یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏1 ص.‏ 21-‏24
  • کیا دوسرے آپکی مشورت قبول کرتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا دوسرے آپکی مشورت قبول کرتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏’‏حلم مزاجی سے بحال کرو‘‏
  • رحم کے ساتھ مشورت
  • فروتنی سے مشورت دینا
  • مشورت جو قبول کی گئی
  • ‏’‏داناؤں کی باتیں سنیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • مشورت کو سنیں اور تربیت کو قبول کریں
    سچے خدا کی عبادت کریں
  • کیا آپ اِس طرح سے دوسروں کی اِصلاح کرتے ہیں کہ اُن کا دل خوش ہو؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • دوسروں کو نصیحت یا مشورہ کیسے دیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏1 ص.‏ 21-‏24

کیا دوسرے آپکی مشورت قبول کرتے ہیں؟‏

مناسب طریقے سے دی جانے والی عمدہ مشورت ہمیشہ بہترین نتائج پر منتج ہوتی ہے۔ کیا یہ سچ ہے؟ جی‌نہیں!‏ لائق مشیروں کی مشورت کو بھی اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔—‏امثال ۲۹:‏۱۹‏۔‏

یہ اُسوقت ہوا جب یہوواہ نے قائن کو مشورت دی جو اپنے بھائی ہابل کیلئے نفرت پیدا کر چکا تھا۔ (‏پیدایش ۴:‏۳-‏۵‏)‏ قائن کو لاحق خطرے سے باخبر ہوتے ہوئے، خدا نے اُس سے کہا:‏ ”‏تُو کیوں غضبناک ہوا؟ اور تیرا مُنہ کیوں بگڑا ہؤا ہے؟ اگر تُو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہوگا؟ اور اگر تُو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازہ پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے پر تُو اُس پر غالب آ۔“‏—‏پیدایش ۴:‏۶، ۷‏۔‏

لہٰذا یہوواہ نے گناہ کو ایک حملہ‌آور سے تشبِیہ دی جو قائن کو دبوچنے کا منتظر تھا اگر وہ اپنے بھائی کے خلاف اپنے غصے کو برقرار رکھتا ہے۔ (‏مقابلہ کریں یعقوب ۱:‏۱۴، ۱۵‏)‏ قائن کے پاس ایک تباہ‌کُن روش پر چلنے کی بجائے ”‏بھلا کرنے“‏ اور اپنے رویے میں تبدیلی لانے کیلئے وقت تھا۔ افسوس کہ قائن نے توجہ نہ دی۔ اُس نے یہوواہ کی مشورت کو رد کر دیا جو خوفناک نتائج پر منتج ہوا۔‏

بعض کسی بھی قسم کی مشورت سے آزردہ ہو جاتے ہیں اور اُسے رد کر دیتے ہیں۔ (‏امثال ۱:‏۲۲-‏۳۰‏)‏ مشورت کے رد کئے جانے میں کیا مشورت دینے والے کی غلطی ہو سکتی ہے؟ (‏ایوب ۳۸:‏۲‏)‏ کیا آپ جو مشورت دینے والے ہیں دوسروں کے لئے اسے قبول کرنا مشکل بنا دیتے ہیں؟ انسانی ناکاملیت اسے ایک حقیقی خطرہ بنا دیتی ہے۔ لیکن آپ نہایت احتیاط سے بائبل اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے ایسا واقع ہونے کے امکان کو کم کر سکتے ہیں۔ آئیے ان میں سے بعض پر غور کریں۔‏

‏’‏حلم مزاجی سے بحال کرو‘‏

‏”‏اے بھائیو!‏ اگر کوئی آدمی کسی قصور میں پکڑا بھی جائے تو تم جو روحانی ہو اسکو حلم مزاجی سے بحال کرو اور اپنا بھی خیال رکھ۔ کہیں تُو بھی آزمایش میں نہ پڑ جائے۔“‏ (‏گلتیوں ۶:‏۱‏)‏ لہٰذا پولس رسول نے نشاندہی کی کہ جو ”‏روحانی“‏ ہیں اُن ہی کو ایک مسیحی کو بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو ”‏کسی قصور میں پکڑا“‏ گیا ہے۔ بعض‌اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایسا کرنے کی لیاقت نہ رکھنے والے مشورت دینے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ لہٰذا دوسروں کو مشورت دینے میں جلدی نہ کریں۔ (‏امثال ۱۰:‏۱۹؛‏ یعقوب ۱:‏۱۹؛‏ ۳:‏۱‏)‏ بنیادی طور پر کلیسیا کے بزرگ ایسا کرنے کیلئے روحانی طور پر لیاقت رکھتے ہیں۔ بِلاشُبہ کسی بھی پُختہ مسیحی کو اگر وہ اپنے بھائی کو خطرے میں دیکھتا ہے تو آگاہی دینی چاہئے۔‏

اگر آپ مشورت یا نصیحت دیتے ہیں تو اس کا انسانی نظریات اور فلسفے کی بجائے خدائی حکمت پر مبنی ہونے کا یقین کر لیں۔ (‏کلسیوں ۲:‏۸‏)‏ محتاط باورچی کی مانند بنیں جو یقین کر لیتا ہے کہ تمام مصالحے صحتمندانہ اور کسی بھی زہریلی چیز سے پاک ہیں۔ یہ یقین کر لیں کہ آپ کی مشورت آپ کی ذاتی رائے کی بجائے پوری طرح خدا کے کلام پر مبنی ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ ایسا کرنے سے آپ یقین رکھ سکتے ہیں کہ آپ کی مشورت کسی کے لئے نقصاندہ نہیں ہوگی۔‏

مشورت کا مقصد متذبذب تبدیلی پر مجبور کرنے کی بجائے قصوروار کو ”‏بحال“‏ کرنا ہے۔ یونانی لفظ جسکا ترجمہ ”‏بحال“‏ کِیا گیا ہے ایسی اصطلا‌ح سے تعلق رکھتا ہے جس کا مطلب مزید نقصان کو روکنے کے لئے اپنی جگہ سے ہلی ہوئی ہڈی کو واپس بٹھانا ہے۔ لغت‌نویس ڈبلیو.‏ای.‏ وائن کے مطابق یہ ”‏معاملے کے دوران صبروتحمل کی ضرورت“‏ کا اشارہ بھی دیتا ہے۔ غیرضروری جسمانی تکلیف پہنچانے سے گریز کرنے کے لئے درکار نرمی اور مہارت کا تصور کریں۔ اسی طرح سے مشورت حاصل کرنے والے شخص کو تکلیف سے بچانے کیلئے مشیر کو بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت مشکل ہوتا ہے جب کوئی مشورت کے لئے درخواست کرتا ہے۔ جب آپ کی مشورت کے لئے درخواست نہیں کی جاتی تو اَور بھی زیادہ مہارت اور موقع‌شناسی کی ضرورت ہے۔‏

اگر آپ کسی کو دل‌برداشتہ کر دیتے ہیں تو یقیناً آپ اُسے ”‏بحال“‏ نہیں کریں گے۔ ایسا کرنے سے گریز کرنے کے لئے آپ کو ”‏دردمندی اور مہربانی اور فروتنی اور حلم اور تحمل“‏ کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ (‏کلسیوں ۳:‏۱۲‏)‏ اگر ایک ڈاکٹر بے‌صبر ہے اور اپنے مریض کے ساتھ اُس کا رویہ غیرضروری طور پر سخت‌گیر ہے تو مریض اُس کے مشورے کو نظرانداز کر دے گا اور درکار علاج کے لئے کبھی واپس نہیں آئے گا۔‏

اسکا یہ مطلب نہیں کہ مشورت میں استحکام کا عنصر نہ پایا جائے۔ یسوع مسیح نے آسیہ کے علاقے کی سات کلیسیاؤں کو مشورت دیتے ہوئے استحکام کا مظاہرہ کِیا۔ (‏مکاشفہ ۱:‏۴؛‏ ۳:‏۱-‏۲۲‏)‏ اُس نے اُنہیں نہایت ہی براہِ‌راست مشورت دی جسکی اُنہیں سننے اور اطلاق کرنے کی ضرورت تھی۔ تاہم یسوع کی مشورت کے استحکام میں رحم اور ترس جیسی خوبیاں بھی شامل تھیں جو اُسکے آسمانی باپ کی پُرمحبت روح کی عکاسی کرتی ہیں۔—‏زبور ۲۳:‏۱-‏۶؛‏ یوحنا ۱۰:‏۷-‏۱۵‏۔‏

رحم کے ساتھ مشورت

‏”‏تمہارا کلام ہمیشہ پُرفضل اور نمکین ہو کہ تمہیں ہر شخص کو مناسب جواب دینا آ جائے۔“‏ (‏کلسیوں ۴:‏۶‏)‏ نمک کھانے کو جاذبِ‌توجہ بناتے ہوئے اسکے ذائقے کو بڑھا دیتا ہے۔ اگر آپکی مشورت کو پسندیدہ ہونا ہے تو اسے ”‏پُرفضل اور نمکین“‏ ہونا چاہئے۔ بہترین مصالحے استعمال کرنے کے باوجود بھی ہو سکتا ہے کہ کھانا بُرے طریقے سے تیار کِیا جائے یا پھوہڑپن سے پیش کِیا جائے۔ یہ کسی کی بھی بھوک کو نہیں بڑھاتا۔ درحقیقت اسکا ایک نوالہ بھی حلق سے اُتارنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔‏

مشورت دیتے وقت درست الفاظ کا انتخاب کرنا نہایت ضروری ہے۔ دانشمند شخص سلیمان نے کہا:‏ ”‏باموقع باتیں روپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سیب ہیں۔“‏ (‏امثال ۲۵:‏۱۱‏)‏ اُسکے ذہن میں نفاست سے تیارکردہ روپہلی ٹوکری تھی جس میں سونے کے سیب کی تصویر بنائی گئی تھی۔ یہ آنکھوں کو کتنا خوشنما معلوم ہوگا اور آپ اسے تحفے کے طور پر حاصل کر کے کتنی قدر کرینگے!‏ اسی طرح عمدگی سے منتخب‌کردہ پُرفضل الفاظ اُس شخص کیلئے بڑے جاذبِ‌توجہ ہو سکتے ہیں جسکی آپ مدد کرنا چاہتے ہیں۔—‏واعظ ۱۲:‏۹، ۱۰‏۔‏

اس کے برعکس ”‏کرخت باتیں غضب‌انگیز ہیں۔“‏ (‏امثال ۱۵:‏۱‏)‏ نامناسب الفاظ شکرگزاری کی بجائے درد اور غصے پر منتج ہو سکتے ہیں۔ درحقیقت نہ صرف نامناسب الفاظ بلکہ نامناسب لب‌ولہجہ بھی کسی شخص کے نہایت اہم مشورت کو رد کر دینے کا باعث ہو سکتا ہے۔ بے‌محل اور بے‌حس طریقے سے مشورت دینا کسی کے لئے ہتھیار سے حملہ کرنے کی طرح مُہلک ہو سکتا ہے۔ امثال ۱۲:‏۱۸ کہتی ہے ”‏بے‌تامل بولنے والے کی باتیں تلوار کی طرح چھیدتی ہیں۔“‏ بے‌تامل بات‌چیت کیوں کریں اور دوسروں کے لئے مشورت کو سننا مشکل بنائیں؟—‏امثال ۱۲:‏۱۵‏۔‏

جیسے سلیمان نے کہا، مشورت ”‏باموقع“‏ ہونی چاہئے۔ اگر مشورت کو کامیاب ہونا ہے تو اس کا باموقع ہونا ضروری ہے!‏ یہ صاف ظاہر ہے کہ کوئی شخص جس کی بھوک مر گئی ہے وہ شاید کھانے کی قدر نہ کرے۔ شاید اُس نے کچھ ہی دیر پہلے کافی کھانا کھایا ہے یا وہ بیمار ہے۔ کسی ایسے شخص کو زبردستی کھانا کھلانا جو کھانا نہیں چاہتا نہ تو دانشمندانہ ہے اور نہ ہی قابلِ‌قبول۔‏

فروتنی سے مشورت دینا

‏”‏میری یہ خوشی پوری کرو کہ .‏ .‏ .‏ تفرقے اور بیجا فخر کے باعث کچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔ ہر ایک اپنے ہی احوال پر نہیں بلکہ دوسروں کے احوال پر بھی نظر رکھے۔“‏ (‏فلپیوں ۲:‏۲-‏۴‏)‏ اگر آپ اچھے مشیر ہیں تو آپ دوسروں کی فلاح کیلئے ”‏ذاتی مفاد“‏ سے تحریک پائینگے۔ نیز آپ دوسروں کو خود سے برتر سمجھتے ہوئے اپنے روحانی بھائی‌بہنوں کیساتھ برتاؤ میں ”‏فروتنی“‏ کا مظاہرہ کرینگے۔ اسکا کیا مطلب ہے؟‏

فروتنی آپ کو برتر رویہ یا لہجہ اپنانے سے بچائے گی۔ ہم میں سے کسی کے پاس بھی اپنے آپ کو اپنے ساتھی ایمانداروں سے برتر سمجھنے کی وجہ نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی وقتاًفوقتاً غلطی کرتا ہے۔ آپ دل کو پڑھ نہیں سکتے، اس لئے یہ خاص طور پر اہم ہے کہ جسے آپ مشورت دیتے ہیں اُس کے محرکات پر الزام نہ لگائیں!‏ شاید اُس کے محرکات غلط نہ ہوں اور وہ کسی غلط رویے یا حرکت سے ناواقف ہو۔ اگر وہ جانتا بھی ہے کہ اُس نے کچھ ایسا کِیا ہے جو خدا کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مشورت حلیمی اور اُس کی روحانی فلاح میں حقیقی دلچسپی کے ساتھ دی جاتی ہے تو وہ اُسے آسانی سے قبول کر لے گا۔‏

تصور کریں کہ آپ کو کھانے پر مدعو کِیا جاتا ہے لیکن آپ کا میزبان آپ کے ساتھ بے‌حس، حقارت‌آمیز برتاؤ کرتا ہے!‏ آپ یقیناً اُس کھانے سے لطف‌اندوز نہیں ہونگے۔ درحقیقت، ”‏محبت والے گھر میں ذرا سا ساگ‌پات عداوت والے گھر میں پلے ہوئے بیل سے بہتر ہے۔“‏ (‏امثال ۱۵:‏۱۷‏)‏ اسی طرح، اگر مشیر جسے مشورت دے رہا ہے اُس کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے یا اُس کی تحقیر کرتا ہے اور اُسے شرمندہ کرتا ہے تو بہترین مشورت کو قبول کرنا بھی مشکل ہوگا۔ تاہم محبت، باہمی احترام اور اعتماد مشورت دینے اور قبول کرنے کو آسان بنا دے گا۔—‏کلسیوں ۳:‏۱۴‏۔‏

مشورت جو قبول کی گئی

ناتن نبی نے بادشاہ داؤد کو مشورت دیتے ہوئے فروتنی کا مظاہرہ کِیا۔ ناتن نے جو کچھ کہا اور کِیا اُس سے داؤد کے لئے محبت اور احترام عیاں تھا۔ ناتن نے ایک تمثیل کیساتھ آغاز کِیا جس نے داؤد کے مشورت کو سننے کے مشکل پانے کے امکان کو مدِنظر رکھا۔ (‏۲-‏سموئیل ۱۲:‏۱-‏۴‏)‏ نبی نے داؤد کی محبت اور انصاف کے لئے استدعا کی اگرچہ یہ بت‌سبع کے ساتھ اُسکے تعلقات سے عیاں نہیں تھے۔ (‏۲-‏سموئیل ۱۱:‏۲‏:‏-‏۲۷)‏ جب تمثیل کے نکتہ کو واضح کِیا گیا تو داؤد کا دلی ردِعمل یہ تھا:‏ ”‏مَیں نے خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کا گناہ کِیا۔“‏ (‏۲-‏سموئیل ۱۲:‏۷-‏۱۳‏)‏ قائن کے برعکس، جس نے یہوواہ کی نہیں سنی، داؤد نے فروتنی سے مشورت کو قبول کر لیا۔‏

بِلاشُبہ یہوواہ نے داؤد کی ناکاملیت اور اُسکے ناموافق جوابی‌عمل دکھانے کے امکان کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ناتن کی راہنمائی کی۔ ناتن نے واضح طور پر داؤد کو یہوواہ کے مقررہ بادشاہ کے طور پر برتر جانا اور بڑی موقع‌شناسی سے بات‌چیت کی۔ اگر آپ کے پاس کچھ اختیار ہے تو شاید آپ مناسب مشورت دیں تاہم اگر آپ فروتنی کا مظاہرہ نہیں کرتے تو اسے قبول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔‏

ناتن نے داؤد کو حلم‌مزاجی سے بحال کِیا۔ نبی کے الفاظ پُرفضل اور احتیاط سے تیار کئے گئے تھے تاکہ داؤد ایسا جوابی‌عمل دکھائے جو اُس کے اپنے بہترین مفاد میں ہو۔ نہ ناتن نے ذاتی مفاد سے تحریک پائی اور نہ ہی اُس نے اپنے آپ کو داؤد سے روحانی یا اخلاقی طور پر برتر خیال کرنے کی کوشش کی۔ باموقع باتیں بہترین طریقے سے کہنے کی کیا ہی عمدہ مثال!‏ اگر آپ ایسی ہی روح کا مظاہرہ کرتے ہیں تو بہت اغلب ہے کہ دوسرے آپ کی مشورت کو قبول کر لیں گے۔‏

‏[‏صفحہ 22 پر تصویر]‏

صحت‌بخش کھانے کی مانند آپ کی مشورت بھی صحتمندانہ ہونی چاہئے

‏[‏صفحہ 23 پر تصویر]‏

کیا آپ اپنی مشورت کو روپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سیبوں کی مانند دلکش بناتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 24 پر تصویر]‏

ناتن نبی نے فروتنی کیساتھ انصاف اور راستبازی کیلئے داؤد کی محبت کو اُبھارا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں