بادشاہتی مناد رپورٹ دیتے ہیں
سچے خدا کی جستجو اجر پاتی ہے
دسویں صدی ق.س.ع. میں یہوداہ کی دو قبائلی سلطنت جھوٹی پرستش کی لپیٹ میں تھی۔ تاہم اُس مروجہ بتپرستی کے درمیان ایک شخص ایسا بھی تھا جس کا دل خدا کی نظر میں راست تھا۔ اُسکا نام یہوسفط تھا۔ یاہو نبی نے اُس سے کہا: ”تَو بھی تجھ میں خوبیاں ہیں کیونکہ تُو نے . . . خدا کی تلاش میں اپنا دل لگایا ہے۔“ (۲-تواریخ ۱۹:۳) اسی طرح آج بھی ان ”تشویشناک ایّام میں جن سے نپٹنا مشکل ہے“ لاکھوں لوگ ’اپنے دل کو تیار کرتے ہیں‘ کہ سچے خدا یہوواہ کو تلاش کریں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵، اینڈبلیو) ٹوگو، مغربی افریقہ سے ایک تجربہ اسے ثابت کرتا ہے۔
کیزمیر کیتھولک سکول جاتا تھا اور نو سال کی عمر میں اُس نے پاکشراکت میں حصہ لیا۔ ۱۴ سال کی عمر تک کیزمیر چرچ جانا چھوڑ چکا تھا۔ اس وجہ سے وہ خوفزدہ تھا کہ عبادت پر نہ جانا دوزخ یا برزخ میں جانے پر منتج ہوگا۔
کیزمیر سکول میں نوجوانوں کے ایک گروہ میں شامل ہو گیا جو ہفتے میں ایک دفعہ بائبل مطالعہ کیلئے جمع ہوتا تھا۔ اُس نے ذاتی طور پر بائبل پڑھنا بھی شروع کر دی۔ ایک مرتبہ کیزمیر نے مکاشفہ کی کتاب میں سمندر سے نکلنے والے خوفناک حیوان کی بابت پڑھا۔ (مکاشفہ ۱۳:۱، ۲) جب اُس نے بائبل سٹڈی گروپ کے لیڈر سے اسکی بابت پوچھا تو اُسے بتایا گیا کہ یہ حیوان حقیقی ہے اور واقعی سمندر سے نکلے گا۔ اس وضاحت نے کیزمیر کو مشکل میں ڈال دیا کیونکہ وہ بحرِاوقیانوس کے ساحل کے قریب رہتا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ وہ اُس جنگلی حیوان کا پہلا شکار ہوگا۔
کیزمیر نے پیسہ بچانا شروع کر دیا تاکہ جنگلی حیوان سے بچنے کیلئے شمال میں صحرا کی طرف بھاگ جائے۔ اُس نے اپنے ایک ہمجماعت کو اپنے منصوبوں سے آگاہ کِیا۔ اُس کے ہمجماعت نے جو کہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک تھا اُسے یقین دلایا کہ سمندر سے ایسا حقیقی حیوان نہیں نکلے گا۔ اس کے کچھ عرصے بعد ہی کیزمیر کو اجلاسوں کے لئے کنگڈمہال میں آنے کی دعوت دی گئی۔ وہ اجلاسوں سے محظوظ ہوا اور باقاعدگی سے آنے لگا۔ اُس نے گھریلو بائبل مطالعہ بھی قبول کر لیا۔
کیزمیر کے مطالعے میں ترقی کرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی مخالفت زور پکڑنے لگی۔ اُسکا خاندان آباؤاجداد کی پرستش کرتا اور قربانیوں سے بچا ہوا غیرذبحشُدہ گوشت کھاتا تھا۔ جب کیزمیر نے شائستگی سے ایسا گوشت کھانے سے انکار کِیا تو اُسے دھمکایا گیا اور گھر سے نکل جانے کیلئے کہا گیا۔ کیزمیر پُرسکون رہا اور دھمکیاں دم توڑ گئیں۔ تاہم تین مہینے تک خاندان کو کھانے کیلئے وہی گوشت دیا جاتا رہا۔ کیزمیر کو خوراک کی کافی مقدار حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا رہا تو بھی وہ ثابتقدم رہا اور اس کیساتھ ساتھ دیگر مشکلات بھی برداشت کیں۔
کیزمیر مخصوصیت اور بپتسمے تک مسلسل روحانی ترقی کرتا رہا۔ بعدازاں اُسے خدمتگزار خادم مقرر کر دیا گیا اور اُس نے ٹوگو میں منعقد ہونے والے چوتھے منسٹریل ٹریننگ سکول سے استفادہ کِیا۔ اس وقت وہ برانچ میں رضاکارانہ خدمت سے لطف اُٹھا رہا ہے۔
جیہاں بادشاہ داؤد کے الفاظ کئی معاملات میں سچ ثابت ہوئے ہیں: ”اگر تُو اُسے [یہوواہ کو] ڈھونڈے تو وہ تجھکو مل جائیگا۔“—۱-تواریخ ۲۸:۹۔
[صفحہ 8 پر تصویر]
کیزمیر (دائیں) برانچ میں رضاکارانہ خدمت سے لطف اُٹھا رہا ہے