ایمان کی وجہ سے اُس کی عزت کی۔ علاوہازیں اُس نے بھیڑیے کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے ”پلوں“ کی اصطلاح استعمال کرنے سے بھی اپنے بیان میں نرمی پیدا کی اور رحم کا مظاہرہ کِیا۔—متی ۱۵:۲۱-۲۸۔
۱۰. یسوع نے اپنے شاگردوں کو اثرآفرین سبق کیسے سکھایا اور اس کی ضرورت کیوں تھی؟
۱۰ یسوع کے شاگردوں میں ابھی تک خودغرضانہ رُجحان تھا اس لئے وہ اُنہیں فروتنی اور دوسروں کی عزت کرنے کی بابت مسلسل تعلیم دیتا رہا۔ ایک مرتبہ جب وہ آپس میں بحث میں اُلجھے ہوئے تھے تو اس کے بعد یسوع نے اُن سے پوچھا: ”تم . . . کیا بحث کرتے تھے؟“ وہ چپ رہے کیونکہ ”اُنہوں نے . . . یہ بحث کی تھی کہ بڑا کون ہے؟“ (مرقس ۹:۳۳، ۳۴) یسوع کی موت سے پہلے کی رات بھی ”اُن میں یہ تکرار . . . ہوئی کہ ہم میں سے کون بڑا سمجھا جاتا ہے؟“ (لوقا ۲۲:۲۴) پس، فسح کے کھانے کے دوران یسوع نے ”برتن میں پانی ڈال کر شاگردوں کے پاؤں دھوئے۔“ کیا ہی اثرآفرین سبق! یسوع خدا کا بیٹا ہونے کی وجہ سے پوری کائنات میں یہوواہ سے دوسرے درجے پر ہے۔ پھربھی، اُس نے شاگردوں کے پاؤں دھونے سے اُنہیں قابلِقدر سبق سکھایا۔ اُس نے کہا: ”مَیں نے تم کو ایک نمونہ دکھایا ہے کہ جیسا مَیں نے تمہارے ساتھ کِیا ہے تم بھی کِیا کرو۔“—یوحنا ۱۳:۵-۱۵۔
پولس نے عزت دکھائی
۱۱، ۱۲. مسیحی بن جانے کے بعد پولس نے کیا سیکھا اور اُس نے فلیمون کے سلسلے میں اس سبق کا اطلاق کیسے کِیا؟
۱۱ مسیح کی نقل کرنے والے کے طور پر، پولس رسول نے بھی دوسروں کے لئے عزت دکھائی۔ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۱) اُس نے کہا: ”ہم نہ آدمیوں سے عزت چاہتے تھے . . . بلکہ جس طرح ماں اپنے بچوں کو پالتی ہے اُسی طرح ہم تمہارے درمیان نرمی کیساتھ رہے۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۶، ۷) ایک ماں اپنے بچوں کی دیکھبھال کرتی ہے۔ مسیحی بننے کے بعد پولس نے ساتھی مسیحیوں کے ساتھ فروتنی اور نرمی سے پیش آنے سے اُن کی عزت کرنا سیکھا۔ ایسا کرنے سے اُس نے اُن کی آزاد مرضی کا بھی احترام کِیا جیساکہ اُس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے جو روم میں اُس کی قید کے دوران پیش آیا۔
۱۲ اپنے مالک سے بھاگے ہوئے ایک غلام اُنیسمس نے پولس کی تعلیم سنی۔ وہ ایک مسیحی اور پولس کا دوست بن گیا۔ اُس غلام کا مالک فلیمون بھی ایک مسیحی تھا اور ایشیائےکوچک میں رہتا تھا۔ فلیمون کے نام خط میں پولس نے اُسے لکھا کہ اُنیسمس اُس کے لئے بہت کام کا آدمی تھا مگر وہ کہتا ہے: ”اُسکو مَیں اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا۔“ تاہم، پولس نے اُنیسمس کو فلیمون کے پاس واپس بھیج دیا اور اُسے لکھا: ”تیری مرضی کے بغیر مَیں نے کچھ کرنا نہ چاہا تاکہ تیرا نیک کام لاچاری سے نہیں بلکہ خوشی [”آزاد مرضی،“ اینڈبلیو] سے ہو۔“ پولس اپنے رسول ہونے کے مرتبے سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھانا چاہتا تھا اس لئے اُس نے فلیمون کے لئے عزت دکھائی اور اُس سے اُنیسمس کو روم میں ٹھہرانے کے لئے نہ پوچھا۔ مزیدبرآں، اُس نے فلیمون کو نصیحت کی کہ اُنیسمس کی عزت کرے اور اُس کے ساتھ ”غلام کی طرح نہیں بلکہ غلام سے بہتر . . . بھائی“ جیسا سلوک کرے۔—فلیمون ۱۳-۱۶۔
ہمارے زمانے میں عزت دکھانا
۱۳. رومیوں ۱۲:۱۰ ہمیں کیا کرنے کی تاکید کرتی ہے؟
۱۳ خدا کا کلام ہمیں مشورہ دیتا ہے: ”عزت کی رُو سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھو۔“ (رومیوں ۱۲:۱۰) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس انتظار میں نہیں رہنا چاہئے کہ دوسرے پہلے ہماری عزت کریں بلکہ ہمیں اس میں پہل کرنی چاہئے۔ ”کوئی اپنی بہتری نہ ڈھونڈے بلکہ دوسرے کی۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۲۴؛ ۱-پطرس ۳:۸، ۹) لہٰذا، یہوواہ کے خادم خاندانی افراد، کلیسیائی ساتھی مسیحیوں اور کلیسیا سے باہر کے لوگوں کے لئے عزت دکھانے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
۱۴. شوہر اور بیوی کے درمیان کیسے عزت دکھائی جاتی ہے؟
۱۴ بائبل بیان کرتی ہے: ”ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد . . . ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) یہوواہ مرد سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے ویسا ہی برتاؤ کرے جیسا مسیح نے کلیسیا سے کِیا تھا۔ شوہر کو ۱-پطرس ۳:۷ میں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ”نازک ظرف جان کر اُس کی عزت“ کرے۔ وہ اپنی بیوی کی بات سننے اور اُس کی تجاویز پر دھیان دینے کے لئے حقیقی رضامندی کا اظہار کرنے سے ایسا کر سکتا ہے۔ (پیدایش ۲۱:۱۲) جب اُس کی بات بائبل اصول کے خلاف نہ ہو تو وہ اُسے ترجیح دے سکتا ہے اور اس طرح وہ اُس کی مدد کرتا ہے اور مہربانی کے ساتھ اُس سے پیش آتا ہے۔ اس کے عوض، ”بیوی اس بات کا خیال رکھے کہ اپنے شوہر سے ڈرتی رہے۔“ (افسیوں ۵:۳۳) وہ اُس کا کہنا مانتی ہے، ہمیشہ اپنی بات منوانے کی کوشش نہیں کرتی، اُس کی بےعزتی نہیں کرتی یا اُسے دق نہیں کرتی۔ اگر وہ بعض حلقوں میں اپنے شوہر سے زیادہ لائق بھی ہو توبھی وہ اُسکو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش نہ کرنے سے فروتنی کا اظہار کرتی ہے۔
