”آپ ویسے ہی ہیں جیسا خدا چاہتا ہے“
”خداوند کی خاطر“ دُنیاوی اربابِاختیار کیساتھ تعاون کرنے کے سبب، مسیحی ”نیکوکاروں“ کے طور پر ”تعریف“ کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ (۱-پطرس ۲:۱۳-۱۵) جنوبی افریقہ میں یہوواہ کے گواہوں نے حال ہی میں ڈسٹرکٹ کنونشن پر اسکا تجربہ کِیا جو انہوں نے ایک کالج کے احاطے میں واقع ایک ہال میں منعقد کی۔
کنونشن کے پہلے دن، کالج کی سیکورٹی پولیس نے معمول کے مطابق خود کو مشتعل اور تعاون نہ کرنے والے مندوبین کا سامنا کرنے کے لئے لیس کِیا جیساکہ اُنہوں نے دیگر کنونشنوں کے سلسلے میں تجربہ کِیا تھا۔ تاہم یہوواہ کے گواہوں سے پہلے کبھی اُنکا واسطہ نہیں پڑا تھا پس انہیں خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا!
گیٹ پر معمول کی تلاشی کے دوران، سیکورٹی پولیس نے اُس جگہ پر داخل ہونے یا وہاں سے جانے والی ہر کار کی تلاشی لی۔ وہ نہایت حیران ہوئے جب اُنہیں دوستانہ انداز میں سلام کِیا گیا اور صبر اور احترام دکھایا گیا اگرچہ تلاشی کے نتیجے میں بعض مندوبین کو تاخیر ہو گئی۔ کوئی بھی معمول کی مزاحمت، جھگڑا اور ناشائستہ زبان کا استعمال نہیں کِیا گیا۔ ایک سیکورٹی آفیسر نے بیان کِیا: ”دوسرے ملاقاتیوں کے برعکس آپ نے ایسی فروتن روح اور وقار کا مظاہرہ کِیا ہے جو ہم سب پر عیاں ہے۔“
ایک مرتبہ جب سیکورٹی چیف کو یہوواہ کے گواہوں کے تعاون کا یقین ہو گیا تو اُس نے فیصلہ کِیا کہ کاروں کی تلاشی لینا ضروری نہیں ”کیونکہ،“ اُس نے بیان کِیا ”آپ انتہائی تربیتیافتہ ہیں۔“ نتیجتاً جن کاروں پر ”جےڈبلیو“ کے سٹیکر چسپاں تھے اُنہیں تلاشی کے بغیر داخل ہونے کی اجازت تھی۔
کنونشن کے اختتام پر، سیکورٹی چیف نے کہا کہ اُسے اُمید ہے کہ گواہوں سے جلد ہی دوبارہ ملاقات ہو گی۔ ”ہم نے اسقدر عمدہ چالچلن والے لوگ پہلے نہیں دیکھے،“ اُس نے بیان کِیا۔ ”آپ ویسے ہی ہیں جیسا خدا چاہتا ہے۔“ ایسی ستائش سچے مسیحیوں کیلئے ایک اضافی محرک ہے کہ وہ ’نیک چالچلن رکھیں‘ تاکہ لوگ ’ان اچھے کاموں کے سبب خدا کی تمجید کریں جنکے وہ عینیشاہد ہیں۔‘—۱-پطرس ۲:۱۲۔