یروشلیم—کیا آپ اسے ’اپنی بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح دیتے ہیں‘؟
”اگر مَیں یرؔوشلیم کو اپنی بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح نہ دوں تو میری زبان میرے تالو سے چپک جائے۔“—زبور ۱۳۷:۶۔
۱. خدا کے منتخب شہر کے لئے بہت سے جلاوطن یہودی کیسا رُجحان رکھتے تھے؟
یہودی جلاوطنوں کے پہلے گروہ کو ۵۳۷ ق.س.ع. میں یروشلیم واپس آئے ہوئے تقریباً سات عشرے گزر چکے ہیں۔ خدا کی ہیکل تو دوبارہ تعمیر ہو چکی ہے مگر شہر ابھی تک ویران پڑا ہے۔ اسی اثنا میں، ایک نئی نسل جلاوطنی میں جوان ہو چکی ہے۔ بِلاشُبہ اُن میں سے بیشتر نے زبورنویس جیسا ہی محسوس کِیا جس نے اپنے گیت میں کہا: ”اَے یرؔوشلیم! اگر مَیں تجھے بھولوں تو میرا دہنا ہاتھ اپنا ہنر بھول جائے۔“ (زبور ۱۳۷:۵) بعض نے یروشلیم کو محض یاد ہی نہ رکھا بلکہ اپنے اعمال سے ثابت بھی کِیا کہ وہ اسے ”اپنی بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح“ دیتے ہیں۔—زبور ۱۳۷:۶۔
۲. عزرا کون تھا اور اُسے کیسے برکت بخشی گئی تھی؟
۲ مثال کے طور پر، عزرا کاہن پر غور کیجئے۔ اپنے آبائی وطن واپس لوٹنے سے قبل اُس نے یروشلیم میں سچی پرستش کے مفادات کو فروغ دینے کیلئے گرمجوشی کا مظاہرہ کِیا تھا۔ (عزرا ۷:۶، ۱۰) عزرا کو اس کیلئے بڑی برکت ملی تھی۔ یہوواہ خدا نے فارس کے بادشاہ کے دل کو اُبھارا کہ عزرا کو جلاوطنوں کے دوسرے گروہ کو واپس یروشلیم لیجانے میں پیشوائی کرنے کا شرف عطا کرے۔ مزیدبرآں، بادشاہ نے ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے گھر کو . . . آراستہ“ کرنے کیلئے اُنہیں سونے اور چاندی کے بڑے عطیات دئے۔—عزرا ۷:۲۱-۲۷۔
۳. نحمیاہ نے کیسے ثابت کِیا کہ یروشلیم اُس کے نزدیک سب سے اہم ہے؟
۳ کوئی ۱۲ سال بعد، ایک اَور یہودی—نحمیاہ—نے فیصلہکُن قدم اُٹھایا۔ وہ فارس میں قصرسوسن میں خدمت پر معمور تھا۔ اُسے ارتخششتا بادشاہ کا ساقی ہونے کا اعلیٰ مرتبہ حاصل تھا مگر یہ نحمیاہ کی ”بڑی سے بڑی خوشی“ نہیں تھی۔ اسکی بجائے، وہ یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کیلئے جانا چاہتا تھا۔ کئی مہینوں تک نحمیاہ اسکی بابت دُعا کرتا رہا اور خدا نے اُسے ایسا کرنے کیلئے برکت بخشی۔ نحمیاہ کی فکرمندی دریافت کر کے فارس کے بادشاہ نے اُسے فوجی دستوں اور یروشلیم کو دوبارہ تعمیر کرنے کے مختارناموں کیساتھ روانہ کِیا۔—نحمیاہ ۱:۱–۲:۹۔
۴. ہم یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم یہوواہ کی پرستش کو بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح دیتے ہیں؟
۴ بِلاشُبہ عزرا، نحمیاہ اور اُن کے ساتھ تعاون کرنے والے بیشتر یہودیوں نے ثابت کِیا کہ یروشلیم میں قائم یہوواہ کی پرستش ہر چیز سے زیادہ اہم تھی—اسے ’اُن کی بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح‘ حاصل تھی یعنی یہ اُن کے لئے ہر خوشی سے بڑھکر تھی۔ ایسے افراد آجکل اُن تمام لوگوں کے لئے کتنی حوصلہافزائی کا باعث ہیں جو یہوواہ، اُس کی پرستش اور اُس کی روح سے ہدایت پانے والی تنظیم کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں! کیا آپ کی بابت بھی یہ سچ ہے؟ کیا آپ خدائی کاموں میں اپنی برداشت سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہوواہ کے مخصوصشُدہ لوگوں کے ساتھ ملکر اُس کی پرستش کرنے کا استحقاق آپ کی سب سے بڑی خوشی ہے؟ (۲-پطرس ۳:۱۱) اس ضمن میں مزید حوصلہافزائی کی خاطر، آئیے یروشلیم کی جانب عزرا کے سفر کے عمدہ نتائج پر غور کریں۔
برکات اور ذمہداریاں
۵. عزرا کے ایّام میں یہوداہ کے باشندوں کو کونسی کثیر برکات حاصل ہوئی تھیں؟
۵ عزرا کیساتھ واپس لوٹنے والے ۶،۰۰۰ جلاوطنوں کا گروہ یہوواہ کی ہیکل کیلئے سونے اور چاندی کے عطیات بھی لایا۔ موجودہ شرح کے مطابق انکی مالیت ۳۵ ملین ڈالر تھی۔ پہلا گروہ اپنے ساتھ جو سونا اور چاندی لایا تھا یہ اُس سے بھی سات گُنا زیادہ تھا۔ یہ سب افرادی اور مالی امداد حاصل کر کے یروشلیم اور یہوداہ کے باشندے یہوواہ کا کسقدر شکر بجا لائے ہونگے! تاہم خدا کی طرف سے کثیر برکات کچھ ذمہداری بھی لاتی ہیں۔—لوقا ۱۲:۴۸۔
۶. عزرا کو اپنے آبائی وطن میں کیا معلوم ہوا اور اُس نے کیسا جوابیعمل دکھایا؟
۶ عزرا کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ کاہنوں اور بزرگوں سمیت بہتیرے یہودیوں نے خدائی شریعت کے خلاف بُتپرست عورتوں سے شادی کر رکھی ہے۔ (استثنا ۷:۳، ۴) خدا کے شریعتی عہد کی اس خلافورزی کے باعث اُسکا پریشان ہونا بجا تھا۔ ”جب مَیں نے یہ بات سنی تو اپنا پیراہن اور اپنی چادر کو چاک کِیا . . . اور حیران ہو بیٹھا۔“ (عزرا ۹:۳) پھر، پریشانحال اسرائیلیوں کی موجودگی میں عزرا نے دُعا میں یہوواہ کے سامنے اپنا دل کھولکر رکھ دیا۔ سب کے سامنے عزرا نے اسرائیل کی گزشتہ نافرمانی اور خدا کی اس آگاہی کا اعادہ کِیا کہ اگر وہ ملک کے بُتپرست باشندوں کیساتھ شادی کرینگے تو کیا واقع ہوگا۔ اُس نے ان الفاظ کیساتھ اختتام کِیا: ”اَے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اسرائیل کے خدا تُو صادق ہے کیونکہ ہم ایک بقیہ ہیں جو بچ نکلا ہے جیسا آج کے دن ہے۔ دیکھ ہم اپنی خطاکاری میں تیرے حضور حاضر ہیں کیونکہ اِسی سبب سے کوئی تیرے حضور کھڑا نہیں رہ سکتا۔“—عزرا ۹:۱۴، ۱۵۔
۷. (ا) خطاکاری سے نپٹنے کیلئے عزرا نے کیسے ایک عمدہ نمونہ قائم کِیا؟ (ب) عزرا کے زمانے میں خطاکاروں نے کیسا جوابیعمل دکھایا؟
۷ عزرا نے ”ہم“ کی اصطلاح استعمال کی۔ جیہاں، اگرچہ وہ ذاتی طور پر بےقصور تھا پھربھی اُس نے خود کو اُنہی میں شمار کِیا۔ عزرا کی دلی پریشانی کیساتھ ساتھ اُسکی عاجزانہ دُعا نے لوگوں کے دلوں پر اثر کِیا اور اُنہیں توبہ کے موافق عمل کرنے کی تحریک دی۔ وہ ایک تکلیفدہ حل پر راضی ہو گئے—خدا کی شریعت کی خلافورزی کرنے والے تمام لوگوں کو اپنی غیرقوم بیویوں کو اُن سے پیدا ہونے والے بچوں سمیت اُنکے آبائی وطنوں کو واپس بھیجنا ہوگا۔ عزرا بھی اس فیصلے سے متفق ہو گیا اور خطاکاروں کی اس کے مطابق عمل کرنے کیلئے حوصلہافزائی کی۔ فارس کے بادشاہ نے عزرا کو جو اختیار سونپا تھا اُسکی بِنا پر وہ تمام قانونشکنوں کو سزا دے سکتا تھا یا اُنہیں یروشلیم اور یہوداہ سے نکال سکتا تھا۔ (عزرا ۷:۱۲، ۲۶) تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُسے ایسی کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ ”ساری جماعت“ نے کہا: ”جیسا تُو نے کہا ویسا ہی ہم کو کرنا لازم ہے۔“ مزیدبرآں، اُنہوں نے یہ بھی تسلیم کِیا: ”ہم نے اِس معاملہ میں بڑا گناہ کِیا ہے۔“ (عزرا ۱۰:۱۱-۱۳) عزرا ۱۰ باب میں ایسے ۱۱۱ لوگوں کے ناموں کی فہرست پائی جاتی ہے جنہوں نے اس فیصلے کی تائید میں اپنی غیرقوم بیویوں کو اُن سے پیدا ہونے والے بچوں سمیت واپس بھیج دیا۔
۸. غیرقوم بیویوں کو واپس بھیج دینے کی سخت کارروائی تمام نوعِانسان کے لئے مفید کیوں تھی؟
۸ یہ کارروائی صرف اسرائیل کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام نوعِانسان کیلئے بھی فائدہمند تھی۔ اگر ان معاملات کی تصحیح کیلئے کچھ نہ کِیا جاتا تو اسرائیلی گِردونواح کی اقوام میں مدغم ہو جاتے۔ اس صورت میں تمام نوعِانسان کی برکت کا باعث بننے والی موعودہ نسل کا شجرۂنسب آلودہ ہو جاتا۔ (پیدایش ۳:۱۵؛ ۲۲:۱۸) یہوداہ کے قبیلے سے بادشاہ داؤد کی اولاد کے طور پر موعودہ نسل کی شناخت کرنا مشکل ہو جاتا۔ کوئی ۱۲ برس بعد، اس اہم مسئلے پر ایک بار پھر توجہ دی گئی جب ”اؔسرائیل کی نسل کے لوگ سب پردیسیوں سے الگ ہو گئے۔“—نحمیاہ ۹:۱، ۲؛ ۱۰:۲۹، ۳۰۔
۹. بےایمان بیاہتا ساتھی رکھنے والے مسیحیوں کے لئے بائبل کونسی عمدہ مشورت پیش کرتی ہے؟
۹ یہوواہ کے جدید زمانہ کے خادم اس سرگزشت سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ درحقیقت، مسیحی شریعتی عہد کے تابع نہیں ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۳:۱۴) اسکی بجائے، وہ ”مسیح کی شریعت“ کی تابعداری کرتے ہیں۔ (گلتیوں ۶:۲) لہٰذا، کسی بےایمان سے بیاہا ہوا ایک مسیحی پولس کی مشورت کے مطابق عمل کرتا ہے: ”اگر کسی بھائی کی بیوی باایمان نہ ہو اور اسکے ساتھ رہنے کو راضی ہو تو وہ اُسکو نہ چھوڑے۔“ (۱-کرنتھیوں ۷:۱۲) مزیدبرآں، بےایمانوں سے بیاہے ہوئے مسیحیوں کی یہ صحیفائی ذمہداری ہے کہ اپنی شادی کو کامیاب بنانے کیلئے کوشش کریں۔ (۱-پطرس ۳:۱، ۲) اس عمدہ مشورت کی اطاعت اکثر اس برکت پر منتج ہوئی ہے کہ بےایمان بیاہتا ساتھیوں کے دل سچی پرستش کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔ بعض وفادار بپتسمہیافتہ مسیحی بن گئے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۷:۱۶۔
۱۰. اپنی غیرقوم بیویوں کو واپس بھیج دینے والے ۱۱۱ اسرائیلیوں سے مسیحی کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
۱۰ تاہم، اپنی غیرقوم بیویوں کو واپس بھیجنے والے اسرائیلیوں کا معاملہ کنوارے مسیحیوں کیلئے عمدہ سبق فراہم کرتا ہے۔ اُنہیں مخالف جنس کے ایسے ارکان کیساتھ معاشقہ نہیں کرنا چاہئے جو بےایمان ہیں۔ ایسے رشتے سے گریز کرنا مشکل، حتیٰکہ تکلیفدہ ہو سکتا ہے مگر خدا سے مسلسل برکت حاصل کرنے کیلئے یہ بہترین روش ہے۔ مسیحیوں کو حکم دیا گیا ہے: ”بےایمانوں کیساتھ ناہموار جوئے میں نہ جتو۔“ (۲-کرنتھیوں ۶:۱۴) شادی کے خواہشمند ہر کنوارے مسیحی کو کسی مخلص ساتھی ایماندار سے ہی شادی کرنی چاہئے۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳۹۔
۱۱. اسرائیلی مردوں کی طرح، اپنی خوشی کے سلسلے میں ہماری آزمائش کیسے ہو سکتی ہے؟
۱۱ دیگر کئی طریقوں سے بھی، جب بعض مسیحیوں کو آگاہ کِیا گیا کہ وہ غیرصحیفائی راہ پر چل رہے ہیں تو اُنہوں نے اپنی اصلاح کر لی۔ (گلتیوں ۶:۱) وقتاًفوقتاً، اس جریدے نے ایسے غیرصحیفائی طرزِعمل کی نشاندہی کی ہے جو کسی شخص کو خدا کی تنظیم کے رُکن کے طور پر نااہل قرار دیگا۔ مثال کے طور پر، ۱۹۷۳ میں، یہوواہ کے لوگوں نے یہ پوری طرح سمجھ لیا کہ منشیات کا غلط استعمال اور تمباکو کا استعمال سنگین گناہ ہیں۔ خدائی روش پر چلنے کیلئے، ہمیں ”اپنے آپ کو ہر طرح کی جسمانی اور روحانی آلودگی سے پاک“ کرنا چاہئے۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱) کافی لوگوں نے بائبل کی اس مشورت پر دل لگایا؛ وہ خدا کی پاک اُمت کا حصہ رہنے کی خاطر اسے چھوڑنے کی ابتدائی علامات کی تکلیف برداشت کرنے کیلئے بھی تیار تھے۔ جنسی معاملات، لباس، بناؤسنگھار اور ملازمت، تفریح اور موسیقی کے دانشمندانہ انتخاب کی بابت بھی واضح صحیفائی ہدایت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی صحیفائی اصول ہماری توجہ میں لائے جاتے ہیں، دُعا ہے کہ ہم ۱۱۱ اسرائیلی مردوں کی طرح ”اصلاح قبول“ کرنے والے ثابت ہوں۔ (۲-کرنتھیوں ۱۳:۱۱، اینڈبلیو) اس سے ظاہر ہوگا کہ اُسکے پاک لوگوں کیساتھ یہوواہ کی پرستش کرنے کے شرف کو ’ہماری بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح حاصل ہے۔‘
۱۲. ۴۵۵ ق.س.ع. میں کیا واقع ہوا؟
۱۲ غیرقوم بیویوں کی روداد بیان کرنے کے بعد بائبل اگلے ۱۲ سال میں یروشلیم میں رُونما ہونے والے واقعات کی بابت کچھ نہیں بتاتی۔ بِلاشُبہ، اسرائیل کے پڑوسی بہت سی شادیوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے مزید بھڑک اُٹھے ہونگے۔ نحمیاہ ۴۵۵ ق.س.ع. میں، محافظ فوجی دستے کیساتھ یروشلیم پہنچا۔ اُسے یہوداہ کا گورنر مقرر کر کے فارس کے بادشاہ کی طرف سے شہر کی ازسرِنو تعمیر کے مختارناموں کیساتھ بھیجا گیا تھا۔—نحمیاہ ۲:۹، ۱۰؛ ۵:۱۴۔
حاسد ہمسایوں کی طرف سے مخالفت
۱۳. یہودیوں کے جھوٹے مذہبی ہمسایوں نے کیسے رویے کا مظاہرہ کِیا اور نحمیاہ نے کیسا ردِعمل دکھایا تھا؟
۱۳ جھوٹے مذہبی ہمسایوں نے نحمیاہ کی آمد کے مقصد کی بھی مخالفت کی۔ اُنکے پیشواؤں نے اُسے یہ پوچھ کر دھمکایا: ”کیا تم بادشاہ سے بغاوت کرو گے؟“ یہوواہ پر ایمان ظاہر کرتے ہوئے نحمیاہ نے جواب دیا: ”آسمان کا خدا وہی ہم کو کامیاب کریگا۔ اِسی سبب سے ہم جو اُسکے بندے ہیں اُٹھکر تعمیر کرینگے لیکن یرؔوشلیم میں تمہارا نہ تو کوئی حصہ نہ حق نہ یادگار ہے۔“ (نحمیاہ ۲:۱۹، ۲۰) جب دیواروں کی مرمت شروع ہوئی تو انہی دشمنوں نے تمسخر اُڑایا: ’یہ کمزور یہودی کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ پتھروں کو کوڑے کے ڈھیروں سے نکالکر پھر نئے کر دینگے؟ اگر اُس پر لومڑی چڑھ جائے تو وہ انکی پتھروں کی دیوار کو گِرا دیگی۔‘ ایسی باتوں کا جواب دینے کی بجائے، نحمیاہ نے دُعا کی: ”سُن لے اَے ہمارے خدا کیونکہ ہماری حقارت ہوتی ہے اور اُنکی ملامت اُن ہی کے سر پر ڈال۔“ (نحمیاہ ۴:۲-۴) نحمیاہ نے یہوواہ پر مسلسل توکل کرنے کی عمدہ مثال قائم کی!—نحمیاہ ۶:۱۴؛ ۱۳:۱۴۔
۱۴، ۱۵. (ا) نحمیاہ نے دشمن کی طرف سے تشدد کے خطرے کا سامنا کیسے کِیا؟ (ب) سخت مخالفت کے باوجود یہوواہ کے گواہ روحانی تعمیراتی کام کو کیسے جاری رکھنے کے قابل ہوئے ہیں؟
۱۴ آجکل یہوواہ کے گواہ بھی منادی کی اہم ذمہداری کو پورا کرنے کیلئے خدا پر توکل کرتے ہیں۔ مخالفین تمسخر اُڑا کر اس کام کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعضاوقات، بادشاہتی پیغام میں دلچسپی رکھنے والے لوگ ٹھٹھابازی برداشت نہ کرنے کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اگر ٹھٹھابازی کارگر ثابت نہیں ہوتی تو مخالفین غصے میں آ کر تشدد پر اُتر آتے ہیں۔ یروشلیم کی فصیلوں کے معماروں کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ تاہم نحمیاہ اس سے خوفزدہ نہ ہوا۔ اسکی بجائے، اُس نے دشمن کے حملے کا مقابلہ کرنے کیلئے معماروں کو ہتھیار دئے اور یہ کہہ کر اُنکا ایمان مضبوط کِیا: ”تم اُن سے مت ڈرو خداوند کو جو بزرگ اور مہیب ہے یاد کرو اور اپنے بھائیوں اور بیٹے بیٹیوں اور اپنی بیویوں اور گھروں کے لئے لڑؤ۔“—نحمیاہ ۴:۱۳، ۱۴۔
۱۵ نحمیاہ کے ایّام کی طرح، یہوواہ کے گواہوں کو بھی سخت مخالفت کے باوجود روحانی تعمیر کا کام جاری رکھنے کیلئے خوب لیس کِیا گیا ہے۔ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے ایسی ایمانافزا روحانی خوراک فراہم کر رکھی ہے جو خدا کے لوگوں کو پابندی والے علاقوں میں بھی پھلدار ثابت ہونے کے قابل بناتی ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) نتیجتاً، یہوواہ نے پوری دُنیا میں ترقی کی صورت میں اپنے لوگوں کو برکت بخشی ہے۔—یسعیاہ ۶۰:۲۲۔
اندرونی مسائل
۱۶. کن اندرونی مسائل نے یروشلیم کی فصیل تعمیر کرنے والوں کے حوصلے پست کر دئے تھے؟
۱۶ جیسے جیسے یروشلیم کی فصیل کی ازسرِنو تعمیر کا کام بڑھتا گیا اور فصیل اونچی ہوتی چلی گئی، یہ کام مزید مشکل ہو گیا۔ اس موقع پر ایک اَور مسئلہ سامنے آیا جس نے سخت محنت کرنے والے معماروں کے حوصلے پست کر دئے۔ اناج کی قلّت کے باعث بعض یہودیوں کے لئے اپنے خاندانوں کو خوراک فراہم کرنا اور فارسی حکومت کو خراج دینا مشکل ہو گیا تھا۔ دولتمند یہودی اُنہیں اناج اور پیسہ اُدھار دینے لگے۔ تاہم، خدا کی شریعت کے برعکس، غریب اسرائیلیوں کو سود سمیت پیسہ واپس کرنے کی ضمانت کے طور پر اپنی زمینوں اور بچوں کو رہن رکھنا پڑا۔ (خروج ۲۲:۲۵؛ احبار ۲۵:۳۵-۳۷؛ نحمیاہ ۴:۶، ۱۰؛ ۵:۱-۵) اب قرضخواہ اُن کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی دھمکی دینے لگے اور اُنہیں اپنے بچوں کو غلام بنا کر بیچنے پر مجبور کرنے لگے۔ نحمیاہ اس غیرمشفقانہ، مادہپرستانہ رُجحان سے نہایت برہم ہوا۔ اُس نے یروشلیم کی فصیل کی تعمیر کے کام پر یہوواہ کی مسلسل برکت کا یقین کرنے کے لئے فوری کارروائی کی۔
۱۷. تعمیر کے کام پر یہوواہ کی مسلسل برکت کا یقین کرنے کیلئے نحمیاہ نے کیا کِیا اور کس نتیجے کیساتھ؟
۱۷ ”ایک بڑی جماعت“ کو اکٹھا کر کے نحمیاہ نے دولتمند اسرائیلیوں سے واضح الفاظ میں کہا کہ اُن کے اس فعل سے یہوواہ بہت ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد اُس نے کاہنوں سمیت تمام خطاکاروں سے استدعا کی کہ سود ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے لوگوں سے لیا ہوا تمام سود اور غیرقانونی طور پر ہڑپ کی ہوئی زمین واپس کر دیں۔ خطاکاروں نے یہ قابلِتحسین بات کہی: ”ہم اُن کو واپس کر دیں گے اور اُن سے کچھ نہ مانگیں گے جیسا تُو کہتا ہے ہم ویسا ہی کریں گے۔“ یہ محض بےمعنی الفاظ نہیں تھے کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”لوگوں نے [نحمیاہ کے] وعدہ کے مطابق کام کِیا۔“ لہٰذا تمام جماعت نے یہوواہ کی تمجید کی۔—نحمیاہ ۵:۷-۱۳۔
۱۸. یہوواہ کے گواہ کس رجحان کیلئے مشہور ہو گئے ہیں؟
۱۸ ہمارے زمانے کی بابت کیا ہے؟ یہوواہ کے گواہ کسی سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھاتے بلکہ وہ اپنے ساتھی ایمانداروں اور دیگر آفتزدگان کے لئے فیاضی دکھانے کی وجہ سے پوری دُنیا میں مشہور ہیں۔ نحمیاہ کے دنوں کی طرح، یہ یہوواہ کی شکرگزاری اور ستائش کے بہتیرے اظہارات پر منتج ہوا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی ساتھ، ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے کاروباری معاملات اور لالچ کی بِنا پر دوسروں کے استحصال سے گریز کرنے کی ضرورت پر صحیفائی مشورت فراہم کرنا ضروری سمجھا ہے۔ بعض ممالک میں کافی زیادہ حقمہر یا جہیز مانگنے کا رواج ہے مگر بائبل واضح طور پر آگاہ کرتی ہے کہ لالچی اور غاصب خدا کی بادشاہت کے وارث نہیں ہونگے۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰) ایسی مشورت کے لئے بیشتر مسیحیوں کا اچھا جوابیعمل ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ اُن یہودیوں نے اپنے غریب بھائیوں سے ناجائز نفع لینے کے گناہ کو ضرور بھانپ لیا ہوگا۔
یروشلیم کی فصیل مکمل ہو گئی
۱۹، ۲۰. (ا) مذہبی مخالفین پر یروشلیم کی فصیل کی تکمیل کا کیا اثر ہوا تھا؟ (ب) بیشتر ممالک میں یہوواہ کے گواہوں کو کس فتح کا تجربہ ہوا ہے؟
۱۹ تمامتر مخالفت کے باوجود، یروشلیم کی فصیل ۵۲ دنوں میں مکمل ہو گئی۔ اس کا مخالفین پر کیا اثر ہوا؟ نحمیاہ نے بیان کِیا: ”جب ہمارے سب دشمنوں نے یہ سنا تو ہمارے آس پاس کی سب قومیں ڈرنے لگیں اور اپنی ہی نظر میں خود ذلیل ہو گئیں کیونکہ اُنہوں نے جان لیا کہ یہ کام ہمارے خدا کی طرف سے ہؤا۔“—نحمیاہ ۶:۱۶۔
۲۰ آجکل بھی دشمن مختلف طریقوں سے اور مختلف مقامات پر خدا کے کام کی مسلسل مخالفت کرتے رہتے ہیں۔ تاہم، لاکھوں لوگوں نے یہوواہ کے گواہوں کی مخالفت کرنے کی بطالت کو دیکھ لیا ہے۔ مثال کے طور پر، ماضی میں نازی جرمنی، مشرقی یورپ اور افریقہ کے بیشتر ممالک میں منادی کے کام کا خاتمہ کرنے کی کوششوں پر غور کیجئے۔ ایسی تمام کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور اب بہت سے لوگ یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ ’ہمارا کام خدا کی طرف سے انجام پا رہا ہے۔‘ یہ عرصۂدراز سے وفاداری کیساتھ خدمت کرنے والوں کیلئے کتنا بڑا اجر ہے جنہوں نے یہوواہ کی پرستش کو ایسے ممالک میں ’اپنی بڑی سے بڑی خوشی پر ترجیح‘ دی!
۲۱. اگلے مضمون میں کونسے اہم واقعات پر غور کِیا جائیگا؟
۲۱ اگلے مضمون میں، ہم یروشلیم کی ازسرِنو تعمیرکردہ فصیل کی پُرمسرت تقدیس پر منتج ہونے والے اہم واقعات کا جائزہ لیں گے۔ ہم اس بات پر بھی غور کریں گے کہ تمام نوعِانسان کے فائدے کے لئے ایک نہایت شاندار شہر کی تکمیل قریب ہے۔
کیا آپکو یاد ہے؟
◻عزرا اور دیگر لوگ یروشلیم کی وجہ سے کیسے خوش ہوئے؟
◻عزرا اور نحمیاہ نے کن خطاؤں کو درست کرنے کیلئے بہت سے یہودیوں کی مدد کی تھی؟
◻عزرا اور نحمیاہ کی سرگزشتوں سے آپ کیا اسباق سیکھ سکتے ہیں؟
[صفحہ 15 پر تصویر]
نحمیاہ کے نزدیک سوسن میں اُسکے پُروقار کام کی بجائے یروشلیم زیادہ اہمیت کا حامل تھا
[صفحہ 17 پر تصویریں]
نحمیاہ کی طرح، ہمیں بھی اپنی سب سے اہم منادی کی تفویض پر قائم رہنے کی خاطر یہوواہ سے راہنمائی اور قوت کیلئے دُعا کرنے کی ضرورت ہے