یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏2 ص.‏ 30-‏31
  • بیت‌ایل نیکی اور بدی کا شہر

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بیت‌ایل نیکی اور بدی کا شہر
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بیت‌ایل برگشتگی کا مرکز بن جاتا ہے
  • کیا آپ کے لئے یہ بہترین پیشہ ثابت ہو سکتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • کیا آپ خود کو دستیاب رکھ سکتے ہیں؟‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۱
  • وہ اچھے کام جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2019ء)‏
  • بیت‌ایل کیا ہے؟‏
    کون لوگ یہوواہ خدا کی مرضی پر چلتے ہیں؟‏
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏2 ص.‏ 30-‏31

بیت‌ایل نیکی اور بدی کا شہر

بعض شہر اپنے اندر ہونے والے واقعات کی وجہ سے مشہور یا بدنام ہو جاتے ہیں۔ تاہم، بیت‌ایل اچھائی اور برائی دونوں کیلئے مشہور ہونے کی وجہ سے غیرمعمولی ہے۔ آبائی بزرگ یعقوب نے شہر کا نام بیت‌ایل رکھا جسکا مطلب ہے ”‏خدا کا گھر۔“‏ لیکن ایک ہزار سال کے بعد ہوسیع نبی نے شہر کو ”‏بدی کا گھر“‏ کہا۔ یہ شہر نیکی سے بدی کا مقام کیسے بن گیا؟ نیز ہم اسکی تاریخ سے کیا سیکھتے ہیں؟‏

بیت‌ایل کا خدا کے لوگوں کے ساتھ ۱۹۴۳ ق.‏س.‏ع.‏ سے تعلق ہے جس وقت ابرہام ابھی زندہ تھا۔ اُس وقت شہر اپنے قدیم کنعانی نام لوز سے مشہور تھا۔ یہ یروشلیم کے شمال میں تقریباً ۱۱ میل کے فاصلے پر ایک پہاڑی ملک میں واقع تھا۔ بیت‌ایل کے گرد اوپر پہاڑوں میں اونچے مقام پر ابرہام اور اُس کے بھتیجے لوط کا یردن کی زیریں وادی میں زرخیز میدانوں کو دیکھنے کا تصور کریں۔ موقع‌شناسی سے، ابرہام اُن کے بڑے گلّوں کے لئے چراگاہ کے علاقے کی تفویض کئے جانے کی مشکل کو لوط کی توجہ میں لاتا ہے:‏ ”‏میرے اور تیرے درمیان اور میرے چرواہوں اور تیرے چرواہوں کے درمیان جھگڑا نہ ہؤا کرے کیونکہ ہم بھائی ہیں۔ کیا یہ سارا مُلک تیرے سامنے نہیں؟ سو تُو مجھ سے الگ ہو جا۔ اگر تُو بائیں جائے تو مَیں دہنے جاؤنگا اور اگر تُو دہنے جائے تو مَیں بائیں جاؤنگا۔“‏—‏پیدایش ۱۳:‏۳-‏۱۱‏۔‏

ابرہام نے پہلے انتخاب کرنے کے اپنے حق پر اصرار نہیں کِیا تھا۔ اسکے برعکس اُس نے اپنے سے چھوٹے کو بہتر حصہ لینے دیا۔ ہم اُسکے عمدہ رویے کی نقل کر سکتے ہیں۔ ہم جھگڑا پیدا کرنے والے معاملات کو نرمی سے بات‌چیت کرنے میں پیشقدمی کرنے اور بے‌غرضانہ عمل کرنے سے ختم کر سکتے ہیں۔—‏رومیوں ۱۲:‏۱۸‏۔‏

سالوں بعد جب ابرہام کا پوتا یعقوب لوز کے مقام پر خیمہ‌زن ہوا تو اُس نے ایک انتہائی غیرمعمولی خواب دیکھا۔ اُس نے دیکھا ”‏کہ ایک سیڑھی زمین پر کھڑی ہے اور اُس کا سرا آسمان تک پہنچا ہوا ہے اور خدا کے فرشتے اُس پر سے چڑھتے اترتے ہیں۔ اور خداوند اُس کے اوپر کھڑا .‏ .‏ .‏ ہے۔“‏ (‏پیدایش ۲۸:‏۱۱-‏۱۹‏؛ مقابلہ کریں یوحنا ۱:‏۵۱‏۔)‏ خواب کو غیرمعمولی اہمیت حاصل تھی۔ یعقوب کو نظر آنے والے فرشتے نسل کی بابت خدا کے وعدے کو پورا کرنے میں اُس کی خدمت کریں گے۔ سیڑھی کے اوپر یہوواہ کی سربلند جگہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کام کے لئے وہ فرشتوں کو ہدایت دیگا۔‏

اس الہٰی حمایت کی یقین‌دہانی نے یعقوب کو گہری تحریک دی۔ آنکھ کھلنے پر اُس نے اس جگہ کو بیت‌ایل کا نام دیا، جس کا مطلب ہے ”‏خدا کا گھر“‏۔ وہاں پر اُس نے قربانی گذرانی اور بعد میں یہوواہ کیلئے منت مانی:‏ ”‏اور جوکچھ تُو مجھے دے اُسکا دسواں حصہ ضرور ہی تجھے دیا کرونگا۔“‏a (‏پیدایش ۲۸:‏۲۰-‏۲۲‏)‏ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ جوکچھ اُسکے پاس تھا وہ خدا کی طرف سے تھا، اُس نے شکرانے کے طور پر ایک فیاض حصہ دینے کی خواہش کی۔‏

آجکل بھی فرشتے مسیحیوں کی خاطر خدمت کرتے ہیں۔ (‏زبور ۹۱:‏۱۱،‏ عبرانیوں ۱:‏۱۴‏)‏ وہ بھی اپنی تمام برکات کیلئے ”‏خدا کی بڑی شکرگذاری“‏ کرنے سے قدردانی دکھا سکتے ہیں۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۹:‏۱۱، ۱۲‏۔‏

وقت آنے پر، یعقوب کی اولاد ایک قوم بن گئی۔ کنعان کی فتح کے شروع ہی میں اُنکے پیشوا یشوع نے بیت‌ایل کے بُت‌پرست بادشاہ کو شکست دے دی۔ (‏یشوع ۱۲:‏۱۶)‏ قاضیوں کے دوَر میں، نبِیّہ دبورہ بیت‌ایل کے قریب رہتی تھی اور یہوواہ کا کلام لوگوں کو بتاتی تھی۔ سموئیل بھی اسرائیل کی قوم کے قاضی کے طور پر باقاعدگی سے بیت‌ایل جایا کرتا تھا۔—‏قضاۃ ۴:‏۴، ۵؛‏ ۱-‏سموئیل ۷:‏۱۵، ۱۶‏۔‏

بیت‌ایل برگشتگی کا مرکز بن جاتا ہے

تاہم ۹۹۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں بادشاہت کی تقسیم کے بعد بیت‌ایل کی سچی پرستش سے وابستگی ختم ہو گئی۔ یربعام بادشاہ نے بیت‌ایل کو بچھڑے کی پرستش کا مرکز بنا دیا، بچھڑے کو یہوواہ کا نمائندہ خیال کِیا جاتا تھا۔ (‏۱-‏سلاطین ۱۲:‏۲۵-‏۲۹‏)‏ اسی لئے، بیت‌ایل کی تباہی کی پیشینگوئی کرتے ہوئے ہوسیع نے اسکا ”‏بیت‌آون“‏ کے طور پر حوالہ دیا جسکا مطلب ”‏بدی کا گھر“‏ ہے۔—‏ہوسیع ۱۰:‏۵، ۸۔‏

بیت‌ایل کے روحانی بدکاری کا مرکز بن جانے کے باوجود اسکے ساتھ تعلق رکھنے والے واقعات سے اہم اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ (‏رومیوں ۱۵:‏۴‏)‏ ایک سبق کا تعلق ایک بے‌نام نبی سے ہے جسے یہوداہ سے بیت‌ایل بھیجا گیا کہ اسکی قربانگاہوں اور کاہنوں کی تباہی کی پیشینگوئی کرے۔ یہوواہ نے اُسے کچھ کھائے پئے بغیر—‏شمال کی طرف چند میل پر واقع—‏یہوداہ کو واپس جانے کیلئے بھی کہا۔ اس نبی نے اسرائیل کے بادشاہ، یربعام کے سامنے بیت‌ایل کی قربانگاہ پر لعنت کرتے ہوئے دلیری سے پیشینگوئی کی۔ لیکن بعدازاں اُس نے بیت‌ایل میں ایک عمررسیدہ نبی کے گھر پر کھانا کھانے سے خدا کی نافرمانی کی۔ کیوں؟ عمررسیدہ نبی نے جھوٹا دعویٰ کِیا کہ یہوواہ کے ایک فرشتے نے اُسے ایک ساتھی نبی کیلئے مہمانوازی دکھانے کا حکم دیا ہے۔ یہوداہ کے اس نبی کی نافرمانی بالآخر اُس کی موت پر منتج ہوئی۔—‏۱-‏سلاطین ۱۳:‏۱-‏۲۵‏۔‏

اگر کوئی ساتھی ایماندار کوئی ایسا کام کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے جو قابلِ‌اعتراض دکھائی دیتا ہے تو ہمیں ردِعمل دکھانا چاہئے؟ یاد رکھیں کہ نیک ارادے کیساتھ دی گئی تجویز بھی نقصاندہ ہو سکتی ہے اگر وہ غلط ہے۔ (‏مقابلہ کریں متی ۱۶:‏۲۱-‏۲۳‏۔)‏ دُعا اور اُسکے کلام کے مطالعہ سے یہوواہ سے راہنمائی کے طالب ہوتے ہوئے، ہم بے‌نام نبی کی المناک غلطی سے گریز کرینگے۔—‏امثال ۱۹:‏۲۱؛‏ ۱-‏یوحنا ۴:‏۱‏۔‏

تقریباً ۱۵۰ سال بعد عاموس نبی نے بھی بیت‌ایل کے خلاف نبوّت کرنے کیلئے شمال کی طرف سفر کِیا۔ عاموس نے ثابت‌قدمی کیساتھ اپنے مخالف سامعین پر امصیاہ کاہن سمیت لعنت کی جس نے تکبّر کے ساتھ عاموس سے کہا کہ ’‏یہوداہ کے ملک کو بھاگ جا۔‘‏ تاہم عاموس نے دلیری کیساتھ امصیاہ کاہن کو اُس کے گھرانے پر آنے والی تباہی کے بارے میں بتایا۔ (‏عاموس ۵:‏۴-‏۶؛ ۷:‏۱۰-‏۱۷)‏ اُسکی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہوواہ اپنے حلیم خادموں کو بھی دلیر کر سکتا ہے۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۶، ۲۷‏۔‏

آخر میں، یہوداہ کے وفادار بادشاہ یوسیاہ نے ’‏مذبح اور اونچے مقام دونوں کو ڈھا دیا اور اونچے مقام کو جلا دیا اور اُسے کوٹ کوٹ کر خاک کر دیا اور یسیرت کو جلا دیا۔‘‏ (‏۲-‏سلاطین ۲۳:‏۱۵، ۱۶‏)‏ آجکل بزرگ بھی خدا کی ہدایات پر سرگرمی سے عمل کرنے اور کلیسیا کو پاک رکھنے میں پیشقدمی کرنے سے اُسکے عمدہ نمونے کی نقل کر سکتے ہیں۔‏

بیت‌ایل کی تاریخ کے یہ واقعات راستبازی اور بدکاری اور یہوواہ کی فرمانبرداری اور نافرمانی دونوں کے نتائج کی علامتی تصویرکشی کرتے ہیں۔ سالوں پہلے، موسیٰ نے اسرائیل کی قوم کے سامنے انتخاب رکھا:‏ ”‏مَیں نے آج کے دن زندگی اور بھلائی کو اور موت اور برائی کو تیرے آگے رکھا ہے۔“‏ (‏استثنا ۳۰:‏۱۵، ۱۶)‏ بیت‌ایل کی تاریخ پر غوروخوض کرنا ہمیں ”‏بدی کے گھر“‏ کی بجائے سچی پرستش کے مرکز، ”‏خدا کے گھر“‏ کے ساتھ اپنی شناخت کرانے کی حوصلہ‌افزائی کرتا ہے۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a یعقوب اور ابرہام دونوں نے رضاکارانہ طور پر دہ‌یکی دی۔‏

‏[‏صفحہ 31 پر تصویر]‏

بیت‌ایل کے کھنڈرات، جہاں یربعام نے بچھڑے کی پرستش کا مرکز قائم کِیا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں