یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏5 ص.‏ 15-‏20
  • یہوواہ کی راہ پر چلتے رہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ کی راہ پر چلتے رہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بھروسے اور وفاداری کی ضرورت
  • خدا کی راہ پر چلنے کیلئے مدد
  • قرارداد
  • ‏”‏خدا ہماری طرف ہے“‏
  • کیا آپ خدا کیساتھ ساتھ چلیں گے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • خدا کیساتھ ساتھ چلنا—‏ابتدائی اقدام
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • آنکھوں دیکھے پر چلنے کی بجائے ایمان پر چلیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • خدا کیساتھ ساتھ چلتے رہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏5 ص.‏ 15-‏20

یہوواہ کی راہ پر چلتے رہیں

‏”‏خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی آس رکھ اور اُسی کی راہ پر چلتا رہ اور وہ تجھے سرفراز کرکے زمین کا وارث بنائیگا۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۳۴‏۔‏

۱، ۲.‏ داؤد بادشاہ کیلئے یہوواہ کی راہ پر چلنے میں کیا کچھ شامل تھا اور آجکل اس پر چلنا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏

‏”‏مجھے وہ راہ بتا جس پر مَیں چلوں کیونکہ مَیں اپنا دل تیری ہی طرف لگاتا ہوں۔“‏ (‏زبور ۱۴۳:‏۸‏)‏ آجکل مسیحی پورے دل‌وجان سے داؤد بادشاہ کے ان الفاظ کو دہراتے ہیں۔ وہ خلوصدلی سے یہوواہ کو خوش کرنا اور اُسکی راہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ اس میں کیا کچھ شامل ہے؟ داؤد کے نزدیک اس میں خدا کی شریعت کی پابندی کرنا شامل تھا۔ اس میں دیگر قوموں کیساتھ الحاق کرنے کی بجائے یہوواہ پر توکل کرنا شامل تھا۔ مزیدبرآں، اسکا مطلب پڑوسی اقوام کے دیوتاؤں کی بجائے وفاداری کیساتھ یہوواہ کی خدمت کرنا تھا۔ مسیحیوں کیلئے یہوواہ کی راہ پر چلنے میں اس سے بھی زیادہ کچھ شامل ہے۔‏

۲ ایک بات تو یہ ہے کہ آجکل یہوواہ کی راہ پر چلنے کا مطلب یسوع مسیح کی فدیے کی قربانی پر ایمان ظاہر کرنا اور اُسے ”‏راہ اور حق اور زندگی“‏ کے طور پر قبول کرنا ہے۔ (‏یوحنا ۳:‏۱۶؛‏ ۱۴:‏۶؛‏ عبرانیوں ۵:‏۹‏)‏ اسکا مطلب ”‏مسیح کی شریعت کو پورا“‏ کرنا بھی ہے جس میں ایک دوسرے کے لئے اور خاص طور پر یسوع کے ممسوح بھائیوں کے لئے محبت دکھانا شامل ہے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۲؛‏ متی ۲۵:‏۳۴-‏۴۰‏)‏ یہوواہ کی راہ پر چلنے والے اُس کے اصولوں اور احکام سے محبت رکھتے ہیں۔ (‏زبور ۱۱۹:‏۹۷؛‏ امثال ۴:‏۵، ۶‏)‏ وہ مسیحی خدمتگزاری میں شمولیت کے انمول شرف کو عزیز رکھتے ہیں۔ (‏کلسیوں ۴:‏۱۷؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۴:‏۵‏)‏ دُعا اُنکی زندگی کا باضابطہ حصہ ہے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۲‏)‏ نیز وہ ’‏اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ نادانوں کی طرح نہیں بلکہ داناؤں کی مانند چلیں۔‘‏ (‏افسیوں ۵:‏۱۵‏)‏ یقیناً وہ عارضی مادی فوائد یا ناجائز نفسانی لذتوں کے لئے روحانی دولت کو قربان نہیں کرتے۔ (‏متی ۶:‏۱۹، ۲۰؛‏ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷‏)‏ علاوہ‌ازیں، یہوواہ کے لئے وفاداری اور اُس پر بھروسہ ضروری ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۹؛‏ ۱۰:‏۵؛‏ افسیوں ۴:‏۲۴‏)‏ کیوں؟ اس لئے‌کہ ہماری حالت بالکل قدیم اسرائیل جیسی ہے۔‏

بھروسے اور وفاداری کی ضرورت

۳.‏ وفاداری، ایمان اور بھروسہ یہوواہ کی راہ پر گامزن رہنے میں ہماری کیونکر مدد کرینگے؟‏

۳ اسرائیل ایک چھوٹی سی قوم تھا جو نامہربان اور بُتوں کی پرستش میں اوباش کام کرنے والی پڑوسی اقوام میں گھری ہوئی تھی۔ (‏۱-‏تواریخ ۱۶:‏۲۶‏)‏ صرف اسرائیل ہی واحد برحق اور نادیدہ خدا، یہوواہ کی عبادت کرتا تھا جو اُن سے اعلیٰ اخلاقی معیار قائم رکھنے کا تقاضا کرتا تھا۔ (‏استثنا ۶:‏۴)‏ اسی طرح آجکل بھی، صرف چند ملین انسان ہی یہوواہ کی پرستش کرتے ہیں جبکہ وہ تقریباً چھ بلین لوگوں کی دُنیا میں رہتے ہیں جنکے معیار اور مذہبی نظریات اُن سے بہت فرق ہیں۔ اگر ہم اُن چند ملین لوگوں میں شامل ہیں تو ہمیں غلط اثر سے خبردار رہنا چاہئے۔ کیسے؟ یہوواہ خدا کیلئے وفاداری، اُس پر ایمان اور اس بات پر پُختہ بھروسہ ہمارے لئے مددگار ثابت ہوگا کہ وہ اپنے وعدے ضرور پورے کریگا۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۶‏)‏ یہ ہمیں ایسی چیزوں پر بھروسہ رکھنے سے باز رکھیگا جن پر دُنیا آس لگاتی ہے۔—‏امثال ۲۰:‏۲۲؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۷‏۔‏

۴.‏ قوموں کی ”‏عقل تاریک“‏ کیوں ہے؟‏

۴ پولس رسول نے اپنی تحریر سے ظاہر کِیا کہ مسیحیوں کو دُنیا سے کتنا فرق ہونا چاہئے:‏ ”‏اسلئے مَیں یہ کہتا ہوں اور خداوند میں جتائے دیتا ہوں کہ جس طرح غیرقومیں اپنے بیہودہ خیالات کے موافق چلتی ہیں تم آیندہ کو اس طرح نہ چلنا۔ کیونکہ اُنکی عقل تاریک ہوگئی ہے اور وہ اس نادانی کے سبب سے جو ان میں ہے اور اپنے دلوں کی سختی کے باعث خدا کی زندگی سے خارج ہیں۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۱۷، ۱۸‏)‏ یسوع ”‏حقیقی نور“‏ ہے۔ (‏یوحنا ۱:‏۹‏)‏ جو کوئی اُسے رد کرتا ہے یا اُس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر ”‏مسیح کی شریعت“‏ پر عمل نہیں کرتا اُسکی ”‏عقل تاریک“‏ ہو گئی ہے۔ وہ یہوواہ کی راہ سے دُور، ”‏خدا کی زندگی سے خارج ہیں۔“‏ تاہم شاید وہ دُنیاوی اعتبار سے خود کو دانشمند سمجھیں مگر جہاں تک زندگی کا باعث بننے والے علم یعنی یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی بابت علم کا تعلق ہے تو وہ ’‏جہالت‘‏ کا شکار ہیں۔—‏یوحنا ۱۷:‏۳؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۹‏۔‏

۵.‏ اگرچہ دُنیا میں سچائی کی روشنی چمک رہی ہے توبھی بہتیروں کے دل اثرپذیر کیوں نہیں ہوتے؟‏

۵ تاہم، سچائی کی روشنی دُنیا میں چمک رہی ہے!‏ (‏زبور ۴۳:‏۳؛‏ فلپیوں ۲:‏۱۵‏)‏ ”‏حکمت کوچہ میں زور سے پکارتی ہے۔“‏ (‏امثال ۱:‏۲۰‏)‏ گزشتہ سال یہوواہ کے گواہوں نے اپنے ساتھی انسانوں کو یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی بابت بتانے میں ایک بلین سے زیادہ گھنٹے صرف کئے۔ لاکھوں اس سے اثرپذیر ہوئے۔ کیا ہمیں بہتیروں کے اثرپذیر نہ ہونے کی وجہ سے حیران ہونا چاہئے؟ ہرگز نہیں۔ پولس نے اُنکے ”‏دلوں کی سختی“‏ کا ذکر کِیا۔ بعض کے دل خودغرضی یا پیسے کی محبت کی وجہ سے اثرپذیر نہیں ہوئے ہیں۔ دیگر جھوٹے مذہب یا آجکل ہر طرف پھیلی ہوئی دُنیاوی سوچ سے متاثر ہیں۔ زندگی کے تلخ تجربات بعض کیلئے خدا سے مُنہ پھیرنے کا سبب بنے ہیں۔ دیگر یہوواہ کے اعلیٰ اخلاقی معیاروں کی پابندی کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ (‏یوحنا ۳:‏۲۰‏)‏ کیا یہوواہ کی راہ پر چلنے والے کسی شخص کا دل اس سلسلے میں سخت ہو سکتا ہے؟‏

۶، ۷.‏ یہوواہ خدا کے پرستار ہونے کے باوجود اسرائیلی کن مواقع پر گمراہ ہو گئے اور کیوں؟‏

۶ پولس کے مطابق قدیم اسرائیل کے ساتھ ایسا واقع ہوا تھا۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏یہ باتیں ہمارے واسطے عبرت ٹھہریں تاکہ ہم بُری چیزوں کی خواہش نہ کریں جیسے اُنہوں نے کی۔ اور تم بت‌پرست نہ بنو جیسے بعض اُن میں سے بن گئے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ لوگ کھانے پینے کو بیٹھے۔ پھر ناچنے کودنے کو اٹھے۔ اور ہم حرامکاری نہ کریں جیسے اُن میں سے بعض نے کی اور ایک ہی دن میں تیئیس ہزار مارے گئے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۶-‏۸‏۔‏

۷ پولس پہلے اُس موقع کا حوالہ دیتا ہے جب اسرائیل نے کوہِ‌سینا کی وادی میں سونے کے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ (‏خروج ۳۲:‏۵، ۶)‏ یہ اُس الہٰی حکم کی صریحاً نافرمانی تھی جسے ماننے کا عہد اُنہوں نے چند ہی ہفتے پہلے کِیا تھا۔ (‏خروج ۲۰:‏۴-‏۶؛ ۲۴:‏۳)‏ اسکے بعد، پولس اُس وقت کا حوالہ دیتا ہے جب اسرائیل نے موآبی عورتوں کیساتھ ملکر بعل کو سجدہ کِیا تھا۔ (‏گنتی ۲۵:‏۱-‏۹)‏ بچھڑے کی پرستش کا خاص پہلو لذت‌پرستی، ’‏ناچنا کودنا‘‏ تھا۔‏a بعل کی پرستش میں سنگین جنسی بداخلاقی شامل تھی۔ (‏مکاشفہ ۲:‏۱۴‏)‏ اسرائیلیوں نے یہ گناہ کیوں کئے؟ اسلئے‌کہ اُنہوں نے اپنے دلوں میں ’‏نقصاندہ چیزوں‘‏—‏بُت‌پرستی یا اس سے وابستہ اوباش کاموں—‏کی ’‏خواہش‘‏ پیدا کی تھی۔‏

۸.‏ ہم اسرائیل کے تجربات سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۸ پولس نے بیان کِیا کہ ہمیں ان واقعات سے سبق سیکھنا چاہئے۔ کونسا سبق؟ کسی مسیحی کا سونے کے بچھڑے یا قدیم موآبی دیوتا کو سجدہ کرنا تو ناقابلِ‌فہم بات ہے۔ تاہم بداخلاقی یا بے‌قابو لذت‌پرستی کی بابت کیا خیال ہے؟ آجکل یہ بہت عام ہیں اور اگر ہم اپنے دلوں میں ان کی خواہش بڑھنے دیتے ہیں تو یہ ہمارے اور یہوواہ کے درمیان حائل ہو جائیں گی۔ نتیجہ بالکل ویسا ہی ہوگا، گویا کہ ہم نے بُت‌پرستی کی ہے—‏خدا سے جُدا ہو گئے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں کلسیوں ۳:‏۵؛‏ فلپیوں ۳:‏۱۹‏۔)‏ بِلاشُبہ، پولس اُن واقعات کی بابت گفتگو کو ساتھی ایمانداروں کیلئے اس فہمائش کیساتھ ختم کرتا ہے:‏ ”‏بُت‌پرستی سے بھاگو۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۴‏۔‏

خدا کی راہ پر چلنے کیلئے مدد

۹.‏ (‏ا)‏ یہوواہ کی راہ پر گامزن رہنے کے لئے ہمیں کونسی مدد حاصل ہوتی ہے؟ (‏ب)‏ ایک طریقہ کیا ہے جس سے ہم ’‏اپنے پیچھے آواز‘‏ سنتے ہیں؟‏

۹ اگر ہم یہوواہ کی راہ پر گامزن رہنے کے لئے اٹل ہیں تو ہمیں بے‌یارومددگار نہیں چھوڑا گیا۔ یسعیاہ نے پیشینگوئی کی:‏ ”‏جب تُو دہنی یا بائیں طرف مڑے تو تیرے کان تیرے پیچھے سے یہ آواز سنیں گے کہ راہ یہی ہے اُس پر چل۔“‏ (‏یسعیاہ ۳۰:‏۲۱‏)‏ ’‏ہمارے کان ہمارے پیچھے سے یہ آواز‘‏ کیسے سنتے ہیں؟ درحقیقت، آجکل کسی کو بھی کوئی حقیقی آواز سنائی نہیں دیتی نہ ہی خدا سے براہِ‌راست کوئی پیغام ملتا ہے۔ جو ”‏آواز“‏ ہم سب سنتے ہیں وہ ایک ہی طریقے سے آتی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ الہامی صحائف، بائبل کے ذریعے سنائی دیتی ہے جس میں خدا کے خیالات اور انسانوں کے ساتھ اُس کے برتاؤ کا ریکارڈ موجود ہے۔ ہر روز ”‏خدا کی زندگی سے خارج“‏ ذرائع کے پروپیگنڈے کا سامنا رہنے کی وجہ سے ہمیں اچھی روحانی صحت کے لئے باقاعدگی سے بائبل پڑھنے اور اس پر سوچ‌بچار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمیں ”‏باطل چیزوں“‏ سے کنارہ‌کشی کرنے اور ”‏ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار“‏ رہنے میں مدد دے گا۔ (‏اعمال ۱۴:‏۱۴، ۱۵؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ یہ ہمیں مضبوط اور مستحکم کرے گا اور ’‏خوب کامیابی حاصل کرنے‘‏ میں مدد دے گا۔ (‏یشوع ۱:‏۷، ۸)‏ لہٰذا، یہوواہ کا کلام تاکید کرتا ہے:‏ ”‏اس لئے اَے بیٹو!‏ میری سنو کیونکہ مبارک ہیں وہ جو میری راہوں پر چلتے ہیں۔ تربیت کی بات سنو اور دانا بنو اور اِس کو رد نہ کرو۔“‏—‏امثال ۸:‏۳۲، ۳۳‏۔‏

۱۰.‏ دوسرا طریقہ کونسا ہے جس سے ہم ’‏اپنے پیچھے آواز‘‏ سنتے ہیں؟‏

۱۰ ’‏ہمارے پیچھے سے آواز‘‏ ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کے ذریعے بھی سنائی دیتی ہے جو ”‏وقت پر .‏ .‏ .‏ کھانا“‏ فراہم کرتا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ یہ کھانا فراہم کرنے کا ایک طریقہ بائبل پر مبنی مطبوعات ہیں اور حالیہ برسوں میں یہ کھانا باافراط فراہم کِیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، مینارِنگہبانی کے رسالے کے ذریعے پیشینگوئیوں کی بابت ہماری سمجھ کو بہتر بنایا گیا ہے۔ اس جریدے میں، بڑھتی ہوئی بے‌اعتنائی کے باوجود منادی اور شاگرد بنانے کے کام میں ثابت‌قدم رہنے کیلئے ہماری حوصلہ‌افزائی کی گئی ہے، پوشیدہ خطرات سے بچنے کیلئے ہماری مدد کی گئی ہے اور ہمیں عمدہ مسیحی صفات پیدا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ہم اس بروقت کھانے کی کتنی زیادہ قدر کرتے ہیں!‏

۱۱.‏ تیسرے طریقے کی وضاحت کریں جس سے ہم ’‏اپنے پیچھے آواز‘‏ سن سکتے ہیں۔‏

۱۱ دیانتدار اور عقلمند نوکر ہمارے باقاعدہ اجلاسوں کے ذریعے بھی کھانا فراہم کرتا ہے۔ ان میں ہمارے مقامی کلیسیائی اجلاس، سرکٹ میں شش‌ماہی اجلاس اور بڑے سالانہ کنونشن شامل ہیں۔ کونسا وفادار مسیحی ان اجتماعات کی قدر نہیں کرتا؟ یہوواہ کی راہ میں چلنے کیلئے یہ نہایت اہم مدد ہیں۔ بہتیرے ملازمت کی جگہ پر یا سکول میں ایسے لوگوں کیساتھ کافی وقت گزارتے ہیں جو اُن جیسا ایمان نہیں رکھتے اسلئے باقاعدہ مسیحی رفاقت واقعی زندگی بچانے والی ہے۔ اجلاس ہمیں ’‏ایک دوسرے کو محبت اور نیک کاموں کی ترغیب‘‏ دینے کا عمدہ موقع فراہم کرتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴‏)‏ ہم اپنے بھائیوں سے محبت کرتے ہیں اور ہم اُن کیساتھ جمع ہونے سے بھی خوش ہوتے ہیں۔—‏زبور ۱۳۳:‏۱‏۔‏

۱۲.‏ یہوواہ کے گواہوں کا عزم کیا ہے اور حال ہی میں اُنہوں نے اسکا اظہار کیسے کِیا ہے؟‏

۱۲ ایسے روحانی کھانے سے تقویت پاکر، آجکل تقریباً چھ ملین لوگ یہوواہ کی راہ پر چل رہے ہیں اور لاکھوں دوسرے لوگ بائبل مطالعے سے سیکھ رہے ہیں کہ ایسا کیسے کریں۔ کیا وہ اس حقیقت سے بے‌حوصلہ یا کمزور پڑ جاتے ہیں کہ دُنیا کی اربوں کی آبادی کے مقابلے میں اُن کی تعداد بہت تھوڑی ہے؟ ہرگز نہیں!‏ وہ وفاداری سے یہوواہ کی مرضی بجا لانے سے ’‏اپنے پیچھے آواز‘‏ کو سنتے رہتے ہیں۔ اس عزم کے علانیہ اظہار میں، ۱۹۹۸/‏۱۹۹۹ کی ”‏زندگی کی خدائی راہ“‏ ڈسٹرکٹ اور انٹرنیشنل کنونشنوں پر مندوبین نے اپنے دلی مؤقف کو ظاہر کرتے ہوئے ایک قرارداد کو منظور کِیا۔ ذیل میں اُس قرارداد کے متن کو پیش کِیا گیا ہے۔‏

قرارداد

۱۳، ۱۴.‏ دُنیا کی حالت کی بابت یہوواہ کے گواہ کونسا حقیقت‌پسندانہ نظریہ رکھتے ہیں؟‏

۱۳ ”‏ہم یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ’‏زندگی کی خدائی راہ‘‏ کنونشن پر جمع ہوئے ہیں اور پورے دل سے اس بات سے متفق ہیں کہ خدائی راہ ہی زندگی کی بہترین راہ ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ آجکل نوعِ‌انسان کی اکثریت ایسا نہیں سوچتی۔ انسانی معاشرے نے زندگی کی بہترین راہ کو تشکیل دینے کیلئے متعدد تصورات، فیلسوفیوں اور مذہبی نظریات کو آزمایا ہے۔ انسانی تاریخ اور آج کی دُنیا کی حالتوں کا دیانتدارانہ جائزہ یرمیاہ ۱۰:‏۲۳ میں درج الہٰی فیصلے کی صداقت کی تصدیق کرتا ہے:‏ ’‏انسان اپنی رِوش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔‘‏

۱۴ ”‏ہم روزبروز ان الفاظ کی صداقت کی توثیق کرنے والی شہادتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ انسانی معاشرہ زیادہ‌تر زندگی کی خدائی راہ کو نظرانداز کرتا ہے۔ لوگ اُن چیزوں کے حصول میں رہتے ہیں جو اُنہیں درست دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے نتائج المناک رہے ہیں—‏خاندانی زندگی کی تنزلی کے باعث بچے راہنمائی سے محروم رہتے ہیں؛ مروجہ مادہ‌پرستی کھوکھلے‌پن اور احساسِ‌محرومی کا باعث بنی ہے؛ سفاک جرم‌وتشدد نے لاتعداد لوگوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے؛ نسلیاتی فسادات اور جنگوں میں خوفناک حد تک انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں؛ بے‌لگام بداخلاقی جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں کو فروغ دیتی ہے۔ یہ اُن بے‌شمار پیچیدہ مسائل میں سے محض چند ایک ہیں جو خوشی، امن اور سلامتی کے حصول میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔‏

۱۵، ۱۶.‏ زندگی کی خدائی راہ کے سلسلے میں قرارداد میں کس عزم کا اظہار کِیا گیا تھا؟‏

۱۵ ”‏نوعِ‌انسان کی قابلِ‌رحم حالت اور ’‏قادرِمطلق خدا کے روزِعظیم کی لڑائی‘‏ ہرمجدون (‏مکاشفہ ۱۶:‏۱۴،‏ ۱۶‏)‏ کے قریب ہونے کے پیشِ‌نظر ہم یہوواہ کے گواہوں کے طور پر عزم کرتے ہیں کہ:‏

۱۶ ”‏اوّل:‏ ہم خود کو غیرمشروط طور پر یہوواہ کے لئے مخصوص کر کے انفرادی طور پر یہوواہ خدا کی ملکیت خیال کرتے ہیں اور ہم یہوواہ کی اپنے بیٹے یسوع مسیح کے ذریعے فدیے کی فراہمی پر غیرمتزلزل ایمان رکھیں گے۔ اس کے گواہوں کے طور پر خدمت انجام دینے اور یسوع مسیح کی حکومت کی صورت میں ظاہر ہونے والی اُس کی حاکمیت کی اطاعت کرنے سے ہم زندگی کی خدائی راہ پر چلنے کا پُختہ ارادہ رکھتے ہیں۔‏

۱۷، ۱۸.‏ اخلاقی معیاروں اور مسیحی برادری کے سلسلے میں یہوواہ کے گواہ کس مؤقف پر قائم رہیں گے؟‏

۱۷ ”‏دوم:‏ ہم وفاداری سے بائبل کے اخلاقی اور روحانی معیاروں کی پابندی کرتے رہیں گے۔ ہم اس بات کا پُختہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جس طرح غیرقومیں اپنے بیہودہ خیالات کے مطابق چلتی ہیں ہم اُس طرح نہیں چلیں گے۔ (‏افسیوں ۴:‏۱۷-‏۱۹‏)‏ ہم یہوواہ کے حضور پاک رہنے اور اس دُنیا سے بیداغ رہنے کا عزمِ‌مُصمم رکھتے ہیں۔—‏یعقوب ۱:‏۲۷‏۔‏

۱۸ ”‏سوم:‏ ہم عالمگیر مسیحی برادری کی اپنی صحیفائی حیثیت برقرار رکھیں گے۔ ہم قوموں کے درمیان اپنی مسیحی غیرجانبداری کو برقرار رکھیں گے اور خود کو کسی نسلی، قومی یا طبقاتی تعصب یا فرقہ‌واریت میں ملوث نہیں ہونے دیں گے۔‏

۱۹، ۲۰.‏ (‏ا)‏ مسیحی والدین کیا کرینگے؟ (‏ب)‏ تمام مسیحی مسیح کے شاگردوں کے طور پر اپنی شناخت کیسے کراتے رہینگے؟‏

۱۹ ”‏چہارم:‏ ہم میں سے والدین خدائی راہ کو اپنے بچوں کے ذہن‌نشین کریں گے۔ ہم مسیحی طرزِزندگی کی ایک مثال قائم کریں گے جس میں بائبل کی باقاعدہ پڑھائی، خاندانی مطالعہ اور مسیحی کلیسیا اور میدانی خدمتگزاری میں بھرپور حصہ لینا شامل ہے۔‏

۲۰ ”‏پنجم:‏ ہم سب اپنے اندر خدائی خوبیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو ہمارا خالق ظاہر کرتا ہے اور ہم یسوع کی طرح اس کی شخصیت اور اس کی راہوں کی نقل کرنے کی کوشش کریں گے۔ (‏افسیوں ۵:‏۱‏)‏ ہم اپنے تمام معاملات کو محبت سے حل کرنے کا عزمِ‌مُصمم رکھتے ہیں تاکہ ہماری شناخت مسیح کے شاگردوں کے طور پر ہو۔—‏یوحنا ۱۳:‏۳۵‏۔‏

۲۱-‏۲۳.‏ یہوواہ کے گواہ کیا کرتے رہینگے اور وہ کس بات کا یقین رکھتے ہیں؟‏

۲۱ ”‏ششم:‏ ہم باز آئے بغیر خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنانا، شاگرد بنانا جاری رکھیں گے اور ہم اُن کو زندگی کی خدائی راہ پر چلنے کی تعلیم دیں گے اور کلیسیائی اجلاسوں سے مزید تربیت حاصل کرنے کے لئے اُن کی حوصلہ‌افزائی کریں گے۔—‏متی ۲۴:‏۱۴؛‏ ۲۸:‏۲۰،۱۹؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

۲۲ ”‏ہفتم:‏ انفرادی طور پر اور ایک مذہبی تنظیم کے طور پر ہم اپنی زندگی میں خدا کی مرضی کو ہمیشہ پہلا درجہ دیں گے۔ اُس کے کلام بائبل کو بطور رہبر استعمال کرتے ہوئے کبھی بھی اس سے دائیں یا بائیں نہیں مڑیں گے اور یہ ثابت کریں گے کہ خدائی راہ ہی دُنیا کی سب راہوں سے افضل ہے۔ ہم اب اور ہمیشہ تک ثابت‌قدمی اور وفاداری سے زندگی کی خدائی راہ پر گامزن رہنے کا پُختہ ارادہ رکھتے ہیں!‏

۲۳ ”‏ہم یہ قرارداد اِس لئے پیش کر رہے ہیں کہ ہم یہوواہ کے اس پُرمحبت وعدے پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے، ابد تک قائم رہے گا۔ ہم یہ قرارداد اِس لئے پیش کر رہے ہیں کیونکہ ہم پُختہ یقین رکھتے ہیں کہ آج صحیفائی اصولوں، مشورت اور نصیحت کے مطابق چلنا ہی زندگی کی بہترین راہ ہے جو مستقبل کے لئے عمدہ بنیاد فراہم کرتی ہے تاکہ ہم حقیقی زندگی پر قبضہ کر لیں۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۹؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۴‏:‏۷ب، ۸)‏ سب سے بڑھ کر ہم یہ قرارداد اِس لئے پیش کر رہے کہ ہم یہوواہ خدا سے اپنے سارے دل، جان، عقل اور طاقت سے محبت کرتے ہیں!‏

۲۴، ۲۵.‏ پیش‌کردہ قرارداد کے لئے جوابی‌عمل کیسا تھا اور یہوواہ کی راہ پر چلنے والوں کا عزمِ‌مُصمم کیا ہے؟‏

۲۴ ”‏اس کنونشن پر حاضر تمام اشخاص میں سے جو اس قرارداد کی حمایت کرتے ہیں، براہِ‌مہربانی کہیں ہاں!‏‏“‏

۲۵ ہزاروں کی تعداد میں تمام حاضرین کے ‏”‏ہاں“‏ میں جواب دینے سے دُنیابھر کے سینکڑوں سٹیڈیم گونج اُٹھے۔ یہوواہ کے گواہوں کو کوئی شُبہ نہیں ہے کہ وہ یہوواہ کی راہ پر چلتے رہینگے۔ اُنہیں یہوواہ پر پورا بھروسہ ہے اور وہ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے گا۔ وہ ہر حال میں اُس کے وفادار رہتے ہیں۔ نیز وہ اُسکی مرضی پوری کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔‏

‏”‏خدا ہماری طرف ہے“‏

۲۶.‏ یہوواہ کی راہ پر چلنے والے کس مبارک حالت میں ہیں؟‏

۲۶ یہوواہ کے گواہ زبورنویس کی فہمائش کو یاد رکھتے ہیں:‏ ”‏خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی آس رکھ اور اُسی کی راہ پر چلتا رہ اور وہ تجھے سرفراز کر کے زمین کا وارث بنائے گا۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۳۴‏)‏ وہ پولس کے حوصلہ‌افزا الفاظ کو فراموش نہیں کرتے:‏ ”‏اگر خدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟ جس نے اپنے بیٹے ہی کو دریغ نہ کِیا بلکہ ہم سب کی خاطر اُسے حوالہ کر دیا وہ اُس کے ساتھ سب چیزیں بھی ہمیں کس طرح نہ بخشے گا؟“‏ (‏رومیوں ۸:‏۳۱، ۳۲‏)‏ نیز، اگر ہم یہوواہ کی راہ پر چلتے رہتے ہیں تو وہ ”‏ہمیں لطف اُٹھانے کے لئے سب چیزیں افراط“‏ سے دے گا۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۷‏)‏ جہاں ہم اب ہیں—‏اپنے عزیز بھائیوں اور بہنوں کیساتھ یہوواہ کی راہ پر چلنا—‏اس سے بہتر اَور کونسی جگہ ہو سکتی ہے۔ جب یہوواہ ہمارے ساتھ ہے تو آئیے ہم یہیں رہیں اور آخر تک برداشت کریں اور مکمل اعتماد رکھیں کہ اُسکے وقتِ‌مقررہ پر ہم اُس کے ہر وعدے کو پورا ہوتا دیکھینگے۔—‏ططس ۱:‏۲‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a جس یونانی لفظ کا ترجمہ یہاں ”‏ناچنا کودنا“‏ کِیا گیا ہے اُس کے حوالے سے ایک مفسر کہتا ہے کہ اس سے مُراد وہ رقص ہیں جو بُت‌پرستانہ تہواروں پر کئے جاتے تھے، پھر وہ مزید کہتا ہے:‏ ”‏ان میں سے زیادہ‌تر رقص، جیسے‌کہ مشہور ہے، شہوت کو اُبھارنے کیلئے ترتیب دئے جاتے تھے۔“‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

◻یہوواہ کی راہ پر چلنے کیلئے ایک مسیحی سے کیا تقاضا کِیا جاتا ہے؟‏

◻ہمیں یہوواہ پر بھروسے اور اُس کیلئے وفاداری کو فروغ دینے کی ضرورت کیوں ہے؟‏

◻یہوواہ کی راہ پر چلنے کیلئے کونسی مدد دستیاب ہے؟‏

◻‏”‏زندگی کی خدائی راہ“‏ کنوشنوں پر منظور کی گئی قرارداد کے چند خاص نکات بیان کریں۔‏

‏[‏صفحہ 18 پر تصویریں]‏

‏”‏زندگی کی خدائی راہ“‏ ڈسٹرکٹ اور انٹرنیشنل کنونشنوں پر ایک اہم قرارداد منظور کی گئی تھی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں