”اخوت اور یگانگت کی مثال“
اپنے خاندان کے ایک فرد کی المناک موت کا صدمہ برداشت کرنے والی ایک خاتون نے ان الفاظ میں یہوواہ کے گواہوں کی بابت اظہارِخیال کِیا۔ وہ وضاحت کرتی ہے:
”مَیں اپنی اور اپنے خاندان کی طرف سے فرےبرگ، جرمنی کی اطالوی کلیسیا کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ ہمارے خاندان میں میرے بھائی اینٹونیو اور اُسکی بیوی اینا کے سوا کوئی یہوواہ کا گواہ نہیں۔ عرصۂدراز تک ہم نے اُن کے اس مذہب کے انتخاب پر تنقید کی اگرچہ ہم ہمیشہ اسکا احترام کرتے رہے۔
”تاہم اب ہمیں اپنا خیال بدلنا پڑا ہے۔ درحقیقت، ہم نے اخوت اور محبت کی ایک ایسی مثال کا مشاہدہ کِیا جسکی ہمیں توقع بھی نہیں تھی۔
”افسوس کی بات ہے کہ سڑک کے ایک حادثے میں اینا وقت سے پہلے ہی موت کا شکار ہو گئی۔ اٹلی میں رہائشپذیر ہونے کی وجہ سے ہم اینٹونیو اور اُسکے بچوں کیساتھ زیادہ عرصہ تک نہیں ٹھہر سکتے تھے۔ پس اُسکے گواہ بھائیوں نے اُسکی مدد کی۔ اُنہوں نے اپنی موجودگی، اپنے الفاظ، اپنے ایمان کے ذریعے اُنہیں جسمانی، اخلاقی اور مالی مدد فراہم کی۔ چونکہ مَیں ذاتی طور پر کلیسیا کا شکریہ ادا نہیں کر سکتی لہٰذا مَیں آپ کے رسالے کے ذریعے اُنکی اخوت اور یگانگت کی اس مثال کیلئے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جسے ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔“
خاتون کے اس بامروّت تبصرے کی قدر کی جاتی ہے۔ جیساکہ اُس نے مشاہدہ کِیا یہوواہ کے گواہ ایک عالمگیر برادری ہیں۔ (۱-پطرس ۲:۱۷) وہ یہ جانتے ہوئے اپنے درمیان محبت کے مضبوط رشتوں کو فروغ دیتے ہیں کہ محبت ”کمال کا پٹکا ہے۔“ (کلسیوں ۳:۱۴) انتہائی المناک حالات میں بھی جن کا ہم میں سے کسی کو بھی سامنا ہو سکتا ہے، یہوواہ کے گواہ خدا اور اُسکے لوگوں کے قریب رہتے ہیں۔—امثال ۱۸:۲۴؛ واعظ ۹:۱۱؛ یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵۔