ایک تاریخی دَورہ جو ایک جزیرے کو خوشی بخشتا ہے
کریبیئن کے ایک خوبصورت جزیرے کیوبا نے حال ہی میں روحانی تازگی کے ایک بےمثال موسم کا تجربہ کِیا۔ اس ویسٹ انڈین ملک میں بسنے والے یہوواہ کے گواہوں کیلئے ۱۹۹۸ کا سال اُس برکت کے ساتھ اختتامپذیر ہوا جس کا وہ کافی عرصے سے انتظار کر رہے تھے۔ یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے اراکین نے دیگر ۱۵ مندوبین کے ساتھ گزشتہ ۳۰ سالوں کے دوران پہلی مرتبہ یہاں کا دَورہ کِیا۔ مندوبین کا تعلق آسٹریلیا، آسٹریا، بیلجیئم، برطانیہ کلاں، اٹلی، نیوزی لینڈ اور پورٹوریکو سے تھا۔
یہوہاں کے ۸۲،۲۵۸ بادشاہتی پبلشروں اور اُن ۸۷،۸۹۰ لوگوں کے لئے ایک تاریخی موقع تھا جو ۱۹۹۸ کے موسمِبہار میں خداوند کے عشایے کی تقریب پر حاضر ہوئے تھے!
دسمبر ۱ تا ۷، ۱۹۹۸ میں لائیڈ بیری، جان بار اور گیرٹ لوش نے ہوانا میں بیتایل ہوم کا دورہ کِیا اور کیوبا میں منعقد ہونے والے ”زندگی کی خدائی راہ“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں میں شرکت کی۔ وہ سفری نگہبانوں سے ملکر اور کیوبا کے سرکاری افسران سے بہتر طور پر شناسائی پیدا کرنے سے خوش تھے۔
”یہ میرے اور میری اہلیہ کیلئے زندگی کی اہم تھیوکریٹک کارگزاری تھی،“ جان بار نے بیان کِیا۔ ”کیوبا میں ہمارے بہن بھائی سچائی کیلئے جوش سے کسقدر بھرے ہوئے ہیں! مَیں اس احساس کیساتھ لوٹا کہ ہماری عالمگیر برادری واقعی بیشقیمت ہے!“ لائیڈ بیری نے اضافہ کِیا، ”اس یادگار ہفتے نے مجھے وہاں کے بھائیوں کے حالات کی بہتر سمجھ حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔“
گزشتہ پانچ سالوں کے دوران یہوواہ کے گواہوں کو کیوبا میں وسیع مذہبی آزادی حاصل ہوئی ہے اور کیوبا کے حکام نے جن خیالات کا اظہار کِیا اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس رجحان کو جاری رکھنے کے خواہشمند ہیں۔
ستمبر ۱۹۹۴ میں ہوانا میں بیتایل ہوم میں چھپائی کا کام شروع کِیا گیا۔ ایک مرتبہ پھر یہوواہ کے گواہ آزادی کیساتھ اجلاس منعقد کرنے اور گھربہگھر کی منادی کرنے کے قابل تھے۔ بعدازاں ۱۹۹۸ میں حکام نے گورننگ باڈی کے تین اراکین سمیت ۱۸ گواہوں پر مشتمل بینالاقوامی وفد کو دورے کی اجازت دے دی۔
خوشگوار ملاپ
جب مندوبین ہوانا میں جوزی مارٹی ہوائی اڈے پر پہنچے تو سرکاری افسران کے ایک وفد اور بیتایل ہوم سے ایک گروپ نے اُنکا پُرتپاک استقبال کِیا جس میں ایک ایسا بھائی بھی شامل تھا جسے ۱۹۶۱ میں گورننگ باڈی کے رکن—ملٹن ہینشل—کا کیوبا کا آخری دورہ یاد تھا۔ اُس وقت وہ بھائی ۱۲ سال کا تھا؛ مگر اب وہ سفری نگہبان ہے۔
مندوبین جب چھوٹے سے بیتایل ہوم پہنچے تو اُنہیں سوسن، گلاب، چنبیلی، اور پیلے اور سرخ رنگ کے گلداودی کے گلدستے پیش کئے گئے جنہیں ایک بھائی نے خاص طور پر اسی موقع کیلئے اگایا تھا۔ جب بیتایل خاندان نے مندوبین کو خوشآمدید کہا تو خوشی سے اُنکے آنسو جاری تھے۔ بعدازاں اُنہوں نے کیوبا کے روسٹیڈ پورک، چاول اور لوبیا، سلاد، موکے (لہسن اور زیتون کی چٹنی) کے ساتھ یوکا اور تازہ پھلوں پر مشتمل کھانا تناول فرمایا۔ کھانے کے بعد گورننگ باڈی کے ہر رکن نے بیتایل خدمت کی قدروقیمت پر ایک تقویتبخش تقریر پیش کی۔ بھائی لوش کے تاثرات بالخصوص دل کو گرما دینے والے تھے کیونکہ اُنہوں نے ہسپانوی زبان میں بھائیوں سے خطاب کِیا۔ بیتایل خاندان ۴۸ مستقل رضاکاروں اور ۱۸ عارضی کارکنوں پر مشتمل ہے۔
اگرچہ کیوبا کے بھائیوں کیلئے کتابیں اور بائبلیں اٹلی میں چھاپی جاتی ہیں، تاہم واچٹاور اور اویک! کے دو رنگوں (بلیک اینڈ وائٹ) والے شمارے دو میموگراف مشینوں کے ذریعے ملک کے اندر ہی چھاپے جاتے ہیں۔ رسالوں کی مطلوبہ تعداد فراہم کرنے کیلئے تنگ جگہوں پر کئی گھنٹوں تک ایک ہی طرح کا کام کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ رضاکار ایک خاص طریقے سے یہوواہ کیلئے اس بیشقیمت خدمت کی قدر کرتے ہیں۔—۲-کرنتھیوں ۴:۷، ۸۔
کنونشن کے نمایاں پہلو
۱۸ ارکان پر مشتمل وفد کو تین گروپوں میں تقسیم کِیا گیا تاکہ وہ تین مختلف مقامات—ہوانا، کاماگوئے اور ہولگون—پر کنونشنوں میں شرکت کر سکیں۔ تین دنوں تک روزانہ پائنیروں اور بزرگوں سمیت کئی بہن بھائیوں پر مشتمل ایک گروپ کو ہر مقام پر حاضر ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ مقامی گواہوں کو بتایا گیا تھا کہ یہ خاص موقع ہوگا تاہم انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ گورننگ باڈی کے اراکین حاضرین میں شامل ہوں گے۔ اُن کی حیرت کا تصور کریں جب انہوں نے ان عزیز بھائیوں اور انکی بیویوں کو جمعہ کی صبح کرائے کی بسوں سے اترتے دیکھا ہو گا!
کنونشن کُھلی فضا والی سہولیات میں منعقد کئے گئے جو بھائیوں نے حکام کی اجازت سے تعمیر کی تھیں۔ ہوانا میں کنونشن کے مقام پر، ایک پتھر پر یہ حوالہ درج تھا ”زبور ۱۳۳:۱۔“ اس نے بھائیوں کو اس آیت کے الفاظ یاد دلائے: ”دیکھو کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم مل کر رہیں“۔ (زبور ۱۳۳:۱) کنونشن کے دوران یقیناً وہاں اچھی اور خوشگوار مسیحی رفاقت تھی۔
مندوبین نے تقاریر اور انٹرویوز کی عمدہ پیشکشوں کو سراہا اور قدیم بابل کی عکاسی کرنے والے ڈرامے کی پیشکش سے بہت متاثر ہوئے جو بائبل سے دانیایل تین باب کی کہانی پر مبنی تھا۔ ایک بہن نے تبصرہ کِیا: ”تمام اداکاروں کی کارکردگی بہت شاندار تھی اور آواز اسقدر ہمآہنگ تھی کہ آپ پہچان نہیں سکتے تھے کہ اسے پہلے سے ٹیپ کِیا گیا تھا۔ . . . شریر بابلی واقعی شریر نظر آ رہے تھے اور تین عبرانی مضبوط اور پُرعزم تھے۔“
کنونشن پر آنے والے مذہبی امور کے نمائندوں اور دیگر حکام نے بھائیوں کے نظمونسق اور عمدہ چالچلن کی تعریف کی۔ بھائی بیری نے اُس عمدہ سلوک کے لئے دلی تشکر کا اظہار کِیا جو کیوبا کے حکام نے آنے والے مندوبین کے لئے دکھایا تھا۔ دیر تک جاری رہنے والی پُرجوش تالیوں کے ذریعے بھائیوں نے تقاریر کے لئے اور کنونشن کی اجازت دینے کے لئے حکام کے لئے بھی قدردانی کا اظہار کِیا۔ ایک مسیحی خاندان نے بیان کِیا: ”یہ ہماری توقع سے بڑھ کر ہے—چھوٹے پیمانے پر ایک بینالاقوامی کنونشن! یہ واقعی شاندار رہا ہے کیونکہ اس نے اپنے وعدوں کو سچا ثابت کرنے کی یہوواہ کی عظیم قوت کا ثبوت پیش کِیا ہے۔“
کنونشنوں نے دوسروں کو گواہوں سے بہتر طور پر واقف ہونے کا موقع بھی فراہم کِیا۔ ایک بس ڈرائیور ہفتے اور اتوار کو کنونشن پر آیا۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے یہوواہ کے گواہوں کی بابت بہت کچھ سن رکھا تھا تاہم اب وہ جان گیا ہے کہ گواہ اچھے اور پُرامن لوگ ہیں۔
”جو باتیں ہم کبھی نہیں بھولیں گے“
کیوبا کے لوگوں نے اپنی گرمجوشی اور دوستانہ اطوار سے مندوبین کو بہت متاثر کِیا۔ کیوبا کے لوگ جفاکش، بااُصول اور مہربان ہیں۔ ایک مندوب نے بیان کِیا، ”ہمیں کئی بار بالکل اجنبی لوگوں نے مدد کی پیشکش کی۔“
مندوبین کیوبا میں ساتھی ایمانداروں کی محبت، خوشی اور ایمان سے بےحد متاثر ہوئے۔ انتہائی مشکلات کے باوجود اُنہوں نے یہوواہ کو اپنا قلعہ بنایا ہے۔ (زبور ۹۱:۲ اینڈبلیو) جان بار نے بیان کِیا، ”پس کیوبا کے میرے اس پہلے دورے کے دوران مجھے بہت سی باتوں—ملک کی خوبصورتی، لوگوں کی خوشمزاجی اور سب سے بڑھکر کیوبا کے گواہوں کی نمایاں زندہدلی—نے حیرت میں مبتلا کر دیا۔ مَیں نے اپنی زندگی میں بادشاہتی گیتوں کا اسقدر دلی جذبات کیساتھ گایا جانا کبھی نہیں سنا تھا اور جب روحانی باتیں اُنکے دلوں کو چھو لیتی تھیں تو اتنی دیر تک تالیاں بجانا بھی اثرآفریں تھا! یہ وہ باتیں ہیں جو ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ یہ ہمیں ہمیشہ عزیز رہیں گی۔“
زبور ۹۷:۱ بیان کرتی ہے: ”بےشمار جزیرے خوشی منائیں۔“ واقعی کیوبا کے جزیرے میں یہوواہ کے گواہ خدا کی پرستش کرنے کے لئے اضافی آزادی ملنے اور اس بینالاقوامی وفد کے تاریخی دورے سے نہایت خوش ہیں۔
[صفحہ 8 پر تصویریں]
بہتیرے خاندان کیوبا میں ”زندگی کی خدائی راہ“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر حاضر ہوئے
[صفحہ 8 پر تصویریں]
ہوانا کا بیتایل ہوم ۱۹۹۴ میں دوبارہ کھولا گیا
[صفحہ 8 پر تصویر]
گورننگ باڈی کے اراکین نے سرکاری افسران کیلئے بائبلوں پر دستخط کئے