۱۵. عمررسیدہ کے لئے کیسے پاسولحاظ دکھایا جاتا ہے اور اُنہیں کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے؟
۱۵ مسیحی کلیسیا کے اندر بعض لوگ، جیسےکہ عمررسیدہ، خاص طور پر عزت کے مستحق ہیں۔ ”جن کے سر کے بال سفید ہیں تُو ان کے سامنے اٹھ کھڑے ہونا اور بڑے بوڑھے کا ادب کرنا۔“ (احبار ۱۹:۳۲) کئی سالوں تک وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرنے والوں کی ضرور عزت کی جانی چاہئے کیونکہ ”سفید سر شوکت کا تاج ہے [جب] وہ صداقت کی راہ پر پایا“ جائے۔ (امثال ۱۶:۳۱) کلیسیائی نگہبانوں کو اپنے سے بڑے ساتھی مسیحیوں کا احترام کرنے کے سلسلے میں نمونہ قائم کرنا چاہئے۔ بِلاشُبہ، عمررسیدہ لوگوں کو بھی چاہئے کہ جوانوں کا احترام کریں بالخصوص ایسے جوان لوگوں کا جو گلّے کی نگہبانی کرنے کی ذمہداری اُٹھائے ہوئے ہیں۔—۱-پطرس ۵:۲، ۳۔
۱۶. والدین اور بچے آپس میں عزت کیسے دکھاتے ہیں؟
۱۶ بچوں کو اپنے والدین کی عزت کرنی چاہئے: ”اَے فرزندو! خداوند میں اپنے ماں باپ کے فرمانبردار رہو کیونکہ یہ واجب ہے۔ اپنے باپ کی اور ماں کی عزت کر (یہ پہلا حکم ہے جس کے ساتھ وعدہ بھی ہے) تاکہ تیرا بھلا ہو اور تیری عمر زمین پر دراز ہو۔“ اسی طرح سے والدین بچوں کی عزت کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں بھی حکم دیا گیا ہے کہ ’اپنے بچوں کو دق نہ کریں بلکہ یہوواہ کی مرضی کے مطابق اُنہیں نصیحت کریں اور اُن کی تربیت کریں۔‘—افسیوں ۶:۱-۴؛ خروج ۲۰:۱۲۔
۱۷. کن کی ”دو چند“ عزت کی جانی چاہئے؟
۱۷ جانفشانی سے کلیسیا کی خدمت کرنے والوں کے لئے بھی عزت دکھائی جانی چاہئے: ”جو بزرگ اچھا انتظام کرتے ہیں۔ خاص کر وہ جو کلام سنانے اور تعلیم دینے میں محنت کرتے ہیں دوچند عزت کے لائق سمجھے جائیں۔“ (۱-تیمتھیس ۵:۱۷) اُن کی عزت کرنے کا ایک طریقہ عبرانیوں ۱۳:۱۷ میں بیان کِیا گیا ہے: ”اپنے پیشواؤں کے فرمانبردار . . . رہو۔“
۱۸. ہمیں کلیسیا سے باہر والوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
۱۸ کیا ہمیں کلیسیا سے باہر کے لوگوں کے لئے بھی احترام دکھانا ہے؟ جیہاں۔ مثال کے طور پر، ہمیں ہدایت کی گئی ہے: ”ہر شخص اعلےٰ حکومتوں کا تابعدار رہے۔“ (رومیوں ۱۳:۱) ان سے مُراد وہ سرکاری اہلکار ہیں جنہیں یہوواہ اُس وقت تک اپنا اختیار چلانے کی اجازت دیتا ہے جب تک اُس کی بادشاہی ان کی جگہ نہیں لے لیتی۔ (دانیایل ۲:۴۴) اس لئے ہم اس ہدایت پر عمل کرتے ہیں: ”سب کا حق ادا کرو۔ جسکو خراج چاہئے خراج دو۔ جسکو محصول چاہئے محصول۔ جس سے ڈرنا چاہئے اُس سے ڈرو۔ جسکی عزت کرنا چاہئے اُس کی عزت کرو۔“ (رومیوں ۱۳:۷) ہمیں ”سب کی عزت“ کرنا ہے۔—۱-پطرس ۲:۱۷۔
۱۹. ہم دوسروں کے ساتھ ”نیکی“ کیسے کر سکتے ہیں اور اُن کے لئے عزت کیسے دکھا سکتے ہیں؟
۱۹ اگرچہ یہ درست ہے کہ ہمیں کلیسیا سے باہر والوں کی عزت کرنا ہے، غور فرمائیں کہ خدا کا کلام کس بات پر زور دیتا ہے: ”پس جہاں تک موقع ملے سب کے ساتھ نیکی کریں خاصکر اہل ایمان کے ساتھ۔“ (گلتیوں ۶:۱۰) بِلاشُبہ، دوسروں کے ساتھ ”نیکی“ کرنے کا بہترین طریقہ اُن کی روحانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ (متی ۵:۳) ہم پولس رسول کی اس مشورت پر دھیان دینے سے ایسا کر سکتے ہیں: ”اپنےآپ کو خدا کے سامنے مقبول اور ایسے کام کرنے والے کی طرح پیش کرنے کوشش کر جس کو شرمندہ ہونا نہ پڑے اور جو حق کے کلام کو درستی سے کام میں لاتا ہو۔“ جب ہم موقعشناسی کے ساتھ گواہی دینے کے ہر موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو ہم ’اپنی خدمت کو پورا کرتے ہیں‘ اور ہم نہ صرف سب کے ساتھ نیکی کرتے ہیں بلکہ اُن کے لئے عزت بھی دکھاتے ہیں۔—۲-تیمتھیس ۲:۱۵؛ ۴:۵۔
یہوواہ کی عزت کرنا
۲۰. فرعون اور اُس کے لشکر کے ساتھ کیا ہوا اور کیوں؟
۲۰ یہوواہ اپنی مخلوقات کی عزت کرتا ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے اُس کی عزت کرنا واجب ہے۔ (امثال ۳:۹؛ مکاشفہ ۴:۱۱) یہوواہ کا کلام یہ بھی بیان کرتا ہے: ”وہ جو میری عزت کرتے ہیں مَیں اُن کی عزت کرونگا پر وہ جو میری تحقیر کرتے ہیں بےقدر ہونگے۔“ (۱-سموئیل ۲:۳۰) جب مصر کے فرعون سے کہا گیا کہ خدا کے لوگوں کو جانے دے تو اُس نے بڑے تکبّر سے جواب دیا: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کون ہے کہ مَیں اُس کی بات کو مانوں؟“ (خروج ۵:۲) جب فرعون نے اسرائیل کو تباہ کرنے کے لئے اپنا لشکر بھیجا تو یہوواہ نے اسرائیل کے لئے بحرِقلزم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ لیکن جب مصری اُن کے پیچھے آئے تو یہوواہ پانیوں کو واپس چڑھا لایا۔ ”فرؔعون کے رتھوں اور لشکر کو [یہوواہ] نے سمندر میں ڈالدیا۔“ (خروج ۱۴:۲۶-۲۸؛ ۱۵:۴) پس فرعون کا یہوواہ کی عزت کرنے سے متکبرانہ انکار اُس کی تباہی کا باعث بنا۔—زبور ۱۳۶:۱۵۔
۲۱. یہوواہ بیلشضر کے خلاف کیوں تھا اور اس کا نتیجہ کیا ہوا؟
۲۱ بابل کے بادشاہ بیلشضر نے بھی یہوواہ کی عزت کرنے سے انکار کِیا تھا۔ شرابنوشی کی ایک محفل کے دوران، اُس نے یروشلیم کی ہیکل سے لائے گئے سونے اور چاندی کے پاک ظروف میں میخواری کرکے یہوواہ کا تمسخر اُڑایا۔ ایسا کرنے کے ساتھ ساتھ اُس نے اپنے جھوٹے معبودوں کی بڑائی بھی کی۔ چنانچہ، یہوواہ کے خادم دانیایل نے اُسے بتایا: ”تُو نے اپنے دل سے عاجزی نہ کی۔ بلکہ آسمان کے خداوند کے حضور اپنےآپ کو بلند کِیا۔“ اُسی رات بیلشضر مارا گیا اور اُس کی سلطنت اُس سے جاتی رہی۔—دانیایل ۵:۲۲-۳۱۔
۲۲. (ا) اسرائیل کے پیشواؤں اور لوگوں پر یہوواہ کا قہر کیوں بھڑکا تھا؟ (ب) یہوواہ نے کن لوگوں کی حمایت کی اور کس نتیجے کے ساتھ؟
۲۲ پہلی صدی س.ع. میں جب ہیرودیس بادشاہ عوام سے خطاب کر رہا تھا تو لوگ پکار اُٹھے: ”یہ تو خدا کی آواز ہے نہ انسان کی۔“ گھمنڈی بادشاہ نے عوام کی بات سے اختلاف کرنے کی بجائے اپنی بزرگی چاہی۔ اُسی لمحے ”خدا کے فرشتہ نے اُسے مارا۔ اس لئےکہ اُس نے خدا کی تمجید نہ کی۔“ (اعمال ۱۲:۲۱-۲۳) ہیرودیس نے یہوواہ کی بجائے اپنی عزت چاہی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گیا تھا۔ اُس زمانے کے مذہبی پیشواؤں نے بھی خدا کے بیٹے یسوع کو ہلاک کرنے کی سازش کرکے خدا کی بےحرمتی کی تھی۔ بعض حاکموں کو پتہ تھا کہ یسوع نے سچی تعلیم دی ہے مگر پھربھی اُس کی پیروی نہ کی ”کیونکہ وہ خدا سے عزت حاصل کرنے کی نسبت انسان سے عزت حاصل کرنا زیادہ چاہتے تھے۔“ (یوحنا ۱۱:۴۷-۵۳؛ ۱۲:۴۲، ۴۳) مجموعی طور پر قوم نے نہ تو یہوواہ کی عزت کی اور نہ اُس کے نمائندے، یسوع کی کوئی عزت کی۔ نتیجتاً، اس کے بعد یہوواہ نے اُن کی عزت نہ کی، اُس نے اُنہیں ترک کر دیا اور اُن کی ہیکل کو بھی تباہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا۔ تاہم، اُس نے اُن لوگوں کو بچا لیا جنہوں نے اُس کی اور اُس کے بیٹے کی عزت کی تھی۔—متی ۲۳:۳۸؛ لوقا ۲۱:۲۰-۲۲۔
۲۳. ہمیں خدا کی نئی دُنیا میں زندگی حاصل کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ (زبور ۳۷:۹-۱۱؛ متی ۵:۵)
۲۳ جو لوگ اس موجودہ نظام کی بربادی کے بعد خدا کی نئی دُنیا میں زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں اُنہیں خدا اور اُس کے بیٹے یسوع مسیح کی عزت کرنی چاہئے اور اُن کی تابعداری کرنی چاہئے۔ (یوحنا ۵:۲۲، ۲۳؛ فلپیوں ۲:۹-۱۱) جو لوگ اُن کے لئے عزت نہیں دکھاتے وہ ”زمین پر سے کاٹ ڈالے جائینگے۔“ اس کے برعکس، خدا اور مسیح کے لئے عزت دکھانے اور اُن کی اطاعت کرنے والے راستباز لوگ ”ملک [”زمین،“ اینڈبلیو] میں بسینگے۔“—امثال ۲:۲۱، ۲۲۔
اعادے کی خاطر
◻دوسروں کی عزت کرنے کا کیا مطلب ہے اور یہوواہ نے یہ کیسے کِیا؟
◻یسوع اور پولس نے دوسروں کی عزت کیسے کی؟
◻ہمارے زمانے میں کون عزت کے لائق ہیں؟
◻ہمیں یہوواہ اور یسوع کی عزت کیوں کرنی چاہئے؟
[صفحہ 17 پر تصویر]
یہوواہ نے ابرہام کی التجا پر دھیان دیکر اُسکی عزت کی
[صفحہ 18 پر تصویر]
کامیاب شادیوں میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں