”بادل میں حکمت کس نے رکھی“؟
”جب بادل کو پچّھم سے اٹھتے دیکھتے ہو فوراً کہتے ہو کہ مینہ برسیگا اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور جب تم معلوم کرتے ہو کہ دکھنا چل رہی ہے تو کہتے ہو کہ لُو چلے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔“ انجیلنویس لوقا کے ذریعے قلمبند کئے جانے والے یسوع کے یہ الفاظ، قدیم فلسطین میں موسمیاتی پیشینگوئیوں کی مثال ہیں۔ (لوقا ۱۲:۵۴، ۵۵) بعض حالات میں قدیم لوگ آثار کو دیکھتے ہوئے مختصر عرصے کیلئے درست پیشینگوئی کر سکتے تھے۔
آجکل ماہرینِموسمیات زیادہ طویلاُلمدتی موسمی تغیرات کی پیمائش کے واسطے زمین کے مدار کے گرد چکر لگانے والے مصنوعی سیاروں، ڈوپلر ریڈار اور طاقتور کمپیوٹروں جیسے جدیدترین آلات استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اُنکی پیشینگوئیاں عموماً غلط ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں؟
بہت سے عناصر موسم کی بابت بالکل صحیح پیشینگوئی کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، درجہحرارت میں غیرمتوقع تبدیلی، نمی، ہوا کا دباؤ، رفتار اور رخ معاملات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سورج، بادلوں اور سمندر کے باہمی عمل کو سائنسدان پوری طرح سمجھ نہیں پائے۔ اسی وجہ سے موسمیاتی پیشینگوئی ایک ناقص سائنس ہے۔
موسم کے متعلق انسان کا محدود علم ہمیں اُس سوال کی یاد دلاتا ہے جو ایوب سے پوچھا گیا تھا: ”شبنم کے قطرے کس سے تولد ہوئے؟ یخ کس کے بطن سے نکلا . . . کیا تُو بادلوں تک اپنی آواز بلند کر سکتا ہے؟ تاکہ پانی کی فراوانی تجھے چھپا لے؟ . . . باطن [”بادل،“ اینڈبلیو] میں حکمت کس نے رکھی؟ اور دل کو دانش کس نے بخشی؟ بادلوں کو حکمت سے کون گن سکتا ہے؟ یا کون آسمان کی مشکوں کو انڈیل سکتا ہے۔“—ایوب ۳۸:۲۸-۳۷۔
ان سب سوالوں کا جواب ہے ’کوئی انسان نہیں بلکہ یہوواہ خدا‘۔ جیہاں، انسان چاہے کتنا ہی دانشمند کیوں نہ ہو، ہمارے خالق کی حکمت بہت آگے ہے۔ یقیناً یہ اس کی محبت ہے کہ اُس نے بائبل میں اپنی اس حکمت کو ہمارے لئے فراہم کِیا ہے تاکہ ہم اپنی راہ میں کامیاب ہو سکیں۔—امثال ۵:۱، ۲۔