اعتماد بحال کِیا جا سکتا ہے!
اعتماد کا موجودہ بحران اگرچہ ”اخیر زمانے“ کا نشان ہے تاہم، ہزاروں سال پہلے بھی اعتماد کا فقدان واقع ہوا تھا۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱) سب سے پہلے یہ ایک انتہائی غیرمتوقع جگہ—فردوس میں واقع ہوا۔ بائبل اس کا حدوداربعہ بیان کرتی ہے: ”خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدؔن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو جسے اُس نے بنایا تھا وہاں رکھا۔ اور خداوند خدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لئے اچھا تھا زمین سے اُگایا اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیکوبد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔“—پیدایش ۲:۸، ۹۔
اس کے بعد کی آیات کا بیان واضح کرتا ہے کہ جدید زمانے میں اعتماد کے بحران کا اس سے کیا تعلق ہے۔ آیات بیان کرتی ہیں: ”خداوند خدا نے آؔدم کو حکم دیا اور کہا کہ تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بےروکٹوک کھا سکتا ہے۔ لیکن نیکوبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔“ (پیدایش ۲:۱۶، ۱۷) کیا آدم کے پاس یہوواہ کے فرمان پر شک کرنے کی کوئی وجہ تھی؟
ہم مزید پڑھتے ہیں: ”اور سانپ کُل دشتی جانوروں سے جنکو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟ عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔ پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُس کے پھل کی بابت خدا نے کہا ہے کہ تُم نہ تو اُسے کھانا اور نہ چھونا ورنہ مر جاؤ گے۔ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تُم ہرگز نہ مرو گے۔ بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تُم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کُھل جائینگی اور تُم خدا کی مانند نیکوبد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھایا۔“—پیدایش ۳:۱-۶۔
خدا کی واضح آگاہی کو نظرانداز کرنے سے آدم اور حوا نے یہوواہ پر اعتماد کی کمی کا مظاہرہ کِیا۔ اُنہوں نے خدا کے حریف شیطان کی عکاسی کی جو سانپ کے ذریعے حوا سے ہمکلام ہوا تھا۔ شیطان یہوواہ کے حکومت کرنے کے طریقے پر اعتماد نہیں رکھتا تھا۔ علاوہازیں، ایک متکبر اور اختیار کے متمنی دل کی وجہ سے اُس نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور انسانوں کو بھی ایسا کرنے کے لئے ورغلایا۔ اُس نے اُنکی سوچ کو متاثر کِیا کہ خدا پر بھروسہ نہیں کِیا جا سکتا تھا۔
نتیجہ؟ تعلقات میں کشیدگی
شاید آپ نے دیکھا ہو کہ دوسروں پر اعتماد نہ کرنے والے اشخاص کے لئے دوستانہ تعلقات کو قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ پہلی صدی ق.س.ع. کے ایک قدیم یونانی مصنف پبلیس سائرس نے بیان کِیا: ”اعتماد ہی دوستی کا واحد بندھن ہے۔“ اپنی بغاوتی روش سے آدم اور حوا نے یہ ظاہر کر دیا کہ وہ خدا پر بھروسہ نہیں رکھتے تھے۔ پس خدا کے پاس بھی اُن پر بھروسہ رکھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ لہٰذا بھروسے یا اعتماد کے ختم ہو جانے کے سبب پہلا انسانی جوڑا خدا کی دوستی سے محروم ہو گیا۔ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ اُنہیں اُنکی بغاوت کی سزا دینے کے بعد خدا نے اُن سے کوئی باتچیت کی ہو۔
آدم اور حوا کے باہمی رشتے پر بھی بُرے اثرات مرتب ہوئے۔ یہوواہ نے حوا کو آگاہ کِیا: ”تُو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کریگا۔“ (پیدایش ۳:۱۶) خدا کی مرضی کے مطابق اپنی بیوی پر مشفقانہ سرداری کو عمل میں لانے کی بجائے آدم اب اُس کا مالک بن بیٹھا اور اُس پر حکومت جتانے لگا۔
گناہ کرنے کے بعد آدم نے اپنی بیوی کو موردِالزام ٹھہرانے کی کوشش کی۔ اُس کے خیال میں حوا اُس کی ذمہدار تھی کہ وہ ایک کامل باغ سے ناہموار زمین کی طرف ہانک دئے گئے جہاں انہیں خاک میں لوٹ جانے تک ناکامل حالتوں کے تحت رہنا تھا۔ (پیدایش ۳:۱۷-۱۹) ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ اُن دونوں کے درمیان کشیدگی کا سبب تھا۔ شاید آدم نے شدید ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہا ہو کہ وہ آئندہ حوا کی بات کبھی نہیں سنیگا۔ غالباً اُس نے درحقیقت، اُس سے یہ کہنا دُرست خیال کِیا ہو کہ ’آئندہ سے مَیں آقا ہوں!‘ اس کے برعکس حوا نے شاید یہ محسوس کِیا ہو کہ وہ خاندان کے سردار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہو گیا ہے جو اُس پر اُس کے اعتماد کی کمی کا سبب بنا۔ بحرحال خدا پر اعتماد کی کمی کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے انسان خدا کے ساتھ دوستی کھو بیٹھا اور اپنے باہمی تعلقات کو بھی تباہ کر لیا۔
ہم کس پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟
آدم اور حوا کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر کوئی ہمارے اعتماد کا مستحق نہیں ہے۔ ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ کون ہمارے اعتماد کا مستحق ہے اور کون نہیں ہے؟
زبورنویس ۱۴۶:۳ میں ہمیں مشورہ دیتا ہے: ”نہ اُمرا پر بھروسہ کرو نہ آدمزاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔“ نیز یرمیاہ ۱۷:۵-۷ میں ہم پڑھتے ہیں: ”خداوند یوں فرماتا ہے کہ ملعون ہے وہ آدمی جو انسان پر توکل کرتا ہے اور بشر کو اپنا بازو جانتا ہے اور جس کا دل خداوند سے برگشتہ ہو جاتا ہے۔“ اس کے برعکس: ”مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند پر توکل کرتا ہے اور جسکی اُمیدگاہ خداوند ہے۔“
یہ درست ہے کہ انسانوں پر اعتماد رکھنا ہمیشہ غلط نہیں ہوتا۔ ان آیات سے مراد صرف یہ ہے کہ خدا پر اعتماد رکھنا ہمیشہ سودمند ثابت ہوتا ہے جبکہ ناکامل انسانوں پر اعتماد رکھنا بعضاوقات مایوسی پر منتج ہو سکتا ہے۔ مثلاً وہ لوگ یقیناً مایوسی کا شکار ہونگے جو اُن چیزوں—نجات، مکمل اَمن اور سلامتی—کے لئے انسانوں پر بھروسہ رکھتے ہیں جو صرف خدا فراہم کر سکتا ہے۔—زبور ۴۶:۹؛ ۱-تھسلنیکیوں ۵:۳۔
درحقیقت انسان اور انسانی ادارے اُسی وقت تک اعتماد کے مستحق ہوتے ہیں جب تک وہ خدا کے مقاصد کے مطابق عمل کرتے اور خدائی اصولوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہم پر اعتماد کریں تو ہمیں سچ بولنا چاہئے، ایماندار اور قابلِبھروسہ ہونا چاہئے۔ (امثال ۱۲:۱۹؛ افسیوں ۴:۲۵؛ عبرانیوں ۱۳:۱۸) بائبل اصولوں کی مطابقت میں عمل کرنے سے ہی دوسرے ہم پر اعتماد رکھ سکتے ہیں جو باہمی پختگی اور حوصلہافزائی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔
اعتماد بحال کرنا
یہوواہ کے گواہوں کے پاس خدا پر ایمان رکھنے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی حوصلہافزائی دینے کے لئے ٹھوس بنیاد ہے۔ یہوواہ وفادار ہے اور اُس پر ہمیشہ بھروسہ کِیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق عمل کرتا ہے کیونکہ ”خدا کا جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔“ محبت کے خدا پر بھروسہ رکھنا کبھی بھی مایوسی پر منتج نہیں ہوگا۔—عبرانیوں ۶:۱۸؛ زبور ۹۴:۱۴؛ یسعیاہ ۴۶:۹-۱۱؛ ۱-یوحنا ۴:۸۔
یہوواہ پر اعتماد رکھنے اور اُس کے تقاضوں کے مطابق زندگیاں بسر کرنے والے ایک دوسرے پر اعتماد رکھنے کی پُرزور تحریک پاتے ہیں۔ اعتماد کے بحران کی شکار دُنیا میں قابلِبھروسہ لوگوں سے ملنا کیا ہی خوشی کا باعث ہے! ذرا تصور کریں کہ اگر ہم ہر شخص کی بات پر اعتماد کر سکیں تو دُنیا کسقدر مختلف ہو گی! خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ آنے والی نئی دُنیا میں ایسا ہی ہوگا۔ پھر کبھی اعتماد کا بحران نہیں ہوگا!
کیا آپ اُس وقت زندہ رہنا چاہیں گے؟ اگر ایسا ہے تو یہوواہ کے گواہ آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ زندگی کے لئے خدائی تقاضوں کی بابت سیکھنے سے خدا اور اُس کے وعدوں پر اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ بائبل کا مطالعہ یہ ثبوت پیش کرتا ہے کہ خدا موجود ہے اور وہ نوعِانسان کی فلاح میں دلچسپی رکھتا ہے اور اپنی بادشاہت کے ذریعے اس دُنیا کے مسائل حل کرنے کے لئے جلد ہی عمل کرے گا۔ لاکھوں نے خدا اور اُس کے کلام بائبل پر اعتماد رکھنا سیکھ لیا ہے۔ یہوواہ کے گواہ آپ کے سامنے بائبل مطالعہ کے کورس کا بخوشی مظاہرہ کرینگے جو وہ مُفت پیش کرتے ہیں۔ یا مزید معلومات کے لئے اس رسالے کے ناشرین کو لکھیں۔
[صفحہ 5 پر عبارت]
خدا پر اعتماد کی کمی انسانوں کے باہمی تعلقات کی بربادی پر منتج ہوئی
[صفحہ 6 پر عبارت]
جبتک انسان خدائی اصولوں کے مطابق عمل کرتے ہیں تو وہ اعتماد کے لائق ہیں