یسوع مسیح پر کیوں ایمان رکھیں؟
”بہت سے غیرمسیحی بھی یہ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ایک عظیم اور دانشمند اُستاد تھا۔ یقیناً وہ کبھی ہو گزرنے والے نہایت بااثر لوگوں میں سے تھا۔“ (دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا) ”وہ“ کون ہے؟ وہ مسیحیت کا بانی، یسوع مسیح ہے۔
تاہم، انسائیکلوپیڈیا کے اس بیان سے قطعنظر، مشرق اور دیگر ممالک میں لاکھوں لوگوں کیلئے یسوع مسیح کی کوئی خاص اہمیت نہیں، شاید ہائی سکول کی نصابی کتب سے انہیں صرف اسکا نام یاد ہو۔ دُنیائےمسیحیت کے گرجاگھروں میں بھی ایسے پادری اور عالمِدین موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم درحقیقت یسوع کو نہیں جانتے اور یوں اُسکی زندگی کے متعلق بائبل (اناجیل) میں موجود چار سرگزشتوں کی صداقت کی بابت شکوشُبہ پیدا کرتے ہیں۔
کیا انجیلنویس فریبکاری سے یسوع کی زندگی کی کہانی گھڑ سکتے تھے؟ ہرگز نہیں! ممتاز مؤرخ وِل ڈیورانٹ نے چاروں اناجیل کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد لکھا: ”ایک ہی نسل کے چند سادہلوح انسان اگر اتنی پُرزور اور سحرانگیز شخصیت، اتنی بلندپایہ اخلاقی تعلیمات اور انسانی اخوت کے اتنے پُرزور تصور کی تخلیق کر سکتے تو یہ اناجیل میں درج کسی بھی معجزے سے زیادہ حیرتانگیز معجزہ ہوگا۔ دو صدیوں تک شدید تنقید کے بعد بھی یسوع کی زندگی، کردار اور تعلیمات کا خاکہ معقول طور پر واضح ہے اور مغرب کے لوگوں کی تاریخ کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔“
تاہم، بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یسوع کے نامنہاد پرستاروں کے کاموں کی وجہ سے اُسے اپنی توجہ کا مستحق خیال نہیں کرتے۔ ’اُنہوں نے ناگاساکی میں ایٹم بم گرایا،‘ جاپان کے بعض لوگ کہیں گے۔ ’جبکہ ناگاساکی میں جاپان کے بیشتر شہروں کی نسبت زیادہ مسیحی رہتے تھے۔‘ سوال اُٹھتا ہے کہ اگر ایک مریض ڈاکٹر کے نسخے پر عمل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو کیا آپ مریض کی بیماری کیلئے ڈاکٹر کو موردِالزام ٹھہرائینگے؟ طویل عرصے سے اقبالی مسیحیوں نے نوعِانسان کے مسائل پر قابو پانے کیلئے یسوع کے نسخے کو نظرانداز کِیا ہے۔ تاہم، یسوع نے روزمرّہ زندگی کے مصائب اور نوعِانسان کے عالمی مسائل سے نپٹنے کیلئے ایک علاج فراہم کِیا ہے۔ اس لئے ہم آپکو اگلا مضمون پڑھنے اور بذاتِخود یہ دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ کس قسم کا انسان تھا۔