یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏7 ص.‏ 8-‏12
  • اولاد والو، آپکا نمونہ کیا سکھاتا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اولاد والو، آپکا نمونہ کیا سکھاتا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • نمونے کا اثر
  • ہمارا نمونہ کیا سکھا سکتا ہے
  • روزانہ بائبل پڑھائی میں نمونہ قائم کرنا
  • خاندان کو روحانی طور پر مضبوط بنانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • والدین!‏ اپنے خاندان کی خبرگیری کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • اپنے بچوں کو یہوواہ سے محبت کرنا سکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • والدین!‏ اپنے بچوں کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏7 ص.‏ 8-‏12

اولاد والو، آپکا نمونہ کیا سکھاتا ہے؟‏

‏”‏عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو۔ اور محبت سے چلو۔“‏—‏افسیوں ۵:‏۱، ۲‏۔‏

۱.‏ یہوواہ نے پہلے انسانی جوڑے کیلئے کس قسم کی ہدایات فراہم کی تھیں؟‏

یہوواہ خاندانی بندوبست کا بانی ہے۔ ہر خاندان کا وجود اُسی کی بدولت ہے کیونکہ اُسی نے پہلے خاندان کی بنیاد ڈالی اور پہلے انسانی جوڑے کو افزائشی صلاحیتیں عطا کیں۔ (‏افسیوں ۳:‏۱۴، ۱۵‏)‏ اُس نے آدم اور حوّا کو اُنکی ذمہ‌داریوں کے سلسلے میں بنیادی ہدایات فراہم کیں اور اُن کو پورا کرنے کیلئے اُنہیں اپنی مرضی سے کام لینے کا بھی کافی موقع دیا۔ (‏پیدایش ۱:‏۲۸-‏۳۰؛‏ ۲:‏۶،‏ ۱۵-‏۲۲‏)‏ آدم اور حوّا کے گناہ کرنے کے بعد، خاندانوں کے تجربے میں آنے والی حالتیں اَور زیادہ پیچیدہ ہو گئیں۔ پھربھی، یہوواہ نے مشفقانہ طور پر ایسے رہبر اصول فراہم کئے جو ایسی حالتوں سے نپٹنے میں اُس کے خادموں کی مدد کرینگے۔‏

۲.‏ (‏ا)‏ یہوواہ نے کن ذرائع سے تحریری مشورت کو زبانی ہدایت سے مضبوط کِیا ہے؟ (‏ب)‏ والدین کو خود سے کیا سوال پوچھنا چاہئے؟‏

۲ اس سلسلے میں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے یہوواہ نے ہمارے عظیم مُعلم کے طور پر، محض تحریری ہدایات فراہم کرنے سے زیادہ کچھ کِیا ہے۔ قدیم وقتوں میں اُس نے تحریری ہدایت کیساتھ ساتھ کاہنوں، انبیاء اور خاندانی سرداروں کے ذریعے زبانی ہدایت بھی فراہم کی۔ ہمارے زمانے میں ایسی زبانی تعلیم دینے کے لئے وہ کس کو استعمال کر رہا ہے؟ مسیحی بزرگ اور والدین۔ اگر آپ والد یا والدہ ہیں تو کیا آپ اپنے خاندان کو یہوواہ کی راہوں کی تعلیم دینے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟—‏امثال ۶:‏۲۰-‏۲۳‏۔‏

۳.‏ مؤثر تعلیم کے سلسلے میں خاندان کے سردار یہوواہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۳ خاندان میں ایسی ہدایت کیسے فراہم کی جانی چاہئے؟ یہوواہ نمونہ قائم کرتا ہے۔ وہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اچھا کیا ہے اور بُرا کیا ہے، نیز وہ اسے بار بار دہراتا ہے۔ (‏خروج ۲۰:‏۴، ۵؛ استثنا ۴:‏۲۳، ۲۴؛ ۵:‏۸، ۹؛ ۶:‏۱۴، ۱۵؛ یشوع ۲۴:‏۱۹، ۲۰)‏ وہ سوچ کو اُبھارنے والے سوال استعمال کرتا ہے۔ (‏ایوب ۳۸:‏۴،‏ ۸،‏ ۳۱‏)‏ تمثیلوں اور زندگی کی حقیقی مثالوں کے ذریعے، وہ ہمارے جذبات کو اُبھارتا اور ہمارے دلوں کو ڈھالتا ہے۔ (‏پیدایش ۱۵:‏۵؛‏ دانی‌ایل ۳:‏۱-‏۲۹‏)‏ اَے اولاد والو!‏ جب آپ اپنے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں تو کیا آپ اسی نمونے کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟‏

۴.‏ تنبیہ کرنے کے سلسلے میں ہم یہوواہ سے کیا سیکھتے ہیں اور تنبیہ کیوں ضروری ہے؟‏

۴ یہوواہ نیکی کا معیار قائم رکھتا ہے لیکن وہ ناکاملیت کے اثرات سے بھی اچھی طرح واقف ہے۔ لہٰذا سزا دینے سے پہلے وہ ناکامل انسانوں کو سکھاتا ہے اور بارہا آگاہیاں اور یاددہانیاں دیتا ہے۔ (‏پیدایش ۱۹:‏۱۵، ۱۶؛‏ یرمیاہ ۷:‏۲۳-‏۲۶‏)‏ جب وہ تنبیہ کرتا ہے تو حد سے زیادہ نہیں بلکہ اعتدال کیساتھ کرتا ہے۔ (‏زبور ۱۰۳:‏۱۰، ۱۱؛‏ یسعیاہ ۲۸:‏۲۶-‏۲۹‏)‏ اگر ہم بھی اپنے بچوں سے ایسے ہی پیش آتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم یہوواہ کو جانتے ہیں، نیز اُن کیلئے بھی اُسے جاننا آسان ہوگا۔—‏یرمیاہ ۲۲:‏۱۶؛‏ ۱-‏یوحنا ۴:‏۸‏۔‏

۵.‏ سننے کے معاملے میں والدین یہوواہ سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۵ حیرت‌انگیز طور پر یہوواہ شفیق آسمانی باپ کی طرح سنتا ہے۔ وہ محض احکام صادر نہیں کرتا۔ وہ ہماری حوصلہ‌افزائی کرتا ہے کہ ہم اُس کے سامنے اپنے دل اُنڈیل دیں۔ (‏زبور ۶۲:‏۸‏)‏ علاوہ‌ازیں، اگر ہم اپنے جذبات کا صحیح طرح اظہار نہیں کر پاتے تو وہ آسمان سے ہمیں ڈانٹتا نہیں۔ وہ بڑے صبر کیساتھ سکھاتا ہے۔ لہٰذا، پولس رسول کی مشورت کسقدر موزوں ہے:‏ ”‏عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند بنو“‏!‏ (‏افسیوں ۴:‏۳۱–‏۵:‏۱‏)‏ یہوواہ والدین کیلئے اپنے بچوں کی تعلیم‌وتربیت کے سلسلے میں عمدہ نمونہ فراہم کرتا ہے!‏ یہ ہمارے لئے بڑا اثرآفرین نمونہ ہے اور ہمارے اندر اُسکی راہِ‌زندگی پر چلنے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔‏

نمونے کا اثر

۶.‏ والدین کا رویہ اور نمونہ اُنکے بچوں کو کیسے متاثر کرتا ہے؟‏

۶ زبانی ہدایت کے علاوہ، نمونہ نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ خواہ والدین پسند کریں یا نہ کریں، اُن کے بچے اُن کی نقل ضرور کریں گے۔ جب وہ اپنے بچوں کو وہی باتیں کہتے ہوئے سنتے ہیں جو اُنہوں نے خود کہیں تھیں تو وہ خوش بھی ہو سکتے ہیں اور بعض‌اوقات حیران بھی ہو سکتے ہیں۔ جب والدین کا چال‌چلن اور رویہ روحانی معاملات کے لئے گہری قدردانی ظاہر کرتا ہے تو بچوں پر اسکا مثبت اثر پڑتا ہے۔—‏امثال ۲۰:‏۷‏۔‏

۷.‏ افتاح نے اپنی بیٹی کیلئے کس قسم کا پدرانہ نمونہ قائم کِیا اور کس نتیجے کیساتھ؟‏

۷ والدین کے نمونے کے اثر کو بائبل میں بڑی وضاحت سے بیان کِیا گیا ہے۔ افتاح بھی ایک باپ تھا جسے یہوواہ نے عمونیوں پر فتح پانے کیلئے اسرائیل کی پیشوائی کرنے کی خاطر استعمال کِیا تھا۔ اُس نے عمون کے بادشاہ کو جو جواب دیا اُسکا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ افتاح نے اسرائیل کیساتھ یہوواہ کے برتاؤ کی تاریخ بارہا پڑھی ہوگی۔ وہ دلیری سے اُس تاریخ کا حوالہ دے سکتا تھا اور اُس نے یہوواہ پر مضبوط ایمان کا اظہار کِیا۔ بِلاشُبہ، اُسکے نمونے نے اُسکی بیٹی کی ایسا ایمان اور خودایثارانہ جذبہ پیدا کرنے میں مدد کی ہوگی جسکا اظہار اُس نے یہوواہ کی عبادت‌گذار ایک کنواری عورت کے طور پر تاحیات خدمت کرنے کی ذمہ‌داری اُٹھا کر کِیا۔—‏قضاۃ ۱۱:‏۱۴-‏۲۷، ۳۴-‏۴۰؛ مقابلہ کریں یشوع ۱:‏۸۔‏

۸.‏ (‏ا)‏ سموئیل کے والدین نے کس عمدہ رُجحان کا مظاہرہ کِیا؟ (‏ب)‏ اس سے سموئیل کو کیا فائدہ ہوا؟‏

۸ سموئیل ایک بچے اور عمربھر خدا کے وفادار نبی کے طور پر ایک مثالی نمونہ تھا۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی اُس جیسے بنیں؟ سموئیل کے والدین، القانہ اور حنّہ کے قائم‌کردہ نمونے پر غور کیجئے۔ اگرچہ اُن کے گھرانے کی حالت اتنی اچھی نہیں تھی توبھی وہ باقاعدگی سے سیلا جایا کرتے تھے جہاں مُقدس خیمۂ‌اجتماع تھا۔ (‏۱-‏سموئیل ۱:‏۳-‏۸،‏ ۲۱‏)‏ ذرا غور کریں کہ حنّہ نے کیسے دل کی گہرائیوں سے دُعا کی۔ (‏۱-‏سموئیل ۱:‏۹-‏۱۳‏)‏ اس پر غور فرمائیں کہ اُنہوں نے خدا کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی بابت کیسا محسوس کِیا۔ (‏۱-‏سموئیل ۱:‏۲۲-‏۲۸‏)‏ اُن کے عمدہ نمونے نے بیشک سموئیل کی ایسی صفات پیدا کرنے میں مدد کی ہوگی جن سے وہ راست روِش اختیار کرنے کے قابل ہوا—‏حتیٰ‌کہ اُس وقت بھی جبکہ اُس کے اِردگِرد رہنے والے لوگ یہوواہ کی خدمت کرنے کا دعویٰ کرنے کے باوجود خدا کی راہوں کے لئے کوئی احترام نہیں دکھاتے تھے۔ لہٰذا وقت آنے پر، یہوواہ نے سموئیل کو ایک نبی ہونے کی ذمہ‌داری سونپی۔—‏۱-‏سموئیل ۲:‏۱۱، ۱۲؛‏ ۳:‏۱-‏۲۱‏۔‏

۹.‏ (‏ا)‏ گھر میں کن اثرات نے تیمتھیس پر اچھا اثر ڈالا تھا؟ (‏ب)‏ تیمتھیس کس قسم کا شخص بن گیا؟‏

۹ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بیٹا تیمتھیس کی مانند بنے جو جوانی میں ہی پولس رسول کا ساتھی بن گیا تھا؟ تیمتھیس کا باپ ایماندار نہیں تھا لیکن اُس کی ماں اور اُس کی نانی نے روحانی چیزوں کی قدردانی کے سلسلے میں ایک عمدہ نمونہ قائم کِیا۔ بِلاشُبہ یہ چیز ایک مسیحی کے طور پر تیمتھیس کی زندگی کے لئے اچھی بنیاد ڈالنے میں مددگار ثابت ہوئی ہوگی۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اُس کی ماں، یونیکے اور اُس کی نانی لوئس ”‏بے‌ریا ایمان“‏ رکھتی تھیں۔ مسیحیوں کے طور پر اُن کی زندگیاں ریاکاری سے مبرا تھیں؛ وہ واقعی اپنے ایمان کے مطابق زندگی گزارتی تھیں اور اُنہوں نے نوجوان تیمتھیس کو بھی ایسا ہی کرنے کی تعلیم دی۔ تیمتھیس نے ثابت کر دکھایا کہ وہ قابلِ‌بھروسہ ہے اور وہ دوسروں کی فلاح کے لئے حقیقی فکرمندی رکھتا ہے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۱:‏۵؛‏ فلپیوں ۲:‏۲۰-‏۲۲‏۔‏

۱۰.‏ (‏ا)‏ گھر سے باہر کونسے نمونے ہمارے بچوں کو متاثر کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ جب ہمارے بچوں کی گفتگو یا رویے میں ایسے اثرات نمایاں ہوں تو ہمیں کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے؟‏

۱۰ ہمارے بچوں پر اثرانداز ہونے والے تمام نمونے صرف گھر ہی میں نہیں ہوتے۔ وہ سکول میں دوسرے بچوں کے ساتھ بھی رہتے ہیں، اساتذہ بھی ہیں جنکا کام نوخیز ذہنوں کو ڈھالنا ہی ہوتا ہے، ایسے لوگ ہیں جو اصرار کرتے ہیں کہ ہر شخص کو نہایت پُختہ قبائلی یا طبقاتی رسوم سے مطابقت پیدا کرنی چاہئے، پھر کھیلوں کے ایسے ستارے ہیں جنکی کامرانیوں کے ڈنکے بجتے ہیں، نیز ایسے عوامی اہلکار بھی ہیں جنکا طرزِزندگی اخبار کی شہ‌سرخیوں کی زینت بنتا ہے۔ لاکھوں بچے جنگی بربریت کا بھی شکار ہوئے ہیں۔ اگر ایسے اثرات ہمارے بچوں کی گفتگو یا رویے سے عیاں ہوتے ہیں تو کیا ہمیں اس بات سے حیران ہونا چاہئے؟ جب ایسا ہو تو ہمیں کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے؟ کیا طنزآمیز جھاڑجھپاڑ یا سخت تنبیہ مسئلے کا حل ہے؟ فوراً بچوں کے سلسلے میں فوری ردِعمل دکھانے کی بجائے کیوں نہ خود سے پوچھیں، ’‏یہوواہ جس طرح ہم سے برتاؤ کرتا ہے کیا اُس میں کوئی ایسی چیز ہے جو اس صورتحال سے نپٹنے کے سلسلے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟‘‏—‏مقابلہ کریں رومیوں ۲:‏۴‏۔‏

۱۱.‏ جب والدین غلطیاں کرتے ہیں تو یہ اُنکے بچوں کے رویے کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟‏

۱۱ بیشک، ناکامل والدین ہمیشہ ہی حالات کو بہتر طریقے سے نہیں سلجھا سکیں گے۔ وہ غلطیاں کریں گے۔ جب بچے یہ بات سمجھ جاتے ہیں تو کیا اس سے اُن کی نظر میں اپنے والدین کی عزت کم ہو جائے گی؟ اگر والدین اپنے اختیار کا سخت استعمال کرنے سے اپنی غلطیوں کی توجیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ تاہم، اگر والدین فروتن ہیں اور فراخدلی سے اپنی خطاؤں کا اعتراف کر لیتے ہیں تو نتیجہ بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اپنے بچوں کے لئے ایک قابلِ‌قدر نمونہ قائم کر سکتے ہیں جنہیں ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے۔—‏یعقوب ۴:‏۶‏۔‏

ہمارا نمونہ کیا سکھا سکتا ہے

۱۲، ۱۳.‏ (‏ا)‏ بچوں کو محبت کی بابت کیا سیکھنے کی ضرورت ہے اور زیادہ مؤثر طریقے سے یہ کیسے سکھایا جا سکتا ہے؟ (‏ب)‏ بچوں کیلئے محبت کی بابت سیکھنا کیوں ضروری ہے؟‏

۱۲ جب زبانی ہدایت کیساتھ اچھا نمونہ بھی پیش کِیا جاتا ہے تو بہتیرے قابلِ‌قدر اسباق نہایت اثرآفرینی سے سکھائے جا سکتے ہیں۔ چند ایک پر غور کیجئے۔‏

۱۳ بے‌غرض محبت دکھانا:‏ اپنے ذاتی نمونے سے جس اہم سبق کو تقویت پہنچائی جاتی ہے وہ محبت ہے۔ ”‏ہم اس لئے محبت رکھتے ہیں کہ پہلے [‏خدا]‏ نے ہم سے محبت رکھی۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۴:‏۱۹‏)‏ وہ محبت کا ماخذ اور افضل نمونہ ہے۔ بائبل میں اس اصولی محبت، اگاپے کا ذکر ۱۰۰ سے زیادہ مرتبہ ملتا ہے۔ یہ سچے مسیحیوں کی شناختی صفت ہے۔ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۵‏)‏ ایسی محبت خدا اور یسوع مسیح کے لئے دکھائی جاتی ہے اور انسان اس کا ایک دوسرے کے لئے بھی اظہار کر سکتے ہیں—‏حتیٰ‌کہ ایسے انسانوں کے لئے بھی جنہیں ہم پسند نہیں کرتے۔ (‏متی ۵:‏۴۴، ۴۵؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏)‏ اس سے پیشتر کہ ہم اپنے بچوں کو اسکی بابت مؤثر تعلیم دیں اس محبت کو ہمارے دلوں میں ہونا چاہئے اور ہماری زندگیوں سے عیاں ہونا چاہئے۔ افعال اقوال سے زیادہ معنی‌خیز ہوتے ہیں۔ خاندانی حلقے میں بچوں کو محبت اور اسی سے متعلقہ الفت جیسی دیگر صفات کو دیکھنے اور انکا تجربہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان چیزوں کے بغیر، ایک بچے کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی نشوونما رُک جاتی ہے۔ بچوں کے سامنے یہ بھی عیاں ہونا چاہئے کہ خاندانی دائرے کے باہر ساتھی مسیحیوں کیلئے محبت اور الفت کا موزوں اظہار کیسے کِیا جاتا ہے۔—‏رومیوں ۱۲:‏۱۰؛‏ ۱-‏پطرس ۳:‏۸‏۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏ بچوں کو اطمینان‌بخش معیاری کام کرنے کی تربیت کیسے دی جا سکتی ہے؟ (‏ب)‏ آپکی خاندانی صورتحال کے سلسلے میں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‏

۱۴ کام کرنا سیکھنا:‏ کام زندگی کا بنیادی پہلو ہے۔ ذاتی قدروقیمت کے احساس کیلئے ایک شخص کو معیاری کام کرنا سیکھنے کی ضرورت ہے۔ (‏واعظ ۲:‏۲۴؛‏ ۲-‏تھسلنیکیوں ۳:‏۱۰‏)‏ اگر ایک بچے کو ایسے کام تفویض کئے جاتے ہیں جنکی اُسے زیادہ تربیت نہیں دی گئی اور پھر کام غلط ہو جانے کی صورت میں اُسے ڈانٹا بھی جاتا ہے تو وہ معیاری کام کرنا بمشکل ہی سیکھے گا۔ تاہم، جب بچے درحقیقت اپنے والدین کیساتھ کام کرنے سے سیکھتے ہیں اور اُنہیں موزوں شاباش بھی دی جاتی ہے توپھر اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ اطمینان‌بخش کام کرنا سیکھ جائینگے۔ اگر والدین کے نمونے کیساتھ ساتھ وضاحت بھی پیش کی جاتی ہے تو بچے نہ صرف کوئی کام کرنے کا سلیقہ سیکھتے ہیں بلکہ مسائل پر قابو پانا، کام کو پایۂ‌تکمیل تک پہنچانا اور استدلال اور فیصلے کرنا بھی سیکھ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں اُنہیں یہ سمجھنے میں مدد دی جا سکتی ہے کہ یہوواہ بھی کام کرتا ہے اور وہ معیاری کام کرتا ہے جبکہ یسوع اپنے باپ کی نقل کرتا ہے۔ (‏پیدایش ۱:‏۳۱؛‏ امثال ۸:‏۲۷-‏۳۱؛‏ یوحنا ۵:‏۱۷‏)‏ اگر خاندان کھیتی‌باڑی یا کوئی اَور کاروبار کرتا ہے تو خاندان کے بعض افراد ملکر کام کر سکتے ہیں۔ یا شاید ایک ماں اپنے بیٹے یا بیٹی کو کھانا پکانا اور کھانے کے بعد صفائی کرنا سکھا سکتی ہے۔ ایک باپ جو گھر سے دُور ملازمت کرتا ہے وہ بچوں کیساتھ ملکر گھریلو کام کرنے کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ جب والدین فوراً کام مکمل کرنے کی بجائے بچے کو زندگی گزارنے کیلئے لیس کرنے کو ذہن میں رکھتے ہیں تو یہ کتنا مفید ثابت ہوتا ہے!‏

۱۵.‏ کن طریقوں سے ایمان سے متعلق اسباق سکھائے جا سکتے ہیں؟ وضاحت کریں۔‏

۱۵ مخالفت کی صورت میں ایمان پر قائم رہنا:‏ ایمان بھی ہماری زندگیوں کا نہایت اہم پہلو ہے۔ جب خاندانی مطالعہ میں ایمان پر گفتگو کی جاتی ہے تو بچے اسکی وضاحت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ وہ اس ثبوت کو بھی جان جاتے ہیں جو اُن کے دلوں میں ایمان کی نشوونما کا سبب بنتا ہے۔ تاہم، جب وہ اپنے والدین کو سخت آزمائشوں کے باوجود غیرمتزلزل ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اسکا اثر تاحیات رہتا ہے۔ پانامہ میں ایک بائبل طالبعلم کو اُس کے شوہر نے دھمکی دی کہ اگر اُس نے یہوواہ کی خدمت کرنا نہ چھوڑا تو اُسے گھر سے نکال دیا جائیگا۔ اس کے باوجود، قریبی کنگڈم ہال جانے کے لئے وہ اپنے چار چھوٹے بچوں کے ساتھ باقاعدگی سے ۱۰ میل پیدل سفر کرکے مزید ۲۰ میل کیلئے بس پر سفر کِیا کرتی تھی۔ اس نمونے سے حوصلہ پا کر اُس کے خاندان سے تقریباً ۲۰ افراد سچائی کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔‏

روزانہ بائبل پڑھائی میں نمونہ قائم کرنا

۱۶.‏ روزانہ خاندانی بائبل پڑھائی کی سفارش کیوں کی جاتی ہے؟‏

۱۶ نہایت قابلِ‌قدر عادات میں سے ایک عادت جسے کوئی بھی خاندان اپنا سکتا ہے، بائبل کی باقاعدہ پڑھائی ہے جو والدین کیلئے مفید ثابت ہوگی اور بچوں کیلئے قابلِ‌تقلید نمونہ فراہم کریگی۔ اگر ممکن ہو تو ہر روز کچھ بائبل پڑھائی کریں۔ پڑھائی کی مقدار زیادہ اہم نہیں ہے۔ اس میں زیادہ اہم بات باقاعدگی اور اسکا طریقہ ہے۔ اگر مائے بُک آف بائبل سٹوریز کی آڈیوکیسٹس آپکی زبان میں دستیاب ہوں تو بچوں کو سنا کر اُن کیلئے بائبل پڑھائی کی کمی کو پورا کِیا جا سکتا ہے۔ ہر روز خدا کے کلام کی پڑھائی کرنا خدا کے خیالات کو سرِفہرست رکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ نیز اگر افراد کی بجائے خاندانوں کے طور پر بائبل پڑھائی کی جاتی ہے تو اس سے پورے گھرانوں کی یہوواہ کی راہوں پر چلنے میں مدد ہوگی۔ حالیہ ”‏زندگی کی خدائی راہ“‏ کنونشنوں پر پیش کئے جانے والے ڈرامے میں اسی عادت کی حوصلہ‌افزائی کی گئی تھی جس کا عنوان تھا خاندانو—‏روزانہ بائبل پڑھائی کو اپنا شعار بنائیں!‏—‏زبور ۱:‏۱-‏۳‏۔‏

۱۷.‏ خاندانی بائبل پڑھائی اور خاص صحائف کو زبانی یاد کرنا افسیوں ۶:‏۴ کی مشورت کا اطلاق کرنے میں کیسے مددگار ثابت ہوتا ہے؟‏

۱۷ خاندان کے طور پر بائبل پڑھائی پولس رسول کی اس بات کے مطابق ہے جو اُس نے افسس کے مسیحیوں کے نام اپنے الہامی خط میں لکھی تھی یعنی:‏ ”‏اَے اولاد والو!‏ تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اُنکی پرورش کرو۔“‏ (‏افسیوں ۶:‏۴‏)‏ اسکا کیا مطلب ہے؟ ”‏تربیت اور نصیحت“‏ کا مطلب دراصل ”‏سوچ منتقل کرنا“‏ ہے یعنی مسیحی والدوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اپنے بچوں میں یہوواہ کی سوچ منتقل کریں—‏خدا کے خیالات سمجھنے میں بچوں کی مدد کریں۔ خاص صحائف زبانی یاد کرنے کے لئے بچے کی حوصلہ‌افزائی کرنا اس مقصد کو پانے میں مدد کر سکتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہوواہ کے خیالات بچوں کی سوچ کی رہبری کریں تاکہ والدین خواہ بچوں کیساتھ ہوں یا نہ ہوں اُنکی خواہشات اور چال‌چلن بتدریج خدائی معیاروں کی عکاسی کرنے والا بن جائے۔ ایسی سوچ کی بنیاد بائبل ہے۔—‏استثنا ۶:‏۶، ۷۔‏

۱۸.‏ بائبل پڑھتے وقت کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے تاکہ (‏ا)‏ اس کی واضح سمجھ حاصل کی جائے؟ (‏ب)‏ اس میں پائی جانی والی مشورت سے استفادہ کِیا جائے؟ (‏پ)‏ یہوواہ کے مقصد کی بابت اسکی ظاہرکردہ باتوں کیلئے جوابی‌عمل دکھایا جائے؟ (‏ت)‏ لوگوں کے رُجحانات اور افعال کی بابت اسکے بیانات سے فائدہ اُٹھایا جائے؟‏

۱۸ بِلاشُبہ، اگر بائبل نے ہماری زندگیوں پر کوئی اثر کرنا ہے تو ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کیا بیان کرتی ہے۔ بہتیروں کے لئے یہ ایک سے زیادہ مرتبہ اس کے اقتباسات پڑھنے کا تقاضا کر سکتا ہے۔ بعض اصطلا‌حات کی پوری سمجھ حاصل کرنے کے لئے ہمیں الفاظ کو لغت یا انسائٹ آن دی سکرپچرز میں دیکھنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اگر کسی صحیفے میں مشورت یا حکم پایا جاتا ہے تو ہمارے زمانے کی ایسی حالتوں کی بابت سوچ‌بچار کرنے کے لئے وقت نکالیں جن میں یہ موزوں ثابت ہو سکتا ہے۔ پھر آپ پوچھ سکتے ہیں، ’‏اس مشورت کا اطلاق ہمیں کیسے فائدہ پہنچا سکتا ہے؟‘‏ (‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷، ۱۸‏)‏ اگر صحیفہ یہوواہ کے مقصد کے کسی پہلو کو اُجاگر کر رہا ہے تو پوچھیں، ’‏ہماری زندگیوں پر یہ کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟‘‏ غالباً آپ ایسا بیان پڑھ رہے ہیں جو لوگوں کے رُجحانات اور افعال کی بابت بتاتا ہے۔ وہ زندگی میں کن دباؤں کا تجربہ کرتے رہے ہیں؟ وہ اُن پر کیسے غالب آئے؟ ہم اُن کے نمونے سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟ ہمیشہ اس بات پر غور کرنے کے لئے وقت نکالیں کہ یہ سرگزشت آجکل ہماری زندگیوں کے لئے کیا مطلب رکھتی ہے۔—‏رومیوں ۱۵:‏۴؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۱‏۔‏

۱۹.‏ خدا کی مانند بننے سے ہم اپنے بچوں کیلئے کیا فراہم کر رہے ہونگے؟‏

۱۹ اپنے دلوں اور دماغوں میں خدائی خیالات کو نقش کرنے کا کیا ہی عمدہ طریقہ!‏ یوں ”‏عزیز فرزندوں کی طرح خدا کی مانند“‏ بننے میں واقعی ہماری مدد ہوگی۔ (‏افسیوں ۵:‏۱‏)‏ نیز ہم ایسا نمونہ فراہم کرینگے جو درحقیقت ہمارے بچوں کیلئے قابلِ‌تقلید ہوگا۔‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

◻والدین یہوواہ کے نمونے سے کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟‏

◻بچوں کو زبانی ہدایت دینے کیساتھ ساتھ والدین کا اچھا نمونہ بھی کیوں ہونا چاہئے؟‏

◻بعض ایسے اسباق کونسے ہیں جو صرف والدین کے نمونے سے ہی بہتر طور پر سکھائے جاتے ہیں؟‏

◻ہم خاندانی بائبل پڑھائی سے کیسے بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 10 پر تصویریں]‏

بہتیرے خاندان کے طور پر روزانہ بائبل پڑھائی سے مستفید ہوتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں