یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏1 ص.‏ 28-‏31
  • ‏”‏دشتِ‌ارام کی ملکہ گیسوئے‌شب‌گوں“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏دشتِ‌ارام کی ملکہ گیسوئے‌شب‌گوں“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دشت کے کنارے واقع شہر
  • زنوبیا ایک مملکت قائم کرنے کی خواہشمند ہوتی ہے
  • ایک شہنشاہ زنوبیا کے خلاف ’‏اُٹھتا ہے‘‏
  • صحرائی شہر تباہ کر دیا گیا
  • دو بادشاہوں کے کردار میں تبدیلی
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • آخری زمانے کے”‏شاہِ‌شمال“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • دُنیا پر کون حکومت کریگا؟‏
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • مخالف بادشاہوں کا عنقریب خاتمہ
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏1 ص.‏ 28-‏31

‏”‏دشتِ‌ارام کی ملکہ گیسوئے‌شب‌گوں“‏

اُس کا رنگ گندمی، دانت موتیوں کی طرح سفید، آنکھیں کالی اور چمکدار تھیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم‌یافتہ اور کئی زبانوں کی ماہر تھی۔ اس جنگجو ملکہ کی بابت کہا جاتا تھا کہ یہ ذہانت میں قلوپطرہ سے بڑھکر اور خوبصورتی میں شاید اُس کی ہم‌پلہ تھی۔ اپنے زمانے کی ایک ممتاز عالمی قوت کو للکارنے کی وجہ سے اُس نے ایک صحیفائی ڈرامے کے نبوتی کردار کو پورا کِیا تھا۔ اُس کی موت کے کافی عرصے بعد بھی قلمکاروں نے اُس کی شان میں قصیدے کہے اور مُصوّروں نے اُس کی تصاویر بنائیں۔ انیسویں صدی کے ایک شاعر نے ”‏دشتِ‌ارام کی ملکہ گیسوئے‌شب‌گوں“‏ کے طور پر اُس کی تصویرکشی کی۔ اسقدر مقبولِ‌عام یہ خاتون ارامی شہر پال‌میرا کی ملکہ زنوبیا تھی۔‏

زنوبیا نے اتنی شہرت کیونکر حاصل کی؟ کس قسم کا سیاسی ماحول اُس کے برسرِاقتدار آنے کا باعث بنا تھا؟ اُسکے کردار کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟ نیز اس ملکہ نے کس نبوتی کردار کو پورا کِیا؟ آئیے پہلے اُس جغرافیائی ماحول کا جائزہ لیں جس میں اس ڈرامے کا آغاز ہوتا ہے۔‏

دشت کے کنارے واقع شہر

زنوبیا کا شہر پال‌میرا، دمشق کے شمال‌مشرق میں تقریباً ۱۳۰ میل کے فاصلے پر ارامی دشت کے شمالی کنارے پر واقع تھا جہاں لبنان کی مخالف سمت کے پہاڑوں کی ڈھلوان میدان میں پھیل جاتی ہے۔ یہ نخلستانی شہر مغرب میں بحیرۂ‌روم اور مشرق میں دریائے‌فرات کے تقریباً درمیان میں واقع تھا۔ بادشاہ سلیمان اسے شاید تدمور کے نام سے جانتا تھا، ایک ایسی جگہ جو دو وجوہات کی بِنا پر اُسکی بادشاہت کی خوشحالی کیلئے نہایت اہم تھی:‏ شمالی سرحد کے دفاع کیلئے فوجی چوکی اور خانہ‌بدوشوں کی بستیوں کے درمیان ایک انتہائی اہم رابطے کے طور پر۔ اسی لئے سلیمان نے ”‏بیابان میں تدموؔر“‏ کو دوبارہ ”‏بنایا“‏۔—‏۲-‏تواریخ ۸:‏۴‏۔‏

سلیمان بادشاہ کے عہدِحکومت کے ہزار سال بعد کی تاریخ تدمور کی بابت کچھ نہیں کہتی۔ اگر اسے پال‌میرا مان بھی لیا جائے تو یہ اُس وقت مشہور ہوا جب ۶۴ ق.‏س.‏ع.‏ میں ارام رومی حکومت کی فوجی چوکی بن گیا۔ رچرڈ سٹون‌مین اپنی کتاب پال‌میرا اینڈ اٹس ایمپائر—‏زنوبیاز ریولٹ اگینسٹ روم میں بیان کرتا ہے، ”‏پال‌میرا معاشی اور عسکری دونوں اعتبار سے روم کیلئے اہم تھا۔“‏ روم کو مسوپتامیہ اور مشرق سے ملانے کی وجہ سے کھجوروں کا یہ شہر ایک اہم تجارتی شاہراہ تھی، قدیم دُنیا کے تجارتی زرومال—‏ایسٹ انڈیز سے مسالے، چین سے ریشم اور فارس، جنوبی مسوپتامیہ اور بحیرۂ‌روم سے دیگر سامانِ‌تجارت اسی علاقے سے گزرتا تھا۔ روم کی درآمد کا انحصار ان اشیاء پر تھا۔‏

عسکری اعتبار سے، ارام کی ریاست روم اور فارس کی دو حریف طاقتوں کے درمیان ایک غیرجانبدار ریاست کا کام انجام دیتی تھی۔ ہمارے سن‌عام کے پہلے ۲۵۰ سالوں تک دریائے‌فرات نے روم کو اسکے مشرقی ہمسایوں سے الگ رکھا۔ پال‌میرا دشت کے اُس پار، دریائے‌فرات پر واقع دوراایورپس کے شہر کے مرکزی مغرب میں تھا۔ اسکی اہم حیثیت کو سمجھتے ہوئے ہیڈرین اور ویلرین جیسے رومی شہنشاہوں نے پال‌میرا کا دورہ کِیا۔ ہیڈرین نے اسکی تعمیراتی شان‌وشوکت میں اضافہ کِیا اور فراخدلی سے عطیات دئے۔ ویلرین نے ۲۵۸ س.‏ع.‏ میں بطورِانعام اُذنیہ نامی پال‌میرا کے ایک عظیم‌المرتبت شخص—‏زنوبیا کے شوہر کو روم کا حاکمِ‌اعلیٰ مقرر کِیا کیونکہ اُس نے کامیابی کیساتھ فارس کی سرکوبی کی اور روم کی سرحدوں کو مسوپتامیہ تک وسعت بخشی۔ اپنے شوہر کے عروج پر آنے میں زنوبیا نے بڑا اہم کردار ادا کِیا۔ مؤرخ ایڈوڈ غبن نے لکھا:‏ ”‏اُذنیہ کی کامیابی بڑی حد تک اُسکی بیوی (‏زنوبیا)‏ کی بے‌مثال فراست اور بُردباری کی مرہونِ‌منت تھی۔“‏

اسی اثنا میں، شاہِ‌فارس شاپور نے روم کی بالادستی کو چیلنج کرنے اور فارس کی تمام سابق ریاستوں پر اپنی حاکمیت جتانے کا فیصلہ کِیا۔ اپنی طاقتور فوج کیساتھ مغرب کی طرف پیش‌قدمی کرتے ہوئے اُس نے روم کی فوجی چوکیوں نسی‌بس اور کارے (‏حوران)‏ پر قبضہ کر لیا اور شمالی ارام اور سلی‌شیا کو پامال کرتا چلا گیا۔ حملہ‌آوروں کے خلاف اپنی فوجوں کی پیشوائی کرنے کیلئے شہنشاہ ویلرین بذاتِ‌خود آیا تاہم اُسے شکست ہوئی اور فارسیوں نے اُسے قیدی بنا لیا۔‏

اُذنیہ نے وقت کو غنیمت جانتے ہوئے فارس کے شہنشاہ کو قیمتی تحائف اور صلح کا پیغام بھیجا۔ بادشاہ شاپور نے انتہائی غرور میں آ کر ان تحائف کو دریائے‌فرات میں پھینک دینے کا حکم جاری کِیا اور مطالبہ کِیا کہ اُذنیہ کو اُسکے حضور ایک قیدی کے طور پر پیش کِیا جائے۔ اسکے جواب میں پال‌میریوں نے صحرائی خانہ‌بدوشوں اور رومی فوج کے بچ جانے والے سپاہیوں پر مشتمل ایک فوج تشکیل دی اور واپس لوٹنے والی فارسی فوجوں کیساتھ دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کِیا۔ صحرائی جنگجوؤں کے حملہ کر کے بھاگ جانے کی حکمتِ‌عملی نے شاپور کی فوجوں کو تھکا دیا اور وہ لوٹ‌مار کا نشانہ بنتے ہوئے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔‏

شاپور پر اپنی فتح کے نتیجے میں ویلرین کے بیٹے اور جانشین گلی‌نس نے اُذنیہ کو کوریکٹر ٹوٹاٹس اورینٹس (‏تمام مشرق کا گورنر)‏ کا خطاب دیا۔ بعدازاں اُذنیہ نے خود کو ”‏بادشاہوں کا بادشاہ“‏ کا خطاب دیا۔‏

زنوبیا ایک مملکت قائم کرنے کی خواہشمند ہوتی ہے

سن ۲۶۷ س.‏ع.‏ میں اپنے اوجِ‌کمال پر اُذنیہ اور اُسکے جانشین کو شاید اُس کے کینہ‌پرور بھتیجے نے قتل کر دیا۔ زنوبیا نے اپنے شوہر کی جگہ سنبھال لی کیونکہ اُسکا بیٹا ابھی بہت چھوٹا تھا۔ خوبصورت، بلندنظر، ماہر منتظم، اپنے شوہر کے ساتھ ساتھ رہنے کی عادی اور مختلف زبانوں کی ماہر یہ خاتون اپنی رعایا—‏خانہ‌بدوشوں کا احترام اور حمایت حاصل کرنے میں نہایت کامیاب ثابت ہوئی۔ زنوبیا کو علم سے خاص لگاؤ تھا لہٰذا اُس نے بہت سے دانشوروں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا۔ اُس کے مشیروں میں سے ایک فلاسفر اور فنِ‌تحریروتقریر کا ماہر کیسی‌اس لونگ‌نیس تھا جسے ”‏جیتی‌جاگتی لائبریری اور چلتاپھرتا عجائب‌گھر“‏ کہا جاتا تھا۔ مصنف سٹون‌مین نشاندہی کرتا ہے:‏ ”‏اُذنیہ کی موت کے پانچ سال بعد .‏ .‏ .‏ زنوبیا لوگوں کے اذہان میں خود کو مشرق کی ملکہ کے طور پر نقش کر چکی تھی۔“‏

زنوبیا کی حکومت کی ایک طرف فارس تھا جسے اُس نے اور اُس کے شوہر نے مفلوج کر رکھا تھا اور دوسری طرف دم توڑتا ہوا روم تھا۔ اُس وقت رومی سلطنت کے حالات کی بابت مورخ جے.‏ ایم.‏ رابرٹس بیان کرتا ہے:‏ ”‏تیسری صدی مشرقی اور مغربی سرحد پر .‏ .‏ .‏ روم کے لئے ایک انتہائی تشویشناک دور تھا جبکہ ملک کے اندر خانہ‌جنگی اور دیگر فسادات شروع ہو چکے تھے۔ بائیس شہنشاہوں (‏تاج‌وتخت کا دعویٰ کرنے والوں کے علاوہ)‏ کا عروج‌وزوال ہوا۔“‏ اسکے برعکس ارامی ملکہ کی حاکمیت اپنی سلطنت میں مضبوطی سے قائم تھی۔ ”‏دونوں سلطنتوں [‏فارس اور روم]‏ کے توازن کو کنٹرول کرنے کیلئے وہ ایک ایسی تیسری سلطنت قائم کرنے کی خواہشمند ہو سکتی تھی جو ان دونوں پر مسلّط ہوتی،“‏ سٹون‌مین بیان کرتا ہے۔‏

سن ۲۶۹ س.‏ع.‏ میں زنوبیا کو اپنے شاہانہ اختیارات کو وسیع کرنے کا موقع ملا جب مصر میں ایک شخص نے روم کا حکمران ہونے کا دعویٰ کِیا۔ زنوبیا کی فوجوں نے تیزی سے مصر کی جانب پیشقدمی کی، بغاوت کو کچلا اور ملک پر قبضہ کر لیا۔ مصر کی ملکہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اُس نے اپنے نام کا سکہ جاری کر دیا۔ اُس کی سلطنت اب دریائے‌نیل سے دریائے‌فرات تک پھیل گئی۔ اپنی زندگی کے اس مقام پر، وہ ”‏شاہِ‌جنوب“‏ کی حیثیت اختیار کر گئی جسکا ذکر بائبل میں دانی‌ایل کی پیشینگوئی میں کِیا گیا تھا اِس لئے کہ اُس کی سلطنت اُس وقت دانی‌ایل کے آبائی ملک کے جنوبی علاقے پر مسلّط تھی۔ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۲۵، ۲۶‏)‏ اُس نے ایشیائے‌کوچک کے بیشتر علاقوں کو بھی فتح کر لیا۔‏

زنوبیا نے اپنے دارالسلطنت، پال‌میرا کو اسقدر خوبصورت بنا دیا کہ اُسکا شمار رومی حکومت کے بڑے بڑے شہروں میں ہونے لگا۔ اسکی آبادی اندازاً ۱۵۰،۰۰۰ کو پہنچ گئی تھی۔ فصیلوں کے اندر کے شہر کا احاطہ تقریباً ۱۳ میل تھا جو شاندار عوامی عمارات، مندروں، باغات، یسیرتوں اور یادگاروں سے بھرا پڑا تھا۔ بڑی شاہراہ پر کرنتھی طرزِتعمیر کی ۵۰ فٹ اونچی ۱،۵۰۰ یسیرتیں نصب تھیں۔ شہر عظیم سورماؤں اور متموّل سرپرستوں کے مجسّموں سے بھرا پڑا تھا۔ زنوبیا نے ۲۷۱ س.‏ع.‏ میں اپنا اور اپنے مرحوم شوہر کا مجسّمہ بھی نصب کروایا۔ صحرا کے کنارے پر پال‌میرا ایک ہیرے کی مانند روشن تھا۔‏

سورج دیوتا کا مندر پال‌میرا کی بہترین عمارتوں میں سے ایک تھا اور بلا‌شُبہ شہر کے تمام مذاہب پر حاوی تھا۔ غالباً زنوبیا بھی کسی سورج دیوتا کی پرستش کرتی تھی۔ تاہم تیسری صدی کا ارام بہت سے مذاہب کی سرزمین تھا۔ زنوبیا کی سلطنت میں نام‌نہاد مسیحی، یہودی، جوتشی اور چاند اور سورج کی پرستش کرنے والے سب کے سب لوگ موجود تھے۔ اُس کی عملداری میں پرستش کے مختلف طریقوں کی بابت اُسکا میلان کیسا تھا؟ مصنف سٹون‌مین لکھتا ہے:‏ ”‏ایک دانا حکمران ایسی روایات کو نظرانداز نہیں کریگا جو اُسکی رعایا میں مقبول ہوں۔ .‏ .‏ .‏ اُمید .‏ .‏ .‏ کی جاتی تھی کہ دیوتا پال‌میرا کی حمایت میں تھے۔“‏ زنوبیا بظاہر مذہبی اعتبار سے روادار تھی۔ تاہم کیا دیوتا واقعی ”‏پال‌میرا کی حمایت میں تھے“‏؟ پال‌میرا اور اسکی ”‏دانا حکمران“‏ کا مستقبل کیا تھا؟‏

ایک شہنشاہ زنوبیا کے خلاف ’‏اُٹھتا ہے‘‏

سن ۲۷۰ س.‏ع.‏ میں اوریلین روم کا حکمران بنا۔ اُسکی فوجوں نے شمال کے غیرملکیوں کو کامیابی کے ساتھ سبق سکھاتے ہوئے پیچھے دھکیل دیا۔ ۲۷۱ س.‏ع.‏ میں—‏دانی‌ایل کی پیشینگوئی کے مطابق ”‏شاہِ‌شمال“‏ کی نمائندگی کرتے ہوئے—‏اوریلین نے ’‏شاہِ‌جنوب‘‏ یعنی زنوبیا کے خلاف ’‏اپنے زور اور دل کو ابھارا۔‘‏ (‏دانی‌ایل ۱۱:‏۲۵ا‏)‏ اوریلین نے اپنی فوج کے کچھ حصے کو براہِ‌راست مصر بھیج دیا اور اپنی خاص فوج کیساتھ ایشیائے‌کوچک کے راستے مشرق کا رخ کِیا۔‏

شاہِ‌جنوب—‏زنوبیا کے زیرِحکومت تمام سلطنت—‏”‏نہایت بڑا اور زبردست لشکر لیکر“‏ اوریلین کے ”‏مقابلہ کو [‏نکلا]‏“‏ جو دو جرنیلوں کے تحت تھا، زیب‌داس اور زابی۔ (‏دانی‌ایل ۱۱‏:‏۲۵ب)‏ تاہم اوریلین نے مصر کو فتح کر لیا اور اسکے بعد ایشیائے‌کوچک اور ارام کے خلاف صف‌آرا ہوا۔ زنوبیا کو ایمی‌سیا (‏اب ہومس)‏ کے مقام پر شکست ہوئی اور وہ پال‌میرا کو لوٹ گئی۔‏

جب اوریلین نے پال‌میرا کا محاصرہ کِیا تو زنوبیا مدد کی اُمید لئے اپنے بیٹے کیساتھ فارس کی طرف بھاگ گئی تاہم رومیوں نے اسے دریائے‌فرات پر ہی گرفتار کر لیا۔ پال‌میریوں نے ۲۷۲ س.‏ع.‏ میں اپنا شہر دشمن کے حوالے کر دیا۔ اوریلین نے وہاں کے باشندوں سے اچھا سلوک کِیا، بہت سا مالِ‌غنیمت جمع کِیا، جس میں سورج دیوتا کے مندر کے بت بھی شامل تھے اور روم کو روانہ ہو گیا۔ رومی حکمران نے زنوبیا کو زندہ چھوڑ دیا اور ۲۷۴ س.‏ع.‏ میں اُسے اپنی شاہانہ فتح کی خاص دلکشی بنایا۔ زنوبیا نے اپنی باقی زندگی ایک باعزت رومی خاتون کے طور پر گزاری۔‏

صحرائی شہر تباہ کر دیا گیا

پال‌میرا پر اوریلین کے قبضے کے چند ماہ بعد، پال‌میریوں نے پال‌میرا میں واقع روم کی فوجی چوکی پر حملہ کر کے قتل‌وغارت کی۔ جب اس بغاوت کی خبر اوریلین کو پہنچی تو اُس نے فوراً ہی اپنی فوج کو کوچ کا حکم دیا اور اس مرتبہ وہ تمام آبادی پر قہر بن کر ٹوٹ پڑا۔ جو اس بے‌رحمانہ قتل‌وغارت سے بچ گئے اُنہیں غلام بنا لیا گیا۔ متکبر شہر کو ایسے تباہ کِیا گیا کہ اُسکی دوبارہ بحالی ناممکن تھی۔ پس سابق دلکش دارالسلطنت اپنی ابتدائی—‏”‏بیابان میں تدموؔر“‏ میں بدل گیا۔‏

جب زنوبیا روم کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تھی تو اُس نے اور بادشاہ اوریلین نے نادانستہ طور پر ”‏شاہِ‌جنوب“‏ اور ”‏شاہِ‌شمال“‏ کے کردار ادا کئے جنکا تذکرہ ۸۰۰ سال پہلے یہوواہ کے نبی کی پیشینگوئی میں کِیا گیا تھا۔ (‏دانی‌ایل ۱۱ باب)‏ اپنی رنگارنگ شخصیت کے سبب زنوبیا نے بیشتر لوگوں کے دل جیت لئے۔ تاہم زیادہ اہم بات اُسکا وہ سیاسی کردار تھا جسے دانی‌ایل کی پیشینگوئی میں بیان کِیا گیا تھا۔ اُسکا دورِحکومت پانچ سال سے زیادہ عرصہ قائم نہ رہا۔ پال‌میرا، زنوبیا کا دارالسلطنت آج ایک گاؤں سے زیادہ نہیں ہے۔ عظیم روم بھی اپنی اپنی طاقت کھو بیٹھا ہے اور جدید حکومتوں میں بٹ گیا ہے۔ ان حکومتوں کا مستقبل کیا ہے؟ انکا مقدر بھی بائبل پیشینگوئی کی یقینی تکمیل سے وابستہ ہے۔—‏دانی‌ایل ۲:‏۴۴‏۔‏

‏[‏صفحہ 29 پر بکس]‏

زنوبیا کی میراث

پال‌میرا کی ملکہ، زنوبیا کو شکست دینے کے بعد روم واپس پہنچ کر، بادشاہ اوریلین نے سورج دیوتا کا مندر تعمیر کِیا۔ اس میں اُس نے سورج دیوتا کے مجسّموں کو رکھا جو وہ زنوبیا کے شہر سے لایا تھا۔ مزید اصلاحات پر بات کرتے ہوئے، رسالہ ہسٹری ٹوڈے بیان کرتا ہے:‏ ”‏اوریلین کے کاموں میں سب سے بڑا کام شاید ۲۷۴ عیسوی میں سورج دیوتا کے لئے اُس تہوار کا آغاز کرنا تھا جو موسمِسرما میں دسمبر ۲۵ کو منایا جاتا ہے۔ جب سلطنت مسیحی بن گئی تو اسی تاریخ کو مسیح کے جنم‌دن کے طور پر منایا جانے لگا تاکہ پُرانے مذہب کے تہواروں سے محظوظ ہونے والوں کے لئے نئے مذہب کو زیادہ قابلِقبول بنایا جا سکے۔ یہ ایک عجیب خیال ہے کہ ملکہ زنوبیا کی وجہ سے .‏ .‏ .‏ آج [‏لوگ]‏ کرسمس مناتے ہیں۔“‏

‏[‏صفحہ 28‏، 29 پر نقشہ/‏تصویر]‏

‏(‏تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

بحیرۂ‌روم

ارام

انطاکیہ

ایمی‌سیا (‏ہومس)‏

پال‌میرا

دمشق

مسوپتامیہ

دریائے‌فرات

کارے (‏حوران)‏

نسی‌بس

دورایورپس

‏[‏تصویروں کے حوالہ‌جات]‏

‏.Map: Mountain High Maps® Copyright © 1997 Digital Wisdom, Inc

Colonnade: Michael Nicholson/Corbis

‏[‏صفحہ 29 پر تصویر]‏

غالباً اوریلین کی تصویر والا رومی سکہ

‏[‏صفحہ 30 پر تصویر]‏

پال‌میرا میں سورج کا مندر

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

J. G. Heck/‏The Complete Encyclopedia of Illustration

‏[‏صفحہ 31 پر تصویر]‏

ملکہ زنوبیا اپنے سپاہیوں سے خطاب کر رہی ہے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏,Queen Zenobia Addressing Her Soldiers ,Giovanni Battista Tiepolo

‏,Samuel H. Kress Collection, Photograph © Board of Trustees

National Gallery of Art, Washington

‏[‏صفحہ 28 پر تصویروں کے حوالہ‌جات]‏

Queen Zenobia Addressing ,Detail of: Giovanni Battista Tiepolo

© Her Soldiers, Samuel H. Kress Collection, Photograph

Board of Trustees, National Gallery of Art, Washington

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں