یسوع آپ کی زندگی کیسے بدل سکتا ہے؟
یسوع مسیح ایک عظیم اُستاد تھا جو تقریباً ۲،۰۰۰ سال قبل فلسطین میں رہتا تھا۔ اُس کے بچپن کی بابت بہت کم معلومات موجود ہیں۔ تاہم، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جب وہ ۳۰ سال کا ہوا تو اُس نے ”حق پر گواہی“ دینے سے اپنی خدمتگزاری کا آغاز کِیا۔ (یوحنا ۱۸:۳۷؛ لوقا ۳:۲۱-۲۳) یسوع کی زندگی کی بابت تحریر کرنے والے چار شاگرد اسکے بعد کے ساڑھے تین سالوں پر توجہ مرکوز کراتے ہیں۔
اپنی خدمتگزاری کے دوران، یسوع نے اپنے شاگردوں کو ایک حکم دیا جو اس دُنیا کی مختلف بیماریوں کیلئے ایک تریاق ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ کیا تھا؟ یسوع نے کہا: ”مَیں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے مَیں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔“ (یوحنا ۱۳:۳۴) جیہاں، انسان کے بہت سے مسائل کا حل محبت ہے۔ ایک دوسرے موقع پر جب یسوع سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا حکم کونسا ہے تو اُس نے جواب دیا: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔ بڑا اور پہلا حکم یہی ہے۔ اور دوسرا اسکی مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔“—متی ۲۲:۳۷-۴۰۔
یسوع نے اپنے قولوفعل سے ہم پر ظاہر کِیا کہ خدا اور ساتھی انسانوں سے کیسے محبت رکھیں۔ آئیے چند مثالوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ ہم اُس سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔
اُسکی تعلیمات
تاریخ کے ایک مشہورترین وعظ میں، یسوع نے اپنے پیروکاروں کو بتایا: ”کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھیگا اور دوسرے سے محبت۔ یا ایک سے ملا رہیگا اور دوسرے کو ناچیز جانیگا۔ تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔“ (متی ۶:۲۴) کیا خدا کو اپنی زندگیوں میں مقدم رکھنے کی بابت یسوع کی تعلیم آج بھی عملی ہے جبکہ بہتیرے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ پیسہ تمام مسائل حل کر سکتا ہے؟ درست ہے کہ ہمیں اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے۔ (واعظ ۷:۱۲) تاہم، اگر ہم ”دولت“ کو اپنا مالک بننے دیتے ہیں تو ”زر کی دوستی“ ہم پر قابو پا لے گی اور یوں ہماری زندگی پر حاوی ہو جائے گی۔ (۱-تیمتھیس ۶:۹، ۱۰) اس پھندے کا شکار ہونے والے بہتیرے لوگ انجامکار اپنے خاندان، اپنی صحت حتیٰکہ زندگیوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
اسکے برعکس، خدا کو اپنا مالک تسلیم کر لینے سے ہماری زندگی بامقصد بن جاتی ہے۔ بطور خالق، وہ زندگی کا سرچشمہ ہے اور اسی لئے صرف وہی پرستش کے لائق ہے۔ (زبور ۳۶:۹؛ مکاشفہ ۴:۱۱) جو لوگ اُسکی خوبیوں کی بابت سیکھ کر اُس سے محبت کرنے لگتے ہیں وہ اُسکے حکموں کی پیروی کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔ (واعظ ۱۲:۱۳؛ ۱-یوحنا ۵:۳) ایسا کرنے سے، ہم خود مستفید ہوتے ہیں۔—یسعیاہ ۴۸:۱۷۔
اپنے پہاڑی وعظ میں، یسوع نے اپنے شاگردوں کو یہ بھی سکھایا کہ ساتھی انسانوں کیلئے کیسے محبت ظاہر کریں۔ اُس نے فرمایا: ”پس جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تم بھی اُنکے ساتھ کرو۔“ (متی ۷:۱۲) یسوع نے جب لفظ ”لوگ“ استعمال کِیا تو اِس میں ہمارے دُشمن بھی شامل ہیں۔ اسی وعظ میں اُس نے کہا: ”اپنے دُشمنوں سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو۔“ (متی ۵:۴۳، ۴۴) کیا ایسی محبت ایسے بہت سے مسائل حل نہیں کریگی جن کا آجکل ہمیں سامنا ہے؟ ہندو رہنما موہن داس گاندھی کا یہی خیال تھا۔ اُس نے بیان کِیا: ”اگر [ہم] مسیح کے پہاڑی وعظ کی تعلیمات پر متفق ہو جائیں تو ہم پوری دُنیا . . . کے مسائل حل کر لیں گے۔“ اگر محبت کی بابت یسوع کی تعلیمات کا اطلاق کِیا جائے تو یہ نوعِانسان کے بہت سے مسائل حل کر سکتی ہیں۔
اُسکے کام
یسوع نے محبت ظاہر کرنے کی بابت نہ صرف اہم حقائق کی تعلیم دی بلکہ اُن پر عمل بھی کرکے دکھایا۔ مثال کے طور پر، اُس نے اپنے مفاد پر دوسروں کے مفاد کو ترجیح دی۔ ایک دن، یسوع اور اُس کے شاگرد لوگوں کی مدد کرنے میں اسقدر مصروف رہے کہ اُن کے پاس کھانا کھانے کیلئے بھی وقت نہیں تھا۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کے آرام کرنے کی ضرورت کو محسوس کِیا اور انہیں ایک ویران جگہ پر لے گیا۔ تاہم، جب وہ اُس جگہ پہنچے تو ایک بڑی بِھیڑ اُن کی منتظر تھی۔ ایک ایسی بِھیڑ کو دیکھ کر آپ نے کیسا ردِعمل دکھایا ہوتا جو آپ سے کام کرنے کی توقع کرتی ہو جب کہ آپ تھوڑا آرام کرنا چاہتے ہیں؟ موزوں طور پر، یسوع کو ”اُن پر ترس آیا“ اور وہ ”اُن کو بہت سی باتوں کی تعلیم دینے لگا۔“ (مرقس ۶:۳۴) دوسروں کیلئے ترس کے اس گہرے احساس نے یسوع کو ہمیشہ اُن کی مدد کرنے کی تحریک دی۔
یسوع نے لوگوں کو تعلیم دینے سے زیادہ کچھ کِیا۔ اُس نے عملی مدد بھی مہیا کی۔ مثال کے طور پر، ایک موقع پر اُس نے ۵،۰۰۰ سے زائد لوگوں کو کھانا کھلایا جو شام تک اُس کی باتیں سن رہے تھے۔ اُس کے کچھ عرصہ بعد اُس نے ایک اَور بِھیڑ کو سیر کِیا—اس مرتبہ ۴،۰۰۰ سے زیادہ لوگوں کو—جو تین دن سے اُسکا کلام سن رہے تھے اور اُنکے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ پہلی مرتبہ، اُس نے پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں استعمال کیں اور دوسرے موقع پر سات روٹیاں اور چند چھوٹی مچھلیاں۔ (متی ۱۴:۱۴-۲۲؛ ۱۵:۳۲-۳۸) معجزات؟ جی ہاں، اُس نے معجزات کئے۔
یسوع نے بہت سے بیماروں کو بھی شفا دی۔ اُس نے اندھوں، لنگڑوں، کوڑھیوں اور بہروں کو تندرست کر دیا۔ اُس نے تو مُردے بھی زندہ کئے! (لوقا ۷:۲۲؛ یوحنا ۱۱:۳۰-۴۵) ایک مرتبہ، ایک کوڑھی نے اُس کی منت کی: ”اگر تُو چاہے تو مجھے پاکصاف کر سکتا ہے۔“ یسوع نے کیسا ردِعمل ظاہر کِیا؟ ”اُس نے اُس پر ترس کھا کر ہاتھ بڑھایا اور اُسے چھو کر کہا مَیں چاہتا ہوں۔ تُو پاک صاف ہو جا۔“ (مرقس ۱:۴۰، ۴۱) ایسے معجزات کے ذریعے، یسوع نے مصیبتزدوں کیلئے اپنی محبت کا مظاہرہ کِیا۔
کیا آپ کو یسوع کے معجزات پر مشکل سے یقین آتا ہے؟ بعض کیساتھ ایسا ہے۔ تاہم، یاد رکھیں کہ یسوع نے بیشتر معجزات بہت سے لوگوں کی موجودگی میں انجام دئے۔ حتیٰکہ ہر وقت اس کی غلطیاں تلاش کرنے والے اُس کے مخالفین بھی اس حقیقت سے انکار نہ کر سکے کہ اُس نے معجزات انجام دئے۔ (یوحنا ۹:۱-۳۴) مزیدبرآں، اُس کے معجزات کا ایک مقصد تھا۔ اُنہوں نے لوگوں کی مدد کی کہ وہ یسوع کی شناخت خدا کے پیامبر کے طور پر کرا سکیں۔—یوحنا ۶:۱۴۔
معجزات کے ذریعے یسوع اپنی شہرت نہیں چاہتا تھا۔ اس کے برعکس، اُس نے خدا کو جلال دیا جو اُسکی قوت کا سرچشمہ تھا۔ ایک مرتبہ کفرنحوم میں وہ ایک گھر میں تھا جس میں لوگوں کا بڑا ہجوم تھا۔ ایک مفلوج شخص شفا پانا چاہتا تھا مگر اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ پس اُسکے دوستوں نے چھت اُکھاڑ کر اُسے چارپائی سمیت اندر اُتار دیا۔ اُن کا ایمان دیکھ کر، یسوع نے اُس مفلوج کو تندرست کر دیا۔ نتیجتاً، لوگ ”خدا کی تمجید“ کرنے لگے اور کہنے لگے: ”ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا۔“ (مرقس ۲:۱-۴، ۱۱، ۱۲) یسوع کے معجزات، اُسکے خدا، یہوواہ کی ستائش اور ضرورتمندوں کی مدد کا باعث بنے۔
تاہم، یسوع کی خدمتگزاری کا بنیادی پہلو بیماروں کو شفا دینا نہیں تھا۔ یسوع کی زندگی کی بابت لکھنے والا ایک شخص بیان کرتا ہے: ”یہ اسلئے لکھے گئے کہ تم ایمان لاؤ کہ یسوؔع ہی خدا کا بیٹا مسیح ہے اور ایمان لا کر اسکے نام سے زندگی پاؤ۔“ (یوحنا ۲۰:۳۱) جیہاں، یسوع زمین پر اس لئے آیا کہ ایمان لانے والے انسان زندگی حاصل کر سکیں۔
اُسکی قربانی
کیا ’یسوع زمین پر آیا تھا؟‘ آپ شاید پوچھیں۔ ’وہ کہاں سے آیا تھا؟‘ یسوع نے خود بتایا: ”مَیں آسمان سے اسلئے نہیں اترا ہوں کہ اپنی مرضی کے موافق عمل کروں بلکہ اسلئےکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں۔“ (یوحنا ۶:۳۸) وہ اپنی انسانی زندگی سے پہلے خدا کے اکلوتے بیٹے کے طور پر موجود تھا۔ تاہم، اُسے زمین پر بھیجنے والے کی مرضی کیا تھی؟ ”خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا،“ انجیلنویس یوحنا بیان کرتا ہے، ”تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“ (یوحنا ۳:۱۶) یہ کیسے ممکن تھا؟
بائبل آشکارا کرتی ہے کہ کس طرح موت نوعِانسان کی زندگی کا ناگزیر حصہ بن گئی۔ پہلے انسانی جوڑے نے ہمیشہ تک زندہ رہنے کے امکان کیساتھ خدا سے زندگی پائی تھی۔ تاہم، انہوں نے اپنے صانع کے خلاف بغاوت کرنے کا انتخاب کِیا۔ (پیدائش ۳:۱-۱۹) اس فعل یعنی پہلے انسانی گناہ کے نتیجے میں آدم اور حوّا کی اولاد کو موت کا ناپسندیدہ ورثہ ملا۔ (رومیوں ۵:۱۲) نوعِانسان کو حقیقی زندگی دینے کیلئے گناہ اور موت کا خاتمہ ضروری تھا۔
کوئی بھی سائنسدان کسی بھی قسم کی جنیٹک انجینیئرنگ کے ذریعے موت سے نجات حاصل نہیں کر سکتا۔ تاہم، نوعِانسان کے خالق کے پاس فرمانبردار انسانوں کو کاملیت تک پہنچانے کا ذریعہ ہے تاکہ وہ ہمیشہ تک زندہ رہ سکیں۔ بائبل میں اس فراہمی کو فدیہ کہا گیا ہے۔ پہلے انسانی جوڑے نے خود کو اور اپنی اولاد کو گناہ اور موت کی غلامی میں بیچ دیا۔ انہوں نے خدا کے فرمانبردار انسانوں کے طور پر کامل انسانی زندگی کے حق کو خدا سے جُدا زندگی کے عوض بیچ دیا تاکہ اچھائی اور برائی کی بابت خود فیصلہ کر سکیں۔ کامل انسانی زندگی کو دوبارہ خریدنے کیلئے قیمت ادا کرنا ضروری تھا جو اُسی کامل انسانی زندگی کے مساوی ہو جسے ہمارے پہلے والدین نے کھو دیا تھا۔ ناکاملیت کا ورثہ پانے کی وجہ سے انسان وہ قیمت ادا نہیں کر سکتے تھے۔—زبور ۴۹:۷۔
پس یہوواہ خدا نے مدد کرنے کیلئے مداخلت کی۔ اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے کی کامل زندگی ایک کنواری کے رحم میں منتقل کر دی جس نے یسوع کو جنم دیا۔ عشروں پہلے آپ شاید کنواری سے پیدا ہونے کے خیال کو مسترد کر دیتے۔ تاہم، آجکل سائنسدانوں نے ممالیا کی ہوبہو نقل تیار کر لی ہے اور ایک جانور سے دوسرے میں جینز متعارف کرائے ہیں۔ توپھر، افزائشِنسل کے معمول کے عمل کو چھوڑ دینے کیلئے خالق کی صلاحیت پر کون شک کر سکتا ہے؟
ایک کامل انسانی زندگی کی موجودگی سے نوعِانسان کو گناہ اور موت سے چھڑانے کے لئے قیمت دستیاب ہو گئی۔ تاہم، یسوع کے طور پر پیدا ہونے والے بچے کو ایک ”طبیب“ کے طور پر پرورش پانی تھی جو نوعِانسان کی بیماریوں کیلئے ”دوا“ تیار کر سکے۔ اُس نے کامل، گناہ سے مبرا زندگی بسر کرنے سے ایسا کِیا۔ یسوع نے نہ صرف گناہ کے تحت نوعِانسان کی اذیت دیکھی بلکہ انسان کے طور پر جسمانی بندشوں کا بھی تجربہ کِیا۔ اس چیز نے اسے اَور بھی زیادہ ہمدرد طبیب بنا دیا۔ (عبرانیوں ۴:۱۵) اپنی زمینی زندگی کے دوران اُس نے جو معجزاتی شفائیں بخشیں اُنہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ بیمار کو شفا دینے کیلئے تیار ہے اور ایسا کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔—متی ۴:۲۳۔
زمین پر ساڑھے تین سالوں کی خدمتگزاری کے بعد یسوع کے مخالفین نے اُسے قتل کر دیا۔ اُس نے ظاہر کِیا کہ کامل انسان انتہائی آزمائشوں کے باوجود خالق کے فرمانبردار رہ سکتے ہیں۔ (۱-پطرس ۲:۲۲) اُسکی کامل انسانی زندگی کی قربانی، فدیے کی قیمت بن گئی جو نوعِانسان کو گناہ اور موت سے چھٹکارا دلانے کے قابل تھی۔ یسوع مسیح نے کہا: ”اِس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لئے دیدے۔“ (یوحنا ۱۵:۱۳) اپنی موت کے تین دن بعد یسوع نے روحانی زندگی کے لئے قیامت پائی اور چند ہفتے بعد وہ آسمان پر چلا گیا تاکہ یہوواہ خدا کے حضور فدیے کی قیمت پیش کر سکے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳، ۴؛ عبرانیوں ۹:۱۱-۱۴) ایسا کرنے سے یسوع فدیے کی قربانی کے فوائد کا اطلاق اُن لوگوں پر کرنے کے قابل تھا جو اُسکی پیروی کرتے ہیں۔
کیا آپ روحانی، جذباتی اور جسمانی بیماریوں سے شفایابی کے اس طریقے سے مستفید ہونے کیلئے تیار ہیں؟ ایسا کرنے کیلئے یسوع مسیح پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ کیوں نہ خود طبیب کے پاس آئیں؟ آپ یسوع مسیح اور وفادار نوعِانسان کو بچانے کیلئے اُسکے کردار کی بابت سیکھنے سے ایسا کر سکتے ہیں۔ یہوواہ کے گواہ آپکی مدد کرکے خوش ہونگے۔
[صفحہ 5 پر تصویر]
یسوع بیمار لوگوں کو شفا بخشنے کیلئے تیار ہے اور وہ ایسا کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے
[صفحہ 7 پر تصویر]
یسوع کی موت آپ کو کیسے متاثر کرتی ہے؟