وینڈا کی پھلدار سرزمین
گزشتہ دس سال سے مَیں اور میری بیوی نے وینڈا لوگوں کے درمیان کُلوقتی مبشروں کے طور پر خدمت انجام دی ہے۔ وینڈا لوگ جنوبی افریقہ کے شمال میں دریائےلمپوپو کے جنوبی کنارے پر آباد ہیں اور انکی قوم قبائل پر مشتمل ہے جو گزشتہ صدیوں کے دوران لمپوپو کے وارپار آباد ہو گئے ہیں۔ بعض وینڈا لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اُنکے اسلاف ۱،۰۰۰ سال قبل یہاں آباد ہوئے تھے۔
یہ خطہ مسلمہ طور پر، کبھی قدیم تہذیب کا حصہ تھا جو ماپونگوبوے کی سلطنت کہلاتی تھی۔ یہ جنوبی افریقہ کی پہلی بڑی شہری آبادی تھی جو مغرب میں بوٹسوانا اور مشرق میں موزمبیق تک پھیلی ہوئی دریائےلمپوپو کی وسیع وادی پر حکمران تھی۔ تقریباً ۹۰۰ س.ع. سے لیکر ۱۱۰۰ س.ع. تک ماپونگوبوے، عرب تاجروں کو ہاتھی دانت، گینڈے کے سینگ، جانوروں کی کھالیں، تانبا اور سونا فراہم کرتا رہا۔ ماپونگوبوے نامی ایک شاہی پہاڑی کے کھنڈرات کی کھدائی کے دوران ماہرانہ طریقے سے تیار کئے گئے مجسّمے دریافت ہوئے ہیں جن پر سونا منڈھا ہوا ہے۔ ایک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ ”جنوبی افریقہ میں سونے کی کانوں کی موجودگی کے قدیم نشانوں“ میں سے ہیں۔
اب یہاں کانوں سے سونا نہیں نکالا جاتا۔ آجکل وینڈا کی سرزمین اپنے پھلدار ہونے کے باعث مشہور ہے۔ ساؤٹپانزبرگ کے پہاڑوں کے جنوب میں ایک سرسبزوشاداب وادی ہے جہاں مگرناشپاتی [ایووکیدو]، کیلے، آم اور امرود جیسے پھل بکثرت پیدا ہوتے ہیں۔ پیکان اور میکڈےمیا جیسے نٹس کے علاوہ یہاں بہت سی سبزیاں بھی دستیاب ہیں۔ اس میں پالک جیسا ذائقہ رکھنے والی جنگلی مروہو بھی شامل ہے جو مقامی لوگوں کی مرغوب غذا ہے۔
وینڈا پُرامن اور مہماننواز قوم ہے۔ خاندان کے سربراہ کی طرف سے ایک غیرمتوقع مہمان کیلئے مرغ پکانے کی درخواست کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اسے ایک بنیادی غذا، بسوا، کیساتھ کھایا جاتا ہے جو میٹھی مکئی سے تیار کی جاتی ہے۔ ملاقات کے بعد خاندان کا سربراہ کچھ دُور تک مہمان کیساتھ جاتا ہے۔ یہ مہمان کیلئے احترام دکھانے کا روایتی طریقہ ہے۔ بچوں کو مہمانوں کو سلام کرنے کا باوقار طریقہ سکھایا جاتا ہے جس میں دونوں ہاتھ باندھ کر جھکنا شامل ہے۔ اس صفحے پر آپ دو وینڈا خواتین کو اسی روایتی انداز سے ایک دوسرے کو سلام کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
ایک مشکل زبان
یورپی لوگوں کیلئے وینڈا زبان میں مہارت حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ ایک مشکل تو یہ ہے کہ بہت سے لفظوں کے ہجے تو ایک ہی ہیں مگر اُنکا تلفظ مختلف ہے۔ ایک مرتبہ یہوواہ کے گواہوں کی وینڈا کلیسیا میں بائبل پر مبنی تقریر پیش کرتے ہوئے مَیں سامعین کو ہر شخص سے بات کرنے کیلئے حوصلہافزائی دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ سامعین میں سے ایک شخص اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکا کیونکہ میں نے ”ایک شخص سے دوسرے شخص“ کی بجائے ”ایک انگلی سے دوسری انگلی“ کہہ دیا تھا۔
لوگوں کو گواہی دینے کے کام میں جب پہلی مرتبہ مَیں نے وینڈا زبان بولنے کی کوشش کی تو ایک وینڈا خاتون نے جواب دیا: ” مَیں انگریزی نہیں بولتی ہوں۔“ میرا خیال تھا کہ مَیں نے وینڈا زبان میں اچھی گفتگو کی ہے مگر خاتون کے خیال میں وہ انگریزی تھی! ایک مرتبہ جب مَیں ایک گھر پر گیا تو مَیں نے ایک نوجوان کو خاندان کے سربراہ کو بلانے کیلئے کہا۔ خاندان کے سربراہ کیلئے وینڈا کا لفظ تھاہو ہے۔ غلطی سے مَیں نے تھوہو کہہ دیا جس کا مطلب تھا کہ مَیں گھر کے بندر سے بات کرنا چاہتا تھا! ایسی غلطیوں سے مَیں بےحوصلہ ہو جاتا تھا تاہم مستقلمزاجی کی بدولت آج مَیں اور میری بیوی وینڈا میں اچھی طرح سے گفتگو کرنے کے قابل ہیں۔
روحانی پھل
وینڈا کی سرزمین روحانی طور پر بھی پھلدار ثابت ہو رہی ہے۔ ۱۹۵۰ کے دہے میں ایسے لوگوں پر مشتمل یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیا وجود میں آئی جو تانبے کی کان میں کام کرنے کیلئے ہمسایہ ممالک سے نقلمکانی کر کے میسینا نامی قصبے میں آئے تھے۔ اُنکی پُرجوش کارگزاری کی بدولت بہت سے وینڈا لوگ بائبل سچائیوں سے واقف ہو گئے۔ ایک دہے کے بعد وینڈا گواہوں کا ایک گروہ سیباسا نامی قصبے کے ایک گھر میں اجلاس منعقد کر رہا تھا۔
ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے جنوبی افریقہ میں واچ ٹاور سوسائٹی کی برانچ نے کُلوقتی مبشروں کو اس پھلدار علاقے میں بھیجا۔ جلد ہی سیباسا کا گروہ ایک بڑی کلیسیا بن گیا۔ اُس وقت مسیحی اجلاس ایک کلاسروم میں منعقد کئے جاتے تھے۔ تاہم، جنوب میں ۱۶۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پائٹرزبرگ کے علاقے کے یہوواہ کے گواہوں کی مدد سے ایک قریبی قصبے تھوئیویانڈو میں کنگڈم ہال تعمیر کر لیا گیا۔
جنوبی افریقہ کے شمال میں وینڈا زبان بولنے والوں کی آبادی ۵۰۰،۰۰۰ سے زیادہ ہے۔ جب ۱۹۵۰ کے عشرے میں یہاں بادشاہتی منادی کا کام شروع ہوا تو کوئی بھی وینڈا گواہ نہیں تھے۔ اب وہاں ۱۵۰ سے زیادہ ہیں۔ تاہم ابھی بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں کوئی نہیں پہنچا اور بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ۱۹۸۹ میں ایک وینڈا گاؤں ہاموتشا مَیں جانا شروع کِیا۔ اُس وقت وہاں صرف ایک گواہ رہتا تھا۔ اب وہاں ۴۰ سے زیادہ بادشاہتی مبشر رہتے ہیں۔ ہم اپنا کنگڈم ہال مکمل کرنے میں مصروف ہیں، ایک مرتبہ پھر ہم پائٹرزبرگ کی کلیسیاؤں کے گواہوں کی مدد اور خوشحال ممالک کے بھائیوں کی مالی معاونت کے شکرگزار ہیں۔
ہم ایک فارم پر کاروان (ایک چھوٹے ٹریلر) میں رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کو سادہ رکھنے کی وجہ سے ہمارے پاس خوشخبری کیساتھ مقامی لوگوں تک رسائی کرنے کیلئے زیادہ وقت ہے۔ (مرقس ۱۳:۱۰) نتیجتاً ہمیں بہت سے لوگوں کو اپنی زندگیاں یہوواہ کیلئے مخصوص کرنے میں مدد دینے کے شرف کی صورت میں بکثرت برکات ملی ہیں۔ ایک مثال مائیکل نامی شخص کی ہے جس نے اپنے دوست کے گھر کتاب آپ زمین پر فردوس میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں دیکھی۔a اُس نے کتاب کو پڑھنا شروع کِیا اور فوراً ہی سچائی کو پہچان لیا۔ لہٰذا اُس نے واچ ٹاور سوسائٹی کو مزید بائبل لٹریچر کیلئے خط لکھا۔ مائیکل نے اپنے خط میں وضاحت کی کہ حال ہی میں اُس نے ایک مقامی رسولی کلیسیا کے رُکن کے طور پر بپتسمہ لیا ہے۔ ”مَیں نے جان لیا ہے کہ مَیں خدا کی بادشاہت کی راہ پر نہیں ہوں،“ اُس نے مزید بیان کِیا۔ ”مَیں نے آپ کا رُکن بننے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن مَیں یہ نہیں جانتا کہ اسکا طریقہکار کیا ہے۔“ اُس نے اپنا پتہ دیا اور درخواست کی کہ یہوواہ کے کسی گواہ کو اُسکی مدد کیلئے بھیجا جائے۔ مَیں نے مائیکل کو ڈھونڈ لیا اور اُس کیساتھ گھریلو بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ آج وہ بپتسمہیافتہ گواہ ہے اور وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہا ہے۔
دسمبر ۱۹۹۷ میں، ہم نے یہوواہ کے گواہوں کے ڈسٹرکٹ کنونشن ”خدا کے کلام پر ایمان“ میں شرکت کی جو تھوئیویانڈو کے سپورٹس سٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا۔ وہاں ۶۳۴ لوگ حاضر تھے اور ۱۲ نئے اشخاص نے بپتسمہ لیا۔ مجھے وینڈا زبان میں دو تقاریر پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ اس پھلدار زمین میں گزارے گئے ہمارے مبارک دہے کا واقعی ایک سنگِمیل تھا!—منتخب مراسلہ۔
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