خدا کی ہیکل پر ”خوب غور کر“!
”اے آدمزاد . . . جو کچھ مَیں تجھے دکھاؤں اُس سب پر خوب غور کر . . .جوکچھ تُو دیکھتا ہے بنیاسرائیل سے بیان کر۔“—حزقیایل ۴۰:۴۔
۱. خدا کے برگزیدہ لوگوں نے ۵۹۳ ق.س.ع. میں اپنے آپکو کس صورتحال میں پایا؟
سن ۵۹۳ ق.س.ع. اسرائیل کی اسیری کا ۱۴واں سال تھا۔ بابل میں رہنے والے یہودیوں کو اپنا عزیز وطن یقیناً بہت دُور دکھائی دیتا ہوگا۔ اُن میں سے بیشتر نے جب آخری مرتبہ یروشلیم کو دیکھا تو وہ شعلوں کی لپیٹ میں تھا، اُس کی مضبوط فصیل مسمار ہو چکی تھی اور اُسکی عظیمالشان عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔ یہوواہ کی ہیکل—جو کبھی تمام زمین پر سچی پرستش کا مرکز اور اُس شہر کی شان تھی—ملیامیٹ ہو چکی تھی۔ ابھی اسرائیل کی اسیری کے بہت سے سال باقی تھے۔ موعودہ رہائی میں ۵۶ سال لگیں گے۔—یرمیاہ ۲۹:۱۰۔
۲. یروشلیم میں خدا کی ہیکل کی یاد نے حزقیایل کو کیوں افسردہ کر دیا ہوگا؟
۲ وفادار نبی حزقیایل یہ سوچ کر غمگین ہو گیا ہوگا کہ سینکڑوں میل دُور خدا کی ہیکل کھنڈر اور جنگلی جانوروں کی آماجگاہ بن چکی تھی۔ (یرمیاہ ۹:۱۱) خود اُس کے باپ، بوزی نے بطور کاہن وہاں خدمت انجام دی تھی۔ (حزقیایل ۱:۳) حزقیایل بھی اسی استحقاق سے لطفاندوز ہوا ہوتا لیکن اُسے تو نوعمری ہی میں ۶۱۷ ق.س.ع. میں یروشلیم کے اُمرأ کے ساتھ اسیر کر لیا گیا تھا۔ اب تقریباً ۵۰ سال کی عمر میں حزقیایل غالباً جانتا تھا کہ وہ دوبارہ یروشلیم کبھی نہیں دیکھے گا اور نہ ہی اُسکی دوبارہ تعمیر میں شریک ہو سکے گا۔ پس تصور کریں کہ حزقیایل کیلئے پُرجلال ہیکل کی بابت رویا دیکھنا کیا معنی رکھتا تھا!
۳. (ا) حزقیایل کی ہیکل کی رویا کا مقصد کیا تھا؟ (ب) رویا کے چار بنیادی حصے کیا ہیں؟
۳ حزقیایل کی کتاب کے نو ابواب پر مشتمل اس جامع رویا نے اسیر یہودیوں کو ایمانافروز وعدہ فراہم کِیا۔ سچی پرستش کو بحال کِیا جائیگا! اُس وقت سے لیکر صدیوں بعد تک حتیٰکہ ہمارے زمانے تک یہ رویا یہوواہ سے محبت رکھنے والوں کیلئے حوصلہافزائی کا ماخذ ثابت ہوئی ہے۔ وہ کیسے؟ آئیے پہلے اس بات کا جائزہ لیں کہ یہ نبوّتی رویا اسیر یہودیوں کیلئے کیا مطلب رکھتی تھی۔ اسکے چار بنیادی حصے ہیں: ہیکل، کہانت، فرمانروا اور بحالشُدہ ملک۔
ہیکل کی بحالی
۴. حزقیایل کو اُس کی رویا کے آغاز میں کہاں لے جایا جاتا ہے، وہ وہاں کیا دیکھتا ہے اور کون اُسے مفصل دورہ کراتا ہے؟
۴ سب سے پہلے حزقیایل کو ایک اونچے مقام، ”ایک نہایت بلند پہاڑ“ پر لایا جاتا ہے۔ پہاڑ پر جنوب کی طرف، فصیلدار شہر کی مانند ایک بہت بڑی ہیکل واقع ہے۔ ایک فرشتہ ”جسکی جھلک پیتل کی سی ہے“ نبی کو پوری عمارت کی سیر کراتا ہے۔ (حزقیایل ۴۰:۲، ۳) رویا میں آگے چل کر حزقیایل دیکھتا ہے کہ فرشتہ ہیکل کے ایک ہی جیسے تین پھاٹکوں اور اُنکی ڈیوڑھیوں، بیرونی صحن، اندورنی صحن، حجروں، مذبح اور ہیکل کے مقدِس کی اُسکے پاک اور پاکترین مقام سمیت بڑی احتیاط سے پیمائش کر رہا ہے۔
۵. (ا) یہوواہ حزقیایل کو کیا یقیندہانی کراتا ہے؟ (ب) “بادشاہوں کی لاشیں“ کیا تھیں جنہیں ہیکل سے دور کِیا جانا تھا اور یہ کیوں ضروری تھا؟
۵ اس کے بعد، یہوواہ خود رویا میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ ہیکل میں داخل ہوتا ہے اور حزقیایل کو یقین دلاتا ہے کہ وہ اُس میں سکونت کریگا۔ تاہم یہوواہ یہ کہتے ہوئے اپنے گھر کو پاکصاف کرنے کا حکم دیتا ہے، ”پس اب وہ اپنی بدکاری اور اپنے بادشاہوں کی لاشیں مجھ سے دُور کر دیں تو مَیں ابد تک اُنکے درمیان رہونگا۔“ (حزقیایل ۴۳:۲-۴، ۷، ۹ ) یہ ”بادشاہوں کی لاشیں“ بدیہی طور پر بتوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یروشلیم کے سرکش حکمرانوں اور لوگوں نے خدا کی ہیکل کو بتوں سے ناپاک کر دیا تھا اور درحقیقت اُنکو معبود بنا لیا تھا۔ (مقابلہ کریں عاموس ۵:۲۶۔) زندہ معبودوں یا دیوتاؤں کی نسبت یہوواہ کی نظروں میں یہ بےجان مکروہ چیزیں تھیں۔ انہیں دُور کِیا جانا چاہئے تھا۔—احبار ۲۶:۳۰، یرمیاہ ۱۶:۱۸۔
۶. ہیکل کی پیمائش کس بات کی نمائندگی کرتی تھی؟
۶ رویا کے اس حصے کا مقصد کیا تھا؟ اس نے اسیروں کو خدا کی ہیکل میں سچی پرستش کی مکمل بحالی کی یقیندہانی کرائی۔ مزیدبرآں، پیمائش نے الہٰی ضمانت فراہم کی کہ رویا کی تکمیل یقینی ہے۔ (مقابلہ کریں یرمیاہ ۳۱:۳۹، ۴۰؛ زکریاہ ۲:۲-۸۔) ہر طرح کی بتپرستی کا نامونشان مٹا دیا جائیگا۔ یہوواہ اپنے گھر کو ایک مرتبہ پھر برکت بخشے گا۔
کہانت اور فرمانروا
۷. لاویوں اور کاہنوں کے متعلق کونسی معلومات فراہم کی جاتی ہیں؟
۷ کہانت کو بھی پاکصاف یا خالص بنائے جانے کے عمل سے گزرنا تھا۔ لاویوں کو بتپرستی میں پڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کی جانی تھی جبکہ صدوق کے کہانتی فرزندوں کو پاکصاف رہنے کیلئے تحسین اور اجر سے نوازا جانا تھا۔a تاہم کاہنوں اور لاویوں دونوں کو خدا کے بحالشُدہ گھر میں خدمتی عہدوں پر فائز کِیا جائیگا جسکا انحصار یقیناً اُنکی انفرادی وفاداری پر ہوگا۔ اسکے علاوہ، یہوواہ نے فرمایا: ”وہ میرے لوگوں کو مُقدس اور عام میں فرق بتائینگے اور اُن کو نجس اور طاہر میں امتیاز کرنا سکھائینگے۔“ (حزقیایل ۴۴:۱۰-۱۶، ۳۲) پس کہانت کو بحال کِیا جانا تھا اور کاہنوں کی وفادارانہ ثابتقدمی کو بااجر ہونا تھا۔
۸. (ا) قدیم اسرائیل کے فرمانروا کون تھے؟ (ب) کن طریقوں سے حزقیایل کی رویا کا فرمانروا سچی پرستش میں سرگرمِعمل تھا؟
۸ رویا ایک ایسے شخص کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جو ”فرمانروا“ کہلاتا ہے۔ موسیٰ کے زمانے سے لیکر قوم میں فرمانروا مقرر کئے جاتے تھے۔ ”فرمانروا“ کیلئے عبرانی لفظ ناسی کا مطلب آبائی گھرانے، قبیلے یا قوم کا سردار بھی ہو سکتا ہے۔ حزقیایل کی رویا میں، اسرائیل کے حاکموں کو اجتماعی طور پر لوگوں پر ظلم کرنے کے باعث سرزنش کی گئی اور اُنہیں غیرجانبداری اور انصافپسندی کی تلقین کی گئی ہے۔ تاہم، حزقیایل دیکھتا ہے کہ فرمانروا، کہانتی جماعت کا حصہ نہ ہونے کے باوجود سچی پرستش میں نمایاں طور پر سرگرمِعمل ہے۔ وہ غیرکہانتی قبیلوں کے ساتھ بیرونی صحن میں آتا جاتا ہے، مشرقی پھاٹک کی ڈیوڑھی میں بیٹھتا ہے اور لوگوں کو کچھ قربانیاں گذراننے کے لئے فراہم کرتا ہے۔ (حزقیایل ۴۴:۲، ۳؛ ۴۵:۸-۱۲، ۱۷) یوں اس رویا نے حزقیایل کے لوگوں کو یقیندہانی کرائی کہ بحالشُدہ قوم کے لئے مثالی پیشوا برپا کئے جائیں گے ایسے شخص جو خدا کی اُمت کو منظم کرنے میں کہانت کی حمایت اور روحانی معاملات میں عمدہ نمونہ قائم کرینگے۔
مُلک
۹. (ا) مُلک کو کیسے تقسیم کِیا جانا تھا، تاہم کون وراثت حاصل نہیں کرینگے؟ (ب) مُقدس ہدیہ کیا تھا اور اس میں کیا شامل تھا؟
۹ آخر میں، حزقیایل کی رویا اسرائیل کے ملک کا سرسری جائزہ پیش کرتی ہے۔ اسے قرعہ ڈالکر ہر قبیلے میں تقسیم کِیا جانا تھا۔ فرمانروا کو بھی میراث حاصل ہوگی۔ تاہم کاہنوں کو میراث نہیں ملیگی کیونکہ یہوواہ نے فرمایا، ”مَیں ہی اُنکی میراث ہوں۔“ (حزقیایل ۴۴:۱۰، ۲۸؛ گنتی ۱۸:۲۰) رویا نے ظاہر کِیا کہ فرمانروا کی زمینی میراث مُقدس ہدیہ کہلانے والے خاص علاقے کے دونوں طرف واقع ہوگی۔ یہ زمین کا ایک چوکور ٹکڑا تھا جو تین حصوں میں منقسم تھا—بالائی حصہ تائب لاویوں کیلئے، وسطی حصہ کاہنوں کے لئے اور زیریں حصہ شہر اور اُس کی زرخیز زمین کے لئے تھا۔ یہوواہ کی ہیکل کاہنوں کے حصے یعنی چوکور ہدیے کے وسطی علاقے میں واقع ہوگی۔—حزقیایل ۴۵:۱-۷۔
۱۰. مُلک کی تقسیم کی بابت پیشینگوئی کا وفادار اسیر یہودیوں کیلئے کیا مطلب تھا؟
۱۰ ان تمام باتوں نے اسیر لوگوں کے حوصلے واقعی بلند کر دئے ہونگے! ہر خاندان کو اُس ملک میں میراث ملنے کی یقیندہانی کرائی گئی تھی۔ (مقابلہ کریں میکاہ ۴:۴۔) وہاں سچی پرستش کو بلند، مرکزی مقام حاصل ہوگا۔ نیز حزقیایل کی رویا پر غور کریں کہ فرمانروا کاہنوں کی طرح لوگوں کی طرف سے عطاکردہ زمین پر رہیگا۔ (حزقیایل ۴۵:۱۶) لہٰذا بحالشُدہ ملک میں، لوگوں نے یہوواہ کی طرف سے پیشوائی کیلئے مقرر اشخاص کی فرمانبرداری اور اطاعتشعاری سے حمایت کرتے ہوئے اُنکے کام کیلئے ہدیہ دینا تھا۔ مجموعی طور پر، یہ ملک تنظیم، تعاون اور سلامتی کا نمونہ تھا۔
۱۱، ۱۲. (ا) یہوواہ کیسے نبوّتی طور پر اپنے لوگوں کو یقیندہانی کراتا ہے کہ وہ اُن کی بحالشُدہ آبائی سرزمین کو برکت دے گا؟ (ب) دریا کے کنارے درختوں کے ذریعے کس چیز کی تصویرکشی کی گئی تھی؟
