یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏3 ص.‏ 18-‏23
  • ہمارے ”‏ملک“‏ پر یہوواہ کی برکت

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہمارے ”‏ملک“‏ پر یہوواہ کی برکت
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بحال‌شُدہ مُلک میں ایک دریا بہتا ہے
  • برکات کی حد درجہ روانی
  • پانی زندگی‌بخش ہے!‏
  • دریا فردوس میں بہتا ہے
  • حزقی‌ایل کی کتاب سے اہم نکات—‏حصہ دوم
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • خدا کی ہیکل پر ”‏خوب غور کر“‏!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • دورِحاضر کی ”‏ہیکل“‏ اور ”‏فرمانروا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • یہوواہ مُنادی کرتے رہنے میں ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏3 ص.‏ 18-‏23

ہمارے ”‏ملک“‏ پر یہوواہ کی برکت

‏”‏جہاں کہیں یہ دریا پہنچیگا زندگی بخشیگا۔“‏—‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۹۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏پانی کتنا ضروری ہے؟ (‏ب)‏ حزقی‌ایل کے رویتی دریا کا پانی کس چیز کی تصویرکشی کرتا ہے؟‏

پانی ایک غیرمعمولی سیال ہے۔ تمام طبیعیاتی زندگی کا انحصار اسی پر ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اس کے بغیر زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہم صفائی‌ستھرائی کے لئے بھی اس پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ پانی غلاظت کو دھو کر بالکل ختم کر سکتا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے بدنوں، کپڑوں اور خوراک کو بھی اس سے دھوتے ہیں۔ ایسا کرنا ہماری زندگیوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔‏

۲ بائبل زندگی کیلئے یہوواہ کی روحانی فراہمیوں کی تصویرکشی کرنے کیلئے پانی کو استعمال کرتی ہے۔ (‏یرمیاہ ۲:‏۱۳؛‏ یوحنا ۴:‏۷-‏۱۵‏)‏ ان فراہمیوں میں خدا کے کلام میں پائے جانے والے اُس کے علم اور مسیح کی فدیے کی قربانی کے وسیلے سے اُسکے لوگوں کا پاک‌صاف کِیا جانا شامل ہے۔ (‏افسیوں ۵:‏۲۵-‏۲۷‏)‏ ہیکل کی بابت حزقی‌ایل کی رویا میں، ہیکل سے بہنے والا معجزاتی دریا ایسی زندگی‌بخش برکات کی علامت ہے۔ تاہم یہ دریا کب بہتا ہے اور آجکل ہمارے لئے اسکا کیا مطلب ہے؟‏

بحال‌شُدہ مُلک میں ایک دریا بہتا ہے

۳.‏ جیسے حزقی‌ایل ۴۷:‏۲-‏۱۲ میں بیان کِیا گیا ہے حزقی‌ایل کو کس چیز کا تجربہ ہوا؟‏

۳ بابل میں اسیروں کے طور پر حزقی‌ایل کی قوم کو یہوواہ کی فراہمیوں کی اشد ضرورت تھی۔ لہٰذا، حزقی‌ایل کیلئے مقدِس سے پانی کے دھارے کو نکلتے اور رویتی ہیکل میں بہتے ہوئے دیکھنا کتنی حوصلہ‌افزا بات تھی!‏ ایک فرشتہ ۱،۰۰۰ ہاتھ کے وقفوں سے اس دریا کو ناپتا ہے۔ اسکی گہرائی ٹخنوں سے گھٹنوں اور کمر تک بڑھ جاتی ہے اور یہ ایک ایسے دریا کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس میں تیرا جا سکتا ہے۔ یہ دریا حیات اور زرخیزی کا باعث بنتا ہے۔ (‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۲-‏۱۱)‏ حزقی‌ایل کو بتایا جاتا ہے:‏ ”‏دریا کے قریب اُسکے دونوں کناروں پر ہر قسم کے میوہ‌دار درخت اُگیں گے۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۱۲الف)‏ جب یہ دریا بحرِمُردار—‏بے‌جان پانی—‏میں گِرتا ہے تو اُس میں جان پڑ جاتی ہے!‏ مچھلیوں کی کثرت سے افزائش ہوتی ہے۔ ماہی‌گیری کا کاروبار فروغ پاتا ہے۔‏

۴، ۵.‏ یوایل کی دریا کی بابت پیشینگوئی کسطرح حزقی‌ایل کی پیشینگوئی کے مماثل ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟‏

۴ اس خوبصورت پیشینگوئی نے اسیر یہودیوں کو دو صدیوں پہلے لکھی گئی ایک دوسری پیشینگوئی کی یاد دلائی ہوگی۔ ”‏خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے گھر سے ایک چشمہ پھوٹ نکلے گا اور وادی شطیمؔ کو سیراب کرے گا۔“‏a (‏یوایل ۳:‏۱۸‏)‏ حزقی‌ایل کی طرح یوایل کی پیشینگوئی بھی بیان کرتی ہے کہ خدا کے گھر یعنی ہیکل سے ایک دریا جاری ہوگا اور بنجر علاقے کو سیراب کر دے گا۔‏

۵ دی واچ‌ٹاور عرصۂ‌دراز سے یہ بیان کرتا چلا آ رہا ہے کہ یوایل کی پیشینگوئی کی تکمیل ہمارے زمانے میں ہو رہی ہے۔‏b یقینی طور پر، حزقی‌ایل کی رویا پر بھی یہ بات صادق آتی ہے۔ جیسے‌کہ قدیم اسرائیل میں ہوا تھا بِلاشُبہ آجکل خدا کے لوگوں کے بحال‌شُدہ ملک میں بھی یہوواہ کی برکات کثرت سے جاری ہیں۔‏

برکات کی حد درجہ روانی

۶.‏ رویتی قربانگاہ پر خون کے چھڑکے جانے کو یہودیوں کو کیا یاددہانی کرانی چاہئے؟‏

۶ خدا کے بحال‌شُدہ لوگوں پر نازل ہونے والی برکات کا ماخذکیا ہے؟ غور فرمائیں کہ پانی خدا کی ہیکل سے جاری ہوتا ہے۔ اسی طرح آجکل، یہوواہ کی طرف سے برکات اُس کی عظیم روحانی ہیکل—‏سچی پرستش کے انتظام—‏سے حاصل ہوتی ہیں۔ حزقی‌ایل کی رویا ایک نہایت اہم تفصیل کا اضافہ کرتی ہے۔ اندورنی صحن میں، دریا مذبح کے قریب، اس کے جنوب میں بہتا ہے۔ (‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۱)‏ مذبح رویتی ہیکل کے عین وسط میں ہے۔ یہوواہ تفصیلی طور پر حزقی‌ایل کے سامنے اسے بیان کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ قربانی کا خون اس پر چھڑکا جائے۔ (‏حزقی‌ایل ۴۳:‏۱۳-‏۱۸، ۲۰)‏ یہ مذبح تمام اسرائیلیوں کے لئے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ کافی عرصہ پہلے جب کوہِ‌سینا کے دامن میں موسیٰ نے مذبح پر خون چھڑکا تھا تو اُس وقت یہوواہ کے ساتھ اُن کے رشتے کی توثیق ہوئی تھی۔ (‏خروج ۲۴:‏۴-‏۸)‏ پس رویتی ہیکل میں مذبح پر خون کے چھڑکاؤ نے اُنہیں یاد دلایا ہوگا کہ وہ اپنے بحال‌شُدہ ملک میں لوٹ آئیں گے اور جبتک اُس کے ساتھ اپنے عہد کے پابند رہیں گے اُس وقت تک اُنہیں یہوواہ کی طرف سے برکات حاصل ہوتی رہیں گی۔—‏استثنا ۲۸:‏۱-‏۱۴۔‏

۷.‏ آجکل علامتی قربانگاہ کا مسیحیوں کیلئے کیا مطلب ہے؟‏

۷ اسی طرح، آجکل خدا کے لوگوں کو ایک عہد یعنی ایک بہتر، نئے عہد کے ذریعے برکت دی گئی ہے۔ (‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۱-‏۳۴‏)‏ بہت عرصہ پہلے اس کی بھی یسوع مسیح کے خون کے ذریعے توثیق ہوئی تھی۔ (‏عبرانیوں ۹:‏۱۵-‏۲۰‏)‏ آجکل، خواہ ہم اس عہد میں شریک ہونے والے ممسوح اشخاص میں سے ہیں یا اس سے مستفید ہونے والی ”‏دوسری بھیڑوں“‏ میں سے ہیں، ہم علامتی مذبح کو نہایت اہم خیال کرتے ہیں۔ یہ مسیح کی قربانی کے سلسلے میں خدا کی مرضی کی علامت پیش کرتا ہے۔ (‏یوحنا ۱۰:‏۱۶؛‏ عبرانیوں ۱۰:‏۱۰‏)‏ جیسے علامتی مذبح روحانی ہیکل کے عین وسط میں ہے ویسے ہی مسیح کی فدیے کی قربانی پاک پرستش کا محور ہے۔ یہ ہمارے گناہوں کی معافی اور مستقبل کی بابت ہماری تمام اُمیدوں کی بنیاد ہے۔ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۲‏)‏ لہٰذا ہم نئے عہد سے وابستہ شریعت یعنی ”‏مسیح کی شریعت“‏ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (‏گلتیوں ۶:‏۲‏)‏ جب تک ہم ایسا کرتے رہیں گے ہم زندگی کے لئے یہوواہ کی فراہمیوں سے مستفید ہوتے رہیں گے۔‏

۸.‏ (‏ا)‏ رویتی ہیکل کے اندرونی صحن میں کس چیز کی کمی تھی؟ (‏ب)‏ رویتی ہیکل میں کاہن اپنے آپ کو کس طریقے سے پاک‌صاف کر سکتے تھے؟‏

۸ ایسا ایک فائدہ یہوواہ کے حضور پاک‌صاف حیثیت ہے۔ رویتی ہیکل کے اندرونی صحن میں ایک چیز کی کمی تھی جو خیمۂ‌اجتماع اور سلیمان کی ہیکل میں بہت نمایاں تھی—‏کاہنوں کے نہانے کے لئے ایک بڑا حوض جسے بعدازاں بحیرہ کہا گیا۔ (‏خروج ۳۰:‏۱۸-‏۲۱؛‏ ۲-‏تواریخ ۴:‏۲-‏۶‏)‏ لہٰذا حزقی‌ایل کی رویتی ہیکل میں کاہن صفائی کے لئے کیا استعمال کر سکتے تھے؟ واہ، اندرونی صحن سے بہنے والا معجزاتی دریا!‏ جی‌ہاں، یہوواہ اُنہیں ایسے ذرائع سے نوازے گا جس سے وہ صاف یا پاک حیثیت سے لطف اُٹھانے کے قابل ہونگے۔‏

۹.‏ آجکل کس طرح ممسوح لوگوں اور بڑی بِھیڑ کے لوگوں کو پاک حیثیت حاصل ہے؟‏

۹ اسی طرح آجکل، ممسوح اشخاص کو بھی یہوواہ کے حضور پاک حیثیت عطا کی گئی ہے۔ یہوواہ اُنہیں پاک خیال کرتے ہوئے راستباز قرار دیتا ہے۔ (‏رومیوں ۵:‏۱، ۲‏)‏ بڑی بِھیڑ کی بابت کیا ہے جسکی تصویرکشی غیرکہانتی قبیلوں سے کی گئی ہے؟ وہ بیرونی صحن میں پرستش کرتے ہیں اور وہی دریا رویتی ہیکل کے اس حصے سے بھی گزرتا ہے۔ پس، یہ کسقدر موزوں ہے کہ یوحنا رسول نے بڑی بِھیڑ کو صاف‌ستھرے، سفید جامے پہنے اور روحانی ہیکل کے صحن میں پرستش کرتے ہوئے دیکھا!‏ (‏مکاشفہ ۷:‏۹-‏۱۴‏)‏ اس سے قطع‌نظر کہ اخلاقی پستی کی شکار اس دُنیا میں اُن سے کیسا سلوک کِیا جاتا ہے، اُنہیں یہ یقین‌دہانی کرائی جا سکتی ہے کہ جب تک وہ مسیح کی فدیے کی قربانی پر ایمان رکھتے ہیں یہوواہ اُنہیں پاک اور صاف خیال کرتا ہے۔ وہ اپنا ایمان کیسے ظاہر کرتے ہیں؟ یسوع کے نقشِ‌قدم پر چلنے اور فدیے کی قربانی پر مکمل اعتماد رکھنے سے وہ ایسا کرتے ہیں۔—‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏۔‏

