یہوواہ کی راہنمائی سے خوش ہوں
”خدا کی راہ کامل ہے۔ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا کلام تایا ہؤا ہے۔“—۲-سموئیل ۲۲:۳۱۔
تمام انسانوں کو راہنمائی کی بنیادی ضرورت ہے۔ درحقیقت، ہمیں زندگیبھر مدد کی حاجت رہتی ہے۔ سچ ہے کہ یہوواہ نے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے میں ہماری مدد کے لئے ہمیں کسی حد تک ذہانت اور ضمیر سے نوازا ہے۔ تاہم ہمارے ضمیر کو تربیت کی ضرورت ہے تاکہ یہ ہمارے لئے قابلِاعتماد رہبر ثابت ہو۔ (عبرانیوں ۵:۱۴) نیز اگر ہمیں اچھے فیصلے کرنا ہیں تو ہمارے ذہن کو درست معلومات—اور ان معلومات کی جانچ کرنے کے لئے تربیت—کی ضرورت ہے۔ (امثال ۲:۱-۵) پھربھی، زندگی کی بےثبات حالتوں کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ ہمارے فیصلوں کا حسبِمنشا نتیجہ نہ نکلے۔ (واعظ ۹:۱۱) خود ہمارے پاس تو مستقبل کی بابت جاننے کا کوئی معتبر ذریعہ نہیں ہے۔
۲ ایسی ہی بہت سی دیگر وجوہات کی بِنا پر، یرمیاہ نبی نے لکھا: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو]! مَیں جانتا ہوں کے انسان کی راہ اُسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) یسوع مسیح، عظیمترین انسان جو کبھی ہو گزرا، اُس نے بھی ہدایت قبول کی تھی۔ اُس نے فرمایا: ”بیٹا آپ سے کچھ نہیں کر سکتا سوا اسکے جو باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جن کاموں کو وہ کرتا ہے انہیں بیٹا بھی اسی طرح کرتا ہے۔“ (یوحنا ۵:۱۹) پس، یسوع کی نقل کرنا اور اپنے قدموں کی راہنمائی کیلئے یہوواہ کی مدد پر آس لگانا کتنی دانشمندی کی بات ہے! بادشاہ داؤد نے گیت گایا: ”خدا کی راہ کامل ہے۔ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا کلام تایا ہؤا ہے۔ وہ اُن سب کی سپر ہے جو اُس پر بھروسہ رکھتے ہیں۔“ (۲-سموئیل ۲۲:۳۱) اگر ہم اپنی حکمت کے مطابق چلنے کی بجائے یہوواہ کی راہ پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں کامل راہنمائی حاصل ہوگی۔ خدا کی راہ کو ترک کرنا تباہی پر منتج ہوتا ہے۔
یہوواہ راہ دکھاتا ہے
۳ آدم اور حوا کے معاملے پر غور کیجئے۔ بےگناہ ہونے کے باوجود، اُنہیں ہدایت کی ضرورت تھی۔ یہوواہ نے آدم کو خوبصورت باغِعدن میں تنہا نہیں چھوڑ دیا تھا کہ اپنے لئے سب کچھ خود ہی ترتیب دے۔ اس کی بجائے، خدا نے اُسے کام سونپا۔ سب سے پہلے، آدم نے جانوروں کے نام رکھنے تھے۔ پھر، یہوواہ نے آدم اور حوا کے سامنے طویلالمدت نصبالعین رکھے۔ اُنہیں اپنی اولاد سے زمین کو معمورومحکوم کرنا تھا اور زمینی جانوروں کی دیکھبھال کرنی تھی۔ (پیدایش ۱:۲۸) یہ بہت بڑا کام تھا مگر اس کے نتیجے میں پوری دُنیا نے ایک فردوس بن جانا تھا جس میں کامل انسانوں نے جانوروں کے ساتھ مکمل امنوامان سے آباد ہونا تھا۔ کیا ہی شاندار امکان! مزیدبرآں، جب تک آدم اور حوا یہوواہ کے ساتھ وفاداری سے چلتے رہیں گے اُن کا اُس کے ساتھ رابطہ ہوگا۔ (مقابلہ کریں پیدایش ۳:۸۔) کیا ہی حیرانکُن شرف—خالق کے ساتھ مسلسل، ذاتی رشتہ!
۴ یہوواہ نے پہلے انسانی جوڑے کو عدن میں موجود نیکوبد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے کو منع کِیا تھا اور اس سے اُنہیں فرمانبرداری—یہوواہ کی راہ پر چلنے کی اپنی خواہش—کا مظاہرہ کرنے کا فوری موقع ملا۔ (پیدایش ۲:۱۷) تاہم، جلد ہی اس فرمانبرداری کا امتحان ہوا۔ جب شیطان نے گمراہکُن باتیں کیں تو آدم اور حوا کو یہوواہ کیلئے وفاداری دکھانے اور فرمانبردار رہنے کی خواہش کیساتھ اُسکے وعدوں پر بھروسہ کرنے کی ضرورت تھی۔ افسوس کی بات ہے کہ اُن میں وفاداری اور بھروسے کی کمی تھی۔ جب شیطان نے حوا کو خودمختاری کی پیشکش کی اور یہوواہ پر جھوٹ بولنے کا غلط الزام لگایا تو وہ فریب میں آ گئی اور خدا کی نافرمانی کی۔ آدم بھی اُسکے گناہ میں شریک ہو گیا۔ (پیدایش ۳:۱-۶؛ ۱-تیمتھیس ۲:۱۴) اُنہیں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ یہوواہ کی راہ پر چلتے ہوئے بتدریج اُسکی مرضی بجا لانے سے اُنہوں نے روزبروز زیادہ خوشی کا تجربہ کِیا ہوتا۔ اسکی بجائے، اب موت تک اُنہیں مایوسی اور دُکھتکلیف کا ہی سامنا رہا۔—پیدایش ۳:۱۶-۱۹؛ ۵:۱-۵۔
۵ تاہم، یہوواہ نے اپنے اس مقصد کو نہ بدلا کہ ایک دن زمین کامل، بےگناہ انسانوں کیلئے ایک فردوسی گھر بنے گی۔ (زبور ۳۷:۱۱، ۲۹) نیز اُس نے ایسے لوگوں کو کامل راہنمائی فراہم کرنے میں بھی کبھی کوتاہی نہیں کی جو اُسکی راہ پر چلتے اور اس وعدے کی تکمیل کو دیکھنے کے متمنی ہیں۔ ہم میں سے جو لوگ شنوا ہوتے ہیں اُنہیں اپنے پیچھے سے یہوواہ کی یہ آواز سنائی دیتی ہے: ”راہ یہی ہے اس پر چل۔“—یسعیاہ ۳۰:۲۱۔
بعض یہوواہ کی راہ پر چلے
۶ بائبل ریکارڈ کے مطابق، آدم اور حوا کی اولاد میں سے تھوڑے ہی لوگ یہوواہ کی راہ پر چلے تھے۔ ہابل ان میں سے پہلا تھا۔ غیرطبعی موت مرنے کے باوجود اُسے یہوواہ کی خوشنودی حاصل تھی اسی لئے اُسے خدا کے مقررہ وقت پر ”راستبازوں . . . کی قیامت“ میں شریک ہونے کا یقینی امکان حاصل ہے۔ (اعمال ۲۴:۱۵) وہ زمین اور نوعِانسان کیلئے یہوواہ کے عظیم وعدے کی حتمی تکمیل کو دیکھے گا۔ (عبرانیوں ۱۱:۴) یہوواہ کی راہ پر چلنے والا ایک اَور شخص حنوک تھا، اس نظامالعمل کے خاتمے کی بابت جس کی پیشینگوئی کو یہوداہ کی کتاب میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ (یہوداہ ۱۴، ۱۵) حنوک بھی اپنی ممکنہ زندگی بسر نہ کر پایا۔ (پیدایش ۵:۲۱-۲۴) پھربھی ”اُس کے حق میں یہ گواہی دی گئی تھی کہ یہ خدا کو پسند آیا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۵) جب وہ اس صفحۂہستی سے غائب ہوا تو ہابل کی طرح وہ بھی قیامت کی یقینی اُمید رکھتا تھا لہٰذا وہ بھی یہوواہ کے وعدوں کی تکمیل دیکھنے والوں میں شامل ہوگا۔
۷ جیسے جیسے طوفان سے پہلے کی دُنیا بدکاری کی دلدل میں دھنستی گئی، یہوواہ کے لئے فرمانبرداری بھی اُسی قدر وفاداری کا ایک امتحان بنتی گئی۔ اُس دُنیا کے خاتمے پر صرف ایک چھوٹا سا گروہ یہوواہ کی راہ پر چلتا ہوا پایا گیا۔ نوح اور اُس کے خاندان نے یہوواہ کی سنی اور اُس پر بھروسہ رکھا۔ اُنہوں نے ایمانداری سے تفویضکردہ کاموں کو پورا کِیا اور اُس زمانے کی دُنیا کے بُرے کاموں میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔ (پیدایش ۶:۵-۷، ۱۳-۱۶؛ عبرانیوں ۱۱:۷؛ ۲-پطرس ۲:۵) ہم اُن کی وفادارانہ اور ذمہدارانہ فرمانبرداری کے لئے شکرگزار ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ طوفان سے بچ نکلے اور ہمارے آباؤاجداد بنے۔—پیدایش ۶:۲۲؛ ۱-پطرس ۳:۲۰۔
۸ وقت آنے پر یہوواہ نے ایماندار یعقوب کی اولاد کے ساتھ عہد باندھا اور وہ اُس کی خاص اُمت بنی۔ (خروج ۱۹:۵، ۶) یہوواہ نے ایک تحریری شریعت، کہانت اور مسلسل نبوّتی راہنمائی کے ذریعے عہد میں بندھے ہوئے اپنے لوگوں کو ہدایت فراہم کی۔ تاہم اس ہدایت پر چلنے کا انحصار اسرائیلیوں پر تھا۔ یہوواہ نے اپنے نبی کی معرفت اسرائیلیوں کو بتایا: ”دیکھو مَیں آج کے دن تمہارے آگے برکت اور لعنت دونوں رکھے دیتا ہوں۔ برکت اس حال میں جب تم خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کے حکموں کو جو مَیں آج تم کو دیتا ہوں مانو۔ اور لعنت اُس وقت جب تم خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کی فرمانبرداری نہ کرو اور اُس راہ کو جس کی بابت مَیں آج تم کو حکم دیتا ہوں چھوڑ کر اَور معبودوں کی پیروی کرو جن سے تم اب تک واقف نہیں۔“—استثنا ۱۱:۲۶-۲۸۔
بعض نے یہوواہ کی راہ کیوں چھوڑ دی
۹ آدم اور حوا کی طرح، اسرائیلیوں کو بھی فرمانبردار رہنے کیلئے یہوواہ پر بھروسہ کرنے اور اُسکا وفادار رہنے کی ضرورت تھی۔ اسرائیل ایک چھوٹی سی قوم تھی جس کے چوگرد کٹحُجتی لوگ آباد تھے۔ جنوبمغرب میں مصر اور ایتھیوپیا تھا۔ شمالمشرق میں ارام اور اسور تھا۔ نہایت قریبی علاقے فلستین، عمون، موآب اور ادوم کے تھے۔ اکثروبیشتر یہ سب اسرائیل کے دشمن ثابت ہوئے۔ مزیدبرآں، یہ سب جھوٹے مذہب پر چلتے تھے جس میں بُتوں کی پوجا، علمِنجوم اور بعض صورتوں میں غلیظ جنسی رسومات اور بچوں کی سفاکانہ قربانی کو خاص مقام حاصل تھا۔ اسرائیل کی پڑوسی اقوام بڑے خاندانوں، اچھی فصلوں اور جنگ میں فتح کیلئے اپنے دیوتاؤں پر بھروسہ رکھتی تھیں۔
۱۰ صرف اسرائیل ہی واحد خدا، یہوواہ کی پرستش کرتا تھا۔ اُس نے اُن سے وعدہ کِیا تھا کہ اگر وہ اُس کے قوانین کو مانیں گے تو وہ اُنہیں بڑے خاندانوں، زیادہ فصلوں اور دشمنوں سے تحفظ کی برکات سے نوازے گا۔ (استثنا ۲۸:۱-۱۴) افسوس کی بات ہے کہ بہتیرے اسرائیلی ایسا نہ کر سکے۔ یہوواہ کی راہ پر چلنے والوں میں سے بیشتر کو اپنی وفاداری کی وجہ سے مصیبت اُٹھانی پڑی۔ بعض کو اذیت دی گئی، اُن کا تمسخر اُڑایا گیا، کوڑے لگائے گئے، قید میں ڈالا گیا، سنگسار کِیا گیا اور یہانتککہ ساتھی اسرائیلیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ (اعمال ۷:۵۱، ۵۲؛ عبرانیوں ۱۱:۳۵-۳۸) ایمانداروں کیلئے یہ کتنی بڑی آزمائش ہوگی! تاہم، بہتیرے یہوواہ کی راہ سے کیوں پھر گئے؟ اسرائیل کی تاریخ سے دو مثالیں اُنکی غلط سوچ کا اندازہ لگانے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔
آخز کا بُرا نمونہ
۱۱ آخز آٹھویں صدی ق.س.ع. میں یہوداہ کی جنوبی سلطنت پر حکومت کرتا تھا۔ اُسکی حکومت پُرامن نہیں تھی۔ ایک موقع پر، ارام اور اسرائیل کی شمالی سلطنت نے ملکر اُس پر چڑھائی کر دی جس سے ”اُسکے دل نے اور اُسکے لوگوں کے دلوں نے . . . جنبش کھائی۔“ (یسعیاہ ۷:۱، ۲) تاہم، جب یہوواہ نے مدد کی پیشکش کی اور آخز کو اُسے آزمانے کی دعوت دی گئی تو آخز نے صاف انکار کر دیا! (یسعیاہ ۷:۱۰-۱۲) نتیجتاً، یہوداہ کو شکست ہوئی اور بہت سے لوگ ہلاک ہوئے۔—۲-تواریخ ۲۸:۱-۸۔
۱۲ آخز نے نہ صرف یہوواہ کو آزمانے سے انکار کر دیا بلکہ اُس نے سرکشی کرتے ہوئے شاہِاسور سے مدد بھی مانگی۔ اسکے باوجود، یہوداہ اپنی پڑوسی اقوام کے ہاتھوں نقصان اُٹھاتا رہا۔ جب اسور بھی آخز کے خلاف ہو گیا اور ”اُسکو تنگ کِیا“ تو بادشاہ نے ”دمشقؔ کے دیوتاؤں کے لئے جنہوں نے اُسے مارا تھا قربانیاں کیں اور کہا چونکہ اؔرام کے بادشاہوں کے معبودوں نے اُنکی مدد کی ہے سو مَیں اُنکے لئے قربانی کرونگا تاکہ وہ میری مدد کریں۔“—۲-تواریخ ۲۸:۲۰، ۲۳۔
۱۳ بعدازاں، یہوواہ نے اسرائیل سے کہا: ”مَیں ہی خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں اور تجھے اس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا ہوں۔ کاش کہ تو میرے احکام کا شنوا ہوتا اور تیری سلامتی نہر کی مانند اور تیری صداقت سمندر کی موجوں کی مانند ہوتی۔“ (یسعیاہ ۴۸:۱۷، ۱۸) ارام کے دیوتاؤں کی طرف رجوع کرنے سے آخز نے یہ ظاہر کِیا کہ وہ اُس ’راہ‘ سے بہت دور تھا ’جس پر اُسے چلنا چاہئے تھا۔‘ اُس نے غیرقوموں کی سوچ کو اپنانے سے بالکل گمراہ ہوکر سلامتی کیلئے یہوواہ کی بجائے اُنکے جھوٹے ذرائع پر آس لگائی۔
۱۴ ارام سمیت دیگر اقوام کے دیوتا طویل عرصے سے ”ناکارہ دیوتا“ ثابت ہو چکے تھے۔ (یسعیاہ ۲:۸) اس سے پہلے، بادشاہ داؤد کے دورِحکومت میں، جب ارامی داؤد کے خادم بنے تو ارام کے دیوتاؤں پر یہوواہ کی فضیلت کا واضح ثبوت سامنے آیا تھا۔ (۱-تواریخ ۱۸:۵، ۶) ”الہٰوں کا الہٰ خداوندوں کا خداوند . . . بزرگوار اور مہیب،“ یہوواہ ہی حقیقی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ (استثنا ۱۰:۱۷) تاہم، آخز نے یہوواہ سے مُنہ پھیر کر تحفظ کیلئے غیرقوموں کے دیوتاؤں پر آس لگائی۔ یہوداہ کیلئے اسکا نتیجہ تباہکُن رہا۔—۲-تواریخ ۲۸:۲۴، ۲۵۔
مصر میں یرمیاہ کیساتھ یہودی
۱۵ اپنے لوگوں کی انتہائی بیوفائی کی وجہ سے، یہوواہ نے ۶۰۷ ق.س.ع. میں بابلیوں کو یروشلیم اور اس کی ہیکل تباہ کرنے کی اجازت دے دی۔ قوم کا بیشتر حصہ بابلی اسیری میں چلا گیا۔ تاہم، بعض پیچھے رہ گئے جن میں یرمیاہ نبی بھی شامل تھا۔ جب حاکم جدلیاہ کو قتل کر دیا گیا تو یہ گروہ مصر کو فرار ہو گیا اور یرمیاہ کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ (۲-سلاطین ۲۵:۲۲-۲۶؛ یرمیاہ ۴۳:۵-۷) وہاں، وہ جھوٹے معبودوں کے آگے قربانیاں گذراننے لگے۔ یرمیاہ نے بیوفا یہودیوں کیساتھ بہت جرح کی مگر وہ نہایت سرکش تھے۔ اُنہوں نے یہوواہ کی طرف لوٹنے سے انکار کرکے اس بات پر اصرار کِیا کہ وہ ”آسمان کی ملکہ“ کے لئے بخور جلاتے رہینگے۔ کیوں؟ اس لئےکہ وہ اور اُن کے باپدادا ’یہوداہ کے شہروں اور یروشلیم کے بازاروں میں یہی کِیا کرتے تھے کیونکہ اُس وقت وہ خوب کھاتے پیتے اور خوشحال اور مصیبتوں سے محفوظ تھے۔‘ (یرمیاہ ۴۴:۱۶، ۱۷) یہودیوں نے یہ حجت بھی کی: ”جب سے ہم نے آسمان کی ملکہ کے لئے بخور جلانا اور تپاون تپانا چھوڑ دیا تب سے ہم ہر چیز کے محتاج ہیں اور تلوار اور کال سے فنا ہو رہے ہیں۔“—یرمیاہ ۴۴:۱۸۔
۱۶ واقعی ہمیں صرف وہی باتیں یاد رہتی ہیں جو ہماری خواہشات اور خیالات کے مطابق ہوتی ہیں! حقائق کیا تھے؟ یہودیوں نے جھوٹے دیوتاؤں کے آگے یقیناً اُسی ملک میں قربانیاں گذرانی ہونگی جو یہوواہ نے اُنہیں دیا تھا۔ بعضاوقات، آخز کے دَور کی طرح، اُنہیں ایسی برگشتگی کی وجہ سے تکلیف اُٹھانی پڑی۔ تاہم، یہوواہ عہد میں بندھی ہوئی قوم کے سلسلے میں ”قہر کرنے میں دھیما“ رہا۔ (خروج ۳۴:۶؛ زبور ۸۶:۱۵) اُس نے اُنہیں توبہ کی تاکید کرنے کیلئے اپنے نبی بھیجے۔ بعض مرتبہ، جب بادشاہ وفادار ثابت ہوتا تو یہوواہ اُسے برکت دیتا اور لوگ بھی اُس برکت سے مستفید ہوتے اگرچہ اُن کی اکثریت بیوفا ہوتی تھی۔ (۲-تواریخ ۲۰:۲۹-۳۳؛ ۲۷:۱-۶) مصر میں اُن یہودیوں کا دعویٰ کتنا غلط تھا کہ اپنے آبائی ملک میں اُنہوں نے جس خوشحالی کا تجربہ کِیا تھا وہ اُنکے جھوٹے دیوتاؤں کی بدولت تھی!
۱۷ یہوواہ ۶۰۷ ق.س.ع. سے قبل یہوداہ کے لوگوں کو تاکید کر چکا تھا: ”میری آواز کے شنوا ہو اور مَیں تمہارا خدا ہونگا اور تم میرے لوگ ہو گے اور جس راہ کی مَیں تم کو ہدایت کروں اُس پر چلو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔“ (یرمیاہ ۷:۲۳) یہودی اپنی ہیکل اور اپنے ملک کو محض اس وجہ سے کھو بیٹھے کہ اُنہوں نے ’اُس راہ‘ پر چلنے سے انکار کر دیا تھا ’جس کی یہوواہ نے اُنہیں ہدایت کی تھی۔‘ ہمیں ایسی جانلیوا غلطی سے گریز کرنا چاہئے۔
یہوواہ اپنی راہ پر چلنے والوں کو برکت دیتا ہے
۱۸ ماضی کی طرح، آج بھی یہوواہ کی راہ پر چلنا وفاداری—صرف اُسی کی خدمت کرنے کے عزم—کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ بھروسے—یہوواہ کے وعدوں پر مکمل ایمان کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ قابلِاعتماد ہیں اور ضرور پورے ہونگے۔ یہوواہ کی راہ پر چلنا فرمانبرداری—بِلاانحراف اُسکے قوانین پر عمل اور اُسکے اعلیٰ معیاروں کی پابندی کرنے—کا تقاضا کرتا ہے۔ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] صادق ہے۔ وہ صداقت کو پسند کرتا ہے۔“—زبور ۱۱:۷۔
۱۹ آخز نے تحفظ کے لئے ارامی دیوتاؤں پر آس لگائی تھی۔ مصر میں اسرائیلیوں نے اُمید کی کہ ”آسمان کی ملکہ،“ ایک دیوی جسکی قدیم مشرقِوسطیٰ میں بڑی پرستش کی جاتی تھی، اُنہیں مادی خوشحالی عطا کرے گی۔ آجکل، بہتیرے معبود حقیقی بُت تو نہیں ہیں۔ یسوع نے یہوواہ کی بجائے ”دولت“ کی خدمت کرنے کے خلاف آگاہ کِیا۔ (متی ۶:۲۴) پولس رسول نے ”لالچ“ کا ذکر کِیا ”جو بُتپرستی کے برابر ہے۔“ (کلسیوں ۳:۵) اُس نے ایسے لوگوں کا بھی ذکر کِیا جنکا ”خدا پیٹ ہے۔“ (فلپیوں ۳:۱۹) جیہاں، آجکل پیسہ اور مادی چیزیں ہی خاص خدا بنے ہوئے ہیں جنکی زیادہتر پرستش کی جاتی ہے۔ درحقیقت، بہتیرے—جن میں مذہبی تنظیموں سے وابستہ لوگ بھی شامل ہیں—’ناپائدار دولت پر اُمید رکھتے ہیں۔‘ (۱-تیمتھیس ۶:۱۷) بہتیرے ان خداؤں کی خدمت میں بہت محنت کرتے ہیں اور بعض اجر بھی پاتے ہیں—نفیس گھروں میں رہتے ہیں، گرانقدر چیزوں سے محظوظ ہوتے ہیں اور پُرتکلف کھانے کھاتے ہیں۔ تاہم، سب ایسی امارت سے استفادہ نہیں کرتے۔ علاوہازیں جنہیں ایسی چیزیں میسر ہیں وہ انہیں بالآخر غیراطمینانبخش پاتے ہیں۔ وہ غیریقینی، عارضی ہوتی ہیں اور روحانی ضروریات کو پورا نہیں کرتیں۔—متی ۵:۳۔
۲۰ سچ ہے کہ اس نظامالعمل کے آخری ایّام میں رہتے ہوئے ہمیں عملی بننے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے خاندانوں کی مادی ضروریات پوری کرنے کیلئے معقول اقدام اُٹھانے چاہئیں۔ لیکن اگر ہم اعلیٰ معیارِزندگی، پیسے کے حصول یا ایسی چیزوں کو خدا کی خدمت کی نسبت زیادہ اہمیت دیتے ہیں تو ہم ایک طرح کی بُتپرستی میں پڑ چکے ہیں اور یہوواہ کی راہ پر نہیں چل رہے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۶:۹، ۱۰) تاہم، جب ہمیں صحت کے، پیسے کے یا دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو پھر کیا ہو؟ ہمیں مصر میں اُن یہودیوں کی طرح نہیں ہونا چاہئے جنہوں نے خدا کی خدمت کو اپنے مسائل کا عذر بنایا۔ اس کے برعکس، ہمیں یہوواہ کو آزمانا چاہئے جس میں آخز ناکام ہو گیا تھا۔ راہنمائی کے لئے وفاداری سے یہوواہ کی طرف رجوع کریں۔ بھروسے کے ساتھ اُس کی راہنمائی پر چلیں اور کسی بھی صورتحال سے نپٹنے کے لئے قوت اور حکمت کے واسطے دُعا کریں۔ پھر، اعتماد کیساتھ یہوواہ کی برکت کا انتظار کریں۔
۲۱ اسرائیل کی پوری تاریخ میں، یہوواہ نے اپنی راہ پر چلنے والوں کو بکثرت برکت دی۔ بادشاہ داؤد نے گیت گایا: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو]! میرے دشمنوں کے سبب سے مجھے اپنی صداقت میں چلا۔“ (زبور ۵:۸) یہوواہ نے اُسے اُنہی ہمسایہ قوموں پر جنگی فتوحات بخشی تھیں جنہوں نے بعدازاں آخز پر اپنی دھاک بیٹھا لی تھی۔ سلیمان کے عہدِحکومت میں، اسرائیل کو ایسے امن اور خوشحالی سے نوازا گیا جس کی بعدازاں مصر میں یہودیوں کو بڑی آرزو تھی۔ آخز کے بیٹے حزقیاہ کو تو یہوواہ نے طاقتور ارام پر بھی فتح بخشی تھی۔ (یسعیاہ ۵۹:۱) جیہاں، ایسے وفادار لوگوں کے لئے یہوواہ کا ہاتھ کبھی چھوٹا نہیں تھا جو ”خطاکاروں کی راہ“ میں کھڑے نہ ہوئے بلکہ خدا کی شریعت میں اُن کی خوشنودی تھی۔ (زبور ۱:۱، ۲) آجکل بھی یہی بات سچ ہے۔ تاہم، آجکل ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ کی راہ پر چل رہے ہیں؟ اس پر اگلے مضمون میں بحث کی جائے گی۔
کیا آپکو یاد ہے؟
◻یہوواہ کی راہ پر چلنے کیلئے ہمارے واسطے کونسی صفات ضروری ہیں؟
◻آخز کی سوچ غلط کیوں تھی؟
◻مصر میں یہودیوں کی سوچ میں کیا خرابی تھی؟
◻ہم یہوواہ کی راہ پر چلنے کے اپنے عزم کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟
[مطالعے کے سوالات]
۱، ۲. (ا) تمام انسانوں کی بنیادی ضرورت کیا ہے؟ (ب) ہمارے لئے کس کے نمونے کی نقل کرنا اچھا ہوگا؟
۳. یہوواہ نے آدم اور حوا کی راہنمائی کیسے کی اور اُنہیں کونسے امکانات پیش کئے؟
۴. آدم اور حوا نے بھروسے اور وفاداری کی کمی کا مظاہرہ کیسے کِیا اور اس کے تباہکُن نتائج کیا تھے؟
۵. یہوواہ کا طویلالمیعاد مقصد کیا ہے اور وہ اسکی تکمیل کیلئے ایماندار لوگوں کی مدد کیسے کرتا ہے؟
۶. قدیم زمانہ کے کونسے دو اشخاص یہوواہ کی راہ پر چلے اور اُسکے نتائج کیا تھے؟
۷. نوح اور اُسکے خاندان نے یہوواہ کیلئے وفاداری اور اُس پر بھروسے کا اظہار کیسے کِیا؟
۸. اسرائیل قوم کیلئے خدا کی راہ پر چلنے میں کیا کچھ شامل تھا؟
۹، ۱۰. کس صورتحال کی وجہ سے اسرائیلیوں کو یہوواہ پر بھروسہ رکھنے اور اُس کیلئے وفاداری کو فروغ دینے کی ضرورت تھی؟
۱۱، ۱۲. (ا) ارام کی طرف سے خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں آخز نے کیا کرنے سے انکار کر دیا تھا؟ (ب) آخز نے تحفظ کیلئے کن دو ذرائع پر آس لگائی؟
۱۳. ارامی دیوتاؤں کی طرف رجوع کرنے سے آخز نے کیا ثابت کِیا؟
۱۴. جب آخز نے جھوٹے دیوتاؤں کی طرف رجوع کِیا تو اُس کے پاس اس کا عذر کیوں نہیں تھا؟
۱۵. یرمیاہ کے زمانے میں مصر میں یہودیوں نے کس طرح گناہ کِیا؟
۱۶. مصر میں یہودیوں کی سوچ سراسر غلط کیوں تھی؟
۱۷. یہوداہ اپنا ملک اور ہیکل کیوں کھو بیٹھا؟
۱۸. یہوواہ کی راہ پر چلنے والوں کو کیا کرنا چاہئے؟
۱۹. آجکل بہت سے لوگ کن خداؤں کی پرستش کرتے ہیں اور اس کے کیا نتائج ہوتے ہیں؟
۲۰. ہمیں کونسا توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟
۲۱. یہوواہ کی راہ پر چلنے والوں کو کونسی برکات حاصل ہوتی ہیں؟
[صفحہ 13 پر تصویر]
آخز نے یہوواہ کی بجائے ارامی دیوتاؤں پر آس لگائی