۱۱ کیا یہوواہ اُن کے ملک کو برکت دے گا؟ پیشینگوئی اس سوال کا جواب دل کو گرما دینے والے منظر کی عکاسی کرنے سے دیتی ہے۔ ہیکل سے ایک دریا نکلتا ہے جو کہ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ کشادہ ہوتا جاتا ہے اور بالآخر بحرِمُردار میں جا گِرتا ہے۔ وہاں یہ بےجان پانیوں میں جان ڈال دیتا ہے اور ساحل کے ساتھ ساتھ ماہیگیری کا کاروبار پھلنےپھولنے لگتا ہے۔ دریا کے کناروں پر ایسے بہت سے درخت ہیں جو سارا سال پھل دیتے ہیں جن میں غذائیت اور شفائی قوت پائی جاتی ہے۔—حزقیایل ۴۷:۱-۱۲۔
۱۲ اسیر لوگوں کے لئے یہ وعدہ بحالی کی اُن پہلی پیشینگوئیوں کی بازگشت اور تصدیق تھا جن کی وہ بہت قدر کرتے تھے۔ ایک سے زیادہ مرتبہ یہوواہ کے مُلہَم نبی بحال اور ازسرِنو آباد اسرائیل کا فردوسی اصطلاحات میں تذکرہ کر چکے تھے۔ بنجر علاقوں کے زرخیز بن جانے کے نبوّتی موضوع کا باربار ذکر کِیا جا چکا تھا۔ (یسعیاہ ۳۵:۱، ۶، ۷؛ ۵۱:۳؛ حزقیایل ۳۶:۳۵؛ ۳۷:۱-۱۴) لہٰذا لوگ توقع رکھ سکتے تھے کہ یہوواہ کی زندگیبخش برکات بحالشُدہ ہیکل سے ایک دریا کی مانند پھوٹ نکلینگی۔ نتیجتاً، روحانی طور پر مُردہ قوم زندہ ہو جائے گی۔ بحالشُدہ لوگوں کو غیرمعمولی روحانی آدمی عطا کئے جائیں گے—ایسے آدمی جو رویتی دریا کے کناروں پر واقع درختوں کی طرح مضبوط اور راستباز ہونگے، ایسے آدمی جو بربادشُدہ ملک کو دوبارہ تعمیر کرنے میں پیشوائی کریں گے۔ یسعیاہ نے بھی ”صداقت کے درختوں“ کی بابت لکھا جو ”پُرانے اُجاڑ مکانوں کو تعمیر کریں گے۔“—یسعیاہ ۶۱:۳، ۴۔
رویا کی تکمیل کب ہوتی ہے؟
۱۳. (ا) کس مفہوم میں یہوواہ نے اپنے لوگوں کو ”صداقت کے درختوں“ سے برکت دی؟ (ب) بحرِمُردار کی بابت پیشینگوئی کی تکمیل کیسے ہوئی؟
۱۳ کیا واپس آنے والے اسیروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا؟ بالکل نہیں! ایک بحالشُدہ بقیہ ۵۳۷ ق.س.ع. میں اپنے نہایت ہی عزیز وطن کو لوٹا۔ وقت آنے پر، عزرا فقیہ، حجی اور زکریاہ نبی اور سردار کاہن یشوع جیسے ”صداقت کے درختوں“ کی زیرِقیادت مدتوں سے بربادشُدہ مقامات کو ازسرِنو تعمیر کِیا گیا۔ مثلاً نحمیاہ اور زربابل جیسے فرمانرواؤں نے عدلوصداقت سے ملک پر حکمرانی کی۔ یہوواہ کی ہیکل بحال ہو گئی اور اُس کی زندگیبخش فراہمیاں—اُس کے عہد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی برکات—پھر سے جاری ہو گئیں۔ (استثنا ۳۰:۱۹؛ یسعیاہ ۴۸:۱۷-۲۰) ایک برکت علم تھا۔ کہانت بحال کر دی گئی تھی اور کاہن لوگوں کو شریعت کی تعلیم دیتے تھے۔ (ملاکی ۲:۷) نتیجتاً، لوگ روحانی طور پر زندہ ہو گئے اور ایک بار پھر یہوواہ کے پھلدار خادم بن گئے جس کی عکاسی بحرِمُردار کے شفا پانے اور اس میں زندگی کی بحالی اور نفعبخش ماہیگیری کے کاروبار کا ذریعہ بننے سے کی گئی ہے۔
۱۴. بابل کی اسیری سے یہودیوں کی واپسی کے بعد جوکچھ واقع ہوا، اُس کی حزقیایل کی پیشینگوئی سے بھی بڑی تکمیل کیوں ہونی تھی؟
۱۴ کیا محض یہی واقعات حزقیایل کی رویا کی تکمیل ہیں؟ نہیں؛ اس سے بھی بڑی چیز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ غور کریں: حزقیایل کی رویا میں جس ہیکل کی پیمائش کی گئی اُسے بیان کے مطابق تعمیر نہیں کِیا جا سکتا تھا۔ سچ ہے کہ یہودیوں نے رویا کو سنجیدگی سے لیا اور اس کے بعض حصوں کا حقیقی اطلاق کِیا۔b تاہم، یہ رویتی ہیکل مجموعی طور پر اتنی بڑی اور وسیع تھی کہ یہ سابقہ ہیکل کے مقام یعنی موریاہ کے پہاڑ پر پوری نہیں آ سکتی تھی۔ علاوہازیں، حزقیایل کی ہیکل شہر میں نہیں تھی بلکہ یہ کچھ فاصلے پر ایک الگ قطعۂاراضی پر واقع تھی جبکہ دوسری ہیکل کو اُسی مقام پر یعنی یروشلیم کی فصیلوں کے اندر موریاہ کے پہاڑ پر بنایا گیا تھا جہاں پہلی ہیکل موجود تھی۔ (عزرا ۱:۱، ۲) مزیدبرآں، یروشلیم کی ہیکل سے کبھی کوئی حقیقی دریا نہیں نکلا تھا۔ لہٰذا قدیم اسرائیل نے حزقیایل کی پیشینگوئی کی برائےنام تکمیل دیکھی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رویا کی ایک بڑی، روحانی تکمیل بھی ضرور ہوگی۔
۱۵. (ا) یہوواہ کی روحانی ہیکل نے کب کام کرنا شروع کِیا؟ (ب) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ حزقیایل کی رویا کی تکمیل زمین پر مسیح کی موجودگی کے دوران نہیں ہوئی تھی؟
۱۵ واضح طور پر ہمیں یہوواہ کی عظیم روحانی ہیکل کی صورت میں حزقیایل کی رویا کی اہم تکمیل کے مشتاق ہونا چاہئے جس کی بابت پولس رسول نے عبرانیوں کی کتاب میں بڑی مفصل بحث کی ہے۔ جب ۲۹ س.ع. میں یسوع مسیح، سردار کاہن کے طور پر مسح ہوا تو اس ہیکل نے اپنا کام شروع کر دیا۔ تاہم کیا حزقیایل کی رویا کی تکمیل یسوع کے زمانے میں ہوئی تھی؟ بدیہی طور پر نہیں۔ سردار کاہن کے طور پر، یسوع نے اپنے بپتسمے، اپنی قربانی کی موت اور پاکترین مقام یعنی آسمان میں داخل ہونے سے یومِکفارہ کے نبوّتی مفہوم کو پورا کِیا تھا۔ (عبرانیوں ۹:۲۴) تاہم، دلچسپی کی بات ہے کہ حزقیایل کی رویا ایک مرتبہ بھی سردار کاہن یا یومِکفارہ کا ذکر نہیں کرتی۔ لہٰذا اس رویا کا کسی بھی طرح پہلی صدی س.ع. کی نشاندہی کرنا خلافِقیاس معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کا اطلاق کس وقتی مدت پر ہوتا ہے؟
۱۶. حزقیایل کی رویا کا پسمنظر ہمیں کس دوسری پیشینگوئی کی یاددہانی کراتا ہے اور یہ ہمیں حزقیایل کی رویا کی بنیادی تکمیل کے وقت کا اندازہ لگانے میں کیسے مدد دیتا ہے؟
۱۶ اسکے جواب کیلئے آئیں ایک بار پھر رویا پر غور کریں۔ حزقیایل نے تحریر کِیا: ”وہ مجھے خدا کی رویتوں میں اؔسرائیل کے ملک میں لے گیا اور اُس نے مجھے ایک نہایت بلند پہاڑ پر اُتارا اور اُسی پر جنوب کی طرف گویا ایک شہر کا سا نقشہ تھا۔“ (حزقیایل ۴۰:۲) اس رویا کا پسمنظر یعنی ”ایک نہایت بلند پہاڑ“ ہمیں میکاہ ۴:۱ کی یاد دلاتا ہے جو بیان کرتی ہے: ”آخری دنوں میں یوں ہوگا کہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائیگا اور سب ٹیلوں سے بلند ہوگا اور اُمتیں وہاں پہنچیں گی۔“ یہ پیشینگوئی کب تکمیل کو پہنچتی ہے؟ میکاہ ۴:۵ ظاہر کرتی ہے کہ اسکا آغاز اُس وقت ہوگا جبکہ قومیں جھوٹے معبودوں کی پرستش کر رہی ہونگی۔ دراصل، یہ ہمارا ہی زمانہ یعنی ”آخری دن“ ہیں جب سچی پرستش کو سربلند کِیا گیا ہے اور خدا کے خادموں کی زندگیوں میں اسے اسکے مناسب مقام پر بحال کِیا گیا ہے۔
۱۷. ملاکی ۳:۱-۵ ہمیں یہ اندازہ لگانے میں کیسے مدد دیتی ہیں کہ حزقیایل کی رویا کی ہیکل کب پاکصاف کی گئی؟
۱۷ کس چیز نے اس بحالی کو ممکن بنایا؟ یاد کریں کہ حزقیایل کی رویا کا نہایت اہم واقعہ یہ تھا کہ یہوواہ ہیکل میں آتا ہے اور اپنے گھر کو بتپرستی سے پاک کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ خدا کی روحانی ہیکل کو کب پاکصاف کِیا گیا تھا؟ ملاکی ۳:۱-۵ میں درج الفاظ کے مطابق یہوواہ ایک ایسے وقت کی پیشینگوئی کرتا ہے جب وہ اپنے ”عہد کے رسول،“ یسوع مسیح کے ہمراہ ”ہیکل میں آ موجود“ ہوگا۔ مقصد؟ ”وہ سنار کی آگ اور دھوبی کے صابون کی مانند“ ہوگا۔ صفائی کا یہ عمل پہلی عالمی جنگ کے دوران شروع ہوا۔ نتیجہ؟ یہوواہ نے اپنے گھر میں سکونت کی ہے اور ۱۹۱۹ سے لیکر اپنے لوگوں کے روحانی ”ملک“ کو برکت بخشی ہے۔ (یسعیاہ ۶۶:۸) لہٰذا، ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہیکل کی بابت حزقیایل کی پیشینگوئی آخری ایّام کے دوران ایک اہم تکمیل کو پہنچتی ہے۔
۱۸. ہیکل کی رویا کی حتمی تکمیل کب ہوگی؟
۱۸ بحالی کی دیگر پیشینگوئیوں کی طرح، حزقیایل کی رویا کی فردوس میں ایک مزید، حتمی تکمیل بھی ہوگی۔ صرف اُسی وقت راستدل نوعِانسان خدا کی ہیکل کے بندوبست سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں گے۔ اُس وقت مسیح ۱،۴۴،۰۰۰ پر مشتمل اپنی آسمانی کہانتی جماعت کیساتھ اپنی فدیے کی قربانی کی قدروقیمت کو بروئےکار لائیگا۔ مسیح کی حکمرانی کے تحت تمام فرمانبردار رعایا کو کاملیت تک پہنچایا جائیگا۔ (مکاشفہ ۲۰:۵، ۶) تاہم، فردوس حزقیایل کی رویا کی تکمیل کا اوّلین وقت نہیں ہو سکتی۔ کیوں نہیں؟
رویا ہمارے ایّام پر توجہ مرکوز کرتی ہے
۱۹، ۲۰. فردوس کی بجائے رویا کی بنیادی تکمیل کا آجکل واقع ہونا کیوں ضروری ہے؟
