ساؤل مسیحیوں کو اذیت کیوں دیتا تھا؟
’مَیں نے بھی سمجھا تھا کہ یسوؔع ناصری کے نام کی طرح طرح سے مخالفت کرنا مجھ پر فرض ہے؛ چنانچہ مَیں نے یرؔوشلیم میں ایسا ہی کِیا اور سردار کاہنوں کی طرف سے اختیار پا کر بہت سے مقدسوں کو قید میں ڈالا اور جب وہ قتل کئے جاتے تھے تو مَیں بھی یہی رائے دیتا تھا۔ ہر عبادتخانہ میں اُنہیں سزا دلا دلا کر زبردستی اُن سے کفر کہلواتا تھا۔ بلکہ میں اُن کی مخالفت میں ایسا دیوانہ بنا کہ غیر شہروں میں بھی جا کر اُنہیں ستاتا تھا۔‘—اعمال ۲۶:۹-۱۱۔
یہ ترسس کے ساؤل نے کہا جو پولس رسول کے نام سے بھی مشہور ہے۔ جس وقت اُس نے یہ کہا وہ یقیناً ایک نیا تبدیلشُدہ شخص تھا۔ اب وہ مسیحیت کا مخالف ہونے کی بجائے اس کے انتہائی سرگرم حامیوں میں سے ایک تھا۔ تاہم ماضی میں کس چیز نے ساؤل کو مسیحیوں کو اذیت دینے کی تحریک دی تھی؟ اُس نے کیوں سوچا کہ ایسے کام کرنا ’اُس پر فرض‘ تھا؟ پس کیا اس کی کہانی سے کوئی سبق حاصل کِیا جا سکتا ہے؟
ستفنس کا سنگسار کِیا جانا
بائبل ریکارڈ میں ساؤل کا پہلی مرتبہ ذکر ستفنس کو قتل کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ ”شہر سے باہر نکال کر اُس کو [ستفنس کو] سنگسار کرنے لگے اور گواہوں نے اپنے کپڑے ساؔؤل نام ایک جوان کے پاؤں کے پاس رکھ دئے۔“ ”ساؔؤل اُس کے قتل پر راضی تھا۔“ (اعمال ۷:۵۸؛ ۸:۱) کیا چیز اس تشدد کا باعث بنی؟ یہودی، بشمول کِلکیہ سے آئے ہوئے بعض یہودی ستفنس سے بحث کرنے لگے تاہم اُس کا مقابلہ نہ کر سکے۔ یہ بیان نہیں کِیا گیا کہ آیا ساؤل بھی جو کِلکیہ سے تھا، اُن میں شامل تھا یا نہیں۔ بہرحال اُنہوں نے ستفنس کے خلاف کفر کا الزام لگانے کے لئے جھوٹے گواہوں کو استعمال کِیا اور اُسے صدرعدالت کے سامنے لے گئے۔ (اعمال ۶:۹-۱۴) اس مجلس نے جس کی صدارت سردار کاہن کر رہا تھا یہودی صدرعدالت کا کام کِیا۔ حتمی مذہبی اختیار رکھنے کی بدولت اس کے ارکان عقائد کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک ستفنس موت کا سزاوار تھا۔ اُس نے اُن پر الزام لگایا کہ وہ شریعت کی پیروی نہیں کر رہے تھے، کیا ایسا نہیں تھا؟ (اعمال ۷:۵۳) اُنہوں نے اُس پر ثابت کر دیا کہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے!
ساؤل کا اس رائے سے متفق ہونا اُس کے اعتقادات کا منطقی نتیجہ تھا۔ وہ ایک فریسی تھا۔ یہ طاقتور گروہ شریعت اور روایات کی سختی سے پابندی کرنے کا تقاضا کرتا تھا۔ یسوع کے ذریعے نجات کی نئی راہ کی تعلیم دینے کی وجہ سے مسیحیت کو اُن اعتقادات کے متضاد خیال کِیا جاتا تھا۔ پہلی صدی کے یہودی مسیحا کے پُرجلال بادشاہ بننے کی توقع رکھتے تھے جو اُنہیں رومی تسلط کے قابلِنفرت جوئے سے آزاد کرائیگا۔ پس صدرعدالت کے سامنے لعنطعن کا نشانہ بننے والا اور اس کے بعد سولی پر لعنتی موت مرنے والا شخص مسیحا کیسے ہو سکتا تھا، یہ اُن کے نزدیک نہایت عجیب، ناقابلِقبول اور اُن کی سوچ کے بالکل برعکس تھا۔
شریعت نے بیان کِیا کہ سولی پر لٹکایا جانے والا شخص ”خدا کی طرف سے ملعون“ ہے۔ (استثنا ۲۱:۲۲، ۲۳؛ گلتیوں ۳:۱۳) فریڈرک ایف. بروس تبصرہ کرتا ہے کہ ساؤل کے نقطۂنظر سے ”ان الفاظ کا اطلاق واضح طور پر یسوع پر ہوتا تھا۔“ ”وہ خدا کی طرف سے لعنتی موت مرا تھا اور اسلئے وہ قابلِفہم طور پر مسیحا نہیں ہو سکتا تھا جس پر یہودی روایات کے مطابق منفرد انداز میں خدا کی برکت ہوگی۔ پس، یہ دعویٰ کرنا کہ یسوع مسیحا تھا کفر تھا؛ جو لوگ ایسا بےمعنی دعویٰ کرتے تھے وہ بھی کافروں کے طور پر سزا کے مستحق تھے۔“ بعدازاں جیسے کہ ساؤل نے خود تسلیم کِیا، یہودیوں کے نزدیک ”مسیح کے مصلوب“ ہونے کا خیال ہی ”ٹھوکر“ کا باعث تھا۔—۱-کرنتھیوں ۱:۲۳۔
ایسی تعلیم کیلئے ساؤل کا ردِعمل پُختہ ارادے کے ساتھ اس کی مخالفت کرنا تھا۔ اس تعلیم کو ختم کرنے کے لئے تشدد کا استعمال بھی جائز تھا۔ اسے یقین تھا کہ خدا یہی چاہتا ہے۔ اپنے دلی جذبے کی بابت ساؤل نے کہا: ”جوش کے اعتبار سے کلیسیا کا ستانے والا۔ شریعت کی راستبازی کے اعتبار سے بےعیب تھا۔“ ”مَیں خدا کی کلیسیا کو ازحد ستاتا اور تباہ کرتا تھا۔ اور میں یہودی طریق میں اپنی قوم کے اکثر ہمعمروں سے بڑھتا جاتا تھا اور اپنے بزرگوں کی روایتوں میں نہایت سرگرم تھا۔“—فلپیوں ۳:۶؛ گلتیوں ۱:۱۳، ۱۴۔
اذیت دینے والوں کا سرغنہ
ستفنس کی موت کے بعد، ساؤل محض اذیت پہنچانے میں صرف معاونت ہی نہیں کرتا بلکہ اس میں سب سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسلئے اُسے کچھ شہرت بھی حاصل ہو گئی ہو گی کیونکہ اُس کی تبدیلی کے بعد بھی ”سب اُس سے ڈرتے تھے کیونکہ اُنکو یقین نہ آتا تھا کہ یہ شاگرد ہے۔“ جب یہ واضح ہو گیا کہ وہ واقعی مسیحی ہے تو اُس کی تبدیلی شاگردوں کے لئے شکرگزاری اور خوشی کا باعث بنی، صرف اس وجہ سے نہیں کہ کسی سابقہ مخالف کا دل تبدیل ہو گیا ہے بلکہ یہ کہ ”جو ہم کو پہلے ستاتا تھا وہ اب اُسی دین کی خوشخبری دیتا ہے جسے پہلے تباہ کرتا تھا۔“—اعمال ۹:۲۶؛ گلتیوں ۱:۲۳، ۲۴۔
دمشق یروشلیم سے ۲۲۰ کلومیٹر—سات یا آٹھ دن کی پیدل مسافت—پر واقع ہے۔ پھربھی، ”شاگردوں کے دھمکانے اور قتل کرنے کی دھن“ میں ساؤل سردار کاہن کے پاس گیا تاکہ اُن سے دمشق میں عبادتخانوں کیلئے خط لے۔ کیوں؟ تاکہ اگر وہ کسی کو بھی ”اس طریق“ پر پائے تو اُسے باندھ کر یروشلیم میں لائے۔ سرکاری اختیار کے ساتھ، ’ساؤل [نے] گھرگھر گھس کر اور مردوں اور عورتوں کو گھسیٹ کر قید میں ڈالنے سے کلیسیا کو تباہ‘ کر دیا۔ دیگر کو اُس نے ’قیدخانہ میں پٹوایا‘ اور اُنکو سزا دینے کی بابت وہ ’یہی رائے دیتا‘ تھا۔—اعمال ۸:۳؛ ۹:۱، ۲، ۱۴؛ ۲۲:۵، ۱۹؛ ۲۶:۱۰۔
ساؤل کے گملیایل سے تعلیم حاصل کرنے اور اِس حقیقت کے پیشِنظر حاصل ہونے والے اختیار پر غور کرتے ہوئے، بعض علماء کا خیال ہے کہ اُس نے محض شریعت کا طالبعلم ہونے سے زیادہ ترقی کر لی تھی اور یہودیت میں کچھ اختیار رکھتا تھا۔ مثال کے طور پر، ایک مصنف کے مطابق ساؤل شاید یروشلیم میں ایک عبادتخانہ میں ایک مُعلم بن گیا ہو۔ تاہم، ہم اس بات کا تعیّن نہیں کر سکتے کہ ساؤل کے ’رائے دینے‘ کا کیا مطلب ہے آیا وہ عدالت کے ایک رکن کی حیثیت سے یا مسیحیوں کو سزا دینے کے کام کے حمایتی کے طور پر ایسا کرتا تھا۔a
شروع میں تمام مسیحی یہودی یا یہودی نومرید تھے پس ساؤل ظاہری طور پر یہ سمجھتا تھا کہ مسیحیت یہودیت میں برگشتگی کی تحریک ہے اور اُس کے خیال میں یہودیت کے راہنماؤں کو اپنے پیروکاروں کی اصلاح کرنی چاہئے۔ عالم آرلینڈ جے. ہلٹگرن کے مطابق ”یہ ضروری نہیں کہ ایذارساں پولس مسیحیت کا مخالف اس لئے ہوا ہو کہ اُس نے اسے یہودیت کے مقابل ایک مذہب کے طور پر دیکھا ہو۔ اُس نے اور دیگر لوگوں نے مسیحی تحریک کو یہودی اختیار کے تابع ہی سمجھا ہو گا۔“ اُس کا مقصد تمام دستیاب ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے یہودیوں کو توبہ کرنے اور واپس راسخالاعتقاد بننے پر مجبور کرنا تھا۔ (اعمال ۲۶:۱۱) ایک طریقہ جو اُس نے استعمال کِیا وہ قید میں ڈالنا تھا۔ دوسرا عبادتخانوں میں پٹوانا تھا، تربیت کرنے کا ایک عام طریقہ سزا کے طور پر پٹوانا تھا جو تین ججوں پر مشتمل کسی بھی عدالت میں ربیوں کے اختیار کے خلاف نافرمانی کے نتیجے میں دی جا سکتی تھی۔
دمشق کی راہ پر یسوع کا ساؤل پر ظاہر ہونا بِلاشُبہ اس تمام کے خاتمے پر منتج ہوا۔ مسیحیت کے ایک متشدّد دشمن کی بجائے، ساؤل اس کا سرگرم حامی بن گیا اور جلد ہی دمشق میں بہتیرے یہودی اُسکی موت کے خواہاں ہو گئے۔ (اعمال ۹:۱-۲۳) اس کے برعکس، ایک مسیحی کے طور پر ساؤل کو اُن بہت سی چیزوں کو برداشت کرنا تھا جو اُس نے خود ایذارساں کے طور پر کیں تھیں، تاکہ وہ بعد کے سالوں میں کہہ سکے: ”یہودیوں سے پانچ بار ایک کم چالیس چالیس کوڑے کھائے۔“—۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۴۔
جوش غلط سمت لے جا سکتا ہے
”میں پہلے کفر بکنے والا اور ستانے والا اور بےعزت کرنے والا تھا،“ ساؤل نے اپنی تبدیلی کے بعد لکھا جب وہ پولس کے طور پر مشہور ہوگیا تھا۔ ”تو بھی مجھ پر رحم ہوا اس واسطے کہ مَیں نے بےایمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کئے تھے۔“ (۱-تیمتھیس ۱:۱۳) پس، کسی کا اپنے مذہب میں خلوصدل اور سرگرم ہونا خدا کی پسندیدگی کی ضمانت نہیں ہے۔ ساؤل سرگرم تھا پس اُس نے ضمیر کے مطابق کام کِیا تاہم وہ درست نہیں تھا۔ اُس کا پُرجوش جذبہ غلط سمت لے جا رہا تھا۔ (مقابلہ کریں رومیوں ۱۰:۲، ۳۔) اسے ہمیں سوچنے کی تحریک دینی چاہئے۔
آجکل بہتیرے یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا اُن سے محض اچھے انسان ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔ تاہم کیا ایسا ہی ہے؟ سب پولس کی اس نصیحت پر توجہ دے کر اچھا کریں گے: ”سب باتوں کو آزماؤ جو اچھی ہو اُسے پکڑے رہو۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۲۱) اس کا مطلب ہے کہ خدا کے کلام کا صحیح علم حاصل کرنے کے لئے وقت نکالیں اور پھر پوری طرح سے اس کی مطابقت میں زندگی بسر کریں۔ اگر ہم بائبل کی تحقیق سے یہ جان لیتے ہیں کہ ہمیں تبدیلیاں کرنی ہیں تو ہمیں بلاتاخیر ایسا کرنا چاہئے۔ شاید ہم سے بعض ساؤل کی طرح کبھی کفر بکنے والے، ایذارساں یا مغرور تھے۔ تاہم، ایمان اور صحیح علم کی مطابقت میں عمل کرنے سے ہی ہم اُس کی طرح خدا کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔—یوحنا ۱۷:۳، ۱۷۔
[فٹنوٹ]
a تاہم ایمل شر کی کتاب دی ہسٹری آف دی جیوش پیپل ان دی ایج آف جیزز کرائسٹ (۱۷۵ بی۔سی۔-اے۔ڈی۔ ۱۳۵۔) کے مطابق، اگرچہ مِشنہ میں صدرعدالت یا ۷۱ لوگوں پر مشتمل عدالت کے قوائدوضوابط کے متعلق کوئی بیان نہیں تاہم ۲۳ ارکان کی ماتحت عدالتوں کے بارے میں جامع معلومات پائی جاتی ہیں۔ سزائے موت کے مقدمات جنہیں چھوٹی عدالتیں فیصل کِیا کرتی تھیں اُن میں شریعت کے طالبعلم حاضر ہو سکتے تھے، جہاں وہ صرف ملزم کی حمایت میں بول سکتے تھے۔ وہ مقدمات جن میں سزائے موت شامل نہیں تھی اُس میں وہ ملزم کے خلاف اور اُس کی حمایت میں بول سکتے تھے۔