کیا خدا ”ٹیڑھے“ طریقوں سے کام کرتا ہے؟
”خدا کے ٹیڑھے کام میں بھی مصلحت پائی جاتی ہے،“ یہ برازیل کی ایک کہاوت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا ہمیشہ راست کام کرتا ہے مگر بعضاوقات اُسکا طریقہ انسان کو ٹیڑھا معلوم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی عالمِشباب میں مر جاتا ہے تو بہتیرے کہتے ہیں، ’خدا نے اُسے اپنے پاس بُلا لیا ہے۔‘ اگر کوئی کسی جسمانی معذوری یا المیے کا شکار ہے تو بعض تبصرہ کرتے ہیں، ’خدا کی یہی مرضی ہے۔‘ خدا کو موت، جسمانی مسائل اور دُکھ کی دیگر وجوہات کا ذمہدار ٹھہرانے کے ایسے اظہارات سے مُراد یہ ہے کہ خدا ’ٹیڑھے طریقے‘ اپناتا ہے یعنی وہ ایسے طریقے سے کام کرتا ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔
بہتیرے مذہبی لوگ کیوں یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا موت اور مصائب کا ذمہدار ہے؟ یہ اعتقادات اکثر بائبل کی بعض اِکادُکا آیات کی غلط سمجھ پر مبنی ہیں۔ آئیے مختصر طور پر چند ایک کا جائزہ لیں۔
● کون گونگا یا بہرا یا اندھا کرتا ہے؟ کیا مَیں ہی جو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہوں یہ نہیں کرتا؟“—خروج ۴:۱۱۔
کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ مختلف جسمانی معذوریوں کیلئے خدا کو الزام دیا جانا چاہئے؟ ہرگز نہیں۔ یہ خدا کی شخصیت سے ہمآہنگ نہیں ہوگا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے ”خدا کی پیدا کی ہوئی ہر چیز اچھی ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۴:۴) اگر کوئی پیدائشی طور پر اندھا، گونگا یا بہرہ ہے تو خدا کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ وہ اپنی مخلوقات کی بھلائی چاہتا ہے کیونکہ وہ ”ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام“ کا ماخذ ہے۔—یعقوب ۱:۱۷۔
یہ ہمارے پہلے والدین آدم اور حوّا تھے جنہوں نے اپنی آزاد مرضی سے خدا کے خلاف بغاوت کرنے کا انتخاب کِیا اور یوں اپنی کاملیت اور کامل بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ (پیدایش ۳:۱-۶، ۱۶، ۱۹؛ ایوب ۱۴:۴) پس جب اُنکے بچوں نے شادیاں کیں اور اُنکے بچے پیدا ہوئے تو انسانوں میں جسمانی نقائص سمیت دیگر ناکاملیتیں اَور بھی زیادہ ظاہر ہونے لگیں۔ اگرچہ یہوواہ خدا اسکا ذمہدار نہیں تو بھی وہ اسے واقع ہونے دیتا ہے۔ اسلئے وہ خود کو گونگا، بہرا اور اندھا ’بنانے والا‘ کہتا ہے۔
● ”وہ جو ٹیڑھا ہے سیدھا نہیں ہو سکتا۔“—واعظ ۱:۱۵۔
کیا خدا نے چیزوں کو ٹیڑھا بنایا تھا؟ ہرگز نہیں۔ واعظ ۷:۲۹ مشاہدہ کرتی ہے: ”خدا نے انسان کو راست بنایا پر انہوں نے بہت سی بندشیں تجویز کیں۔“ کونٹیمپریری انگلش ورشن ان آیات کو بیان کرتی ہے: ”جب خدا نے ہمیں بنایا تو ہم مکمل طور پر ایماندار تھے لیکن اب ہمارے ذہن گمراہ ہو گئے ہیں۔“ خدا کی راست معیاروں کی پابندی کرنے کی بجائے بیشتر مردوں اور عورتوں نے جانبوجھ کر اپنے منصوبوں، سکیموں، طریقوں یا راہوں کی پیروی کرنے کا انتخاب کِیا ہے جو اُنکی بربادی پر منتج ہوا ہے۔—۱-تیمتھیس ۲:۱۴۔
علاوہازیں جیسا پولس رسول نے بیان کِیا تھا کہ انسانوں کے گناہوں کے باعث ”مخلوقات بطالت کے اختیار میں کر دی گئی تھی۔“ (رومیوں ۸:۲۰) پس یہ معاملہ انسانی کوششوں سے ”سیدھا نہیں ہو سکتا۔“ صرف الہٰی توسط سے ہی زمینی امور سے تمام ٹیڑھےپن اور بطالت کو دور کِیا جائے گا۔
● ”خدا کے کام پر غور کر کیونکہ کون اُس چیز کو سیدھا کر سکتا ہے جسے اُس نے ٹیڑھا کِیا ہے؟“—واعظ ۷:۱۳۔
دوسرے لفظوں میں سلیمان بادشاہ پوچھتا ہے: ’بنیآدم میں ایسا کون ہے جو اُن نقائص اور ناکاملیت کو ختم کرے جسے خدا نے قائم رہنے کی اجازت دی ہے؟‘ کوئی بھی نہیں کیونکہ خدا نے کسی وجہ سے ایسی چیزوں کو واقع ہونے کی اجازت دی ہے۔
پس سلیمان مشورہ دیتا ہے: ”اقبالمندی کے دن خوشی میں مشغول ہو پر مصیبت کے دن میں سوچ بلکہ خدا نے اِس کو اُس کے مقابل بنا رکھا ہے تاکہ انسان اپنے بعد کی کسی بات کو دریافت نہ کر سکے۔“ (واعظ ۷:۱۴) ایک شخص کو ایسے دن کی قدر کرنی چاہئے جو سلامتی سے گزر جاتا ہے اور اچھائی پر سوچبچار کرنے سے اس کے لئے قدردانی کا اظہار کرنا چاہئے۔ اُسے اچھے دن کو خدا کی طرف سے ایک تحفہ خیال کرنا چاہئے۔ تاہم اگر مصیبت کا دن ہو تو کیا ہو؟ ایک شخص یہ ”سمجھ“ کر اچھا کرتا ہے کہ خدا نے مصیبت کو واقع ہونے کی اجازت دی ہے۔ اُس نے ایسا کیوں کِیا ہے؟ سلیمان کہتا ہے: ”تاکہ انسان اپنے بعد کی کسی بات کو دریافت نہ کر سکے۔“ اس کا کیا مطلب ہے؟
یہ حقیقت کہ خدا ہمیں خوشیوں اور مسائل دونوں کا سامنا کرنے دیتا ہے، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔ مصیبت راستباز اور شریر دونوں پر آ سکتی ہے۔ اس سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس سے ہمیں اپنی بجائے خدا پر انحصار کرنے کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے یہ یاد رکھتے ہوئے کہ ”خدا محبت ہے۔“ (۱-یوحنا ۴:۸) اگرچہ ہم بعض باتوں کو نہیں سمجھ سکتے تو بھی ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ جب ہر چیز اپنے عروج کو پہنچ جائے گی تو خدا نے جو کچھ بھی واقع ہونے دیا وہ تمام کے لئے مفید ثابت ہو گا۔
وہ جس چیز کو بھی واقع ہونے کی اجازت دیتا ہے وہ کبھی بھی راستدل انسانوں کے ابدی نقصان پر منتج نہیں ہو گی۔ پولس رسول نے اپنے وقت میں دکھ اٹھانے والے ساتھی ایمانداروں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کِیا: ”جس نے تم کو مسیح میں اپنے ابدی جلال کے لئے بلایا تمہارے تھوڑی مدت تک دُکھ اُٹھانے کے بعد آپ ہی تمہیں کامل اور قائم اور مضبوط کرے گا۔“—۱-پطرس ۵:۱۰۔
معاملات کو سیدھا کرنے کا وقت
یہوواہ ہمیں موجودہ آزمائشوں کو برداشت کرنے کے لئے قوت عطا کرتا ہے۔ وہ ”سب چیزوں کو نیا بنا“ دینے کا وعدہ بھی کرتا ہے۔ (مکاشفہ ۲۱:۵) جیہاں، یہ اُس کا مقصد ہے کہ اُس کی آسمانی بادشاہت جلد ہی اُن سب کی صحت بحال کر دے گی جو معذوریوں کا شکار ہیں اور مُردوں کی قیامت بھی ممکن بنائے گی۔ وہ حکومت ٹیڑھے طریقوں والے—شیطان ابلیس کو بھی ختم کرے گی۔ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹؛ رومیوں ۱۶:۲۰؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۶؛ ۲-پطرس ۳:۱۳) جب چیزوں کو سیدھا کرنے کا خدائی وقت آتا ہے تو تمام زمین پر خداترس لوگوں کے لئے یہ کیسی برکت ہو گی!
[صفحہ 28 پر تصویر کا حوالہ]
Dover/The Doré Bible Illustrations/Job Hearing of His Ruin
Publications