یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏2 ص.‏ 3-‏5
  • غرور کی قیمت—‏کتنی زیادہ؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • غرور کی قیمت—‏کتنی زیادہ؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • فروتنی کا درس
  • غرور کی قیمت
  • خود کو غرور کے ہاتھوں تباہ ہونے کی اجازت نہ دیں
  • عزتِ‌نفس بمقابلہ خودپسندی
  • شیطان کا مقابلہ کریں اور فتح پائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • صلح کے فوائد
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • آپ حقیقی فروتنی کیسے دکھا سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • فروتنی کی قابل‌تقلید مثالیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏2 ص.‏ 3-‏5

غرور کی قیمت—‏کتنی زیادہ؟‏

کیا آپ کا سابقہ کبھی کسی ایسے شخص سے پڑا ہے جس نے دانستہ طور پر آپ کے اندر احساسِ‌کمتری پیدا کرنے کی کوشش کی ہو؟ شاید مینیجر، باس، اوورسیئر یا کوئی رشتہ‌دار جو آپ کو بے‌وقعت سمجھتے ہوئے آپ کے ساتھ تحقیرآمیز سلوک کرے؟ آپ نے اُس شخص کی بابت کیسا محسوس کِیا؟ کیا آپ اُس کی شخصیت کے گرویدہ ہوئے؟ یقیناً نہیں!‏ کیوں؟ اِس لئے‌کہ تکبّر فاصلے پیدا کر دیتا ہے اور رابطے کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔‏

متکبر شخص ہمیشہ برتر نظر آنے کے لئے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسا میلان رکھنے والا شخص شاذونادر ہی دوسروں کی بابت کوئی اچھی بات کہتا ہے۔ وہ ہمیشہ کچھ اس طرح کی منفی بات کہتا ہے—‏”‏ہاں، اُس میں یہ خوبی تو ہے لیکن اس میں یہ خرابی یا مسئلہ بھی ہے۔“‏

تھاٹس آف گولڈ ان ورڈز آف سلور میں تکبّر کی بابت بیان کِیا گیا ہے کہ یہ ”‏ہمیشہ تباہ کرنے والی بُرائی ہے۔ یہ ایک شخص کو تباہ کر دیتی ہے اور اُس میں کوئی قابلِ‌تعریف بات نہیں چھوڑتی۔“‏ کیا اس میں کوئی تعجب کی بات ہے کہ ایسے شخص کی موجودگی میں کوئی بھی اچھا محسوس نہیں کرتا؟ درحقیقت تکبّر کی قیمت اچھے دوستوں سے محروم ہو جانا ہے۔ متذکرہ کتاب مزید بیان کرتی ہے، ”‏اس کے برعکس دُنیا فروتن شخص سے محبت کرتی ہے—‏ایسا فروتن شخص نہیں جو اس بات پر ہی مغرور ہو جائے کہ وہ فروتن ہے بلکہ حقیقی فروتن شخص سے۔“‏ بائبل موزوں طور پر بیان کرتی ہے:‏ ”‏آدمی کا غرور اُس کو پست کرے گا لیکن جو دل سے فروتن ہے عزت حاصل کرے گا۔“‏—‏امثال ۲۹:‏۲۳‏۔‏

تاہم انسانوں کی دوستی یا عزت سے بڑھ کر تکبّر خدا کیساتھ ہمارے رشتے پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟ خدا مغرور، گھمنڈی اور شوخ‌چشم اشخاص کی بابت کیسا نظریہ رکھتا ہے؟ تکبّر یا فروتنی—‏کیا اُس کے لئے اہمیت کی حامل ہے؟‏

فروتنی کا درس

امثال کا مُلہَم مصنف بیان کرتا ہے:‏ ”‏ہلاکت سے پہلے تکبّر اور زوال سے پہلے خودبینی ہے۔ مسکینوں کے ساتھ فروتن بننا متکبروں کے ساتھ لُوٹ کا مال تقسیم کرنے سے بہتر ہے۔“‏ (‏امثال ۱۶:‏۱۸، ۱۹‏)‏ ان الفاظ کی صداقت ایک ارامی سپہ‌سالار نعمان کے حوالے سے ثابت ہو جاتی ہے جو الیشع نبی کے زمانے میں رہتا تھا۔‏

نعمان ایک کوڑھی تھا۔ شفا کی تلاش میں اُس نے یہ سوچتے ہوئے سامریہ کا سفر کِیا کہ الیشع سے رُوبُرو ملیگا۔ اس کے برعکس نبی نے اپنے خادم کے ہاتھ نعمان کے لئے ہدایت بھجوائی کہ دریائے‌یردن میں سات بار غوطہ لگائے۔ نعمان نے اس انداز اور مشورت کو اپنی بے‌عزتی سمجھا۔ نبی نوکر کو بھیجنے کی بجائے خود باہر آ کر کیوں بات نہیں کر سکتا تھا؟ نیز ارام کا ہر دریا یردن جیسا ہی ہے!‏ اُس کا مسئلہ تکبّر تھا۔ اس کا نتیجہ کیا تھا؟ خوشی کی بات ہے کہ پُرحکمت مشورت نے کام دکھایا۔ ”‏تب اُس نے اُتر کر مردِخدا کے کہنے کے مطابق یرؔدن میں سات غوطے مارے اور اُس کا جسم چھوٹے بچے کے جسم کی مانند ہو گیا اور وہ پاک‌صاف ہوا۔“‏—‏۲-‏سلاطین ۵:‏۱۴‏۔‏

بعض‌اوقات تھوڑی سی فروتنی دکھانے سے عظیم برکات حاصل کی جا سکتی ہیں۔‏

غرور کی قیمت

غرور جو قیمت ہم سے وصول کرتا ہے وہ کسی فائدے یا نفع حاصل کرنے میں ناکام ہو جانے سے زیادہ ہے۔ غرور کی ایک اور حالت ”‏گھمنڈ“‏ ہے جس کی تعریف یوں کی جاتی ہے، ”‏حد سے زیادہ غرور یا خوداعتمادی جو اکثراوقات انتقام پر منتج ہوتی ہے۔“‏ (‏ویبسٹرز نائنتھ نیو کالیجیٹ ڈکشنری)‏ اس لفظ کا آغاز یونان سے ہوتا ہے اور یونانی عالم ولیم بارکلے کے مطابق، ”‏گھمنڈ ظلم اور غرور کی آمیزش ہے .‏ .‏ .‏ متکبر حقارت ایک [‏شخص]‏ کو دوسرے آدمیوں کے دل کو توڑنے والا بناتی ہے۔“‏

بائبل میں ایسی ہی حد سے زیادہ غرور کی ایک واضح مثال نظر آتی ہے۔ یہ امون کے بادشاہ حنون کا معاملہ ہے۔ انسائٹ آن دی سکرپچرز وضاحت کرتی ہے:‏ ”‏ناحس کی مہربانی کی وجہ سے جو اُس نے داؤد کے لئے دکھائی تھی داؤد نے حنون کو اُس کے باپ کی وفات پر تسلی دینے کے لئے پیامبر بھیجے۔ لیکن اپنے شاہزادوں کی بات کا یقین کرنے کی وجہ سے کہ یہ شہر کی جاسوسی کرنے کے لئے داؤد کا حیلہ ہے، حنون نے داؤد کے خادموں کی آدھی آدھی داڑھی منڈوانے اور اُن کی پوشاک بیچ سے سُرین تک کٹوانے اور اُن کو واپس بھیج دینے سے اُن کی بے‌عزتی کی۔“‏a اس واقعہ کی بابت بارکلے بیان کرتا ہے:‏ ”‏یہ سلوک گھمنڈ تھا۔ یہ بے‌عزتی، غصہ اور علانیہ تذلیل تھی۔“‏—‏۲-‏سموئیل ۱۰:‏۱-‏۵‏۔‏

جی ہاں، مغرور شخص گھمنڈ کرنے، گستاخی کرنے اور دوسروں کی تذلیل کرنے کی خصلت رکھتا ہے۔ وہ دوسروں کو بے‌حسی اور لاشخصی انداز سے نقصان پہنچانے سے لطف‌اندوز ہوتا ہے اور پھر اُس شخص کی تکلیف اور علانیہ تذلیل پر خوش ہوتا ہے۔ تاہم کسی کی عزتِ‌نفس کو مجروح کرنا یا اُسے نقصان پہنچانا دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ یہ ایک دوست کو کھو دینے اور اُسے ایک دشمن بنانے پر منتج ہوتا ہے۔‏

کوئی سچا مسیحی کیسے ایسے نقصاندہ غرور کا مظاہرہ کر سکتا ہے جبکہ اُس کے آقا نے حکم دیا کہ ’‏اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ‘‏؟ (‏متی ۷:‏۱۲؛‏ ۲۲:‏۳۹‏)‏ سادہ سی بات ہے کہ یہ ہر اُس چیز سے مختلف ہے جسکی خدا اور مسیح حمایت کرتے ہیں۔ اس معاملے کی بابت بارکلے سنجیدگی سے بیان کرتا ہے:‏ ”‏گھمنڈ ایسا غرور ہے جو انسان کے خدا کا انکار کرنے کا باعث بنتا ہے۔“‏ یہ ایسا غرور ہے جو کہتا ہے:‏ ”‏کوئی خدا نہیں۔“‏ (‏زبور ۱۴:‏۱‏)‏ یا جیسے زبور ۱۰:‏۴ میں ظاہر کِیا گیا ہے:‏ ”‏شریر اپنے تکبّر میں کہتا ہے کہ وہ بازپرس نہیں کرے گا۔ اُس کا خیال سراسر یہی ہے کہ کوئی خدا نہیں۔“‏ ایسا غرور یا تکبّر ایک شخص کو نہ صرف اپنے دوستوں اور رشتے‌داروں بلکہ خدا سے بھی دور کر دیتا ہے۔ کیا ہی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے!‏

خود کو غرور کے ہاتھوں تباہ ہونے کی اجازت نہ دیں

غرور کے بہت سے روپ ہو سکتے ہیں—‏غرور جو قومیت، نسل، طبقہ، ذاتی امتیاز، تعلیم، دولت، عزت اور اختیار کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ آپ میں غرور کسی بھی طریقے سے پیدا ہو سکتا ہے اور آپ کی شخصیت کو تباہ کر سکتا ہے۔‏

بہتیرے اشخاص اپنے سے برتر یا ہمعصروں کے ساتھ شاید فروتن نظر آئیں۔ تاہم اُسوقت کیا ہو جب بظاہر فروتن شخص بااختیار جگہ پر آ جاتا ہے؟ فوراً ہی وہ مبیّنہ ماتحتوں کی زندگی تکلیف‌دہ بنا دیتا ہے!‏ ایسا اُس وقت ہو سکتا ہے جب کسی شخص کو ایسا اختیار ملے جو کسی وردی یا بیج کے ذریعے نمایاں کِیا گیا ہو۔ سرکاری ملازم بھی عوام کی خدمت کرنے کی بجائے یہ سوچتے ہوئے مغرور بن سکتے ہیں کہ عوام اُن کی خدمت کرنے کے لئے ہے۔ غرور آپ کو سخت‌گیر، بے‌حس بنا سکتا ہے؛ فروتنی آپ کو رحمدل بنا سکتی ہے۔‏

یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ سخت‌گیر اور مغرور ہو سکتا تھا۔ اُس کامل انسان، خدا کے بیٹے کا واسطہ ناکامل، اضطراری، پُرجوش پیروکاروں کے ساتھ تھا۔ پھربھی اُس نے اپنے سامعین کو کیا دعوت دی؟ ”‏اَے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تمکو آرام دونگا۔ میرا جوأ اپنے اُوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائینگی۔ کیونکہ میرا جؤا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا۔“‏—‏متی ۱۱:‏۲۸-‏۳۰‏۔‏

کیا ہم ہمیشہ یسوع کے نمونے کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یا کیا ہم اپنے آپ کو سخت‌گیر، بے‌لوچ، استبدادی، سنگدل، مغرور پاتے ہیں؟ یسوع کی طرح تکلیف کی بجائے آرام پہنچانے کی کوشش کریں۔ غرور کے تباہ‌کُن اثر کی مزاحمت کریں۔‏

عزتِ‌نفس بمقابلہ خودپسندی

ایک اور متعلقہ مگر مثبت خصوصیت معقول یا واجب عزتِ‌نفس ہے۔ عزتِ‌نفس کا مطلب ہے اپنی ذات کے لئے احترام دکھانا۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اس بات کی فکر رکھتے ہیں کہ دوسرے لوگ آپ کی بابت کیا کہتے ہیں۔ آپ اپنی وضع‌قطع اور نیکنامی کی بابت فکر رکھتے ہیں۔ ہسپانوی مقولہ درست ہے، ”‏مجھے بتائیے کہ آپ کن کیساتھ چلتے پھرتے ہیں اور مَیں آپ کو بتاؤنگا کہ آپ کیسے شخص ہیں۔“‏ اگر آپ ایسے لوگوں کی صحبت کو پسند کرتے ہیں جو بے‌سلیقہ، سُست، گنوار اور بدزبان ہیں تو آپ اُن جیسے بن جائیں گے۔ آپ اُن کی طرح کے رجحانات رکھیں گے اور اُن کی طرح آپ بھی عزتِ‌نفس کھو بیٹھیں گے۔‏

بِلاشُبہ دوسری انتہا بھی ہے—‏غرور جو تکبّر یا جھوٹی‌شان پر منتج ہوتا ہے۔ یسوع کے زمانے کے فقیہ اور فریسی اپنی روایات اور حد سے زیادہ مذہبی وضع‌قطع کی وجہ سے مغرور تھے۔ یسوع نے اُن کی بابت آگاہ کِیا:‏ ”‏وہ اپنے سب کام لوگوں کو دکھانے کو کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے تعویذ بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے ہیں [‏تاکہ زیادہ پرہیزگار نظر آئیں]‏۔ اور ضیافتوں میں صدر نشینی اور عبادت‌خانوں میں اعلےٰ درجہ کی کرسیاں۔ اور بازاروں میں سلام اور آدمیوں سے ربی کہلانا پسند کرتے ہیں۔“‏—‏متی ۲۳:‏۵-‏۷‏۔‏

پس متوازن رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہوواہ ظاہری صورت کی بجائے دل پر نظر کرتا ہے۔ (‏۱-‏سموئیل ۱۶:‏۷؛‏ یرمیاہ ۱۷:‏۱۰‏)‏ ظاہری راستی خدا کے نزدیک راستی نہیں ہے۔ تاہم اب سوال یہ ہے کہ ہم حقیقی فروتنی پیدا کر کے غرور کی بھاری قیمت ادا کرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ۔‏

‏[‏صفحہ 4 پر تصویر]‏

تھوڑی سی فروتنی نعمان کے لئے بڑے فائدے کا سبب بنی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں