غارتگری کیوں؟
”مجھے کچھ نہیں کہنا۔“ یہ الفاظ ساؤ پولو کے خوشنما علاقے کی ایک حال ہی میں رنگ کی گئی دیوار پر جلی حروف میں لکھے گئے تھے۔ آپ شاید سوچیں، یہ تو ایک طرح کی غارتگری [تہذیبسوزی] ہے۔ چنانچہ دیواروں پر لکھنا تہذیبسوزی کی محض ایک قسم ہے۔
فرض کریں کہ غیرذمہدار تہذیبسوزوں نے آپ کی نئی گاڑی کو توڑپھوڑ دیا ہے۔ یا شاید آپ دیکھتے ہیں کہ ایک کارآمد عوامی اثاثے کو تہذیبسوز عناصر نے خراب یا تباہوبرباد کر دیا ہے؟ کیوں؟ جیہاں، کیوں؟ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ تہذیبسوز سرگرمیاں کیوں اتنا زیادہ زور پکڑتی جا رہی ہیں؟ بیشتر علاقوں میں، تہذیبسوز عناصر ٹیلیفون بوتھس کو خراب یا تباہبرباد کرکے بڑے خوش نظر آتے ہیں۔ ریلگاڑیاں اور بسیں اکثر اُن کا نشانہ بنتی ہیں۔ تہذیبسوز لوگ کسی بھی چیز کی پروا کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ تاہم تہذیبسوزی کے پیچھے کیا ہے جسے ہم دیکھتے ہیں یا جس سے ہمیں پریشانی ہوتی ہے؟
رائیو ڈی جنیرو کا ایک نوجوان، مارکو،a ایک فٹبال میچ میں اپنی ٹیم کی شکست سے بہت مایوس ہو گیا—وہ اتنا مایوس ہوا کہ اُس نے جیتنے والی ٹیم کے حمایتیوں سے بھری بس پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ یا کلاؤس پر غور کریں۔ سکول میں جب وہ اچھی کارکردگی نہ دکھا سکا تو وہ اِس قدر غصے میں آ گیا کہ اُس نے پتھر مارنے شروع کر دئے اور کھڑکیاں توڑ دیں۔ تاہم جب اُس کے والد کو جُرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا تو سارا ”نشہ ہرن ہوگیا۔“ ایک اَور نوجوان، ارون، سکول میں پڑھنے کیساتھ ساتھ ملازمت بھی کر رہا تھا۔ اُسے اور اُسکے ساتھیوں کو مہذب نوجوان خیال کِیا جاتا تھا۔ تاہم اُنکا مشغلہ گردونواح میں توڑپھوڑ کرنا تھا۔ ارون کے والدین اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ والٹر کے پاس ساؤ پولو کی گلیوں میں بسیرا کرنے کے علاوہ کوئی اَور راستہ نہیں تھا۔ اُسکے بہترین دوست غارتگروں کا ایک گروہ تھا اور وہ اُنکے کاموں میں شریک تھا اور اُس نے مارشل آرٹس بھی سیکھ لیا تھا۔ ایسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ غارتگری کے پیچھے لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور یہ کہ غارتگری کو ہوا دینے والے محرکات مختلف ہوتے ہیں۔
”تہذیبسوزی انتقام لینے یا سیاسی نظریے کے اظہار کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔ نوجوان اور بالغ لوگ بعضاوقات محض ’تفریح‘، کیلئے جرم کرتے ہیں“ دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا بیان کرتا ہے۔ تاہم، تہذیبسوزی، محض نوجوانوں کی تفریح کی بجائے، بڑی تباہکُن حتیٰکہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ نوجوانوں کا ایک گروہ ”کچھ تفریح چاہتا تھا“ اور جب اُنہوں نے ایک سوئے ہوئے شخص کو دیکھا تو اُس پر پٹرول چھڑک کر اُسے آگ لگا دی۔ انکا شکار ہونے والے، برازیلی انڈین نے بعد میں ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ”نوجوان اشخاص نے بیان کِیا کہ اُنکا خیال تھا کہ کسی کو اسکی پرواہ نہیں ہوگی کیونکہ سڑکوں پر کئی بھکاری جلا دئے گئے ہیں اور اسکے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔“ خواہ کوئی تہذیبسوزی کا نشانہ بنتا ہے یا نہیں توبھی اسکی معاشی اور جذباتی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ پس، کیا چیز غارتگری [تہذیبسوزی] کو روک یا ختم کر سکتی ہے؟
کون غارتگری کو روک سکتا ہے؟
کیا پولیس اور سکول تہذیبسوزی کو روک سکتے ہیں؟ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایسے جرائم ”جنکا کوئی شکار“ نہیں ہوتا حکام اُن کی بجائے منشیات یا قتل جیسے سنگین جرائم کے سلسلے میں مصروف رہتے ہیں۔ ایک پولیس افسر کے مطابق جب کوئی نوجوان مشکل میں گِھر جاتا ہے تو والدین اکثراوقات ”اُس کے ساتھیوں، سکول یا اُسے پکڑنے کیلئے پولیس کو ذمہدار ٹھہراتے ہیں۔“ تعلیم اور قانون کا نفاذ شاید غارتگری میں کمی واقع ہونے پر منتج ہو تاہم اُس وقت کیا ہو جب والدین کا رویہ نہیں بدلتا؟ نوعمروں کی اصلاح کرنے والا ایک اہلکار کہتا ہے: ”اسکی وجہ بیزاری اور موقع کی فراہمی ہے۔ [بچے] دیر تک باہر رہتے ہیں اور اُنکے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ نیز غالباً اُن کی نگرانی نہیں کی جاتی—ورنہ وہ باہر نہ رہیں۔“
اگرچہ بہتیرے علاقوں میں غارتگری ایک سنگین مسئلہ ہے تاہم غور کریں کہ معاملات کو کیسے تبدیل کِیا جا سکتا ہے۔ شروع میں متذکرہ غارتگری کرنے والے نوجوان تبدیل ہو گئے؛ اب وہ کسی بھی تہذیبسوز کام سے یکسر گریز کرتے ہیں۔ کیا چیز ان سابقہ مجرموں کے طرزِزندگی میں تبدیلی کا باعث بنی؟ علاوہازیں، کیا آپ اس بات سے حیران ہونگے کہ غارتگری کو نہ صرف کم بلکہ بالکل ختم کر دیا جاتا ہے۔ ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ اگلے مضمون کو پڑھیں۔
[فٹنوٹ]
a نام تبدیل کر دئے گئے ہیں۔