۱۹ حزقیایل نے ایک ایسی ہیکل کو دیکھا جسے بتپرستی اور روحانی حرامکاری سے پاکصاف کئے جانے کی ضرورت تھی۔ (حزقیایل ۴۳:۷-۹) یقیناً اسکا اطلاق فردوس میں یہوواہ کی پرستش پر نہیں ہو سکتا۔ مزیدبرآں، رویا میں کاہن ممسوح کہانتی جماعت کی تصویرکشی کرتے ہیں جو ابھی زمین پر ہی ہیں یہ اُن کی آسمانی قیامت کے بعد یا عہدِہزارسالہ کے وقت کا عکس پیش نہیں کرتے۔ کیوں؟ غور فرمائیں کہ کاہنوں کو اندورنی صحن میں خدمت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مینارِنگہبانی کے پچھلے مضامین نے ظاہر کِیا ہے کہ یہ صحن مسیح کے ماتحت کاہنوں کی منفرد روحانی حیثیت کی عکاسی کرتا ہے جبکہ ابھی وہ زمین پر ہی ہیں۔c اس بات پر بھی غور کریں کہ رویا کاہنوں کی ناکاملیت کو عیاں کرتی ہے۔ اُن سے اپنے گناہوں کے لئے قربانیاں پیش کرنے کا تقاضا کِیا گیا ہے۔ اُنہیں روحانی اور اخلاقی طور پر ناپاک ہو جانے کے خطرے سے آگاہ کِیا گیا ہے۔ پس وہ قیامتیافتہ ممسوح اشخاص کی تصویرکشی نہیں کرتے جنکی بابت پولس نے لکھا: ”نرسنگا پھونکا جائے گا اور مُردے غیرفانی حالت میں اُٹھینگے۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۲؛ حزقیایل ۴۴:۲۱، ۲۲، ۲۵، ۲۷) رویا میں موجود کاہن لوگوں کے ساتھ ملجل کر رہتے ہیں اور براہِراست خدمت انجام دیتے ہیں۔ فردوس میں ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اُس وقت کہانتی جماعت آسمان میں ہوگی۔ لہٰذا، یہ رویا آجکل زمین پر ممسوح اشخاص کے ”بڑی بِھیڑ“ کے ساتھ ملکر کام کرنے کا عمدہ منظر پیش کرتی ہے۔—مکاشفہ ۷:۹؛ حزقیایل ۴۲:۱۴۔
۲۰ پس، ہیکل کی بابت حزقیایل کی رویا آجکل زیرِتکمیل روحانی صفائی کے خوشگوار اثرات کا انکشاف کرتی ہے۔ تاہم یہ آپ کے لئے کیا مطلب رکھتا ہے؟ یہ کوئی پیچیدہ الہٰیاتی معمہ نہیں ہے۔ یہ رویا آپ کی واحد خدائےبرحق، یہوواہ کی روزمرّہ پرستش سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اپنے اگلے مضمون میں ہم دیکھینگے کہ کیسے۔
[فٹنوٹ]
a اس چیز نے شاید حزقیایل کو ذاتی طور پر متاثر کِیا ہو کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ خود صدوق کے کہانتی خاندان میں سے تھا۔
b مثال کے طور پر، قدیم مِشنہ کے مطابق بحالشُدہ ہیکل میں قربانگاہ، ہیکل کے دو دروازے اور کھانا پکانے کے حصے حزقیایل کی رویا کی مطابقت میں بنائے گئے تھے۔
c دیکھیں مینارِنگہبانی اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۴؛ واچٹاور، دسمبر ۱، ۱۹۷۲، صفحہ ۷۱۸۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
◻حزقیایل کی ہیکل کی رویا اور اسکی کہانت کی پہلی تکمیل کیا تھی؟
◻حزقیایل کی رویا میں مُلک کے تقسیم کئے جانے کی وقت سے پہلے تکمیل کیسے ہوئی؟
◻قدیم اسرائیل کی بحالی میں، کس نے فرمانرواؤں اور ”صداقت کے درختوں“ کا کردار ادا کِیا؟
◻حزقیایل کی ہیکل کی رویا کی حتمی تکمیل ہونا کیوں ضروری ہے؟