کاسمیٹکس سے بہتر چیز
خوبصورتی میں اضافہ کرنے کیلئے خواتین جو ”ظاہری“ چیزیں استعمال کرتی تھیں اُنکا حوالہ دینے کے بعد پطرس رسول مشورہ دیتا ہے: ”تمہاری باطنی اور پوشیدہ انسانیت حلم اور مزاج کی غربت کی غیرفانی آرایش سے آراستہ رہے کیونکہ خدا کے نزدیک اِسکی بڑی قدر ہے۔“—۱-پطرس ۳:۳، ۴۔
دلچسپی کی بات ہے کہ جب رسول نے ایسے ظاہری بناؤسنگار کی بابت لکھا تو اُس نے یونانی لفظ کوسموس کی ایک قسم استعمال کی اور اُسی سے انگریزی لفظ ”کاسمیٹک“ بھی نکلا ہے جسکا مطلب ”حسن، خاص [طور پر] چہرے کی رنگت کو تازگی بخشتا ہے۔“ کیا پطرس بناؤسنگار اور اسی طرح کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے والی دیگر چیزوں کے استعمال کو مسیحی خواتین کیلئے ممنوع قرار دے رہا تھا؟ خدا کے کلام میں کوئی ایسی بات نہیں جو یہ خیال پیش کرے۔ اسکی بجائے، یہ اس معاملے میں ذاتی فیصلے کی اجازت دیتی ہے پس ذوق میں تنوع کی توقع کی جا سکتی ہے۔
تاہم، اگر بہت زیادہ بناؤسنگار کِیا گیا ہے یا یہ اس حد تک ہے کہ بہتیروں کو پریشان کر سکتا ہے تو کیا تاثر لیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ سنگدلی، بےحیائی، نمائشی اطوار، خودنمائی اور خودپرستی میں سے ایک نہیں ہے؟ درحقیقت یہ عورت کی وضعقطع کو عامیانہ رنگ دیکر اُسکے کردار کی بابت غلط تاثر دے سکتا ہے۔—مقابلہ کریں حزقیایل ۲۳:۳۶-۴۲۔
اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے ”خداپرستی کا اقرار کرنے“ والی عورت اگر کاسمیٹکس استعمال کرتی ہے تو وہ کوشش کریگی کہ اُسکا چہرہ متانت، نرمی، مہربانی اور حیاداری کا مظہر ہو۔ ایسی خوبیاں اُسکے وقار اور دلکشی میں اضافہ کریں گی۔ درحقیقت، خواہ وہ میکاپ استعمال کرنے کا انتخاب کرتی ہے یا نہیں، وہ وقار اور باطنی خوبصورتی کا مظہر ہوگی۔ یہ اُس کے علم کو آشکارا کریگا جیسےکہ متذکرہبالا پطرس کے الفاظ کا مطلب ہے کہ کاسمیٹکس سے کہیں بہتر چیز موجود ہے۔—۱-تیمتھیس ۲:۹، ۱۰۔