۱۰، ۱۱.‏ علامتی پانی کی ایک اہم خاصیت کیا ہے اور اس کا دریا کی توسیع سے کیا تعلق ہے؟‏

۱۰ جیسے پہلے ذکر کِیا گیا ہے، اس علامتی پانی کا ایک اَور نہایت اہم پہلو—‏علم ہے۔ بحال‌شُدہ اسرائیل میں، یہوواہ نے کہانت کے ذریعے صحیفائی ہدایات فراہم کرنے سے اپنے لوگوں کو برکت بخشی۔ (‏حزقی‌ایل ۴۴:‏۲۳)‏ اسی طریقے سے، آجکل یہوواہ نے اپنے لوگوں کو ”‏شاہی کاہنوں کے فرقے“‏ کے ذریعے اپنے کلامِ‌حق کی بابت کافی زیادہ تعلیم سے نوازا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۹ این‌ڈبلیو)‏ یہوواہ خدا کی بابت، نوعِ‌انسان کیلئے اُسکے مقاصد کی بابت اور بالخصوص یسوع مسیح اور مسیحائی بادشاہت کی بابت علم ان آخری ایّام میں کثرت سے دستیاب ہے۔ روحانی تازگی کی اِس بڑی افراط سے مستفید ہونا کیا خوب ہے جو ہمیں حاصل ہو رہی ہے!‏—‏دانی‌ایل ۱۲:‏۴‏۔‏

۱۱ جیسے‌کہ وہ دریا جسے فرشتے نے ناپا تھا بتدریج گہرا ہوتا جاتا تھا ویسے ہی ہمارے روحانی ملک میں لوگوں کے بڑے ہجوم کو سمونے کیلئے یہوواہ کی طرف سے زندگی‌بخش برکات کی روانی میں حیرت‌انگیز اضافہ ہوا ہے۔ بحالی کی ایک اَور پیشینگوئی نے بیان کِیا:‏ ”‏سب سے چھوٹا ایک ہزار ہو جائیگا اور سب سے حقیر ایک زبردست قوم۔ مَیں خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ عین وقت پر یہ سب کچھ جلد کرونگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۶۰:‏۲۲‏)‏ یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے ہیں—‏لاکھوں لوگ سچی پرستش میں ہمارے ساتھ آ ملے ہیں!‏ یہوواہ نے اپنی طرف آنے والے تمام لوگوں کو کثرت سے ”‏پانی“‏ فراہم کِیا ہے۔ (‏مکاشفہ ۲۲:‏۱۷‏)‏ وہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ اُسکی زمینی تنظیم پوری دُنیا کے اندر سینکڑوں زبانوں میں بائبلیں اور بائبل لٹریچر تقسیم کرے۔ اسی طرح، پوری دُنیا میں مسیحی اجلاس اور کنونشن ترتیب دئے جاتے ہیں تاکہ سب لوگوں کو سچائی کا صاف‌شفاف پانی بہم پہنچایا جا سکے۔ ایسی فراہمیاں لوگوں پر کیسے اثرانداز ہوتی ہیں؟‏

پانی زندگی‌بخش ہے!‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ حزقی‌ایل کی رویا میں درخت کیسے اپنی مرضی کے مطابق پیدوار دینے کے قابل ہیں؟ (‏ب)‏ آخری ایّام میں ان پھلدار درختوں سے کس چیز کی نمائندگی کی گئی ہے؟‏

۱۲ حزقی‌ایل کی رویا کا دریا زندگی اور صحت کا باعث بنتا ہے۔ جب حزقی‌ایل کو دریا کے کناروں پر اُگنے والے درختوں کی بابت بتایا جاتا ہے تو اُسے کہا جاتا ہے کہ ”‏[‏اُن کے]‏ پتے کبھی نہ مُرجھائینگے اور جنکے میوے کبھی موقوف نہ ہونگے .‏ .‏ .‏ اور اُنکے میوے کھانے کے لئے اور اُنکے پتے دوا کے لئے ہونگے۔“‏ یہ درخت ایسے حیران‌کُن طریقے سے پھل کیوں پیدا کرتے ہیں؟ ”‏کیونکہ اُنکا پانی مقدِس میں سے جاری ہے۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۱۲ب)‏ یہ علامتی درخت یسوع کے فدیے کی قربانی کی بِنا پر نوعِ‌انسان کو کاملیت تک پہنچانے کیلئے خدا کی تمام فراہمیوں کا عکس پیش کرتے ہیں۔ اس وقت زمین پر روحانی خوراک اور شفا فراہم کرنے میں ممسوح بقیہ پیشوائی کرتا ہے۔ ۱،۴۴،۰۰۰ کے تمام افراد کے اپنا آسمانی انعام حاصل کر لینے کے بعد مسیح کے ساتھی حکمرانوں کے طور پر اُن کی کہانتی خدمت سے حاصل ہونے والے فوائد مستقبل میں مزید حتمی ہو جائینگے اور آخرکار آدم کی لائی ہوئی موت پر مکمل فتح پا لینے کا باعث بنیں گے۔—‏مکاشفہ ۵:‏۹، ۱۰؛‏ ۲۱:‏۲-‏۴‏۔‏

۱۳.‏ ہمارے ایّام میں کونسی شفایابی انجام پائی ہے؟‏

۱۳ رویتی دریا بے‌جان بحرِمُردار میں گِرتا ہے اور جس کسی کو بھی چھوتا ہے زندہ کر دیتا ہے۔ یہ سمندر روحانی طور پر مُردہ ماحول کی تصویرکشی کرتا ہے۔ تاہم ”‏جہاں کہیں یہ دریا پہنچے گا“‏ وہاں ہر شے زندہ ہو جائے گی۔ (‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۹)‏ اسی طرح، آخری ایّام میں، جہاں کہیں آبِ‌حیات پہنچا ہے وہاں لوگ روحانی طور پر زندہ ہو گئے ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے ممسوح بقیے کو ۱۹۱۹ ازسرِنو زندگی عطاکی گئی تھی۔ وہ موت جیسی بے‌عملی کی حالت سے روحانی طور پر دوبارہ زندہ ہو گئے۔ (‏حزقی‌ایل ۳۷:‏۱-‏۱۴؛‏ مکاشفہ ۱۱:‏۳،‏ ۷-‏۱۲‏)‏ اُس وقت سے لے کر زندگی سے بھرپور وہی پانی روحانی طور پر دیگر مُردہ اشخاص تک بھی پہنچا ہے اور اُنہوں نے زندگی پائی ہے اور ہمہ‌وقت بڑھتی ہوئی دوسری بھیڑوں کی بڑی بِھیڑ کو تشکیل دیا ہے جو یہوواہ سے محبت رکھتے اور اُس کی خدمت کرتے ہیں۔ جلد ہی، قیامت‌یافتہ لاکھوں لوگ بھی اس فراہمی سے مستفید ہونگے۔‏

۱۴.‏ ماہی‌گیری کے کاروبار کا سمندر کے کناروں پر فروغ پانا آجکل کس چیز کو ظاہر کرتا ہے؟‏

۱۴ روحانی حیات بارآوری پر منتج ہوتی ہے۔ یہ بات ماہی‌گیری کے کاروبار سے واضح ہوتی ہے جو سمندر کے کناروں پر فروغ پاتا ہے جو پہلے تباہ‌حال تھا۔ یسوع نے اپنے پیروکاروں سے کہا:‏ ”‏مَیں تمکو آدم‌گیر بناؤنگا۔“‏ (‏متی ۴:‏۱۹‏)‏ آخری ایّام میں، ممسوح جماعت کے باقیماندہ اشخاص کو جمع کرنے کیساتھ ہی ماہی‌گیری کا کام شروع ہو گیا مگر یہ وہیں نہیں رُکا۔ یہوواہ کی روحانی ہیکل سے زندگی‌بخش پانی جس میں صحیح علم کی برکت بھی شامل ہے تمام قوموں کے لوگوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ دریا جہاں کہیں بھی پہنچا ہے وہاں روحانی زندگی نے جنم لیا ہے۔‏

۱۵.‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ ہر شخص زندگی کیلئے خدا کی فراہمیوں کو قبول نہیں کریگا اور ایسے لوگوں کا انجام کیا ہے؟‏

۱۵ بِلاشُبہ، نہ تو اُسوقت تمام لوگ زندگی کے پیغام کے لئے موافق جوابی‌عمل دکھاتے ہیں؛ نہ ہی مسیح کے عہدِہزارسالہ میں قیامت پانے والے تمام لوگ ایسا کرینگے۔ (‏یسعیاہ ۶۵:‏۲۰؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۸‏)‏ فرشتہ بیان کرتا ہے کہ سمندر کے کچھ حصے شفا نہیں پاتے۔ یہ دلدلی، بے‌جان جگہیں ’‏نمکزار ہی رہتی ہیں۔‘‏ (‏حزقی‌ایل ۴۷:‏۱۱)‏ جہاں تک ہمارے زمانے کے لوگوں کا تعلق ہے تو وہ سب لوگ جنہیں یہوواہ کا یہ زندگی‌بخش پانی پیش کِیا جاتا ہے اسے قبول نہیں کرتے۔ (‏یسعیاہ ۶:‏۱۰‏)‏ ہرمجدون پر، وہ تمام لوگ جنہوں نے روحانی طور پر بے‌جان اور بیمار رہنے کا انتخاب کِیا ہے وہ نمکزار بن جائینگے یعنی ہمیشہ کیلئے تباہ‌وبرباد کر دئے جائینگے۔ (‏مکاشفہ ۱۹:‏۱۱-‏۲۱‏)‏ تاہم، ان پانیوں کو وفاداری سے پینے والے لوگ بچنے اور اس پیشینگوئی کی حتمی تکمیل کو دیکھنے کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔‏

دریا فردوس میں بہتا ہے

۱۶.‏ حزقی‌ایل کی ہیکل کی رویا کی آخری تکمیل کب اور کیسے ہوگی؟‏

۱۶ بحالی کی دیگر پیشینگوئیوں کی طرح، ہیکل کی بابت حزقی‌ایل کی رویا کی حتمی تکمیل بھی عہدِہزارسالہ کے دوران ہوگی۔ اُس وقت کہانتی جماعت اس زمین پر نہیں ہوگی۔ ”‏وہ خدا اور مسیح کے کاہن ہونگے اور اُس کے ساتھ [‏آسمان میں]‏ ہزار برس تک بادشاہی کرینگے۔“‏ (‏مکاشفہ ۲۰:‏۶‏)‏ یہ آسمانی کاہن مسیح کی فدیے کی قربانی کے مکمل فوائد بہم پہنچانے میں مسیح کے ساتھ شریک ہونگے۔ اسطرح، راستباز نوعِ‌انسان کو بچا لیا جائیگا اور کاملیت تک پہنچا دیا جائیگا!‏—‏یوحنا ۳:‏۱۷‏۔‏

۱۷، ۱۸.‏ (‏ا)‏ مکاشفہ ۲۲:‏۱، ۲ میں آبِ‌حیات کو کیسے بیان کِیا گیا ہے اور اُس رویا کے بنیادی اطلاق کا وقت کب ہے؟ (‏ب)‏ فردوس میں آبِ‌حیات کے دریا کو عظیم توسیع کیوں حاصل ہو گی؟‏

۱۷ درحقیقت، اُسوقت وہ دریا جو حزقی‌ایل نے دیکھا اُس میں نہایت زوداثر آبِ‌حیات بہے گا۔ یہ مکاشفہ ۲۲:‏۱، ۲ میں درج پیشینگوئی کی تکمیل کا اصل وقت ہے:‏ ”‏اُس نے مجھے بلور کی طرح چمکتا ہؤا آبِ‌حیات کا ایک دریا دکھایا جو خدا اور برّہ کے تخت سے نکلکر اُس شہر کی سڑک کے بیچ میں بہتا تھا۔ اور دریا کے وارپار زندگی کا درخت تھا۔ اُس میں بارہ قسم کے پھل آتے تھے اور ہر مہینے میں پھلتا تھا اور اُس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی تھی۔“‏

۱۸ عہدِہزارسالہ کے دوران، ہر قسم کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی بیماریاں ختم کر دی جائینگی۔ علامتی درختوں کے ذریعے ”‏قوموں کو شفا“‏ ہونے سے اسکی خوب عکاسی کی گئی ہے۔ مسیح اور ۱،۴۴،۰۰۰ کی طرف سے کئے گئے انتظامات کی بدولت ”‏وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں۔“‏ (‏یسعیاہ ۳۳:‏۲۴‏)‏ نیز دریا اپنی عظیم‌ترین توسیع کے وقت میں داخل ہو جائیگا۔ اسے لاکھوں بلکہ کروڑوں قیامت‌یافتہ انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے چوڑا اور گہرا کِیا جائیگا جو زندگی کے ان شفاف پانیوں کو پئیں گے۔ رویتی دریا نے بحرِمُردار میں جان ڈال دی، جہاں کہیں بھی اسکا پانی پہنچا وہاں زندگی جاری ہو گئی۔ لہٰذا، فردوس میں مردوزن فدیے سے حاصل ہونے والے فوائد پر ایمان لانے کی بدولت آدم سے ورثے میں پائی ہوئی موت سے شفا پانے کے مکمل مفہوم میں زندگی حاصل کرینگے۔ مکاشفہ ۲۰:‏۱۲ پیشینگوئی کرتی ہے کہ اُس وقت ”‏کتابیں“‏ کھولی جائینگی جو اضافی سمجھ فراہم کرینگی جس سے قیامت‌یافتہ لوگ بھی مستفید ہونگے۔ افسوس کی بات ہے کہ فردوس میں بھی بعض شفا پانے سے انکار کر دیں گے۔ یہ باغی ابدی ہلاکت کے ’‏نمکزار‘‏ کے حوالہ کر دئے جائیں گے۔—‏مکاشفہ ۲۰:‏۱۵‏۔‏

۱۹.‏ (‏ا)‏ فردوس میں زمین کے تقسیم کئے جانے کی تکمیل کیسے ہوگی؟ (‏ب)‏ فردوس میں شہر کس خصوصیت کی تصویرکشی کرتا ہے؟ (‏پ)‏ شہر کے ہیکل سے کچھ فاصلے پر واقع ہونے کی کیا اہمیت ہے؟‏

۱۹ اُس وقت حزقی‌ایل کی رویا میں کی جانے والی ملک کی تقسیم بھی اپنی حتمی تکمیل کو پہنچے گی۔ اپنی رویا میں حزقی‌ایل نے دیکھا کہ ملک مناسب طور پر تقسیم کِیا جاتا ہے؛ اسی طرح ہر وفادار مسیحی یقین رکھ سکتا ہے کہ اُسے فردوس میں جگہ، میراث حاصل ہوگی۔ غالباً، ہر شخص کی اپنے گھر میں رہنے اور اس کی دیکھ‌بھال کرنے کی خواہش خوش‌اسلوبی سے پوری کی جائے گی۔ (‏یسعیاہ ۶۵:‏۲۱؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۳۳‏)‏ جو شہر حزقی‌ایل نے دیکھا وہ موزوں طور پر اُس انتظامی بندوبست کی تصویرکشی کرتا ہے جسکا یہوواہ نے نئی زمین کے لئے مقصد ٹھہرایا ہے۔ ممسوح کہانتی جماعت جسمانی طور پر نوعِ‌انسان کے درمیان موجود نہیں ہوگی۔ رویا شہر کو ہیکل سے کچھ دُور ”‏عام جگہ“‏ پر واقع دکھاتی ہے۔ (‏حزقی‌ایل ۴۸:‏۱۵)‏ پس، جب ۱،۴۴،۰۰۰ آسمان میں مسیح کے ساتھ حکمرانی کرتے ہیں تو زمین بادشاہ کے نمائندوں کے بغیر نہیں ہوگی۔ اُس کی انسانی رعایا فرمانروا جماعت کی مشفقانہ ہدایت اور راہنمائی سے بھرپور فائدہ اُٹھائے گی۔ تاہم حکومت کی حقیقی جگہ زمین نہیں بلکہ آسمان ہوگی۔ فرمانروا جماعت سمیت، زمین پر ہر شخص مسیحائی بادشاہت کے تابع ہوگا۔—‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴؛‏ ۷:‏۱۴،‏ ۱۸،‏ ۲۲‏۔‏

۲۰، ۲۱.‏ (‏ا)‏ شہر کا نام کیوں موزوں ہے؟ (‏ب)‏ حزقی‌ایل کی رویا کی سمجھ کو ہمیں اپنے آپ سے کیا سوال پوچھنے کی تحریک دینی چاہئے؟‏

۲۰ حزقی‌ایل کی پیشینگوئی کے اختتامی الفاظ پر غور کریں:‏ ”‏شہر کا نام اُسی دن سے یہ ہوگا کہ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ وہاں ہے۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۴۸:‏۳۵)‏ یہ شہر انسانوں کو طاقت یا اقتدار دینے کیلئے موجود نہیں ہوگا؛ نہ ہی یہ انسانی مرضی کے نفاذ کیلئے ہوگا۔ یہ یہوواہ کا شہر ہے جو ہمیشہ اُسکی سوچ اور کام کرنے کے اُسکے پُرمحبت، معقول طریقوں کو منعکس کرتا رہیگا۔ (‏یعقوب ۳:‏۱۷‏)‏ یہ ہمیں دل کو گرما دینے والی یقین‌دہانی کراتا ہے کہ یہوواہ اپنی بنائی ہوئی ”‏نئی زمین“‏ یعنی انسانی معاشرے کو دائمی مستقبل کی برکت سے نوازے گا۔—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

۲۱ کیا اپنے سامنے اس امکان کو دیکھ کر ہمارے اندر خوشی کی لہر نہیں دوڑ جاتی؟ لہٰذا، یہ اچھا ہوگا کہ ہم میں سے ہر ایک خود سے پوچھے، ’‏حزقی‌ایل کی رویا میں آشکارا شاندار برکات کیلئے مَیں کیسا جوابی‌عمل دکھاتا ہوں؟ کیا مَیں ممسوح بقیے اور فرمانروا جماعت کے امکانی ارکان سمیت، شفیق نگہبانوں کے کام کی وفاداری سے حمایت کرتا ہوں؟ کیا مَیں نے پاک پرستش کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا ہے؟ کیا مَیں آجکل کثرت سے بہنے والے زندگی کے پانیوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتا ہوں؟‘‏ دُعا ہے کہ ہم سب ابدیت تک ایسا کرتے اور یہوواہ کی فراہموں سے شادمان ہوتے رہیں!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a یہ بنجر وادی شاید قدرون کی وادی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو یروشلیم کے جنوب‌مشرق سے شروع ہو کر بحرِمُردار پر ختم ہوتی ہے۔ اسکا زیریں حصہ خاص طور پر خشک ہے اور تقریباً پورا سال سوکھا رہتا ہے۔‏

b دیکھیں دی واچ‌ٹاور کے شمارے مئی ۱، ۱۸۸۱ اور جون ۱، ۱۹۸۱۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

◻ہیکل سے بہنے والا پانی کس چیز کی تصویرکشی کرتا ہے؟‏

◻علامتی دریا کے ذریعے یہوواہ نے کونسی شفا انجام دی ہے اور دریا چوڑا کیوں ہو گیا ہے؟‏

◻دریا کے کنارے پر موجود درخت کس چیز کی تصویرکشی کرتے ہیں؟‏

◻عہدِہزارسالہ میں شہر کس چیز کی تصویرکشی کریگا اور شہر کا نام کیوں موزوں ہے؟‏

‏[‏صفحہ 23 پر تصویریں]‏

زندگی‌بخش دریا نجات کیلئے یہوواہ کی فراہمی کی نمائندگی کرتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں