وہ یہوواہ کی مرضی بجا لائے
ایک ملاقات جو نہایت بااجر ثابت ہوئی
سبا سے یروشلیم کا سفر ملکہ کیلئے تھکا دینے والا ثابت ہوا ہوگا۔ وہ آراموآسائش کی عادی تھی۔ اب وہ اونٹ پر سوار، ۱،۵۰۰ میل کے طویل سفر پر روانہ تھی جس کا بیشتر حصہ تپتے ریگستان پر مشتمل تھا۔ ایک اندازے کے مطابق، صرف یک طرفہ سفر طے کرنے کیلئے کوئی ۷۵ دن لگے ہونگے!a
اس امیرکبیر ملکہ نے سبا میں اپنے آرامدہ گھر کو چھوڑ کر اتنا کٹھن سفر کیوں کِیا؟
دلچسپی اُبھارنے والی رپورٹ
سبا کی ملکہ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے نام کی بابت سلیماؔن کی شہرت“ سن کر یروشلیم آئی۔ (۱-سلاطین ۱۰:۱) ملکہ نے جوکچھ سنا اُسے پورے طور پر بیان نہیں کِیا گیا ہے۔ تاہم، ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ نے سلیمان کو غیرمعمولی حکمت، دولت اور عزت بخشی تھی۔ (۲-تواریخ ۱:۱۱، ۱۲) ملکہ کو اسکی خبر کیسے ہوئی؟ سبا کا علاقہ چونکہ تجارتی مرکز تھا اسلئے عین ممکن ہے کہ اُس نے اپنے مُلک میں آنے والے تاجروں کی زبانی سلیمان کی شہرت کی بابت سنا ہو۔ ان میں سے بعض نے شاید اوفیر کے ملک کا سفر کِیا ہو جس کے ساتھ سلیمان کے خاطرخواہ کاروباری تعلقات تھے۔—۱-سلاطین ۹:۲۶-۲۸۔
بہرصورت، ملکہ یروشلیم میں ایک ”بہت بڑی جلو کے ساتھ . . . آئی اور اُسکے ساتھ اُونٹ تھے جن پر مصالح اور بہت سا سونا اور بیشبہا جواہر لدے تھے۔“ (۱-سلاطین ۱۰:۲الف) بعض کا کہنا ہے کہ ”بہت بڑی جلو“ میں مسلح دستہ بھی شامل تھا۔ یہ قابلِفہم بات ہے کیونکہ ملکہ ایک ذیاقتدار ممتاز شخصیت تھی اور لاکھوں ڈالر کی مالیت کی قیمتی اشیاء کیساتھ سفر کر رہی تھی۔b
تاہم، غور کریں کہ ملکہ نے ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے نام کی بابت“ سلیمان کی شہرت سنی تھی۔ لہٰذا، یہ محض ایک کاروباری سفر نہیں تھا۔ بدیہی طور پر، ملکہ دراصل سلیمان کی حکمت سننے—شاید اُسکے خدا، یہوواہ کی بابت کچھ جاننے—کیلئے آئی تھی۔ غالباً وہ یہوواہ کے پرستاروں، سم یا حام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے اپنے آباؤاجداد کے مذہب کی بابت متجسس ہو۔
مشکل سوال، تسلیبخش جواب
سلیمان سے ملکر ملکہ ”مشکل سوالوں“ سے اُسے آزمانے لگی۔ (۱-سلاطین ۱۰:۱) عبرانی لفظ جو یہاں استعمال کِیا گیا ہے اُسکا ترجمہ ”پہیلیاں“ کِیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اسکا یہ مطلب نہیں کہ ملکہ نے سلیمان کو غیراہم کھیل میں اُلجھا دیا تھا۔ دلچسپی کی بات ہے کہ زبور ۴۹:۴ میں اسی عبرانی لفظ کو گناہ، موت اور کفارے سے متعلق سنجیدہ سوالات بیان کرنے کیلئے استعمال کِیا گیا ہے۔ پس غالباً سبا کی ملکہ سلیمان کیساتھ ایسے سنجیدہ موضوعات پر گفتگو کر رہی تھی جن سے اُسکی حکمت کی گہرائی کا اندازہ ہوتا تھا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ اُس نے ”اُن سب باتوں کے بارے میں جو اُسکے دل میں تھیں اُس سے گفتگو کی۔“ اور سلیمان نے ”اُسکے سب سوالوں کا جواب دیا۔ بادشاہ سے کوئی بات ایسی پوشیدہ نہ تھی جو اُسے نہ بتائی۔“—۱-سلاطین ۱۰:۲ب، ۳۔
