آپ حقیقی فروتنی کیسے دکھا سکتے ہیں؟
حقیقی فروتنی کی خدا کی نظر میں بہت قدر ہے۔ یعقوب نے لکھا: ”خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے۔“ (یعقوب ۴:۶) ممکن ہے کہ یہاں یعقوب اُن بہت سے خیالات کی طرف اشارہ کر رہا ہو جنکا ذکر عبرانی صحائف میں ملتا ہے۔ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اگرچہ بلندوبالا ہے تو بھی خاکسار کا خیال رکھتا ہے۔ لیکن مغرور کو دُور ہی سے پہچان لیتا ہے۔“ ”اِنسان کی اُونچی نگاہ نیچی کی جائیگی اور بنیآدم کا تکبّر پست ہو جائے گا اور اُس روز خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہی سربلند ہوگا۔“ ”یقیناً وہ [خدا] ٹھٹھابازوں پر ٹھٹھے مارتا ہے لیکن فروتنوں پر فضل کرتا ہے۔“—زبور ۱۳۸:۶؛ یسعیاہ ۲:۱۱؛ امثال ۳:۳۴۔
پطرس رسول نے بھی فروتنی کی حوصلہافزائی کی۔ اُس نے لکھا: ”سب کے سب ایک دوسرے کی خدمت کے لئے فروتنی سے کمربستہ رہو اسلئے کہ خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے۔“—۱-پطرس ۵:۵۔
مسیح کا فروتنی کا نمونہ
آپ شاید پوچھیں کہ فروتن بننے میں کیا اچھائی ہے؟ جو لوگ سچے مسیحی بننے کی جدوجہد کر رہے ہیں اُن کے لئے جواب بنیادی ہے—فروتن بننا مسیح کی مانند بننا ہے۔ یسوع نے آسمانی عملداری سے زمین پر آنے اور فرشتوں سے کمتر، انسان بننے کی منفرد تفویض قبول کر کے فروتنی دکھائی۔ (عبرانیوں ۲:۷) خدا کا بیٹا ہونے کے باوجود اُس نے اپنے مذہبی دشمنوں کی طرف سے کی جانے والی تمام رسوائی کو برداشت کِیا۔ اُس نے آزمائشوں کے دوران اپنا اطمینان برقرار رکھا اگرچہ وہ ملکوتی مدد کیلئے درخواست کر سکتا تھا۔—متی ۲۶:۵۳۔
آخر میں یسوع کو دکھ کی سولی پر رسواکُن حالت میں لٹکا دیا جاتا ہے تاہم وہ اپنے باپ کیلئے وفادار رہتا ہے۔ پس پولس اُسکی بابت لکھ سکتا تھا: ”ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح کا بھی تھا۔ اُس نے اگرچہ خدا کی صورت پر تھا خدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا۔ بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دیا اور خادم کی صورت اختیار کی اور انسانوں کے مشابہ ہو گیا۔ اور انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو پست کر دیا اور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔“—فلپیوں ۲:۵-۸۔
پس ہم حقیقی فروتنی کیسے دکھا سکتے ہیں؟ عملی صورتوں میں ہم متکبر روش کی بجائے فروتن جوابیعمل کیسے دکھا سکتے ہیں؟
فروتن شخص کیسا جوابیعمل ظاہر کرتا ہے
آئیے کام کے حوالے سے فروتنی پر غور کریں خواہ وہ ملازمت ہو یا مسیحی خدمت۔ کامیابی کیساتھ کام کرنے کیلئے شاید اوورسیئر، مینیجر اور سپروائزر ضروری ہو سکتے ہیں۔ کسی نہ کسی کو فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ آپ کیسا جوابیعمل ظاہر کرتے ہیں؟ کیا آپ یہ سوچتے ہیں، ”وہ مجھے یہ بتانے والا کون ہوتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چائے؟ مَیں اس ملازمت پر اُس کی نسبت زیادہ سالوں سے ہوں۔“ جیہاں، اگر آپ مغرور ہیں تو آپ اختیار کے تحت اسی طرح آزردہ ہونگے۔ اسکے برعکس ایک فروتن شخص بھرپور کوشش کرتا ہے کہ ”تفرقے اور بیجا فخر کے باعث کچھ نہ [کرے] بلکہ فروتنی سے . . . دوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔“—فلپیوں ۲:۳۔
جب کوئی جوان شخص یا کوئی خاتون مشورہ دیتی ہے تو آپ کیسا ردِعمل دکھاتے ہیں؟ اگر آپ فروتن ہیں تو آپ کمازکم اُس پر غور ضرور کریں گے۔ اگر آپ مغرور ہیں تو آپ اس سے خفا ہو جائیں گے یا اسے فوراً ہی رد کر دیں گے۔ کیا آپ تعریف اور خوشامد پسند کریں گے جو تباہکُن ہے یا تعمیری مشورت جو آپ کو جِلا بخشے گی؟—امثال ۲۷:۹؛ ۲۹:۵۔
کیا آپ مشکلات کے چیلنج کا سامنا کر سکتے ہیں؟ فروتنی آپ کو مشکل حالات کا سامنا کرنے اور ثابتقدم رہنے کے قابل بنائیگی جیساکہ ایوب نے کِیا۔ اگر آپ مغرور ہیں تو آپ پریشان ہونے کا میلان رکھینگے اور شاید کربناک حالات اور مبیّنہ تذلیل میں سرکش بن جائیں۔—ایوب ۱:۲۲؛ ۲:۱۰؛ ۲۷:۲-۵۔
فروتنی پُرمحبت اور معاف کرنے والی ہوتی ہے
بعض لوگوں کیلئے یہ کہنا مشکل ہے، ”مَیں معافی چاہتا ہوں۔ مجھ سے غلطی ہوئی۔ آپ درست تھے۔“ کیوں؟ انتہائی تکبّر کے باعث! تاہم حقیقی معذرت بڑی آسانی سے بیاہتا زندگی کے جھگڑوں کو روک سکتی ہے۔
جب کوئی آپ کو ٹھیس پہنچاتا ہے تو کیا آپ معاف کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں؟ یا اپنے تکبّر میں آپ اُس شخص سے کینہ رکھتے ہیں یا دنوں یا مہینوں تک اُس مبیّنہ قصوروار سے باتچیت کرنے سے احتراز کرتے ہیں؟ کیا آپ حساب برابر کرنے کیلئے انتقامی کارروائی کرتے ہیں؟ بعض ایسی انتقامی کارروائیوں میں لوگوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ بعض صورتوں میں کردارکشی بھی ایک طریقہ ہے۔ اسکے برعکس ایک فروتن شخص پُرمحبت اور معاف کرنے والا ہوتا ہے۔ کیوں؟ اسلئےکہ محبت دُکھوں کا حساب نہیں رکھتی۔ یہوواہ اسرائیلیوں کو معاف کرنے کے لئے تیار تھا اگر وہ اپنا غرور ترک کر دیتے۔ یسوع کے فروتن پیروکار بھی بار بار معاف کرنے کے لئے آمادہ ہیں!—یوایل ۲:۱۲-۱۴؛ متی ۱۸:۲۱، ۲۲؛ ۱-کرنتھیوں ۱۳:۵۔
ایک فروتن شخص ’عزت کی رو سے دوسرے کو بہتر سمجھنے میں پہل کرتا ہے۔‘ (رومیوں ۱۲:۱۰، اینڈبلیو) اُردو ریوائزڈ ورشن بیان کرتی ہے: ”عزت کی رو سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھو۔“ کیا آپ دوسروں کی تعریف اور انکی صلاحیتوں اور لیاقتوں کی قدر کرتے ہیں؟ یا کیا آپ کوئی نہ کوئی ایسا نقص تلاش کر لیتے ہیں جو اُنکی نیکنامی کو کم کر دے؟ مزیدبرآں، کیا آپ دوسروں کی دل سے تعریف کرنے کے قابل ہیں؟ اگر اس سلسلے میں آپکو مشکل کا سامنا ہے تو شاید ذاتی عدمِتحفظ اور تکبّر آپ کا مسئلہ ہے۔
ایک مغرور شخص بےصبرا ہوتا ہے۔ فروتن شخص صابر اور متحمل ہوتا ہے۔ آپ کی بابت کیا ہے؟ کیا آپ ہر ناموافق حالت پر چراغپا ہو جاتے ہیں؟ ایسا ردِعمل متحمل ہونے کے بالکل برعکس ہے۔ اگر آپ فروتن ہیں تو آپ خود کو اتنا برتر خیال نہیں کریں گے۔ یاد کریں جب یسوع کے شاگردوں نے خود کو زیادہ برتر خیال کِیا تو کیا واقع ہوا—وہ اس کی بابت ایک گرماگرم بحث میں الجھ گئے تھے کہ سب سے اہم کون ہے۔ وہ یہ بھول گئے کہ وہ سب کے سب ”نکمّے نوکر“ تھے!—لوقا ۱۷:۱۰؛ ۲۲:۲۴؛ مرقس ۱۰:۳۵-۳۷، ۴۱۔
فرانسیسی مصنف ولٹائر نے فروتنی کو ”. . . غرور کے تریاق“ کے طور پر بیان کِیا۔ جیہاں، فروتنی ذہنی انکساری کا نام ہے۔ ایک فروتن شخص متکبر ہونے کی بجائے منکسرالمزاج ہوتا ہے۔ وہ مؤدب اور خوشاخلاق ہوتا ہے۔
پس پھر فروتن بننے کی کوشش کیوں کریں؟ اسلئےکہ فروتنی خدا کو پسند ہے اور الہٰی راہنمائی حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ جزوی طور پر دانیایل کی فروتنی کی وجہ سے یہوواہ نے اُسے ”بہت عزیز“ خیال کِیا اور اُسے فرشتے کے ذریعے رویا دی! (دانیایل ۹:۲۳؛ ۱۰:۱۱، ۱۹) فروتنی بہت سے اجر لاتی ہے۔ یہ سچے دوست پیدا کرتی ہے جو واقعی آپ سے محبت رکھتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ یہوواہ کی برکات پر منتج ہوتی ہے۔ ”دولت اور عزتوحیات خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے خوف اور فروتنی کا اجر ہیں۔“—امثال ۲۲:۴۔
[صفحہ 7 پر تصویر]
معذرت کے فروتن الفاظ زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں