”انجام کو پہلے سے جان لینے والی“ حکمت
”وہ لوگ اپنی بصیرت کھو بیٹھے ہیں اور کچھ سمجھ نہیں رکھتے۔ اگر وہ دانشمند ہوتے تو اس بات کو سمجھ لیتے اور پہلے ہی جان لیتے کہ اُن کا انجام کیا ہوگا۔“—استثنا ۳۲:۲۸، ۲۹، بیک۔
یہ الفاظ موسیٰ نے بنی اسرائیل سے اُس وقت کہے جب وہ ملکِموعود کی سرحد پر کھڑے تھے۔ موسیٰ ایسے وقت کی بابت پیشگوئی کر رہا تھا جب وہ یہوواہ کو ترک کر دیں گے اور اپنے اعمال کے انجام پر کوئی توجہ نہیں دیں گے۔ آئندہ صدیوں میں، اسرائیلی قوم نے—کئی بادشاہوں سمیت—خدا کی آگاہیوں کو نظرانداز کر دیا۔
مثال کے طور پر، سلیمان اس الہٰی حکم سے واقف تھا کہ یہوواہ کے علاوہ کسی دوسرے معبود کے پرستاروں سے شادی نہ کرو۔ (استثنا ۷:۱-۴) پھربھی سلیمان نے ”بہت سی اجنبی عورتوں“ سے شادی کر لی۔ نتیجہ؟ بائبل ریکارڈ بیان کرتا ہے: ”جب سلیماؔن بڈھا ہو گیا تو اُسکی بیویوں نے اُسکے دل کو غیرمعبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اُسکا دل خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ رہا جیسا اُسکے باپ داؔؤد کا دل تھا۔“ (۱-سلاطین ۱۱:۱، ۴) ایک دانشمند شخص ہونے کے باوجود سلیمان میں خدا کی نافرمانی کرنے کے ’انجام کو پہلے ہی سے جان لینے‘ والی بصیرت کی کمی تھی۔
ہماری بابت کیا ہے؟ زندگی میں فیصلے کرنے سے پہلے اگر ہم خوب سوچبچار کرتے ہیں تو ہم شدید تکلیف سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مسیحیوں کو ”ہر طرح کی جسمانی اور روحانی آلودگی سے پاک“ رہنے کی فہمائش کی گئی ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱) یہ مشورت دانشمندانہ ہے لیکن بہتیرے پولس کی اس مشورت کے خلاف چلنے کے نتائج کو سمجھنے کی بصیرت نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر، بہتیرے نوجوان لوگ یہ سوچتے ہوئے سگریٹنوشی کے ذریعے اپنے جسم کو آلودہ کر لیتے ہیں کہ ایسا کرنا انہیں دانا اور بالغ ظاہر کرتا ہے۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ بعدازاں بہتیرے زندگی میں امراضِقلب، پھیپھڑوں کے کینسر یا بافتوں میں گیس جیسے نتائج کا سامنا کرتے ہیں!
اپنے فیصلوں اور افعال کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا بہت اہم ہے۔ معقول طور پر پولس نے لکھا: ”آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹیگا۔ جو کوئی اپنے جسم کے لئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹیگا اور جو رُوح کے لئے بوتا ہے وہ رُوح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹیگا۔“—گلتیوں ۶:۷، ۸۔