سبا کی ملکہ سلیمان کی حکمت اور اُسکی سلطنت کی اقبالمندی سے اسقدر متاثر ہوئی کہ ”اُس کے ہوش اُڑ گئے۔“ (۱-سلاطین ۱۰:۴، ۵) بعض اس جزوِجملہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ ملکہ ”حواسباختہ“ ہو گئی۔ ایک عالم تو یہ کہتا ہے کہ وہ بےہوش ہو گئی! تاہم، خواہ کچھ بھی ہوا ملکہ نے جوکچھ سنا اور دیکھا وہ اس سے بہت حیران تھی۔ اُس نے سلیمان کے نوکروں کو مبارک کہا کیونکہ وہ بادشاہ کی حکمت کو سننے کے قابل تھے اور اُس نے سلیمان کو تختوتاج عطا کرنے کے لئے یہوواہ کو بھی مبارک کہا۔ اس کے بعد اُس نے بادشاہ کو بیشقیمت تحائف پیش کئے، جن میں سے صرف سونا ہی آج کے حساب سے کوئی ۴،۰۰،۰۰،۰۰۰ ڈالر کی مالیت کا تھا۔ سلیمان نے بھی اُسے تحائف پیش کئے اور ملکہ کو ”سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئی اور جوکچھ اُس نے مانگا“ دیا۔c—۱-سلاطین ۱۰:۶-۱۳۔
ہمارے لئے ایک سبق
یسوع نے فقیہ اور فریسیوں سے باتچیت کرتے ہوئے، سبا کی ملکہ کو ایک معروضی سبق کے طور پر استعمال کِیا۔ اُس نے بیان کِیا، ”دکھن کی ملکہ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ اٹھکر اُن کو مجرم ٹھہرائیگی۔ کیونکہ وہ دُنیا کے کنارے سے سلیماؔن کی حکمت سننے کو آئی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو سلیماؔن سے بھی بڑا ہے۔“ (متی ۱۲:۴۲) جیہاں، سبا کی ملکہ نے خداداد حکمت کیلئے گہری قدردانی ظاہر کی تھی۔ بِلاشُبہ، اگر اُس نے سلیمان سے حکمت کی باتیں سننے کیلئے ۱،۵۰۰ میل کا سفر کِیا تھا تو یقیناً فقیہ اور فریسیوں کو بھی یسوع کی باتچیت کو دھیان سے سننا چاہئے تھا جو بالکل اُنکے رُوبرو تھا۔
آجکل ہم بھی بڑے سلیمان، یسوع مسیح کیلئے گہری قدردانی ظاہر کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ ایک طریقہ ”سب قوموں کو شاگرد“ بنانے کے سلسلے میں اُس کے حکم کی تعمیل کرنا ہے۔ (متی ۲۸:۱۹) ایک دوسرا طریقہ یسوع کے نمونے اور اُسکے ذہنی میلان کا بغور مشاہدہ کرنا اور پھر اُسکی نقل کرنا ہے۔—فلپیوں ۲:۵؛ عبرانیوں ۱۲:۲، ۳۔
سچ ہے کہ بڑے سلیمان کے نمونے کی پیروی کرنا ہم سے جدوجہد کا تقاضا کریگا۔ تاہم، ہمیں اسکا بڑا اجر ملے گا۔ واقعی، یہوواہ اپنے لوگوں سے وعدہ کرتا ہے کہ اگر وہ خودایثاری کا جذبہ ظاہر کرتے ہیں تو وہ ’اُن کیلئے آسمان کے دریچے کھول کر برکت برسائے گا یہاں تک کہ اُن کے پاس اُس کیلئے جگہ نہیں رہے گی۔‘—ملاکی ۳:۱۰۔
[فٹنوٹ]
a بعض مفکرین کے خیال میں سبا جنوبمغربی عرب میں واقع تھا جہاں آجکل عوامی جمہوریہ یمن واقع ہے۔
b قدیم یونانی جغرافیہدان سٹرابو کے مطابق، سبا کے لوگ بہت زیادہ دولتمند تھے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ وہ اپنے فرنیچر، اپنے ظروف، حتیٰکہ اپنے درودیوار اور اپنے گھروں کی چھتوں میں سونے کا بہت زیادہ استعمال کرتے تھے۔
c بعض اس جزوِجملہ کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ ملکہ نے سلیمان کیساتھ جنسی تعلقات استوار کئے۔ داستانیں تو یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ اُنکا ایک بیٹا بھی تھا۔ تاہم، اس بات کی تائید میں کوئی شہادت دستیاب نہیں ہے۔