یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏1 ص.‏ 25-‏27
  • زبانی شریعت—‏ اسے تحریری شکل کیوں دی گئی تھی؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • زبانی شریعت—‏ اسے تحریری شکل کیوں دی گئی تھی؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • روایات کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟‏
  • ‏”‏یہ اختیار تجھے کس نے دیا ہے؟“‏
  • بحران سے دوچار شریعت—‏ایک نیا حل
  • زبانی شریعت کو تحریری شکل کیوں دی گئی؟‏
  • مسیح سے قبل شریعت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • مسیح کی شریعت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏1 ص.‏ 25-‏27

زبانی شریعت‏—‏ اسے تحریری شکل کیوں دی گئی تھی؟‏

پہلی صدی کے بیشتر یہودی یسوع کو بطور مسیحا قبول کرنے میں کیوں ناکام رہے تھے؟ ایک عینی شاہد بیان کرتا ہے:‏ ”‏جب [‏یسوع]‏ ہیکل میں آ کر تعلیم دے رہا تھا تو سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے اُس کے پاس آ کر کہا تُو ان کاموں کو کس اختیار کے ساتھ کرتا ہے؟ یہ اختیار تجھے کس نے دیا ہے؟“‏ (‏متی ۲۱:‏۲۳‏)‏ اُن کے خیال میں قادرِمطلق خدا نے یہودی قوم کو توریت (‏شریعت)‏ دی تھی اور اس کے ذریعے مخصوص اشخاص کو خداداد اختیار بخشا گیا تھا۔ کیا یسوع ایسا اختیار رکھتا تھا؟‏

یسوع نے توریت اور ان اشخاص کیلئے گہرا احترام ظاہر کِیا جنہیں یہ حقیقی اختیار بخشا گیا تھا۔ (‏متی ۵:‏۱۷-‏۲۰؛‏ لوقا ۵:‏۱۴؛‏ ۱۷:‏۱۴‏)‏ لیکن اس نے خدا کے احکام سے تجاوز کرنے والوں کو اکثروبیشتر ملامت کی۔ (‏متی ۱۵:‏۳-‏۹؛‏ ۲۳:‏۲-‏۲۸‏)‏ ان اشخاص نے رسومات کی پیروی کی جو زبانی شریعت کہلائیں۔ یسوع نے اُسکے اختیار کو مسترد کر دیا۔ نتیجتاً، بہتیروں نے اسے بطور مسیحا رد کر دیا۔ وہ ایمان رکھتے تھے کہ اختیار والوں کی روایات پر چلنے والے شخص کو ہی خدا کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔‏

اس زبانی شریعت کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ یہودی اسے صحائف میں درج تحریری شریعت کے مساوی اختیار کے طور پر کیسے خیال کرنے لگے؟ نیز اگر اس کا مطلب زبانی شریعت ہی تھا تو پھر اسے تحریری شکل کیوں دی گئی؟‏

روایات کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟‏

اسرائیلی ۱۵۱۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں کوہِ‌سینا پر یہوواہ کے ساتھ عہد کے رشتے میں منسلک ہوئے۔ اُنہوں نے موسیٰ کی معرفت، اس عہد کے احکام حاصل کئے۔ (‏خروج ۲۴:‏۳)‏ ان ضابطوں کی پیروی کرنے سے وہ ’‏خود کو اپنے خدا یہوواہ کی مانند پاک ثابت‘‏ کر سکتے تھے۔ (‏احبار ۱۱:‏۴۴)‏ شریعتی عہد کے تحت، یہوواہ کی پرستش میں ایک کاہن کے ذریعے قربانیاں پیش کرنا شامل تھا۔ یروشلیم میں ہیکل کو بالآخر پرستش کا مرکز ہونا تھا۔—‏استثنا ۱۲:‏۵-‏۷؛‏ ۲-‏تواریخ ۶:‏۴-‏۶‏۔‏

موسوی شریعت نے اسرائیل کو بطور قوم یہوواہ کی پرستش کرنے کیلئے ایک مکمل ضابطہ فراہم کر دیا تھا۔ تاہم، بعض تفصیلات واضح طور پر بیان نہیں کی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر، شریعت نے سبت کے دن کام کرنے کو ممنوع قرار دیا، تاہم اس نے کام اور دیگر کارگزاریوں کے درمیان کوئی واضح فرق بیان نہ کِیا۔—‏خروج ۲۰:‏۱۰۔‏

اگر یہوواہ نے اسے مناسب خیال کِیا ہوتا تو وہ کسی بھی معقول سوال کا جواب دینے کے لئے واضح قوانین‌وضوابط فراہم کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے انسانوں کو ایک ضمیر کے ساتھ خلق کِیا، اور اس نے اُنہیں اپنے احکام کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی حد تک لچک کے ساتھ اپنی خدمت کرنے کی اجازت دی۔ شریعت نے کاہنوں، لاویوں اور قاضیوں کے ذریعے عدالتی معاملات نپٹانے کا اہتمام کِیا۔ (‏استثنا ۱۷:‏۸-‏۱۱)‏ جب معاملات بڑھنے لگے تو مخصوص قوانین کو قائم کر دیا گیا اور بِلاشُبہ ان میں سے بعض نسل‌درنسل منتقل ہوئے تھے۔ یہوواہ کی ہیکل میں کہانتی فرائض کی نگرانی کے طریقے بھی باپ سے بیٹے تک منتقل کئے گئے تھے۔ جوں جوں اسرائیلی قوم اجتماعی طور پر بڑھتی رہی تو اس کی روایات میں اضافہ ہوتا رہا۔‏

تاہم، موسیٰ کو دی جانے والی شریعت اسرائیل کی پرستش کا نمایاں حصہ رہی۔ خروج ۲۴:‏۳، ۴ بیان کرتی ہیں:‏ ”‏موسیٰؔ نے لوگوں کے پاس جا کر خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی سب باتیں اور احکام اُن کو بتا دئے اور سب لوگوں نے ہم‌آواز ہو کر جواب دیا کہ جتنی باتیں خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ نے فرمائی ہیں ہم اُن سب کو مانیں گے۔ اور موؔسیٰ نے خداوند کی سب باتیں لکھ لیں۔“‏ ان تحریری احکامات کی وجہ سے ہی خدا نے اسرائیل کے ساتھ عہد باندھا تھا۔ (‏خروج ۳۴:‏۲۷)‏ درحقیقت، صحائف زبانی شریعت کا کہیں بھی ذکر نہیں کرتے۔‏

‏”‏یہ اختیار تجھے کس نے دیا ہے؟“‏

موسوی شریعت نے بنیادی مذہبی اختیار اور ہدایات کاہنوں، ہارون کے بیٹوں کے سپرد کی تھیں۔ (‏احبار ۱۰:‏۸-‏۱۱؛ استثنا ۲۴:‏۸؛‏ ۲-‏تواریخ ۲۶:‏۱۶-‏۲۰؛‏ ملاکی ۲:‏۷)‏ تاہم، صدیوں کے دوران بعض کاہن بے‌وفا اور بدکار ثابت ہوئے۔ (‏۱-‏سموئیل ۲:‏۱۲-‏۱۷؛ ۲۲:‏۲۹‏؛ یرمیاہ ۵:‏۳۱؛‏ ملاکی ۲:‏۸، ۹)‏ یونانی دورِحکومت کے دوران، بہت سے کاہنوں نے مذہبی معاملات پر مصالحت کر لی۔ دوسری صدی ق.‏س.‏ع.‏ میں یہودیت میں فریسیوں کا ایک نیا گروہ جس نے کہانت پر شک کِیا—‏ایسی روایات کو مرتب کرنے لگا جس کے ذریعے ایک عام شخص خود کو کاہن کی طرح پاک خیال کر سکتا تھا۔ ان روایات کو بہتیرے لوگوں نے پسند کِیا لیکن وہ شریعت کیلئے ایک ناقابلِ‌قبول اضافہ تھیں۔—‏استثنا ۴:‏۲؛ ۱۲:‏۳۲۔‏

فریسی مذہب کے نئے عالم بن گئے اور وہ کام کرنے لگے جو اُنکے خیال میں کاہن نہیں کر رہے تھے۔ چونکہ موسوی شریعت نے انہیں اس اختیار کی اجازت نہیں دی تھی لہٰذا انہوں نے مبہم تجاویز اور اپنے نظریات کی حمایت کرنے والے دیگر طریقوں کے ذریعے صحائف کی تشریح کرنے کے نئے طریقوں کو فروغ دیا۔‏a ان روایات کے محافظوں اور معاونین کے طور پر، انہوں نے اسرائیل میں اختیار کی ایک نئی بنیاد رکھی۔ پہلی صدی س.‏ع.‏ تک فریسی یہودیت میں ایک قوت بن گئے تھے۔‏

جب انہوں نے مروج زبانی روایات کو اکٹھا کِیا اور اپنی روایات کو قائم کرنے کیلئے صحیفائی اطلاق کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تو اُنہوں نے یہ کام کرنے کیلئے اضافی اختیار کی ضرورت کو محسوس کِیا۔ ان روایات کی ابتدا کے سلسلے میں ایک نئے نظریے نے جنم لیا۔ ربی یہ تعلیم دینے لگے:‏ ”‏موسیٰ کو سینا پر توریت دی گئی اور اس سے یشوع کو، یشوع سے بزرگوں کو اور بزرگوں سے نبیوں کو دی گئی۔ اِسی طرح سے نبیوں نے عام لوگوں تک پہنچائی۔“‏—‏ایوٹ ۱:‏۱، دی مِشنہ۔‏

یہ کہنے سے کہ ”‏موسیٰؔ کو توریت دی گئی،“‏ ربی نہ صرف تحریری شریعت کا بلکہ اپنی تمام زبانی روایات کا بھی حوالہ دے رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کِیا کہ یہ روایات—‏انسانوں کی ایجادکردہ اور رائج‌کردہ—‏سینا پر خدا کی معرفت موسیٰ کو دی گئی تھیں۔ اسکے علاوہ وہ تعلیم دیتے تھے کہ خدا نے انسانوں کو کسی بھی ایسی بات کا تعیّن کرنے کی اجازت نہ دی جو توریت میں موجود نہیں تھی لیکن تحریری شریعت میں جوکچھ بیان نہیں کِیا گیا تھا اسے [‏خدا]‏ نے زبانی بیان کر دیا تھا۔ اُن کے مطابق، موسیٰ نے دیگر پیشواؤں کو یہ زبانی شریعت کاہنوں کے ذریعے نہیں بلکہ نسل‌درنسل منتقل کی تھی۔ فریسیوں نے اختیار کے اس ”‏غیرمنقطع“‏ سلسلے کے اصل وارث ہونے کا دعویٰ کِیا۔‏

بحران سے دوچار شریعت—‏ایک نیا حل

یسوع نے ہیکل کی تباہی کی بابت پیش‌ازوقت بتا دیا تھا جس کے خداداد اختیار پر یہودی مذہبی لیڈروں نے شک کِیا تھا۔ (‏متی ۲۳:‏۳۷–‏۲۴:‏۲‏)‏ رومیوں کے ہاتھوں ۷۰ س.‏ع.‏ میں ہیکل کی تباہی کے بعد، موسوی شریعت کے تقاضوں سمیت قربانیوں اور کہانتی خدمت کی مزید تعمیل نہیں کی جا سکتی تھی۔ خدا نے یسوع کے فدیے کی قربانی کی بنا پر ایک نئے عہد کو قائم کر دیا تھا۔ (‏لوقا ۲۲:‏۲۰‏)‏ موسوی شریعتی عہد منسوخ ہو گیا تھا۔—‏عبرانیوں ۸:‏۷-‏۱۱‏۔‏

ان واقعات کو ایک ثبوت کے طور پر دیکھنے کی بجائے کہ یسوع ہی مسیحا تھا فریسیوں نے ایک نیا حل تلاش کر لیا۔ وہ کہانت کے بیشتر اختیار پر پہلے ہی قابض ہو چکے تھے۔ ہیکل کی تباہی کے ساتھ ہی وہ ایک قدم آگے بڑھ گئے۔ یاوینا میں ربیوں کی درس‌گاہ ایک نئے سرے سے منظم‌کردہ صدر عدالت—‏یہودی ہائی‌کورٹ کا مرکز بن گئی۔ یاوینا میں یہوحانان بن ذکی اور گملی‌ایل کی زیرِقیادت، یہودیت کو ازسرِنو تشکیل دیا گیا۔ عبادتخانہ میں ربیوں کے ذریعے انجام دی جانے والی خدمات نے ہیکل میں کاہنوں کی زیرِنگرانی پرستش کی جگہ لے لی۔ قربانیوں کی جگہ دُعاؤں بالخصوص یومِ‌کفارہ کی دُعاؤں نے لے لی۔ فریسیوں نے استدلال کِیا کہ سینا پر موسیٰ کو دی جانے والی زبانی شریعت کی ضرورت کو پہلے ہی محسوس کر لیا گیا تھا اور اس کا اہتمام کِیا گیا تھا۔‏

ربیوں کی درسگاہوں نے اس میں اہم ذمہ‌داری کو شامل کر لیا۔ ان کا اہم درسی نصاب گرماگرم مباحثے، حفظ کرنا اور زبانی شریعت کا نفاذ تھا۔ اس سے پہلے، زبانی شریعت کی بنیاد مدراش—‏صحائف کی تشریح کے ساتھ وابستہ تھی۔ اب ہمہ‌وقت بڑھنے والی ان روایات کے مجموعے کو تعلیم‌وتدریس کا حصہ بنایا گیا اور انہیں الگ سے ترتیب دیا گیا۔ زبانی شریعت کی ہر شق کو مختصر، بآسانی یاد ہو جانے والے جملوں میں ڈھال لیا گیا تھا، جن کیلئے اکثر دُھن ترتیب دی جاتی تھی۔‏

زبانی شریعت کو تحریری شکل کیوں دی گئی؟‏

ربیوں کی بہت زیادہ درسگاہوں اور ضابطوں میں اضافے نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ ربی عالم ایڈن سٹن‌سالٹس وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏ہر اُستاد کا اپنا طریقہ‌کار تھا اور زبانی شقوں کو اپنے منفرد انداز سے پیش کرتا تھا۔ .‏ .‏ .‏ کسی شخص کیلئے صرف اپنے اُستاد کی تعلیمات سے واقف ہونا کافی نہیں تھا اور اسلئے طالبعلم دوسرے عالموں کے کام سے واقف ہونے کا پابند تھا .‏ .‏ .‏ اس طرح طالبعلموں کو ’‏وسیع علم‘‏ کی وجہ سے مواد کے بڑے حصوں کو مجبوراً یاد کرنا پڑتا تھا۔“‏ غیرمرتب معلومات کے وسیع سمندر میں طالبعلم کا حافظہ ناقابلِ‌برداشت بوجھ تلے دب جاتا تھا۔‏

دوسری صدی س.‏ع.‏ میں بار کوکبا کی زیرِکمان یہودیوں کی روم کے خلاف بغاوت ربی علماء کی شدید اذیت کا سبب بنی۔ آکیوا ایک لائق‌فائق ربی سمیت جس نے کوکبا کی حمایت کی تھی، بہت سے نامور علماء کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ ربی اس بات سے خائف تھے کہ دوبارہ اذیت زبانی شریعت کو خطرے میں ڈال سکتی تھی۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ روایات استاد سے شاگرد تک زبانی بہتر طور پر پہنچتی تھیں لیکن بدلتے حالات دانشوروں کی تعلیمات کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک منظم ڈھانچے کو تشکیل دینے کیلئے اضافی کوشش کا سبب بنے۔‏

روم کے ساتھ نسبتی امن کے بعد کے دور میں، دوسری صدی کے آخر اور تیسری صدی کے شروع میں رہنے والے ممتاز ربی ہانسی نے علماء کی ایک بڑی تعداد کو اکٹھا کر کے زبانی روایات کے وسیع ذخیرے کو چھ حصوں پر مشتمل ایک منظم ضابطے کی صورت دی جن میں سے ہر ایک کی چھوٹی چھوٹی شقیں تھیں جن کا مجموعہ ۶۳ تھا۔ یہ کام مِشنہ کے طور پر مشہور ہوا۔ زبانی شریعت کا ایک مستند عالم افرائیم ارباخ تبصرہ کرتا ہے:‏ ”‏مِشنہ کو ایسا اختیار اور منظوری دی گئی جو توریت کے علاوہ کسی دوسری کتاب کو نہیں دی گئی تھی۔“‏ مسیحا کو مسترد کر دیا گیا، ہیکل کو تباہ‌وبرباد کر دیا گیا لیکن مِشنہ کی صورت میں زبانی شریعت کو تحریری طور پر محفوظ کر لینے سے یہودیت کا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a صحائف کی تشریح کا یہ اسلوب مدراش کہلاتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ 26 پر تصویر]‏

بہتیرے یہودیوں نے یسوع کے اختیار کو کیوں مسترد کر دیا؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں