اعتماد کا بحران کیوں؟
’آجکل کیا آپ واقعی کسی پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟‘ آپ نے شاید کسی مایوس شخص کو یہ سوال پوچھتے ہوئے سنا ہو۔ یا شاید آپ نے خود اپنی زندگی میں رونما ہونے والے کسی واقعہ کے سبب جذباتی پریشانی کی حالت میں یہ سوال پوچھا ہو۔
تمام دُنیا میں اداروں اور دیگر لوگوں پر اعتماد کے فقدان سے انکار نہیں کِیا جا سکتا۔ بسااوقات اعتماد کی اس کمی کی معقول وجہ ہوتی ہے۔ کیا کوئی بیشتر سیاستدانوں سے اُن تمام وعدوں کو پورا کرنے کی توقع رکھتا ہے جو اُنہوں نے انتخاب سے قبل کئے تھے؟ جرمنی میں ۱۹۹۰ میں ۱،۰۰۰ طالبعلموں کے ایک سروے نے ظاہر کِیا کہ ۵.۱۶ فیصد یقین رکھتے تھے کہ سیاستدان دُنیا کے مسائل حل کر سکتے ہیں جبکہ اس سے دوگنی تعداد نے بہت سے شکوک کا اظہار کِیا۔ نیز اکثریت نے بیان کِیا کہ وہ مسائل حل کرنے کے سلسلے میں سیاستدانوں کی لیاقت اور آمادگی پر اعتماد نہیں رکھتے۔
اخبار سٹٹگارٹر نیکریکٹن نے الزام لگایا: ”بہتیرے سیاستدان اپنے مفادات کو مقدم رکھتے ہیں اور ووٹروں کے مفادات کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔“ دیگر ممالک میں لوگ اس سے متفق ہیں۔ اخبار دی یورپین نے ایک ملک کی بابت یوں بیان کِیا: ”سیاستدانوں کے لئے نوجوانوں کی بیزاری ٹھوس بنیادوں پر مبنی ہے اور اُنکے بڑےبوڑھے ان کے ساتھ متفق ہیں۔“ یہ دیکھا گیا ہے کہ ”ووٹر سیاستدانوں کو اُنکے عہدوں سے برطرف کرتے رہتے ہیں۔‘ اخبار نے مزید بیان کِیا: ”نوجوانوں کے ساتھ باتچیت کرنے والا ہر شخص فوراً ہی اعتماد کی کمی اور بےچینی کو محسوس کر سکتا ہے۔“ تاہم، عوام کے اعتماد کے بغیر ایک جمہوری حکومت بمشکل ہی کامیاب ہوتی ہے۔ سابق امریکی صدر جان ایف. کینیڈی نے ایک مرتبہ بیان کِیا: ”ایک مؤثر حکومت کی بنیاد عوام کا اعتماد ہے۔“
مالیات کی دُنیا میں اچانک معاشی تبدیلیوں اور راتوںرات امیر بننے والی سکیموں کی ناکامی نے بہتیروں کو بدظن کر دیا ہے۔ جب اکتوبر ۱۹۹۷ میں سٹاک کی عالمی منڈیوں میں تیزی سے اُتارچڑھاؤ آیا تو ایک نیوزمیگزین نے اُسے ”غیرمعمولی اور غیرمعقول عدماعتماد“ اور ”بےاعتمادی کی وبا“ کے طور پر بیان کِیا۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ ”[ایک ایشیائی مُلک] میں تو اعتماد کی کمی نظامِحکومت کے لئے خطرہ دکھائی دیتی ہے۔“ اُس نے مختصراً واضح اصول بیان کِیا: ”معاشیات کا انحصار اعتماد پر ہے۔“
مذہب بھی اعتماد کو فروغ دینے میں ناکام رہا ہے۔ جرمنی کا مذہبی رسالہ کرائسٹ اِن ڈر گینگوارٹ افسوس کے ساتھ تبصرہ کرتا ہے: ”لوگوں کا چرچ سے اعتماد اُٹھتا جا رہا ہے۔“ چرچ پر تھوڑا بہت اعتماد رکھنے والے جرمن باشندوں کی تعداد ۱۹۸۶ سے ۱۹۹۲ کے درمیان ۴۰ سے ۳۳ فیصد ہو گئی ہے۔ درحقیقت، سابق مشرقی جرمنی میں یہ ۲۰ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ باالفاظِدیگر سابق مغربی جرمنی میں چرچ پر اعتماد کی کمی میں ۵۶ سے ۶۶ فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے اور سابق مشرقی جرمنی میں یہ تعداد ۷۱ فیصد ہے۔
انسانی معاشرے کے تین ستونوں—سیاسیات، مالیات اور مذاہب کے علاوہ دیگر شعبہہائےزندگی میں بھی اعتماد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسکی ایک مثال قانون کا نفاذ ہے۔ جرائم کیخلاف سزا میں چور دروازے، بےانصافی کے ساتھ قانون کا اطلاق کرنا اور قابلِاعتراض عدالتی فیصلوں نے لوگوں کے بھروسے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ٹائم میگزین کے مطابق: ”اس نظام پر شہریوں اور پولیس کی بےاعتمادی انتہا تک پہنچ چکی ہے جو خطرناک مجرموں کو بار بار واپس معاشرے میں بھیج دیتا ہے۔“ پولیس کے بدعنوان اور بہیمانہ رویے کی وجہ سے پولیس پر سے بھی اعتماد اُٹھ گیا ہے۔
عالمی سیاست کے حوالے سے اَمن کی بابت ناکام تقاریر اور جنگبندی کے معاہدوں کی خلافورزی اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ اقوامِمتحدہ میں یو.ایس کے سفیر بل رچرڈسن نے یہ کہتے ہوئے مشرقِوسطیٰ میں اَمن لانے کے سلسلے میں بنیادی رکاوٹ کی نشاندہی کی ہے: ”اعتماد کا فقدان ہے۔“
اس کے ساتھ ہی ساتھ انتہائی ذاتی سطح پر بھی، بہتیرے لوگ قریبی عزیزوں اور دوستوں پر اعتماد نہیں کرتے، وہ اشخاص جن پر انسان مشکل کے وقت فطری طور پر ہمدردی اور تسلی کے لئے انحصار کرتا ہے۔ یہ اُس صورتِحال سے بہت مشابہت رکھتا ہے جس کا اظہار عبرانی نبی میکاہ نے کِیا: ”کسی دوست پر اعتماد نہ کرو۔ ہمراز پر بھروسا نہ رکھو۔ ہاں اپنے مُنہ کا دروازہ اپنی بیوی کے سامنے بند رکھو۔“—میکاہ ۷:۵۔
زمانوں کا نشان
جرمن نفسیاتدان آرتھر فشر کے ایک حالیہ بیان کا اقتباس یوں بیان کرتا ہے: ”معاشرے کی ترقی اور لوگوں کے ذاتی مستقبل کی بابت ہر حلقے میں اعتماد میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی ہے۔ نوجوان لوگ شکوشبہات میں مبتلا ہیں کہ آیا سماجی ادارے اُنکی مدد کر سکتے ہیں۔ تمام سیاسی، مذہبی اور کسی بھی دوسرے ادارے پر سے اُنکا اعتماد اُٹھ گیا ہے۔“ پس تعجب نہیں کہ ماہرِعمرانیات اُلرک بیک نے مستحکم اربابِاختیار، اداروں اور ماہرین کے حوالے سے اسے ”شک کی تہذیب“ قرار دیا۔
ایسی تہذیب میں لوگ انحراف کرنے، تمام اختیار کو مسترد کرنے، ذاتی معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرنے اور دوسروں کی راہنمائی کے بغیر خودمختارانہ فیصلے کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ اُن اشخاص کے ساتھ باتچیت کرتے وقت جن پر وہ اب بھروسہ نہیں کرتے بعض لوگ انتہائی مشکوک حتیٰکہ خودغرض ہو جاتے ہیں۔ ایسا رویہ ایک غیرصحتمندانہ فضا کو فروغ دیتا ہے جیسےکہ بائبل وضاحت کرتی ہے: ”یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں بُرے دن آئینگے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو دوست رکھنے والے ہونگے۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اس کے اثر کو قبول نہ کرینگے ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵؛ امثال ۱۸:۱) واقعی آجکل اعتماد کا بحران ”اخیر زمانے“ کا نشان ہے۔
ایک ایسی دُنیا میں واقعی زندگی سے بھرپور لطف نہیں اُٹھایا جا سکتا جو اعتماد کے بحران کا شکار ہو اور ایسے لوگوں سے پُر ہو جنکی بابت اُوپر بیان کِیا گیا ہے۔ تاہم کیا یہ سوچ حقیقتپسندانہ ہے کہ حالات کبھی تبدیل ہونگے؟ کیا آج کے اعتماد کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ اگر یہ ممکن ہے تو ایسا کب اور کیسے ہوگا؟