ابدیت کے پیشِنظر خدا کے ساتھ ساتھ چلنا
ہم ابدالآباد تک خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کے نام سے چلینگے۔“—میکاہ ۴:۵۔
۱. یہوواہ کو ”ازلی بادشاہ“ کیوں کہا جا سکتا ہے؟
یہوواہ خدا کی کوئی ابتدا نہیں۔ اُسے موزوں طور پر ”قدیمالایّام“ کہا گیا ہے کیونکہ ماضیبعید میں بھی اُسکے وجود کی ابتدا کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ (دانیایل ۷:۹، ۱۳) یہوواہ کا مستقبل بھی ابدی ہوگا۔ صرف وہی ”ازلی بادشاہ“ ہے۔ (مکاشفہ ۱۰:۶؛ ۱۵:۳) نیز اُسکی نظر میں ہزار برس ”ایسے ہیں جیسے کل کا دن جو گذر گیا اور جیسے رات کا ایک پہر۔“—زبور ۹۰:۴۔
۲. (ا) فرمانبردار انسانوں کیلئے خدا کا مقصد کیا ہے؟ (ب) ہمیں اپنی اُمیدوں اور منصوبوں کو کس پر مُرتکز رکھنا چاہئے؟
۲ چونکہ زندگی دینے والا ابدی ہے اس لئے وہ پہلے انسانی جوڑے یعنی آدم اور حوّا کو فردوس میں غیرمختتم زندگی کا امکان پیش کر سکتا تھا۔ تاہم، نافرمانی کی وجہ سے آدم ابدی زندگی کے حق سے محروم ہو گیا اور اپنی اولاد کو ورثے میں گناہ اور موت دی۔ (رومیوں ۵:۱۲) اس کے باوجود، آدم کی بغاوت خدا کے ابتدائی مقصد میں رکاوٹ نہ بنی۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ فرمانبردار انسان ہمیشہ تک زندہ رہیں اور وہ کامیابی سے اپنے مقصد کو پورا کرے گا۔ (یسعیاہ ۵۵:۱۱) پس، یہ کتنا موزوں ہوگا کہ ہم اپنی اُمیدوں اور منصوبوں کو ابدیت کے پیشِنظر یہوواہ کی خدمت کرنے پر مُرتکز رکھیں۔ ”یہوواہ کے دن“ کے منتظر رہنے کے ساتھ ساتھ یہ یاد رکھنا بھی نہایت اہم ہے کہ ہمارا نصبالعین ہمیشہ یہوواہ کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔—۲-پطرس ۳:۱۲، اینڈبلیو۔
یہوواہ اپنے مقررہ وقت پر کارروائی کرتا ہے
۳. ہم کیسے جانتے ہیں کہ اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے یہوواہ کا ایک مقررہ ”وقت“ ہے؟
۳ خدا کیساتھ ساتھ چلنے والوں کے طور پر ہم اُسکی مرضی پوری کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہوواہ وقت کا بڑا حساب رکھتا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر اپنے مقاصد کو پورا کرنے میں کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، ”جب وقت پورا ہو گیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا۔“ (گلتیوں ۴:۴) یوحنا رسول نے بیان کِیا کہ جو نبوّتی باتیں اُس نے نشانات کی صورت میں دیکھیں اُنکی تکمیل کا ایک ”وقت“ تھا۔ (مکاشفہ ۱:۱-۳) ایسا مقررہ ”وقت“ بھی ہے کہ ”مُردوں کا انصاف کِیا جائے۔“ (مکاشفہ ۱۱:۱۸) پولس رسول نے ۱۹۰۰ سال سے زیادہ عرصہ پہلے الہام سے یہ کہا کہ خدا نے ”ایک دن ٹھہرایا ہے جس میں وہ راستی سے دُنیا کی عدالت . . . کریگا۔“—اعمال ۱۷:۳۱۔
۴. ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ اس بدکار نظامالعمل کو ختم کرنا چاہتا ہے؟
۴ یہوواہ اس بدکار نظامالعمل کو ختم کرنے والا ہے کیونکہ آجکل کی دُنیا میں اُسکے نام کی بڑی بےحُرمتی ہو رہی ہے۔ بدکردار پھلتےپھولتے ہیں۔ (زبور ۹۲:۷) اپنے قولوفعل سے وہ خدا کی توہین کرتے ہیں اور جب وہ اپنے خادموں کو لعنطعن اور اذیت کا نشانہ بنتے دیکھتا ہے تو اُسے بہت دُکھ پہنچتا ہے۔ (زکریاہ ۲:۸) کوئی تعجب نہیں کہ یہوواہ نے شیطان کی کُل تنظیم کے جلد خاتمے کا حکم صادر کر دیا ہے! خدا تعیّن کر چکا ہے کہ یہ کب ہوگا اور بائبل پیشینگوئیوں کی تکمیل سے واضح ہوتا ہے کہ ہم اب ”آخری زمانہ“ میں رہ رہے ہیں۔ (دانیایل ۱۲:۴) وہ جلد ہی ایسے تمام لوگوں کو برکت بخشنے کیلئے کارروائی کریگا جو اُس سے محبت رکھتے ہیں۔
۵. لوط اور حبقوق نے اپنے اردگرد کی حالتوں کو کیسا خیال کِیا تھا؟
۵ یہوواہ کے قدیمی خادموں کو بدکاری کا خاتمہ دیکھنے کی بڑی آرزو تھی۔ راستباز لوط ”بےدینوں کے ناپاک چالچلن سے دق تھا۔“ (۲-پطرس ۲:۷) اپنے اردگرد کی حالتوں سے پریشان ہو کر حبقوق نبی نے التجا کی: ”اَے خداوند! مَیں کب تک نالہ کرونگا اور تُو نہ سنیگا؟ مَیں تیرے حضور کب تک چلّاؤنگا ظلم! ظلم! اور تُو نہ بچائیگا؟ تُو کیوں مجھے بدکرداری اور کجرفتاری دکھاتا ہے؟ کیونکہ ظلم اور ستم میرے سامنے ہیں۔ فتنہوفساد برپا ہوتے رہتے ہیں۔“—حبقوق ۱:۲، ۳۔
۶. یہوواہ نے حبقوق کی دُعا کے جواب میں کیا کہا اور ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۶ جزوی طور پر، یہوواہ نے ان الفاظ سے حبقوق کو جواب دیا: ”یہ رویا ایک مقررہ وقت کے لئے ہے۔ یہ جلد وقوع میں آئیگی اور خطا نہ کریگی۔ اگرچہ اس میں دیر ہو توبھی اسکا منتظر رہ کیونکہ یہ یقیناً وقوع میں آئیگی۔ تاخیر نہ کریگی۔“ (حبقوق ۲:۳) یوں خدا نے ظاہر کِیا کہ وہ ”مقررہ وقت“ پر کارروائی کریگا۔ اگرچہ اس میں دیر ہوتی دکھائی دے توبھی یہوواہ اپنے مقصد کو یقیناً پورا کریگا!—۲-پطرس ۳:۹۔
لازوال جذبے کیساتھ خدمت کرنا
۷. اگرچہ یسوع صحیح طور پر نہیں جانتا تھا کہ یہوواہ کا دن کب آئیگا توبھی اُس نے اپنی کارگزاریوں کو کیسے جاری رکھا؟
۷ کیا واقعات کے سلسلے میں یہوواہ کے عین وقت سے واقف ہونا سرگرمی سے خدا کیساتھ چلنے کی شرط ہے؟ نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ چند مثالوں پر غور کیجئے۔ یسوع اُس وقت کا بہت مشتاق تھا جب خدا کی مرضی آسمان کی طرح زمین پر بھی پوری ہوگی۔ درحقیقت، مسیح نے اپنے پیروکاروں کو دُعا کرنا بھی سکھایا: ”اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ (متی ۶:۹، ۱۰) اگرچہ یسوع جانتا تھا کہ اس درخواست کا جواب ضرور ملیگا توبھی وہ اُسکے صحیح وقت سے واقف نہیں تھا۔ اس نظامالعمل کے خاتمے کی بابت اپنی عظیم پیشینگوئی میں اُس نے کہا: ”اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔“ (متی ۲۴:۳۶) خدا کے مقاصد کی تکمیل کا محور ہونے کی وجہ سے یسوع مسیح اپنے آسمانی باپ کے دشمنوں کو سزا دینے میں براہِراست شامل ہوگا۔ تاہم، جب یسوع زمین پر تھا تو وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ خدا کب ایسا کریگا۔ کیا اس سے یہوواہ کی خدمت کیلئے اُسکا جوش ٹھنڈا پڑ گیا؟ ہرگز نہیں! یسوع کو بڑے جوش کیساتھ ہیکل کو پاکصاف کرتے دیکھ کر ”اُسکے شاگردوں کو یاد آیا کہ لکھا ہے۔ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا جائیگی۔“ (یوحنا ۲:۱۷؛ زبور ۶۹:۹) یسوع کو جس کام کیلئے بھیجا گیا تھا وہ اُس میں مشغول رہا اور لازوال جذبے کیساتھ اُسے جاری رکھا۔ اُس نے بھی ابدیت کے پیشِنظر خدا کی خدمت کی۔
۸، ۹. جب شاگردوں نے بادشاہت کی بحالی کی بابت پوچھا تو اُنہیں کیا بتایا گیا اور اُنکا ردِعمل کیسا تھا؟
۸ مسیح کے شاگردوں کی بابت بھی یہی بات سچ تھی۔ آسمان پر جانے سے ذرا پہلے یسوع اُن سے ملا۔ سرگزشت یوں بیان کرتی ہے: ”پس اُنہوں نے جمع ہوکر اُس سے یہ پوچھا کہ اَے خداوند! کیا تُو اسی وقت اؔسرائیل کو پھر بادشاہی عطا کریگا؟“ اپنے اُستاد کی طرح وہ بھی بادشاہت کے آنے کے متمنی تھے۔ تاہم، یسوع نے جواب دیا: ”اُن وقتوں اور میعادوں کا جاننا جنہیں باپ نے اپنے ہی اختیار میں رکھا ہے تمہارا کام نہیں۔ لیکن جب روحالقدس تم پر نازل ہوگا تو تُم قوت پاؤ گے اور یرؔوشلیم اور تمام یہوؔدیہ اور ساؔمریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ہوگے۔“—اعمال ۱:۶-۸۔
۹ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ شاگرد اس جواب سے دلبرداشتہ ہو گئے تھے۔ بلکہ، وہ منادی کے کام میں مصروف ہو گئے۔ چند ہی ہفتوں میں اُنہوں نے سارے یروشلیم میں اپنی تعلیم پھیلا دی۔ (اعمال ۵:۲۸) علاوہازیں ۳۰ برسوں کے اندر ہی اندر اُنہوں نے اس حد تک منادی کر دی کہ پولس یہ کہہ سکتا تھا کہ خوشخبری کی منادی ”آسمان کے نیچے کی تمام مخلوقات“ میں کر دی گئی ہے۔ (کلسیوں ۱:۲۳) اگرچہ ’اسرائیل کو پھر بادشاہی عطا‘ نہ کی گئی جیساکہ شاگردوں نے غلطی سے سوچا تھا اور نہ ہی اُنکے عرصۂحیات کے دوران آسمان میں اسے قائم کِیا گیا توبھی وہ ابدیت کے پیشِنظر سرگرمی سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہے۔
اپنے محرکات کو جانچنا
۱۰. شیطان کے نظام کو تباہ کرنے کے خدا کے وقت سے ناواقف ہونا ہمیں کیا ثابت کرنے کا موقع دیتا ہے؟
۱۰ دورِحاضر میں بھی یہوواہ کے خادم اس بُرے نظامالعمل کے خاتمے کو دیکھنے کے آرزومند ہیں۔ تاہم، ہماری خاص دلچسپی خدا کی موعودہ نئی دُنیا میں نجات نہیں ہے۔ ہم یہوواہ کے نام کی تقدیس اور اُسکی حاکمیت کی سربلندی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسلئے ہم خوش ہو سکتے ہیں کہ خدا نے ہمیں شیطانی نظام کی تباہی کے مقررہ ’دن یا گھڑی‘ کی بابت نہیں بتایا۔ اس سے ہمیں یہ ثابت کرنے کا موقع مل جاتا ہے کہ ہم قلیلالمدت، خودغرضانہ مقاصد کی وجہ سے نہیں بلکہ محبت کی وجہ سے ابد تک یہوواہ کیساتھ ساتھ چلنے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔
۱۱، ۱۲. ایوب کی راستی کی آزمائش کیسے ہوئی اور اس آزمائش کا ہم سے کیا تعلق ہے؟
۱۱ خدا کے حضور اپنی راستی برقرار رکھنا ابلیس کو جھوٹا ثابت کرنے میں بھی مدد دیتا ہے جس نے راستباز ایوب اور اُس جیسے دیگر انسانوں پر الزام لگایا کہ وہ ذاتی مفاد کی خاطر خدا کی خدمت کرتے ہیں۔ جب یہوواہ نے اپنے بندہ ایوب کو بےعیب، راستباز، خدا سے ڈرنے والا شخص کہا تو شیطان نے مکاری سے حجت کی: ”کیا اؔیوب یوں ہی خدا سے ڈرتا ہے؟ کیا تُو نے اُسکے اور اُسکے گھر کے گرد اور جوکچھ اُسکا ہے اُس سب کے چاروں طرف باڑ نہیں بنائی ہے؟ تُو نے اُسکے ہاتھ کے کام میں برکت بخشی ہے اور اُسکے گلّے ملک میں بڑھ گئے ہیں۔ پر تُو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جوکچھ اُسکا ہے اُسے چھو ہی دے تو کیا وہ تیرے مُنہ پر تیری تکفیر نہ کریگا؟“ (ایوب ۱:۸-۱۱) آزمائش کے تحت اپنی راستی برقرار رکھنے سے ایوب نے اس کینہپرور دعوے کو باطل ثابت کر دیا۔
۱۲ راستی کی روش برقرار رکھنے سے ہم شیطان کے اس الزام کو بھی غلط ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم محض اسلئے خدا کی خدمت کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اجر قریب ہے۔ بدکاروں پر خدا کے غضب کے نازل ہونے کے وقت سے ناواقف ہونا ہمیں یہ ثابت کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم واقعی یہوواہ سے محبت رکھتے ہیں اور ہمیشہ اُسکی راہوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم خدا کے وفادار ہیں اور معاملات کو سلجھانے کے اُسکے طریقے پر بھروسہ کرتے ہیں۔ مزیدبرآں، دن اور گھڑی سے ناواقف ہونا مستعد اور روحانی طور پر بیدار رہنے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جیسے چور رات کے کسی بھی پہر آ سکتا ہے ویسے ہی خاتمہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۲-۴۴) ہر روز یہوواہ کیساتھ چلنے سے ہم اُسکا دل شاد کرتے ہیں اور ابلیس کو جواب دیتے ہیں جو اُسے ملامت کرتا ہے۔—امثال ۲۷:۱۱۔
ابدیت کیلئے منصوبہسازی
۱۳. مستقبل کی منصوبہسازی کی بابت بائبل کیا ظاہر کرتی ہے؟
۱۳ خدا کے ساتھ چلنے والے جانتے ہیں کہ مستقبل کے لئے معقول منصوبہسازی کرنا دانشمندی ہے۔ بڑھاپے کے مسائل اور حدبندیوں سے آگاہ بیشتر لوگ اپنی جوانی اور قوت کا اچھا استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بڑھاپے میں اُنہیں مالی تحفظ حاصل ہو۔ لہٰذا، ہمارے کہیں اہم روحانی مستقبل کی بابت کیا ہے؟ امثال ۲۱:۵ بیان کرتی ہے: ”محنتی کی تدبیریں یقیناً فراوانی کا باعث ہیں لیکن ہر ایک جلدباز کا انجام محتاجی ہے۔“ ابدیت کے پیشِنظر آئندہ وقت کیلئے منصوبہسازی کرنا واقعی کارآمد ہے۔ چونکہ ہم صحیح طور پر نہیں جانتے کہ اس نظام کا خاتمہ کب آئیگا اسلئے ہمیں اپنی آئندہ ضروریات پر کچھ دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم ہمیں متوازن رہنا چاہئے اور الہٰی مفادات کو اپنی زندگی میں مقدم رکھنا چاہئے۔ کماعتقاد لوگ شاید یہ سوچیں کہ خدا کی مرضی بجا لانے کو اپنی دلچسپیوں کا مرکز بنانا کوتاہاندیشی ہوگی۔ تاہم، کیا ایسا ہے؟
۱۴، ۱۵. (ا) مستقبل کے منصوبوں کے سلسلے میں یسوع نے کونسی تمثیل پیش کی؟ (ب) یسوع کی تمثیل میں دولتمند آدمی کوتاہاندیش کیوں تھا؟
۱۴ یسوع نے ایک تمثیل پیش کی جو اس معاملے پر روشنی ڈالتی ہے۔ اُس نے کہا: ”کسی دولتمند کی زمین میں بڑی فصل ہوئی۔ پس وہ اپنے دل میں سوچ کر کہنے لگا کہ مَیں کیا کروں کیونکہ میرے ہاں جگہ نہیں جہاں اپنی پیداوار بھر رکھوں؟ اس نے کہا مَیں یوں کرونگا کہ اپنی کوٹھیاں ڈھا کر ان سے بڑی بناؤنگا۔ اور ان میں اپنا سارا اناج اور مال بھر رکھونگا اور اپنی جان سے کہونگا اَے جان! تیرے پاس بہت برسوں کے لئے بہت سا مال جمع ہے۔ چین کر۔ کھا پی۔ خوش رہ۔ مگر خدا نے اس سے کہا اَے نادان! اسی رات تیری جان تجھ سے طلب کر لی جائیگی۔ پس جوکچھ تُو نے تیار کِیا ہے وہ کس کا ہوگا؟ ایسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے لئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خدا کے نزدیک دولتمند نہیں۔“—لوقا ۱۲:۱۶-۲۱۔
۱۵ کیا یسوع کا مطلب یہ تھا کہ دولتمند آدمی کو مستقبل میں مادی تحفظ کیلئے محنت نہیں کرنی چاہئے تھی؟ ایسا نہیں ہے کیونکہ صحائف تو محنت کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ (۲-تھسلنیکیوں ۳:۱۰) دولتمند آدمی کی غلطی یہ تھی کہ اُس نے ”خدا کے نزدیک دولتمند“ ہونے کیلئے کچھ نہیں کِیا تھا۔ اگرچہ وہ کئی سالوں تک اپنے مالومتاع سے لطف اُٹھانے کے قابل ہوتا توبھی بالآخر اُسے مرنا ہی تھا۔ وہ کوتاہاندیش تھا اور ابدیت کی بابت نہیں سوچ رہا تھا۔
۱۶. ہم محفوظ مستقبل کیلئے یہوواہ پر توکل کیوں کر سکتے ہیں؟
۱۶ ابدیت کے پیشِنظر یہوواہ کے ساتھ چلنا عملی اور دوراندیشی کا ثبوت بھی ہے۔ یہ مستقبل کیلئے منصوبہسازی کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اگرچہ تعلیم، ملازمت اور خاندانی ذمہداریوں کی بابت عملی منصوبے بنانا دانشمندانہ فعل ہے توبھی ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہوواہ اپنے وفادار خادموں کو کبھی ترک نہیں کرتا۔ بادشاہ داؤد نے اپنے گیت میں کہا: ”مَیں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوں توبھی مَیں نے صادق کو بیکس اور اُسکی اولاد کو ٹکڑے مانگتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ (زبور ۳۷:۲۵) اسی طرح یسوع نے بھی یقین دلایا کہ خدا اُن تمام لوگوں کی ضروریات پوری کریگا جو بادشاہت کی پہلے تلاش کرتے ہیں اور یہوواہ کی راست راہوں پر چلتے ہیں۔—متی ۶:۳۳۔
۱۷. ہم کیسے جانتے ہیں کہ خاتمہ نزدیک ہے؟
۱۷ ابدیت کے پیشِنظر خدا کی خدمت کرنے کے باوجود ہم یہوواہ کے دن کے منتظر ہیں۔ بائبل پیشینگوئی کی تکمیل اُس دن کی نزدیکی کی واضح شہادت ہے۔ جنگ، وبا، زلزلے اور کال کے علاوہ سچے مسیحیوں کی اذیت اور عالمگیر پیمانے پر خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کی منادی اس صدی کی خصوصیات ہیں۔ یہ سب اس بدکار نظامالعمل کے خاتمے کے وقت کی علامات ہیں۔ (متی ۲۴:۷-۱۴؛ لوقا ۲۱:۱۱) یہ دُنیا ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو ”خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو دوست رکھنے والے“ ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) ان تشویشناک ایّام میں، یہوواہ کے خادموں کے طور پر ہمارے لئے بھی زندگی کٹھن ہے۔ ہم اُس دن کے کتنے آرزومند ہیں جب یہوواہ کی بادشاہت تمام بدکاری کا صفایا کر دیگی! دریںاثنا، ہمیں ابدیت کے پیشِنظر خدا کیساتھ چلنے کے عزم پر قائم رہنا چاہئے۔
غیرمختتم زندگی کے پیشِنظر خدمت کرنا
۱۸، ۱۹. کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ قدیم زمانہ کے وفادار اشخاص نے ابدیت کے پیشِنظر خدا کی خدمت کی تھی؟
۱۸ جب ہم یہوواہ کیساتھ ساتھ چلتے ہیں تو ہمیں ہابل، حنوک، نوح، ابرہام اور سارہ کے ایمان کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے۔ انکا ذکر کرنے کے بعد پولس نے لکھا: ”یہ سب ایمان کی حالت میں مرے اور وعدہ کی ہوئی چیزیں نہ پائیں مگر دُور ہی سے اُنہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور اقرار کیا کہ ہم زمین پر پردیسی اور مسافر ہیں۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱۳) وہ ایماندار لوگ ”ایک بہتر یعنی آسمانی ملک کے مشتاق تھے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۱۶) ایمان ہی سے اُنہیں خدا کی مسیحائی بادشاہت کی حکمرانی کے تحت ایک بہتر جگہ کی اُمید تھی۔ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ خدا اُنہیں اُس بہتر جگہ—بادشاہتی حکمرانی کے تحت زمینی فردوس—پر ابدی زندگی کا اجر بخشے گا۔—عبرانیوں ۱۱:۳۹، ۴۰۔
۱۹ میکاہ نبی نے یہوواہ کے لوگوں کے اس عزم کو بیان کِیا کہ وہ ابد تک خدا کی پرستش کرینگے۔ اُس نے لکھا: ”سب اُمتیں اپنے اپنے معبود کے نام سے چلیں گی پر ہم ابدالآباد تک خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کے نام سے چلینگے۔“ (میکاہ ۴:۵) میکاہ اپنی موت تک وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کرتا رہا۔ نئی دُنیا میں زندہ ہوکر بِلاشُبہ یہ نبی تمام ابدیت تک خدا کیساتھ ساتھ چلتا رہیگا۔ آخری وقت میں رہنے والوں کیلئے یہ مثال کتنی عمدہ ہے!
۲۰. ہمارا عزم کیا ہونا چاہئے؟
۲۰ ہم اُس کے نام کیلئے جو محبت دکھاتے ہیں یہوواہ اُسکی قدر کرتا ہے۔ (عبرانیوں ۶:۱۰) وہ جانتا ہے کہ ابلیس کے قبضہ میں پڑی ہوئی اس دُنیا میں ہمارے لئے راستی برقرار رکھنا مشکل ہے۔ اگرچہ ”دُنیا . . . مٹتی جاتی ہے،“ توبھی، ”جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“ (۱ یوحنا ۲:۱۷؛ ۵:۱۹) پس، یہوواہ کی مدد سے، ہمیں روزمرّہ زندگی میں پیش آنے والی آزمائشوں کی برداشت کرنے کا عزم کرنا چاہئے۔ دُعا ہے کہ ہماری سوچ اور طرزِزندگی اُن شاندار برکات پر مُرتکز رہے جنکا ہمارے شفیق آسمانی باپ نے وعدہ کِیا ہے۔ ابدیت کے پیشِنظر خدا کیساتھ ساتھ چلتے رہنے کی صورت میں یہ برکات ہماری ہو سکیں گی۔—یہوداہ ۲۰، ۲۱۔
آپ کیسے جواب دینگے؟
◻فرمانبردار انسانوں کیلئے خدا کا مقصد کیا ہے؟
◻یہوواہ نے بیدین دُنیا کو ختم کرنے کیلئے ابھی تک کارروائی کیوں نہیں کی؟
◻خدا کی کارروائی کے عین وقت سے ناواقف ہونے سے ہمارا جذبہ ماند کیوں نہیں پڑنا چاہئے؟
◻ابدیت کے پیشِنظر خدا کیساتھ چلنے کے بعض فوائد کیا ہیں؟
[صفحہ 17 پر تصویر]
خدا کیساتھ چلنا مسیح کے ابتدائی شاگردوں کی طرح سرگرمی سے اُس کی خدمت کرنے کا تقاضا کرتا ہے