بدی پر فتح
”یہ مرا ہؤا کتا میرے مالک بادشاہ پر کیوں لعنت کرے؟ مجھکو ذرا اُدھر جانے دے کہ اُسکا سر اُڑا دوں۔“ یہ درخواست ایک اسرائیلی فوجی سردار ابیشے کی تھی۔ جب اُسکے مالک بادشاہ داؤد پر بنیمین کے قبیلے کے ایک شخص سمعی نے حقارتآمیز ملامت کی تو اُس نے شدید غصے کے عالم میں یہ ردِعمل ظاہر کِیا۔—۲-سموئیل ۱۶:۵-۹۔
ابیشے اُس فلسفے کے آگے جھک گیا جو آج کا عام اصول ہے، یعنی ادلے کا بدلہ۔ جیہاں، ابیشے چاہتا تھا کہ سمعی کو داؤد کی بےعزتی کرنے کی سزا دے۔
تاہم، داؤد کا ردِعمل کیا تھا؟ داؤد نے ابیشے کو اس سے باز رکھتے ہوئے کہا ”اُسے چھوڑ دو۔“ اگرچہ جو الزام سمعی نے داؤد پر لگائے وہ غلط تھے تو بھی داؤد نے انتقام لینے کی آزمائش کی مزاحمت کی۔ اسکی بجائے، اُس نے معاملے کو یہوواہ کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔—۲-سموئیل ۱۶:۱۰-۱۳۔
جب داؤد اپنے بیٹے کی ناکام بغاوت سے بچ نکلنے کے بعد دوبارہ تختافروز ہوا تو سمعی اُن لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے پہلے آ کر بادشاہ کو سلام کِیا اور اُس سے معافی کی درخواست کی۔ ابیشے نے پھر اُسے قتل کرنا چاہا لیکن داؤد نے اُسے اجازت نہ دی۔—۲-سموئیل ۱۹:۱۵-۲۳۔
اس واقعہ میں داؤد نے یسوع کی تصویرکشی کی جس کے بارے میں پطرس رسول نے کہا ”نہ وہ گالیاں کھا کر گالی دیتا تھا . . . بلکہ اپنے آپ کو سچے انصاف کرنے والے کے سپرد کرتا تھا۔“―۱-پطرس ۲:۲۳۔
آجکل مسیحیوں کو نصیحت کی گئی ہے ”فروتن بنو۔ بدی کے عوض بدی نہ کرو۔“ (۱-پطرس ۳:۸، ۹) داؤد اور یسوع مسیح کے قائمکردہ نمونے کی پیروی کر کے ہم بھی ”نیکی کے ذریعہ سے بدی پر غالب“ آ سکتے ہیں۔—رومیوں ۱۲:۱۷-۲۱۔