یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏1 ص.‏ 15-‏20
  • پاک ہاتھ اُٹھا کر دُعا کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • پاک ہاتھ اُٹھا کر دُعا کریں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • دُعا پر قبل‌ازوقت سوچ‌بچار کریں
  • احترام کے ساتھ خدا تک رسائی کریں
  • ایک فروتن روح کے ساتھ دُعا کریں
  • دل سے دُعا کریں
  • شکرگزاری اور حمد کو یاد رکھیں
  • دُعا کرنے سے کبھی نہ شرمائیں
  • دُعا سے تسلی حاصل کریں
  • وفادار اشخاص دُعا کرنے میں مشغول رہتے ہیں
  • ہماری دُعائیں اور یہوواہ کے ساتھ ہماری قُربت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ہمیں بِلاناغہ دُعا کیوں کرنی چاہئے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • دُعا کے ذریعے خدا کے نزدیک جائیں
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • ‏’‏تمہاری درخواستیں خدا کے سامنے پیش کی جائیں‘‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏1 ص.‏ 15-‏20

پاک ہاتھ اُٹھا کر دُعا کریں

‏”‏مَیں چاہتا ہوں کہ مرد ہر جگہ بغیر غصہ اور تکرار کے پاک[‏”‏وفادار،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہاتھوں کو اٹھا کر دُعا کِیا کریں۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۸‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏یہوواہ کے لوگوں کے سلسلے میں ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۸ کا اطلاق ہماری دُعا پر کیسے ہوتا ہے؟ (‏ب)‏ اب ہم کس چیز پر غور کرینگے؟‏

یہوواہ اپنے لوگوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اُس کے اور ایک دوسرے کے وفادار رہیں۔ رسول پولس نے وفاداری کو دُعا سے مربوط کِیا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏مَیں چاہتا ہوں کہ مرد ہر جگہ بغیر غصہ اور تکرار کے پاک [‏”‏وفادار،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہاتھوں کو اٹھا کر دُعا کیا کریں۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۸‏)‏ پولس بظاہر ”‏ہر جگہ“‏ پر عوامی دُعا کا حوالہ دے رہا تھا جہاں مسیحی اکٹھے ہوتے تھے۔ کلیسیائی اجلاسوں پر دُعا میں خدا کے لوگوں کی راہنمائی کون کرینگے؟ صرف پاک، راست، مقدس آدمی جو خدا کیلئے تمام صحیفائی ذمہ‌داریوں کو پورا کرتے تھے۔ (‏واعظ ۱۲:‏۱۳، ۱۴‏)‏ اُنہیں روحانی اور اخلاقی طور پر پاک اور یہوواہ خدا کے لئے پورے طور پر مخصوص ہونا تھا۔‏

۲ کلیسیائی بزرگوں کو بالخصوص ’‏پاک ہاتھوں کو اٹھا کر دُعا‘‏ کرنی چاہئے۔ یسوع مسیح کے وسیلے سے اُنکی دلی دُعائیں خدا کیلئے اُنکی وفاداری کو ظاہر کرتی ہیں اور قہرآلود ہونے یا تکرار سے گریز کرنے میں اُنکی مدد کرتی ہیں۔ درحقیقت، مسیحی کلیسیا میں عوامی دُعا میں نمائندگی کرنے کا شرف عطا کئے جانے والے اشخاص کو غصے، بغض اور یہوواہ اور اُس کی تنظیم سے بے‌وفائی سے مبرا ہونا چاہئے۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۹، ۲۰‏)‏ عوامی دُعا کے ذریعے دوسروں کی نمائندگی کرنے والے اشخاص کیلئے بائبل کیا راہنمائی پیش کرتی ہے؟ چند صحیفائی اصول کیا ہیں جنکا اطلاق ہم اپنی ذاتی اور خاندانی دُعاؤں میں کر سکتے ہیں؟‏

دُعا پر قبل‌ازوقت سوچ‌بچار کریں

۳، ۴.‏ (‏ا)‏عوامی دُعا پر قبل‌ازوقت سوچ‌بچار کرنا کیوں مفید ہے؟ (‏ب)‏ صحائف دُعا کی لمبائی کے بارے میں کیا ظاہر کرتے ہیں؟‏

۳ اگر ہم سے عوامی دُعا کرنے کے لئے کہا گیا ہے تو ہم یقیناً اپنی دُعا پر قبل‌ازوقت سوچ‌بچار کر سکیں گے۔ ایسا کرنا ہمیں لمبی اور بے‌ربط دُعاؤں سے گریز کرتے ہوئے اہم معاملات کا احاطہ کرنے کے قابل بنائیگا۔ بِلاشُبہ ہم اُونچی آواز میں بھی دُعا کر سکتے ہیں۔ وہ لمبی یا چھوٹی ہو سکتی ہیں۔ یسوع نے اپنے ۱۲ رسولوں کا انتخاب کرنے سے پہلے پوری رات دُعا کی۔ لیکن جب اُس نے اپنی موت کی یادگار کو رائج کِیا تو روٹی اور مے پر اُس کی دُعائیں بظاہر مختصر تھیں۔ (‏مرقس ۱۴:‏۲۲-‏۲۴؛‏ لوقا ۶:‏۱۲-‏۱۶‏)‏ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ یسوع کی چھوٹی دُعائیں بھی خدا کے نزدیک مکمل طور پر قابلِ‌قبول تھیں۔‏

۴ ذرا سوچیں کہ ہمیں کھانے سے پہلے خاندان کی نمائندگی کرنے کا شرف عطا کِیا گیا ہے۔ ایسی دُعا قدرے چھوٹی ہو سکتی ہے—‏تاہم جو کچھ کہا جاتا ہے اُس میں کھانے کے لئے شکرگزاری کا اظہار شامل ہونا چاہئے۔ اگر ہم مسیحی اجلاس کے شروع یا آخر میں دُعا کر رہے ہیں تو ہمیں بہت زیادہ نکات کا احاطہ کرتے ہوئے طویل دُعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یسوع نے فقیہوں پر نکتہ‌چینی کی جو ’‏دکھاوے کے لئے دُعا کو طول دیتے تھے۔‘‏ (‏لوقا ۲۰:‏۴۶، ۴۷‏)‏ خدائی خوف رکھنے والا کوئی بھی شخص ایسا نہیں کرنا چاہے گا۔ تاہم بعض‌اوقات ایک طویل عوامی دُعا موزوں ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک اسمبلی پر ایک بزرگ اختتامی دُعا سے قبل سوچ‌بچار کرے گا اور بہت سے نکات بیان کرنا چاہے گا۔ پھربھی ایسی دُعا زیادہ طویل نہیں ہونی چاہئے۔‏

احترام کے ساتھ خدا تک رسائی کریں

۵.‏ (‏ا)‏ عوامی دُعا کرتے وقت ہمیں کیا چیز ذہن میں رکھنی چاہئے؟ (‏ب)‏ ایک باوقار اور بااحترام طریقے سے کیوں دُعا کریں؟‏

۵ عوامی دُعا کرتے وقت ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم انسانوں سے مخاطب نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ہم گنہگار انسان حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ سے التجا کر رہے ہیں۔ (‏زبور ۸:‏۳-‏۵،‏ ۹؛‏ ۷۳:‏۲۸‏)‏ لہٰذا ہم جوکچھ کہتے ہیں اور جیسے اسکا اظہار کرتے ہیں اُس سے اُسے ناراض کرنے کا مؤدبانہ خوف ظاہر ہونا چاہئے۔ (‏امثال ۱:‏۷‏)‏ زبور نویس داؤد نے مدح‌سرائی کی:‏ ”‏مَیں تیری شفقت کی کثرت سے تیرے گھر میں آؤں گا۔ مَیں تیرا رُعب مان کر تیری مقدس ہیکل کی طرف رخ کر کے سجدہ کروں گا۔“‏ (‏زبور ۵:‏۷‏)‏ اگر ہم ایسا رُجحان رکھتے ہیں تو یہوواہ کے گواہوں کے اجلاس پر عوامی دُعا میں ہم اپنا اظہار کیسے کریں گے؟ اگر ہم انسانی بادشاہ سے گفتگو کر رہے ہیں تو ہم ایک بااحترام اور باوقار طریقے سے ایسا کریں گے۔ جب ہم ”‏ابدیت کے بادشاہ،“‏ یہوواہ سے دُعا کر رہے ہوتے ہیں تو کیا ہماری دُعاؤں کو اَور زیادہ باوقار اور بااحترام نہیں ہونا چاہئے؟ (‏مکاشفہ ۱۵:‏۳‏)‏ لہٰذا دُعا میں ہم ”‏صبح‌بخیر، یہوواہ،“‏ ”‏ہم آپ کو اپنا پیار بھیجتے ہیں،“‏ یا، ”‏اچھا خوش رہو“‏ جیسے اظہارات سے گریز کریں گے۔ صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ خدا کا اکلوتا بیٹا یسوع مسیح کبھی بھی اپنے آسمانی باپ سے ایسے مخاطب نہیں ہوا تھا۔‏

۶.‏ ’‏غیرمستحق فضل کے تخت کے پاس جاتے‘‏ وقت ہمیں کس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے؟‏

۶ پولس نے کہا:‏ ”‏پس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں۔“‏ (‏عبرانیوں ۴:‏۱۶‏)‏ اپنی گنہگارانہ حالت کے باوجود یسوع کے فدیے کی قربانی پر ایمان کی وجہ سے ہم ”‏دلیری“‏ سے یہوواہ تک رسائی کر سکتے ہیں۔ (‏اعمال ۱۰:‏۴۲، ۴۳؛‏ ۲۰:‏۲۰، ۲۱‏)‏ تاہم ایسی ”‏دلیری“‏ کا یہ مطلب نہیں کہ ہم یہوواہ سے گپ‌شپ کر رہے ہیں؛ نہ ہی ہمیں اُس سے گستاخ گفتگو کرنی چاہئے۔ اگر ہماری عوامی دُعائیں یہوواہ کو خوش کرنے کے لئے ہیں تو اُنہیں مناسب احترام اور وقار کے ساتھ پیش کِیا جانا چاہئے اور اعلانات کرنے، اشخاص کو نصیحت کرنے اور سامعین سے مخاطب ہونے کے لئے ان کا استعمال کرنا بھی غیرموزوں ہے۔‏

ایک فروتن روح کے ساتھ دُعا کریں

۷.‏ یہوواہ کی ہیکل کی مخصوصیت کے موقع پر دُعا کرتے وقت سلیمان نے کیسے فروتنی دکھائی؟‏

۷ خواہ ہم عوامی یا ذاتی دُعا کر رہے ہوں، ایک اہم صحیفائی اصول جسے ہمیں اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے یہ ہے کہ ہمیں دُعا میں فروتن رُجحان ظاہر کرنا چاہئے۔ (‏۲-‏تواریخ ۷:‏۱۳، ۱۴‏)‏ یروشلیم میں یہوواہ کی ہیکل کی مخصوصیت پر بادشاہ سلیمان نے اپنی عوامی دُعا میں فروتنی کا مظاہرہ کِیا تھا۔ سلیمان نے زمین پر کبھی تعمیر کی جانے والی نہایت ہی شاندار عمارتوں میں سے ایک عمارت کو تھوڑی دیر پہلے ہی مکمل کِیا ہے۔ پھربھی، اُس نے فروتنی سے دُعا کی:‏ ”‏کیا خدا فی‌الحقیقت زمین پر سکونت کرے گا؟ دیکھ آسمان بلکہ آسمانوں کے آسمان میں بھی تُو سما نہیں سکتا تو یہ گھر تو کچھ بھی نہیں جسے مَیں نے بنایا!‏“‏—‏۱-‏سلاطین ۸:‏۲۷‏۔‏

۸.‏ عوامی دُعا میں فروتنی ظاہر کرنے کے چند طریقے کونسے ہیں؟‏

۸ سلیمان کی طرح عوامی دُعا میں دوسروں کی نمائندگی کرتے وقت ہمیں بھی فروتن ہونا چاہئے۔ اگرچہ ہمیں ریاکار ہونے سے گریز کرنا چاہئے تو بھی ہمارے لہجے سے فروتنی ظاہر ہو سکتی ہے۔ فروتن دُعائیں پُرتکلف یا ڈرامائی نہیں ہوتیں۔ وہ دُعا کرنے والے شخص پر نہیں بلکہ مخاطب کئے جانے والے شخص کی طرف توجہ مبذول کراتی ہیں۔ (‏متی ۶:‏۵‏)‏ ہم جو کچھ بھی دُعا میں کہتے ہیں اُس سے بھی فروتنی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ہم فروتنی سے دُعا کرتے ہیں تو ایسا نہیں لگے گا کہ ہم خدا سے بعض کام اپنے طریقے سے کرنے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہم یہوواہ سے درخواست کریں گے کہ وہ اپنی پاک مرضی کے مطابق عمل کرے۔ زبورنویس نے مناسب رُجحان کا مظاہرہ کِیا جب اُس نے درخواست کی:‏ ”‏آہ!‏ اے خداوند!‏ [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ بچا لے۔ آہ!‏ اے خداوند!‏ [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ خوشحالی بخش!‏“‏—‏زبور ۱۱۸:‏۲۵؛‏ لوقا ۱۸:‏۹-‏۱۴‏۔‏

دل سے دُعا کریں

۹.‏ متی ۶:‏۷ میں یسوع کی کونسی عمدہ مشورت پائی جاتی ہے اور اس کا اطلاق کیسے کِیا جا سکتا ہے؟‏

۹ اگر ہم اپنی عوامی یا ذاتی دُعاؤں سے یہوواہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو اُنہیں دل سے نکلنا چاہئے۔ لہٰذا ہم لاشعوری طور پر ایک ہی دُعا کو بار بار نہیں دہرائیں گے۔ اپنے پہاڑی وعظ میں یسوع نے نصیحت کی:‏ ”‏دعا کرتے وقت غیرقوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہت بولنے کے سبب سے ہماری سنی جائیگی۔“‏ باالفاظِ‌دیگر یسوع نے کہا:‏ ”‏بک بک نہ کرو؛ الفاظ کی بے‌معنی دہرائی نہ کرو۔“‏—‏متی ۶:‏۷ این‌ڈبلیو، فٹ‌نوٹ۔‏

۱۰.‏ ایک ہی معاملے کی بابت ایک سے زیادہ مرتبہ دُعا کرنا کیوں موزوں ہوگا؟‏

۱۰ بِلاشُبہ ہمیں ایک ہی معاملے کی بابت بارہا دُعا کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ یہ غلط نہیں ہوگا کیونکہ یسوع نے کہا:‏ ”‏مانگتے رہو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈتے رہو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاتے رہو تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔“‏ (‏متی ۷:‏۷‏، این‌ڈبلیو)‏ شاید ایک نئے کنگڈم‌ہال کی ضرورت ہو سکتی ہے کیونکہ یہوواہ مقامی طور پر منادی کے کام کو برکت دے رہا ہے۔ (‏یسعیاہ ۶۰:‏۲۲‏)‏ یہوواہ کے لوگوں کے اجلاسوں یا ذاتی دُعا کرتے وقت اس ضرورت کو بیان کرتے رہنا مناسب ہوگا۔ ایسا کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ ہم ’‏الفاظ کی بے‌معنی دہرائی‘‏ کر رہے ہیں۔‏

شکرگزاری اور حمد کو یاد رکھیں

۱۱.‏ فلپیوں ۴:‏۶، ۷ کا اطلاق ذاتی اور عوامی دُعا پر کیسے ہوتا ہے؟‏

۱۱ بہتیرے لوگ محض کچھ حاصل کرنے کے لئے دُعا کرتے ہیں، لیکن یہوواہ کے لئے ہماری محبت کو ہمیں عوامی اور ذاتی دُعاؤں میں اُس کی حمد اور شکرگزاری کرنے کی تحریک دینی چاہئے۔ ‏”‏کسی بات کی فکر نہ کرو،“‏ پولس نے لکھا، ”‏بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوؔع میں محفوظ رکھے گا۔“‏ (‏فلپیوں ۴:‏۶، ۷‏)‏ جی‌ہاں، مناجات اور درخواستوں کے علاوہ ہمیں روحانی اور مادی برکات کے لئے بھی یہوواہ کے لئے شکرگزاری کا اظہار کرنا چاہئے۔ (‏امثال ۱۰:‏۲۲‏)‏ زبورنویس نے مدح‌سرائی کی:‏ ”‏خدا کے لئے شکرگزاری کی قربانی گذران اور حق‌تعالیٰ کے لئے اپنی منتیں پوری کر۔“‏ (‏زبور ۵۰:‏۱۴‏)‏ اس کے علاوہ داؤد کے ایک دُعائیہ نغمے میں دل کو چھو لینے والے یہ الفاظ شامل تھے:‏ ”‏مَیں گیت گا کر خدا کے نام کی تعریف کروں گا اور شکرگزاری کے ساتھ اُس کی تمجید کروں گا۔“‏ (‏زبور ۶۹:‏۳۰‏)‏ کیا ہمیں بھی عوامی اور ذاتی دُعا میں ایسا ہی نہیں کرنا چاہئے؟‏

۱۲.‏ زبور ۱۰۰:‏۴، ۵ کی آجکل کیسے تکمیل ہو رہی ہے اور کس وجہ سے ہم خدا کی حمد اور شکرگزاری کر سکتے ہیں؟‏

۱۲ خدا کی بابت زبورنویس نے مدح‌سرائی کی:‏ ”‏شکرگذاری کرتے ہوئے اُسکے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اُسکی بارگاہوں میں داخل ہو۔ اُسکا شکر کرو اور اُس کے نام کو مبارک کہو۔ کیونکہ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ بھلا ہے۔ اُس کی شفقت ابدی ہے اور اُس کی وفاداری پُشت‌درپُشت رہتی ہے۔“‏ (‏زبور ۱۰۰:‏۴، ۵‏)‏ آجکل تمام قوموں سے لوگ یہوواہ کے مقدِس کے صحنوں میں داخل ہو رہے ہیں اس لئے ہم اُس کی حمد اور شکرگزاری کر سکتے ہیں۔ کیا آپ مقامی کنگڈم‌ہال کے لئے یہوواہ کی شکرگزاری کرتے اور اُس سے محبت رکھنے والوں کے ساتھ وہاں باقاعدگی سے جمع ہونے سے اپنی قدردانی کا اظہار کرتے ہیں؟ جب آپ وہاں پر ہیں تو کیا آپ اپنے پُرمحبت آسمانی باپ کے لئے حمد اور شکرگزاری کے گیت گاتے ہیں؟‏

دُعا کرنے سے کبھی نہ شرمائیں

۱۳.‏ کونسی صحیفائی مثال ظاہر کرتی ہے کہ گناہ کی وجہ سے اپنے آپکو نااہل خیال کرنے کے باوجود ہمیں یہوواہ سے مناجات کرنی چاہئے؟‏

۱۳ اپنے آپ کو گناہ کی وجہ سے نااہل خیال کرنے کے باوجود بھی ہمیں خدا کے حضور خلوصدل مناجات پیش کرنی چاہئیں۔ جب یہودیوں نے غیرقوم عورتوں سے شادی کرنے سے گناہ کِیا تو عزرا گھٹنوں پر جھکا، خدا کے حضور اپنے ہاتھ پھیلائے اور فروتنی سے دُعا کی:‏ ”‏اَے میرے خدا مَیں شرمندہ ہوں اور تیری طرف اَے میرے خدا اپنا مُنہ اُٹھاتے مجھے لاج آتی ہے کیونکہ ہمارے گُناہ بڑھتے بڑھتے ہمارے سر سے بلند ہو گئے اور ہماری خطاکاری آسمان تک پہنچ گئی ہے۔ اپنے باپ دادا کے وقت سے آج تک ہم بڑے خطاکار رہے .‏ .‏ .‏ اور ہمارے بُرے کاموں اور بڑے گناہ کے باعث جو کچھ ہم پر گزرا اُس کے بعد اَے ہمارے خدا درحالیکہ تُو نے ہمارے گناہوں کے اندازہ سے ہم کو کم سزا دی اور ہم میں سے ایسا بقیہ چھوڑا۔ کیا ہم پھر تیرے حکموں کو توڑیں اور اُن قوموں سے ناتا جوڑیں جو اِن نفرتی کاموں کو کرتی ہیں؟ کیا تُو ہم سے ایسا غصے نہ ہوگا کہ ہم کو نیست‌ونابود کر دے یہانتک کہ نہ کوئی بقیہ رہے اور نہ کوئی بچے؟ اَے خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اؔسرائیل کے خدا تو صادق ہے کیونکہ ہم ایک بقیہ ہیں جو بچ نکلا ہے جیسا آج کے دن ہے۔ دیکھ ہم اپنی خطاکاری میں تیرے حضور حاضر ہیں کیونکہ اِسی سبب سے کوئی تیرے حضور کھڑا نہیں رہ سکتا۔“‏—‏عزرا ۹:‏۱-‏۱۵؛‏ استثنا ۷:‏۳، ۴۔‏

۱۴.‏ جیسے عزرا کے ایام سے ظاہر ہوتا ہے خدا سے معافی حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۱۴ خدا سے معافی حاصل کرنے کیلئے اعتراف کیساتھ ساتھ توبہ اور ”‏توبہ کے موافق پھل“‏ ضروری ہیں۔ (‏لوقا ۳:‏۸؛‏ ایوب ۴۲:‏۱-‏۶؛‏ یسعیاہ ۶۶:‏۲‏)‏ عزرا کے دنوں میں ایک تائب رُجحان میں غلطی کو درست کرتے ہوئے غیرقوم بیویوں کو چھوڑنا شامل تھا۔ (‏عزرا ۱۰:‏۴۴‏؛ مقابلہ کریں ۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۸-‏۱۳‏۔)‏ اگر ہم سنگین غلط‌کاری کے لئے خدا کی معافی کے خواہاں ہیں تو آئیے فروتن دُعا میں اعتراف کریں اور توبہ کے موافق پھل لائیں۔ ایک تائب روح اور غلطی کو درست کرنے کی خواہش ہمیں مسیحی بزرگوں کی مدد حاصل کرنے کی بھی تحریک دیگی۔—‏یعقوب ۵:‏۱۳-‏۱۵‏۔‏

دُعا سے تسلی حاصل کریں

۱۵.‏ حنّہ کا تجربہ کیسے ظاہر کرتا ہے کہ ہم دُعا سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں؟‏

۱۵ جب کسی بھی وجہ سے ہمارا دل دُکھ رہا ہے تو ہم دُعا سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں۔ (‏زبور ۵۱:‏۱۷؛‏ امثال ۱۵:‏۱۳‏)‏ وفادار حنّہ نے ایسا کِیا۔ وہ اُس دور میں رہتی تھی جب اسرائیل میں بڑے خاندانوں کا رواج تھا لیکن اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اُس کے شوہر کے دوسری بیوی فننہ سے بیٹے بیٹیاں تھے جو اُس پر بانجھ ہونے کی وجہ سے طنز کِیا کرتی تھی۔ حنّہ نے خلوصدلی سے دُعا کی اور وعدہ کِیا کہ اگر اُسے ایک فرزندِنرینہ بخشا جائے تو وہ ’‏اُسے زندگی بھر کے لئے یہوواہ کو نذر کر دے گی۔‘‏ اپنی دُعا اور سردار کاہن عیلی کے الفاظ سے تسلی پا کر حنّہ کا ”‏چہرہ اُداس نہ رہا۔“‏ اُس نے ایک لڑکے کو جنم دیا جس کا نام اُس نے سموئیل رکھا۔ اس کے بعد وہ اُسے یہوواہ کی خدمت کے لئے مقدِس میں چھوڑ گئی۔ (‏۱-‏سموئیل ۱:‏۹-‏۲۸‏)‏ اپنے لئے خدا کے رحم کے لئے خوش ہونے سے اُس نے شکرگزاری کی دُعا کی—‏جس میں اُس نے کہا کہ یہوواہ کی مانند کوئی نہیں ہے۔ (‏۱-‏سموئیل ۲:‏۱-‏۱۰‏)‏ حنّہ کی طرح یہ اعتماد رکھتے ہوئے کہ خدا اُس کی مرضی کی مطابقت میں تمام درخواستوں کا جواب دیتا ہے، ہم دُعا سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں۔ جب ہم اُس کے آگے اپنا دل اُنڈیل دیتے ہیں تو ہمیں ”‏اُداس“‏ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ ہمارے بوجھ دور کر دے گا یا ہمیں اُن کی برداشت کرنے کے قابل بنائیگا۔—‏زبور ۵۵:‏۲۲‏۔‏

۱۶.‏ جیسے‌کہ یعقوب کے معاملے سے ظاہر ہے جب ہم خوفزدہ اور پریشان ہوں تو ہمیں دُعا کیوں کرنی چاہئے؟‏

۱۶ اگر کوئی حالت خوف، درد یا پریشانی کا باعث بنتی ہے تو آئیے دُعا میں تسلی کے لئے یہوواہ کے پاس جانے سے نہ ہچکچائیں۔ (‏زبور ۵۵:‏۱-‏۴‏)‏ یعقوب اپنے رنجیدہ بھائی عیسو سے ملنے سے خوفزدہ تھا۔ لہٰذا یعقوب نے دُعا کی:‏ ”‏اَے میرے باپ اؔبرہام کے خدا اور میرے باپ اِضحاؔق کے خدا!‏ اَے خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ جس نے مجھے یہ فرمایا کہ تُو اپنے مُلک کو اور اپنے رشتہ‌داروں کے پاس لوٹ جا اور مَیں تیرے ساتھ بھلائی کرونگا۔ مَیں تیری سب رحمتوں اور وفاداری کے مقابلہ میں جو تُو نے اپنے بندہ کے ساتھ برتی ہے بالکل ہیچ ہوں کیونکہ مَیں صرف اپنی لاٹھی لیکر اِس یرؔدن کے پار گیا تھا اور اب اَیسا ہوں کہ میرے دو غول ہیں۔ مَیں تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے میرے بھائی عیسوؔ کے ہاتھ سے بچا لے کیونکہ مَیں اُس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ آ کر مجھے اور بچوں کو ماں سمیت مار نہ ڈالے۔ یہ تیرا ہی فرمان ہے کہ مَیں تیرے ساتھ ضرور بھلائی کرونگا اور تیری نسل کو دریا کی ریت کی مانند بناؤنگا جو کثرت کے سبب سے گنی نہیں جا سکتی۔“‏ (‏پیدایش ۳۲:‏۹-‏۱۲‏)‏ عیسو نے یعقوب یا اُس کے غلاموں پر حملہ نہ کِیا۔ لہٰذا یہوواہ نے اُس موقع پر یعقوب کے ساتھ ”‏بھلائی“‏ کی۔‏

۱۷.‏ زبور ۱۱۹:‏۵۲ کی مطابقت میں جب ہم پر شدید آزمائش آتی ہے تو دُعا کیسے اطمینان کا باعث ہو سکتی ہے؟‏

۱۷ اپنی مناجاتوں کے دوران ہم خدا کے کلام میں کہی گئی باتوں کو یاد کرنے سے بھی تسلی حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے طویل زبور میں—‏ایک دلکش دُعا جسے موسیقی سے ہم‌آہنگ کِیا گیا—‏شاید شہزادے صدقیاہ نے مدح‌سرائی کی:‏ ”‏اَے خداوند!‏ [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ مَیں تیرے قدیم احکام کو یاد کرتا اور اطمینان پاتا رہوں۔“‏ (‏زبور ۱۱۹:‏۵۲‏)‏ جب ہم پر شدید آزمائش آتی ہے تو فروتن دُعا میں شاید ہم بائبل کے کسی اصول یا قانون کو یاد کر سکتے ہیں جو ہمیں اس تسلی‌بخش یقین‌دہانی پر منتج روش پر چلنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ہم اپنے آسمانی باپ کو خوش کر رہے ہیں۔‏

وفادار اشخاص دُعا کرنے میں مشغول رہتے ہیں

۱۸.‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ ’‏ہر وفادار خدا سے دُعا کریگا‘‏؟‏

۱۸ وہ تمام جو یہوواہ کے وفادار ہیں ”‏دُعا کرنے میں مشغول“‏ رہینگے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۲‏)‏ شاید بت‌سبع سے گناہ کرنے کے بعد ترتیب دئے گئے ۳۲ویں زبور میں داؤد نے معافی نہ مانگنے کی وجہ سے اپنی ذہنی تکلیف اور اُس اطمینان کو بیان کِیا جو توبہ کرنے اور خدا کے حضور اعتراف کرنے سے اُسے حاصل ہوئی۔ لہٰذا داؤد نے مدح‌سرائی کی:‏ ”‏اِسی لئے [‏چونکہ یہوواہ کی معافی ہر حقیقی تائب کیلئے دستیاب ہے]‏ ہر دیندار تجھ سے ایسے وقت میں دُعا کرے جب تُو مل سکتا ہے۔“‏—‏زبور ۳۲:‏۶‏۔‏

۱۹.‏ ہمیں اپنے پاک ہاتھ اُٹھا کر کیوں دُعا کرنی چاہئے؟‏

۱۹ اگر ہم یہوواہ کے ساتھ اپنے رشتے کو گرانقدر سمجھتے ہیں تو ہم یسوع کے فدیے کی قربانی کی بنا پر اُس کے رحم کے لئے دُعا کرینگے۔ ایمان سے ہم غیرمستحق فضل کے تخت کے پاس رحم اور بروقت مدد حاصل کرنے کیلئے دلیری سے رسائی کر سکتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۴:‏۱۶‏)‏ تاہم دُعا کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں!‏ لہٰذا آئیے خدا کیلئے دلی شکرگزاری اور حمد کے الفاظ سے ”‏بِلاناغہ دُعا“‏ کریں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۷‏)‏ دن اور رات پاک ہاتھ اُٹھا کر دُعا کریں۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

◻عوامی دُعا پر قبل‌ازوقت سوچ‌بچار کرنا کیوں مفید ہے؟‏

◻ہمیں بااحترام اور باوقار طریقے سے کیوں دُعا کرنی چاہئے؟‏

◻دُعا کرتے وقت ہمیں کونسی روح کا مظاہرہ کرنا چاہئے؟‏

◻دُعا کرتے وقت ہمیں حمد اور شکرگزاری کو کیوں یاد رکھنا چاہئے؟‏

◻بائبل کیسے ظاہر کرتی ہے کہ ہم دُعا سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ 17 پر تصویر]‏

بادشاہ سلیمان نے یہوواہ کی ہیکل کی مخصوصیت پر عوامی دُعا میں فروتنی کا مظاہرہ کِیا

‏[‏صفحہ 18 پر تصویر]‏

حنّہ کی طرح، آپ بھی دُعا سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں