وہ یہوواہ کی مرضی بجا لائے
پولس مصیبت پر فتح پاتا ہے
پولس ایک مایوسکُن صورتحال میں ہے۔ وہ دیگر ۲۷۵ لوگوں کیساتھ ایک جہاز میں سوار ہے جو یورکلون—بحیرۂروم کی تُندوتیز ہوا—کی زد میں ہے۔ طوفان اتنا شدید ہے کہ دن کو سورج نظر نہیں آتا اور رات کو ستارے نظر نہیں آتے۔ مسافروں کا اپنی زندگیوں کو خطرے میں سمجھنا قابلِفہم ہے۔ تاہم، پولس الہامی طور پر خواب کے ذریعے آشکارہکردہ باتوں سے اُنہیں تسلی دینے کیلئے بتاتا ہے: ”تم میں سے کسی کی جان کا نقصان نہ ہوگا مگر جہاز کا [ہوگا]۔“—اعمال ۲۷:۱۴، ۲۰-۲۲۔
طوفان کی ۱۴ویں رات، ملاحوں کو ایک چونکا دینے والی بات معلوم ہوتی ہے—پانی صرف ۲۰ پرسہ گہرا ہے۔a تھوڑا آگے بڑھ کر وہ پھر ناپتے ہیں۔ اس مرتبہ پانی ۱۵ پرسہ گہرا ہے۔ خشکی قریب ہے! تاہم اس خوشخبری کے ساتھ سنجیدہ کارروائی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ رات کے وقت کم گہرے پانی میں اِدھراُدھر ہچکولے کھاتے ہوئے جہاز چٹانوں سے ٹکرا کر تباہ ہو سکتا ہے۔ ملاح دانشمندی کے ساتھ لنگر ڈالتے ہیں۔ اُن میں سے بعض ڈونگی کو نیچے اُتار کر اور اُس میں سوار ہو کر بھاگنے کا ارادہ کرتے ہیں۔b لیکن پولس اُنہیں منع کرتا ہے۔ وہ صوبیدار اور سپاہیوں سے کہتا ہے: ”اگر یہ جہاز پر نہ رہینگے تو تم نہیں بچ سکتے۔“ صوبیدار پولس کی بات مانتا ہے اور ۲۷۶ مسافر بےصبری سے صبح ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔—اعمال ۲۷:۲۷-۳۲۔
جہاز کی تباہی
اگلی صبح، جہاز کے مسافروں کو ساحل کے ساتھ ایک کھاڑی نظر آئی۔ ایک نئی اُمید کے ساتھ ملاحوں نے لنگر کھول دئے اور اگلاپال ہوا کے رخ پر چڑھا دیا۔ خوشی کے نعروں کے درمیان جہاز کنارے کی طرف بڑھنے لگا۔—اعمال ۲۷:۳۹، ۴۰۔
تاہم، اچانک ہی جہاز کم گہری جگہ پر پھنس گیا۔ چنانچہ زیادہ خطرہ پیدا ہو گیا کیونکہ طوفانی لہروں نے دنبالے سے ٹکرا ٹکرا کر اُسے توڑ ڈالا۔ سب مسافروں کو جہاز چھوڑنا ہوگا! (اعمال ۲۷:۴۱) لیکن اس سے ایک مسئلہ پیدا ہوگیا۔ جہاز میں سوار بیشتر لوگ—پولس سمیت—قیدی تھے۔ رومی قانون کے تحت ایک محافظ جو اپنے قیدی کو فرار ہونے دیتا اُسے وہی سزا دی جاتی تھی جو اُس قیدی کو دی جانی تھی۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی قاتل فرار ہو جاتا تو غفلت برتنے والے محافظ کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑتے۔
ایسے نتائج کے خوف کے پیشِنظر سپاہیوں نے فیصلہ کِیا کہ وہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیں گے۔ تاہم، صوبیدار جسے پولس سے ہمدردی تھی اُس نے مداخلت کی۔ اُس نے حکم دیا کہ جو تیر سکتے ہیں پہلے کود کر کنارہ پر چلے جائیں۔ جو لوگ تیر نہیں سکتے وہ تختوں پر یا جہاز کی اَور چیزوں کے سہارے سے چلے جائیں۔ ایک ایک کر کے تمام مسافر ڈوبتے جہاز سے کنارے کی طرف روانہ ہو گئے۔ پولس کے الفاظ سچ ثابت ہوئے، ایک بھی جان ضائع نہ ہوئی۔—اعمال ۲۷:۴۲-۴۴۔
ملتے [مالٹا] میں معجزہ
تھکےماندے لوگوں کا گروہ ملتے کے جزیرے پر پناہ حاصل کرتا ہے۔ یہاں کے باشندے ”اجنبی زبان بولنے والے“ یا لفظی مفہوم میں ”باربیرینز“ (یونانی، وَروَاروز) یعنی وحشی تھے۔c لیکن ملتے کے لوگ وحشی نہیں تھے۔ اسکے برعکس لوقا، پولس کے ہمسفر نے بیان کِیا کہ اُنہوں نے ”ہم پر خاص مہربانی کی کیونکہ مینہ کی جھڑی اور جاڑے کے سبب سے اُنہوں نے آگ جلا کر ہم سب کی خاطر کی۔“ خود پولس بھی ملتے کے مقامی باشندوں کے ساتھ لکڑیاں جمع کرنے اور آگ جلانے کے کام میں لگ گیا۔—اعمال ۲۸:۱-۳۔
اچانک ایک سانپ پولس کے ہاتھ سے لپٹ جاتا ہے! جزیرے کے باشندے خیال کرتے ہیں کہ پولس ضرور خونی ہے۔ اُنکے خیال میں غالباً خدا گنہگاروں کے جسم کے اُس حصے پر حملہ کر کے اُنہیں سزا دیتا ہے جو گناہ کیلئے آلۂکار رہا ہے۔ لیکن دیکھیں! مقامی باشندے حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ پولس نے سانپ کو آگ میں جھٹک دیا۔ لوقا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے، ”مگر وہ منتظر تھے کہ اس [پولس] کا بدن سوج جائیگا یا یہ مر کر یکایک گر پڑیگا۔“ جزیرے کے لوگ اپنا خیال بدل لیتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ پولس ضرور کوئی دیوتا ہے۔—اعمال ۲۸:۳-۶۔
پولس اگلے تین مہینے ملتے میں گزارتا ہے، جسکے دوران وہ مہماننوازی دکھانے والے جزیرے کے سردار پُبلیُس کے باپ اور دیگر لوگوں کو بیماریوں سے شفا بخشتا ہے۔ مزیدبرآں پولس سچائی کے بیج بھی بوتا ہے جو ملتے کے مہماننواز باشندوں کیلئے بہت سی برکات پر منتج ہوتا ہے۔—اعمال ۲۸:۷-۱۱۔
ہمارے لئے سبق
اپنی خدمتگزاری کے دوران پولس نے بیشمار چیلنجوں کا سامنا کِیا۔ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۳-۲۷) مذکورہبالا بیان بتاتا ہے کہ پولس خوشخبری کی خاطر قیدی تھا۔ علاوہازیں اُسے غیرمتوقع آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا: ایک شدید طوفان کے بعد جہاز ٹوٹنے کی مصیبت میں پڑا تھا۔ ان تمام مشکلات سے گزرنے کے باوجود پولس کا خوشخبری کے سرگرم مناد ہونے کا عزمِمُصمم کبھی نہ ڈگمگایا۔ اُس نے تجربے سے لکھا: ”سب حالتوں میں مَیں نے سیر ہونا اور بھوکا رہنا اور بڑھنا گھٹنا سیکھا ہے جو مجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں۔“—فلپیوں ۴:۱۲، ۱۳۔
زندگی کے مسائل کو کبھی اجازت نہ دیں کہ سچے خدا کے سرگرم خادم ہونے کے آپکے عزم کو کمزور کر دیں! جب غیرمتوقع آزمائش آتی ہے تو ہم اپنا بوجھ یہوواہ پر ڈال دیتے ہیں۔ (زبور ۵۵:۲۲) پھر ہم صبر سے انتظار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے اس آزمائش کو برداشت کرنا ممکن بنائے۔ اس اثنا میں ہم اس یقین کیساتھ وفاداری سے اُس کی خدمت جاری رکھتے ہیں کہ وہ ہماری فکر کرتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۳؛ ۱-پطرس ۵:۷) مسائل چاہے کیسے بھی ہوں، ثابتقدم رہنے سے ہم پولس کی طرح مصیبت پر فتح پا سکتے ہیں۔
[فٹنوٹ]
a پرسہ عام طور پر چار ہاتھ، یا چھ فٹ کے برابر ہوتا ہے۔
b ڈونگی ایک چھوٹی کشتی ہوتی تھی جسے ساحل کے قریب لنگرانداز جہاز سے کنارے پر پہنچنے کیلئے استعمال کِیا جاتا تھا۔ بدیہی طور پر ملاح اپنی جان بچانے کیلئے پیچھے رہ جانے والوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے تھے جنہیں جہاز چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
c ولفرڈ فُنک کی ورڈاوریجنز کے مطابق: ”یونانی اپنی زبان کے سوا تمام زبانوں کو حقارت سے دیکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اُنکی آواز ’وَروَار‘ جیسی معلوم ہوتی ہے اور ایسے لوگوں کو جو یہ زبانیں بولتے اُنہیں وَروَاروز کہتے تھے۔“