دورِحاضر کی ”ہیکل“ اور ”فرمانروا“
“جب وہ اندر جائینگے تو فرمانروا بھی اُنکے درمیان ہو کر جائیگا اور جب وہ باہر نکلینگے تو سب اکٹھے جائینگے۔“—حزقیایل ۴۶:۱۰۔
۱، ۲. کونسی بنیادی سچائی حزقیایل کی ہیکل کی رویا کے مفہوم کو افشا کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے؟
بعض قدیم یہودی ربّی حزقیایل کی کتاب سے پوری طرح مطمئن نہیں تھے۔ تالمود کے مطابق بعض کا خیال تھا کہ اس کتاب کو پاک صحائف کی مسلمہ فہرست سے ہی نکال دینا چاہئے تھا۔ اُنہیں ہیکل کی رویا کو سمجھنے میں بہت دقت پیش آتی تھی اسلئے اُنہوں نے اسے انسانی سمجھ سے بالاتر قرار دیا۔ دیگر بائبل عالم یہوواہ کی ہیکل کی بابت حزقیایل کی رویا سے اُلجھن کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہماری بابت کیا ہے؟
۲ سچی پرستش کی بحالی سے لے کر یہوواہ نے اپنے لوگوں کو روحانی بصیرت کی بہت سی کرنوں سے نوازا ہے جس میں یہ سمجھ بھی شامل ہے کہ خدا کی روحانی ہیکل—سچی پرستش کیلئے یہوواہ کا انتظام ہے۔a یہ بنیادی سچائی ہیکل کی بابت حزقیایل کی رویا کے بیشتر مفہوم کو افشا کرنے کیلئے ہماری مدد کرتی ہے۔ آئیے اس رویا کے چار حصوں—ہیکل، کہانت، فرمانروا اور بحالشُدہ ملک کا احتیاط سے جائزہ لیں۔ آجکل یہ ہمارے لئے کیا مطلب رکھتے ہیں؟
ہیکل اور آپ
۳. ہم اونچی چھت اور ہیکل کے مدخل کے راستوں پر دیوار پر کندہ صورتوں سے کیا سیکھتے ہیں؟
۳ تصور کریں کہ ہم اس رویتی ہیکل کا دَورہ کر رہے ہیں۔ ہم سات زینے چڑھ کر بہت بڑے پھاٹکوں میں سے ایک تک پہنچتے ہیں۔ اس کے مدخل پر کھڑے ہو کر ہم عالمِحیرت میں اوپر دیکھتے ہیں۔ اسکی چھت ۱۰۰ فٹ سے بھی زیادہ اونچی ہے! پس اس سے ہمیں یاددہانی کرائی گئی ہے کہ یہوواہ کے پرستش کے معیار نہایت بلند ہیں۔ دریچوں سے آنے والی روشنی کی کرنیں دیوار پر کندہ کھجور کے درختوں کی صورتوں کو منور کرتی ہیں جو صحائف میں پائی جانے والی راستی کی عکاسی کرتے ہیں۔ (زبور ۹۲:۱۲؛ حزقیایل ۴۰:۱۴، ۱۶، ۲۲) یہ مُقدس مقام اخلاقی اور روحانی طور پر راست لوگوں کیلئے ہے۔ اس کی مطابقت میں، ہم راست رہنا چاہتے ہیں تاکہ یہوواہ کے حضور ہماری پرستش قابلِقبول ہو۔—زبور ۱۱:۷۔
۴. کن لوگوں کا ہیکل میں داخلہ منع ہے اور اس سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟
۴ گزرگاہ کے دونوں طرف تین تین کوٹھریاں ہیں۔ کیا ہمیں اندر جانے کی اجازت ہوگی؟ یہوواہ حزقیایل سے کہتا ہے کہ کوئی بھی اجنبی جو ”دل کا نامختون“ ہو اِس میں داخل ہونے نہ پائے۔ (حزقیایل ۴۰:۱۰؛ ۴۴:۹) اسکا کیا مطلب ہے؟ خدا صرف اُنہی کو اپنے پرستاروں کے طور پر قبول کرتا ہے جو اُسکے قوانین کو عزیز رکھتے اور اُنکے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں۔ (یرمیاہ ۴:۴؛ رومیوں ۲:۲۹) وہ خوشی سے ایسے لوگوں کو اپنے روحانی خیمے، اپنی پرستش کے گھر میں آنے دیتا ہے۔ (زبور ۱۵:۱-۵) ۱۹۱۹ میں سچی پرستش کے بحال ہونے کے وقت سے لیکر یہوواہ کی زمینی تنظیم نے بتدریج اُسکے اخلاقی قوانین کی وضاحت کی ہے اور انہیں سربلند رکھا ہے۔ جو لوگ دانستہ طور پر انکو ماننے سے انکار کرتے ہیں اُنہیں اُسکے لوگوں کی جماعت میں خوشآمدید نہیں کہا جاتا۔ آجکل، غیرتائب خطاکاروں کو خارج کر دینے کا بائبل پر مبنی عمل ہماری پرستش کو پاک اور خالص رکھنے کا کام سرانجام دیتا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۵:۱۳۔
۵. (ا) مکاشفہ ۷:۹-۱۵ میں یوحنا کی رویا اور حزقیایل کی رویا میں کیا مماثلت ہے؟ (ب) حزقیایل کی رویا میں بیرونی صحن میں پرستش کرنے والے ۱۲ قبیلوں سے کن کی نمائندگی کی گئی ہے؟
۵ گزرگاہ بیرونی صحن کو جاتی ہے جہاں لوگ یہوواہ کی پرستش اور ستائش کرتے ہیں۔ یہ ہمیں یوحنا رسول کی رویا کی یاد دلاتا ہے جس میں ”بڑی بِھیڑ“ یہوواہ کے ”مقدِس میں رات دن“ اُس کی پرستش کرتی ہے۔ کھجور کے درخت دونوں رویتوں میں نمایاں ہیں۔ حزقیایل کی رویا میں مدخل کی دیواروں کو ان سے سجایا گیا ہے۔ یوحنا کی رویا میں پرستاروں کے ہاتھوں میں کھجور کی ڈالیاں ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ وہ خوشی سے یہوواہ کی حمد کرتے اور یسوع کا بطور بادشاہ خیرمقدم کرتے ہیں۔ (مکاشفہ ۷:۹-۱۵) حزقیایل کی رویا کے سیاقوسباق میں، اسرائیل کے ۱۲ قبیلے ”دوسری بھیڑوں“ کی تصویرکشی کرتے ہیں۔ (یوحنا ۱۰:۱۶؛ مقابلہ کریں لوقا ۲۲:۲۸-۳۰۔) کیا آپ بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں جو اُس کی بادشاہت کا اعلان کرنے سے یہوواہ کی تمجید کر کے خوش ہوتے ہیں؟
۶. بیرونی صحن میں حجروں کا کیا مقصد تھا اور یہ دوسری بھیڑوں کے لوگوں کو کس شرف کی یاددہانی کراتا ہے؟
۶ بیرونی صحن کا دورہ کرتے ہوئے ہم ۳۰ حجرے دیکھتے ہیں جہاں لوگ اپنی رضا کی قربانیاں کھاتے ہیں۔ (حزقیایل ۴۰:۱۷) آجکل، دوسری بھیڑیں جانوروں کی قربانی پیش نہیں کرتیں تاہم، وہ روحانی ہیکل میں خالی ہاتھ نہیں آتے۔ (مقابلہ کریں خروج ۲۳:۱۵۔) رسول پولس نے لکھا: ”ہم [یسوع] کے وسیلہ سے حمد کی قربانی یعنی ان ہونٹوں کا پھل جو اُسکے نام کا اقرار کرتے ہیں خدا کے لئے ہر وقت چڑھایا کریں۔ اور بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھولو اسلئےکہ خدا ایسی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۳:۱۵، ۱۶؛ ہوسیع ۱۴:۲) یہوواہ کے حضور ایسی قربانیاں چڑھانا بہت بڑا استحقاق ہے۔—امثال ۳: ۹، ۲۷۔
۷. ہیکل کی پیمائش ہمیں کس چیز کی یقیندہانی کراتی ہے؟
۷ حزقیایل ایک فرشتے کو رویتی ہیکل کی پیمائش کرتے دیکھتا ہے۔ (حزقیایل ۴۰:۳) اسی طرح، یوحنا رسول سے کہا گیا کہ ”اُٹھ خدا کے مقدِس اور قربانگاہ اور اُس میں عبادت کرنے والوں . . . کو ناپ۔“ (مکاشفہ ۱۱:۱) اس پیمائش سے کیا مُراد ہے؟ بدیہی طور پر، دونوں صورتوں میں یہ اس بات کی ضمانت پیش کرتی ہے کہ کوئی بھی چیز یہوواہ کو سچی پرستش کے سلسلے میں اپنے مقصد کو پورا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ اسی طرح آجکل، ہم بھی یقین رکھ سکتے ہیں کہ کوئی بھی چیز—حتیٰکہ حکومتوں کی طرف سے سخت مخالفت بھی—سچی پرستش کی بحالی کو روک نہیں سکتی۔
۸. اندورنی صحن کے دروازے میں کون داخل ہوتے ہیں اور یہ پھاٹک ہمیں کس چیز کی یاددہانی کراتے ہیں؟
۸ بیرونی صحن سے گزرتے ہوئے ہم تین پھاٹک دیکھتے ہیں جو اندرونی صحن میں کھلتے ہیں؛ اندرونی پھاٹک بیرونی پھاٹکوں کی قطار میں اور اُنہی کے برابر ہیں۔ (حزقیایل ۴۰:۶، ۲۰، ۲۳، ۲۴، ۲۷) صرف کاہن ہی اندرونی صحن میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اندرونی پھاٹک ہمیں یاددہانی کراتے ہیں کہ بالخصوص ممسوحوں کو الہٰی معیاروں اور قوانین پر پورا اُترنا چاہئے لیکن یہی قوانین اور معیار تمام سچے مسیحیوں کی راہنمائی کرتے ہیں۔ تاہم کاہنوں کا کام کیا ہے اور اسکا آجکل کیا مطلب ہے؟
ایک وفادار کہانت
۹، ۱۰. ”شاہی کاہنوں کا فرقہ“ جسکی حزقیایل کی رویا میں کاہنوں کی جماعت سے عکاسی کی گئی ہے اُس نے کیسے روحانی ہدایت فراہم کی ہے؟
۹ مسیحیت سے پہلے کے وقتوں میں کاہن ہیکل میں سخت محنت کِیا کرتے تھے۔ قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنا، اُنہیں مذبح پر چڑھانا اور ساتھی کاہنوں اور لوگوں کی خدمت کرنا واقعی جسمانی طور پر مشقتطلب کام تھا۔ تاہم اُن کا ایک اَور اہم کام بھی تھا۔ یہوواہ نے کاہنوں کی بابت حکم دیا: ”وہ میرے لوگوں کو مُقدس اور عام میں فرق بتائیں گے اور اُن کو نجس اور طاہر میں امتیاز کرنا سکھائیں گے۔“—حزقیایل ۴۴:۲۳؛ ملاکی ۲:۷۔
۱۰ کیا آپ ممسوح اشخاص کی محنت اور عاجزانہ خدمت کی قدر کرتے ہیں جو اُنہوں نے ایک جماعت، ”شاہی کاہنوں“ کے ”فرقہ“ کے طور پر سچی پرستش کی خاطر انجام دی ہے؟ (۱-پطرس ۲:۹) زمانۂقدیم کے کاہنوں کی طرح، اُنہوں نے روحانی تعلیم دینے، لوگوں کو یہ سمجھنے میں مدد دینے کے لئے پیشوائی کی ہے کہ خدا کی نظر میں کیا چیز پاک اور پسندیدہ ہے اور کیا نہیں ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) بائبل پر مبنی مطبوعات، مسیحی اجلاسوں اور کنونشنوں سے حاصل ہونے والی ایسی تعلیم نے خدا کیساتھ میلملاپ کرنے کے لئے لاکھوں لوگوں کی مدد کی ہے۔—۲-کرنتھیوں ۵:۲۰۔
۱۱. (ا) حزقیایل کی رویا کاہنوں کے معاملے میں صفائی پر کیسے زور دیتی ہے؟ (ب) آخری ایّام میں ممسوح لوگوں کی روحانی مفہوم میں کیسے صفائی کی گئی ہے؟
۱۱ تاہم، کاہنوں کو دوسروں کو پاک رہنے کی تعلیم دینے سے زیادہ کچھ کرنا ہے؛ اُنہیں خود بھی پاک رہنا ہے۔ یوں، حزقیایل نے اسرائیل کی کہانت کے پاکصاف کئے جانے کے عمل کا پیشگی نظارہ کِیا۔ (حزقیایل ۴۴:۱۰-۱۶) اسی طرح، تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ ۱۹۱۸ میں، یہوواہ اپنی روحانی ہیکل میں ”پاکصاف کرنے والے کی مانند“ بیٹھ گیا اور ممسوح کہانتی جماعت کی جانچ کی۔ (ملاکی ۳:۱-۵) سابقہ بتپرستی سے توبہ کرنے والوں کو روحانی طور پر پاک سمجھا گیا اور اُنہیں اُسکی روحانی ہیکل میں خدمتی شرف پر بحال رہنے کا موقع عطا کِیا گیا۔ پھربھی، سب کی طرح، ممسوح اشخاص بھی انفرادی طور پر روحانی یا اخلاقی اعتبار سے ناپاک ہو سکتے ہیں۔ (حزقیایل ۴۴:۲۲، ۲۵-۲۷) اُنہیں ”دُنیا سے بیداغ“ رہنے کیلئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔—یعقوب ۱:۲۷؛ مقابلہ کریں مرقس ۷:۲۰-۲۳۔
۱۲. ہمیں ممسوح لوگوں کے کام کی قدر کیوں کرنی چاہئے؟
۱۲ ہم میں سے ہر ایک پوچھ سکتا ہے، ’اپنی وفادارانہ خدمت کے کئی سالوں کے دوران ممسوح اشخاص نے جو مثال قائم کی ہے کیا مَیں اُسکی قدر کرتا ہوں؟ کیا مَیں اُنکے ایمان کی نقل کرتا ہوں؟‘ بڑی بِھیڑ کے لوگوں کیلئے یہ یاد رکھنا اچھا ہوگا کہ ممسوح لوگ ہمیشہ اُنکے ساتھ زمین پر نہیں ہونگے۔ حزقیایل کی رویا میں کاہنوں کے حق میں یہوواہ نے فرمایا: ”مَیں ہی اُنکی میراث ہوں اور تم اؔسرائیل میں اُنکو کوئی ملکیت نہ دینا۔“ (حزقیایل ۴۴:۲۸) اسی طرح، ممسوح اشخاص کی زمین پر کوئی دائمی میراث نہیں۔ وہ آسمانی میراث رکھتے ہیں، لہٰذا جبتک وہ زمین پر ہیں تو بڑی بِھیڑ کے لوگ اُنکی حمایت اور حوصلہافزائی کرنے کو بہت بڑا شرف خیال کرتے ہیں۔—متی ۲۵:۳۴-۴۰؛ ۱-پطرس ۱:۳، ۴۔
فرمانروا—وہ کون ہے؟
۱۳، ۱۴. (ا) فرمانروا کو دوسری بھیڑوں میں سے کیوں ہونا چاہئے؟ (ب) فرمانروا کس کی تصویرکشی کرتا ہے؟
۱۳ اب ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔ فرمانروا کس کی نمائندگی کرتا ہے؟ چونکہ اُس کا ذکر انفرادی اور اجتماعی دونوں کے طور پر کِیا گیا ہے اسلئے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ آدمیوں کے ایک گروہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ (حزقیایل ۴۴:۳؛ ۴۵:۸، ۹) لیکن کون؟ یقیناً ممسوح تو نہیں ہو سکتے۔ رویا میں، وہ کاہنوں کیساتھ ملکر کام کرتا ہے مگر وہ اُن میں سے ایک نہیں ہے۔ کہانتی جماعت کے برعکس، اُسے ملک میں میراث دی گئی ہے اور اُس کا مستقبل آسمان نہیں بلکہ زمین ہے۔ (حزقیایل ۴۸:۲۱) حزقیایل ۴۶:۱۰ مزید بیان کرتی ہے: ”جب [غیرکہانتی قبیلے ہیکل کے بیرونی صحن میں] جائیں گے تو فرمانروا بھی اُن کے درمیان ہوکر جائے گا اور جب وہ باہر نکلیں گے تو سب اکٹھے جائیں گے۔“ وہ اندرونی صحن میں داخل نہیں ہوتا بلکہ بیرونی صحن میں پرستش کرتا ہے اور لوگوں کیساتھ ملکر ہیکل میں آتا جاتا ہے۔ یہ پہلو حتمی طور پر واضح کرتے ہیں کہ فرمانروا دوسری بھیڑوں کی بڑی بِھیڑ میں سے ہوگا۔
۱۴ واضح طور پر، فرمانروا کو خدا کے لوگوں کے درمیان کچھ ذمہداری دی گئی ہے۔ بیرونی صحن میں، وہ مشرقی پھاٹک کی ڈیوڑھی میں بیٹھتا ہے۔ (حزقیایل ۴۴:۲، ۳) یہ اسرائیل میں شہر کے پھاٹک پر بیٹھ کر انصاف کرنے والے بزرگوں کے نگہبانی کے مرتبے کی نشاندہی کرتا ہے۔ (روت ۴:۱-۱۲؛ امثال ۲۲:۲۲) آجکل دوسری بھیڑوں میں کون نگہبانی کے مرتبوں پر فائز ہیں؟ زمینی اُمید رکھنے والے بزرگ جنکی تقرری روحالقدس کے ذریعے ہوتی ہے۔ (اعمال ۲۰:۲۸) لہٰذا نئی دُنیا میں انتظامی عہدے پر خدمت انجام دینے کے امکان کیساتھ فرمانروا جماعت اب تربیتی مرحلے سے گزر رہی ہے۔
۱۵. (ا) حزقیایل کی رویا بڑی بِھیڑ کے بزرگوں اور ممسوح کہانتی جماعت کے درمیان رشتے پر کیسے روشنی ڈالتی ہے؟ (ب) ممسوح بزرگ خدا کی زمینی تنظیم میں کیسے پیشوائی کرتے ہیں؟
۱۵ تاہم، آجکل ممسوح کہانتی جماعت اور ان بزرگ آدمیوں کے مابین کیسا رشتہ موجود ہے جو بڑی بِھیڑ کے حصے کے طور پر اب نگہبانی کے عہدوں پر خدمت انجام دے رہے ہیں؟ حزقیایل کی رویا ظاہر کرتی ہے کہ بزرگ جو بڑی بِھیڑ کے ارکان ہیں حمایتی اور ماتحتی کردار رکھتے ہیں جبکہ ممسوح روحانی پیشوائی کا کام انجام دیتے ہیں۔ وہ کیسے؟ یاد کریں کہ رویا میں کاہنوں کو لوگوں کو روحانی معاملات کی تعلیم دینے کی ذمہداری سونپی گئی تھی۔ اُنہیں قانونی معاملات میں منصف کا کردار ادا کرنے کو بھی کہا گیا تھا۔ علاوہازیں، لاویوں کو ہیکل کے پھاٹکوں پر ”نگہبانی“ کیلئے مقرر کِیا گیا تھا۔ (حزقیایل ۴۴:۱۱، ۲۳، ۲۴) واضح طور پر فرمانروا کو کاہنوں کی روحانی خدمات اور قیادت کی فروتنی سے اطاعت کرنا تھی۔ لہٰذا یہ موزوں ہے کہ جدید زمانہ میں ممسوح اشخاص سچی پاک پرستش میں پیشوائی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے ارکان انہی میں سے منتخب کئے گئے ہیں۔ ایسے وفادار ممسوح بزرگ بڑھتی ہوئی فرمانروا جماعت کو عشروں سے تربیت دے رہے ہیں اور اس جماعت کے امکانی ارکان کو اُس دن کیلئے تیار کر رہے ہیں جب خدا کی آنے والی نئی دُنیا میں اُنہیں کُل اختیار سونپا جائیگا۔
۱۶. یسعیاہ ۳۲:۱، ۲ کے مطابق تمام بزرگوں کو کیسے کام کرنا چاہئے؟
۱۶ تاہم، فرمانروا جماعت کے طور پر اضافی ذمہداریاں اُٹھانے کے منتظر یہ امکانی ارکان کس قسم کے نگہبان ہیں؟ یسعیاہ ۳۲:۱، ۲ میں پائی جانے والی پیشینگوئی بیان کرتی ہے: ”دیکھ ایک بادشاہ صداقت سے سلطنت کریگا اور شاہزادے عدالت سے حکمرانی کرینگے۔ اور ایک شخص آندھی سے پناہگاہ کی مانند ہوگا اور طوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی کی زمین میں بڑی چٹان کے سایہ کی مانند ہوگا۔“ یہ پیشینگوئی آجکل تکمیلپذیر ہے جبکہ ممسوح اور دوسری بھیڑوں کے مسیحی بزرگ گلے کو اذیت اور حوصلہشکنی کے ’طوفانوں‘ سے محفوظ رکھنے کیلئے جانفشانی کرتے ہیں۔
۱۷. مسیحی چرواہوں کو اپنے آپکو کیسا خیال کرنا چاہئے اور گلّے کو اُنہیں کیسا خیال کرنا چاہئے؟
۱۷ ”شاہزادے“ اور ”فرمانروا“ جیسے الفاظ جو عبرانی میں ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں آدمیوں کی بڑائی کرنے والے القاب کے طور پر استعمال نہیں کئے گئے۔ اِسکے برعکس، یہ اُس ذمہداری کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو یہ لوگ خدا کی بھیڑوں کی دیکھبھال کرنے کیلئے اُٹھاتے ہیں۔ یہوواہ سختی سے آگاہ کرتا ہے: ”اَے اؔسرائیل کے اُمرا تمہارے لئے یہی کافی ہے۔ ظلم اور لوٹ مار کو دُور کرو۔ عدالتوصداقت کو عمل میں لاؤ۔“ (حزقیایل ۴۵:۹) آجکل تمام بزرگوں کیلئے اس مشورت پر دل لگانا اچھا ہوگا۔ (۱-پطرس ۵:۲، ۳) گلّہ بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ یسوع نے ان چرواہوں کو ”آدمیوں کی صورت میں انعام“ کے طور پر پیش کِیا ہے۔ (افسیوں ۴:۸، اینڈبلیو) اُن کی لیاقتیں خدا کے الہامی کلام میں وضع کی گئی ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱-۷؛ ططس ۱:۵-۹) اسلئے مسیحی بزرگوں کی پیشوائی کی اطاعت کرتے ہیں۔—عبرانیوں ۱۳:۷۔
۱۸. آجکل امکانی فرمانروا جماعت کی بعض ذمہداریاں کیا ہیں اور مستقبل میں اسکی ذمہداری کیا ہوگی؟
۱۸ بائبل وقتوں میں بعض فرمانروا زیادہ اور بعض کم اختیار رکھتے تھے۔ آجکل، بڑی بِھیڑ کے بزرگ فرق فرق ذمہداریاں رکھتے ہیں۔ بعض ایک کلیسیا میں خدمت کرتے ہیں؛ بعض سفری نگہبانوں کے طور پر متعدد کلیسیاؤں کی خدمت کرتے ہیں؛ دیگر برانچ کمیٹی کے ارکان کے طور پر پورے ملک کی خدمت کرتے ہیں؛ دیگر گورننگ باڈی کی مختلف کمیٹیوں کی براہِراست مدد کرتے ہیں۔ نئی دُنیا میں، یسوع زمین پر یہوواہ کے پرستاروں کے درمیان پیشوائی کے لئے ”رویِزمین پر سردار“ مقرر کرے گا۔ (زبور ۴۵:۱۶) بلاشُبہ، یسوع ان میں سے بیشتر کو آجکل کے وفادار بزرگوں میں سے ہی منتخب کرے گا۔ چونکہ یہ آدمی اب اپنے آپ کو ثابت کر رہے ہیں اسلئے وہ مستقبل میں بیشتر کو اس سے بھی بڑے استحقاقات سے نوازے گا جب وہ نئی دُنیا میں فرمانروا جماعت کے کردار کو آشکارا کرے گا۔
آجکل خدا کے لوگوں کا مُلک
۱۹. حزقیایل کی رویا کا ملک کس کی نمائندگی کرتا ہے؟
۱۹ حزقیایل کی رویا اسرائیل کے بحالشُدہ ملک کی بھی تصویرکشی کرتی ہے۔ رویا کا یہ پہلو کس چیز کی علامت ہے؟ بحالی کی دیگر پیشینگوئیوں نے بیان کِیا کہ اسرائیل کا ملک عدن کی طرح فردوس بن جائیگا۔ (حزقیایل ۳۶:۳۴، ۳۵) آجکل ہم بھی بحالشُدہ ”ملک“ سے استفادہ کرتے ہیں اور یہ بھی ایک طرح سے عدن جیسا ہی ہے۔ ہم اکثر اپنے روحانی فردوس کا اسی طرح ذکر کرتے ہیں۔ مینارِنگہبانی نے ہمارے ”ملک“ کو خدا کے منتخب لوگوں کی ”کارگزاری کی عملداری“ کے طور پر بیان کِیا ہے۔b یہوواہ کا خادم جہاں کہیں بھی ہو جب تک وہ یسوع کے نقشِقدم پر چلنے سے سچی پرستش کو سربلند رکھتا ہے وہ اس بحالشُدہ ملک میں ہے۔—۱-پطرس ۲:۲۱۔
۲۰. حزقیایل کی رویا کے ”مُقدس ہدیہ“ سے ہم کیا سیکھتے ہیں اور ہم کیسے اس اصول کا اطلاق کر سکتے ہیں؟
۲۰ ملک کے اُس حصے کی بابت کیا ہے جو ”مُقدس ہدیہ“ کہلاتا ہے؟ لوگوں کی طرف سے کہانت اور شہر کی کفالت کیلئے اسکا ہدیہ دینا پڑتا تھا۔ اسی طرح، ”ملک کے سب لوگ“ فرمانروا کیلئے زمین کا ایک حصہ ہدیے میں دیا کرتے تھے۔ آجکل اسکا کیا مطلب ہے؟ اسکا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ خدا کے لوگوں پر تنخواہدار پادری طبقے کا بوجھ ڈال دیا جائے۔ (۲-تھسلنیکیوں ۳:۸) اس کے برعکس، آجکل بزرگوں کو بنیادی طور پر روحانی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں کام میں ہاتھ بٹانا اور تعاون اور اطاعتشعاری کا جذبہ ظاہر کرنا شامل ہے۔ تاہم، حزقیایل کے زمانے کی طرح، یہ ہدیہ کسی انسان کیلئے نہیں بلکہ ”یہوواہ کیلئے“ دیا جاتا ہے۔—حزقیایل ۴۵:۱، ۷، ۱۶۔
۲۱. حزقیایل کی رویا میں ہم ملک کی تقسیم سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲۱ صرف کاہنوں اور فرمانروا کو ہی اس بحالشُدہ ملک میں علاقے تفویض نہیں کئے جاتے۔ ملک کی تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۲ قبیلوں میں سے ہر ایک کو یقینی میراث ملتی ہے۔ (حزقیایل ۴۷:۱۳، ۲۲، ۲۳) لہٰذا بڑی بِھیڑ کے لوگوں کو آجکل نہ صرف روحانی فردوس میں جگہ ملتی ہے بلکہ جب وہ خدا کی بادشاہت کی زمینی عملداری میں میراث حاصل کرتے ہیں تو اُنہیں وہاں بھی علاقہ تفویض کِیا جائیگا۔
۲۲. (ا) حزقیایل کی رویا میں شہر کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟ (ب) شہر کی تمام اطراف میں دروازے ہونے سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲۲ آخر میں، رویا میں شہر کس کی نمائندگی کرتا ہے؟ یہ کوئی آسمانی شہر نہیں ہے کیونکہ یہ ”عام“ (غیرمقدس) جگہ کے وسط میں واقع ہے۔ (حزقیایل ۴۸:۱۵-۱۷) لہٰذا یہ کوئی زمینی چیز ہے۔ شہر سے کیا مُراد ہے؟ کیا یہ لوگوں کے باہم جمع ہوکر کسی معاشرے اور تنظیم کو تشکیل دینے کا خیال پیش نہیں کرتا؟ جیہاں۔ لہٰذا، شہر زمینی انتظامیہ کا عکس پیش کرتا ہے جو راست زمینی معاشرے کو تشکیل دینے والے تمام لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ یہ آنے والی ”نئی زمین“ پوری آبوتاب سے سرگرمِعمل ہوگی۔ (۲-پطرس ۳:۱۳) تمام اطراف پر شہر کے پھاٹک، ہر قبیلے کے لئے ایک، کشادگی کی خوب وضاحت کرتے ہیں۔ آجکل، خدا کے لوگ کسی خفیہ، پوشیدہ انتظامیہ کے تحت نہیں ہیں۔ ذمہدار بھائی قابلِرسائی ہیں اور اُنکی راہنمائی کرنے والے اصولوں سے سب لوگ واقف ہیں۔ یہ حقیقت کہ تمام قبیلوں کے لوگ اُس زمین کو کاشت کرتے ہیں جس سے شہر کی کفالت ہوتی ہے ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ دوسری بھیڑیں عالمگیر پیمانے پر خدا کے لوگوں کی انتظامی کارگزاریوں کی مالی طور پر بھی کفالت کرتی ہیں۔—حزقیایل ۴۸:۱۹، ۳۰-۳۴۔
۲۳. اگلے مضمون میں ہم کس چیز پر غور کرینگے؟
۲۳ تاہم، ہیکل کے مقدِس سے بہنے والے دریا کی بابت کیا ہے؟ یہ آجکل اور مستقبل میں کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے، اس سلسلے کے تیسرے اور آخری مضمون کا موضوع یہی ہوگا۔
[فٹنوٹ]
a دیکھیں واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ کتاب ریولیشن—اٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ، صفحہ ۶۴، پیراگراف ۲۲۔
b دیکھیں مینارِنگہبانی، ستمبر ۱۹۹۵، صفحہ ۱۸۔
اعادے کے نکات
◻حزقیایل کی رویا میں ہیکل کس کی تصویرکشی کرتی ہے؟
◻ہیکل میں خدمت کرنے والے کاہن کس کی تصویرکشی کرتے ہیں؟
◻فرمانروا جماعت کیا ہے اور اسکی بعض ذمہداریاں کیا ہیں؟
◻حزقیایل کی رویا میں مُلک کیا ہے اور کس مفہوم میں اسے ۱۲ قبیلوں میں تقسیم کِیا جاتا ہے؟
◻شہر کس چیز کی تصویرکشی کرتا ہے؟
[صفحہ 15 پر نقشہ/ڈائیگرام]
(تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)
حزقیایل کی رویا میں جس طرح ملک کی تقسیم کی گئی
بارہ قبیلے
بڑا سمندر
گلیل کی جھیل
دریائے یردن
بحرِمُردار
دان
آشر
نفتالی
منسی
افرائیم
روبن
یہوداہ
فرمانروا
بنیمین
شمعون
اشکار
زبولون
جد
[ڈائیگرام]
مُقدس ہدیے کی توسیع
الف۔ ”یہوواہ خود وہاں پر ہے“ (یہوواہ شامع)؛ ب۔ شہر کی زرخیز زمین
لاویوں کا حصہ
یہوواہ کا مقدِس
کاہنوں کا حصہ
ب الف ب