یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏8 ص.‏ 4-‏6
  • آپ اپنے بچوں کیلئے کیسا مستقبل چاہتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ اپنے بچوں کیلئے کیسا مستقبل چاہتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جب والدین واقعی فکر کرتے ہیں
  • موزوں کام کا انتخاب کرنے میں اُن کی مدد کریں
  • آپ اُنکی جذباتی ضروریات کیسے پوری کر سکتے ہیں؟‏
  • روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے طریقے
  • جب تمام بچے محفوظ ہونگے
  • ‏”‏اولاد یہوواہ کی طرف سے نعمت ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2026ء
  • والدین!‏ اپنے بچوں کے دل میں یہوواہ کے لیے محبت پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • اپنے بچے کی بچپن سے تربیت کریں
    خاندانی خوشی کا راز
  • اَے اولاد والو!‏ اپنے بچوں کی محبت سے تربیت کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏8 ص.‏ 4-‏6

آپ اپنے بچوں کیلئے کیسا مستقبل چاہتے ہیں؟‏

کیا آپ اپنے بچوں کو قیمتی میراث خیال کرتے ہیں؟ (‏زبور ۱۲۷:‏۳‏)‏ یا آپ اُنکی پرورش کو ایک ایسا مالی بوجھ سمجھتے ہیں جس میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں؟ بچوں کی پرورش اُس وقت تک کسی مالی نفع کی بجائے اخراجات کا سبب بنتی ہے جب تک وہ اپنی کفالت کرنے کے لائق نہیں ہو جاتے۔ جس طرح میراث میں ملنے والی دولت دیکھ‌بھال اور اچھی منصوبہ‌سازی کا تقاضا کرتی ہے ویسے ہی کامیابی کیساتھ پرورش کرنے کیلئے بھی منصوبہ‌سازی کی ضرورت ہے۔‏

اپنے بچوں کی فکر رکھنے والے والدین اُنہیں زندگی میں ایک اچھا آغاز دینا چاہتے ہیں۔ اگرچہ اس دُنیا میں بُری اور افسوسناک باتیں واقع ہو سکتی ہیں تو بھی والدین اپنی اولاد کو محفوظ رکھنے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ گزشتہ مضمون میں متذکرہ ورنر اور ایوا کے معاملے پر غور کریں۔‏a

جب والدین واقعی فکر کرتے ہیں

ورنر بیان کرتا ہے کہ اس کے والدین نے لاپروائی سے کام لینے کی بجائے سکول کی کارگزاریوں میں حقیقی دلچسپی ظاہر کی۔ ”‏مَیں نے اُن کی عملی تجاویز کی بہت قدر کی اور محسوس کِیا کہ انہیں واقعی میری فکر تھی اور میری حمایت کر رہے تھے۔ والدین کے طور پر وہ کافی سخت تھے تاہم مَیں جانتا تھا کہ وہ میرے حقیقی دوست تھے۔“‏ نیز جب ایوا اپنے سکول کے کام کے سلسلے میں پریشانی کی وجہ سے افسردہ تھی، حتیٰ‌کہ اُسے نیند بھی نہیں آتی تھی تو اُس کے والدین فرانسسکو اور آئنز نے اُس کے ساتھ بات‌چیت میں کافی وقت صرف کِیا اور روحانی اور ذہنی توازن بحال کرنے میں اُس کی مدد کی۔‏

فرانسسکو اور آئنز نے کس طرح اپنے بچوں کو محفوظ رکھا اور اُنہیں بالغ زندگی کیلئے تیار کِیا؟ موزوں طور پر، بچپن ہی سے شفیق والدین ہمیشہ اُنہیں اپنی روزمرّہ کارگزاریوں میں شریک کرتے تھے۔ اپنے بالغ دوستوں کیساتھ وقت گزارنے کی بجائے، فرانسسکو اور آئنز جہاں کہیں بھی جاتے، بچے اُن کے ہمراہ ہوتے تھے۔ شفیق والدین کے طور پر، انہوں نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو موزوں راہنمائی بھی فراہم کی۔ آئنز بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہم نے اُنہیں گھر کی دیکھ‌بھال کرنے، کفایت‌شعاری کرنے اور اپنے کپڑوں کی خود دیکھ‌بھال کرنے کی بابت بھی سکھایا۔ نیز ہم نے اُن میں سے ہر ایک کی ایک موزوں پیشے کا انتخاب کرنے اور اپنی ذمہ‌داریوں اور روحانی مفادات میں توازن قائم کرنے میں مدد کی۔“‏

اپنے بچوں کو جاننا اور اُنہیں پدرانہ راہنمائی فراہم کرنا کس قدر اہم ہے!‏ آئیے تین ایسے حلقوں پر غور کریں جن میں آپ ایسا کر سکتے ہیں:‏ (‏۱)‏ ایک مناسب دُنیاوی کام کا انتخاب کرنے میں اپنے بچوں کی مدد کریں؛ (‏۲)‏ اُنہیں سکول اور کام کی جگہ پر جذباتی دباؤ کا سامنا کرنے کیلئے تیار کریں؛ (‏۳)‏ اُنہیں اپنی روحانی ضروریات پوری کرنا سکھائیں۔‏

موزوں کام کا انتخاب کرنے میں اُن کی مدد کریں

کسی شخص کا دُنیاوی کام نہ صرف اُس کے مالی حالات پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ اُسکا بہت سا وقت بھی لے لیتا ہے پس اچھی پرورش میں ہر بچے کی دلچسپیوں اور صلاحتیوں کا خیال رکھنا شامل ہے۔ چونکہ کوئی بھی خوددار شخص دوسروں پر بوجھ نہیں بننا چاہتا لہٰذا والدین کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ اُنکا بچہ اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کرنے کیلئے کس طرح تیار ہو سکتا ہے۔ کیا آپ کے بیٹے یا بیٹی کو ایک باعزت روزگار حاصل کرنے کیلئے کوئی ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے؟ حقیقی فکر رکھنے والے ماں یا باپ کے طور پر، اپنے بچے میں محنت سے کام کرنے کی لگن، سیکھنے کے لئے آمادگی اور دوسروں کے ساتھ خوش‌اسلوبی سے گزارہ کرنے والی خوبیاں پیدا کرنے کیلئے ہمیشہ مدد دیتے رہیں۔‏

نیکل پر غور کریں۔ وہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏مَیں اپنے والدین کے ساتھ اُن کے صفائی کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ اُنہوں نے تجویز کِیا کہ مَیں اپنی آمدنی کا کچھ حصہ گھریلو اخراجات کے لئے ادا کروں اور باقی کو اپنے ذاتی خرچ یا بچت کے لئے رکھوں۔ اس نے مجھے ذمہ‌داری کے ایسے گہرے احساس سے روشناس کروایا جو بعدازاں میری زندگی میں بہت مفید ثابت ہوا۔“‏

خدا کا کلام بائبل یہ وضع نہیں کرتا کہ کسی شخص کو کس قسم کے دُنیاوی کام کا انتخاب کرنا چاہئے۔ تاہم یہ مفید راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، پولس رسول نے بیان کِیا:‏ ”‏جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے۔“‏ تھسلنیکے کے مسیحیوں کو لکھتے ہوئے، اُس نے یہ بھی کہا:‏ ”‏ہم سنتے ہیں کہ تم میں بعض بے‌قاعدہ چلتے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے بلکہ اَوروں کے کام میں دخل دیتے ہیں۔ ایسے شخصوں کو ہم خداوند یسوؔع مسیح میں حکم دیتے اور نصیحت کرتے ہیں کہ چپ‌چاپ کام کر کے اپنی ہی روٹی کھائیں۔“‏—‏۲-‏تھسلنیکیوں ۳:‏۱۰-‏۱۲‏۔‏

تاہم کوئی ملازمت حاصل کرنا اور پیسہ کمانا ہی زندگی کا اولین مقصد نہیں ہے۔ حد سے زیادہ بلندنظر لوگوں کا انجام‌کار غیرمطمئن ہونے کا امکان زیادہ ہے اور شاید وقت کیساتھ ساتھ وہ یہ سمجھ لیں کہ یہ سب ”‏ہوا کی چران“‏ ہے۔ (‏واعظ ۱:‏۱۴‏)‏ والدین اپنے بچوں کو شہرت اور خوشحالی کے طالب بننے کی حوصلہ‌افزائی دینے کی بجائے یوحنا رسول کے ان الہامی الفاظ کی حکمت کو سمجھنے میں اُنکی مدد کر کے اچھا کرتے ہیں:‏ ”‏نہ دُنیا سے محبت رکھو نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں۔ جو کوئی دُنیا سے محبت رکھتا ہے اس میں باپ کی محبت نہیں۔ کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیا کی طرف سے ہے۔ دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“‏—‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷‏۔‏

آپ اُنکی جذباتی ضروریات کیسے پوری کر سکتے ہیں؟‏

ایک ماں یا باپ کے طور پر، کیوں نہ کھلاڑیوں کی تربیت کرنے والے اُستاد کی مانند بنیں؟ وہ اپنی توجہ کھیلوں میں تیز بھاگنے یا زیادہ اونچی چھلانگ لگانے کے سلسلے میں کھلاڑیوں کی جسمانی صلاحیت بڑھانے پر ہی مرکوز نہیں رکھتا۔ غالباً وہ اُنہیں کسی بھی منفی احساس پر غلبہ پانے کیلئے مدد دینے کی بھی کوشش کرتا ہے اور یوں اُنکی جذباتی قوت کو تقویت بخشتا ہے۔ آپ اپنے بچوں کی حوصلہ‌افزائی اور تعمیروترقی کیسے کر سکتے ہیں؟‏

ایک ۱۳سالہ نوجوان روجیرو پر غور کریں۔ اپنی جسمانی ساخت میں تبدیلیوں کے سبب اندرونی ہلچل کا سامنا کرنے کے علاوہ، اُس نے اپنے والدین کے درمیان باہمی اتحاد کے فقدان اور عدمِ‌توجہی کے سبب جذباتی تناؤ کا تجربہ بھی کِیا۔ ایسے نوجوان لوگوں کیلئے کیا کِیا جا سکتا ہے؟ اگرچہ اپنے بچوں کو تمام تفکرات اور بُرے اثرات سے محفوظ رکھنا ممکن نہیں ہے تو بھی ایک ماں یا باپ کے طور پر اپنے کردار سے کنارہ‌کشی نہ کریں۔ حد سے زیادہ محفوظ رکھنے والا بننے کی بجائے بڑی سمجھداری کیساتھ اپنے بچوں کی تربیت کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہر بچہ منفرد ہے۔ محبت اور شفقت کے اظہار کے ذریعے، ایک نوجوان کو احساسِ‌تحفظ بخشنے کیلئے آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ یہ اُسے بڑھنے کیساتھ ساتھ عزتِ‌نفس اور خوداعتمادی کی کمی کا شکار ہونے سے بھی محفوظ رکھے گا۔‏

اس سے قطع‌نظر کہ آپ کی جذباتی ضروریات پوری کرنے میں آپ کے والدین کس حد تک کامیاب رہے ہیں، حقیقی طور پر مددگار ماں یا باپ کے طور پر کامیاب ہونے کیلئے تین چیزیں آپ کی مدد کر سکتی ہیں:‏ (‏۱)‏ اپنے مسائل میں اس قدر مگن نہ ہو جائیں کہ اپنے بچوں کے بظاہر چھوٹے مسائل کو نظرانداز کر دیں؛ (‏۲)‏ اُن کیساتھ روزمرّہ بنیادوں پر خوشگوار اور بامقصد رابطہ رکھیں؛ (‏۳)‏ مسائل حل کرنے اور لوگوں کیساتھ گزارہ کرنے کے سلسلے میں ایک مثبت میلان کو فروغ دیں۔‏

اپنے نوعمری کے سالوں پر نظر کرتے ہوئے برجٹ بیان کرتی ہے:‏ ”‏مجھے سیکھنا پڑا تھا کہ آپ لوگوں کو اپنی خواہش کے مطابق نہیں بدل سکتے۔ میری والدہ مجھے سمجھاتی تھیں کہ اگر مَیں دوسروں میں کوئی ایسی بات دیکھتی ہوں جو مجھے پسند نہیں تو مَیں یہ کر سکتی ہوں کہ اُن جیسی نہ بنوں۔ اُس نے یہ بھی سکھایا کہ جوانی اپنی عادات کو بدلنے کا بہترین وقت ہے۔“‏

تاہم، آپ کے بچوں کو ایک ملازمت اور جذباتی پختگی سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ خود سے پوچھیں، ’‏کیا مَیں پرورش کرنے کو ایک خداداد ذمہ‌داری سمجھتا ہوں؟‘‏ اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو آپ اپنے بچوں کی روحانی ضروریات کو پورا کرنا چاہینگے۔‏

روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے طریقے

اپنے پہاڑی وعظ کے دوران، یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں [‏”‏اپنی روحانی ضرورتوں کی فکر رکھتے ہیں،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کیونکہ آسمان کی بادشاہی ان ہی کی ہے۔“‏ (‏متی ۵:‏۳‏)‏ روحانی ضروریات کو پورا کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟ جب والدین یہوواہ پر ایمان رکھنے کی عمدہ مثال قائم کرتے ہیں تو بچے اس سے بہت فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏بغیر ایمان کے اُس کو پسند آنا ناممکن ہے۔ اسلئے‌کہ خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۶‏)‏ تاہم، ایمان کے حقیقی اظہار کیلئے دُعا ضروری ہے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱۲‏)‏ اگر آپ اپنی روحانی ضرورت کو سمجھتے ہیں تو آپ اُس بچے کے باپ کی طرح الہٰی راہنمائی کے طالب ہونگے جو اسرائیل کا مشہور قاضی سمسون کہلایا۔ (‏قضاۃ ۱۳:‏۸)‏ آپ نہ صرف دُعا کریں گے بلکہ خدا کے کلام بائبل سے مدد بھی حاصل کریں گے۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏۔‏b

بچوں کی مفید راہنمائی، جذباتی حمایت اور روحانی مدد فراہم کرنے کے سلسلے میں تمام مشقت کے باوجود پرورش کرنا بااجر ثابت ہو سکتا ہے۔ برازیل میں دو بچوں کے باپ نے تبصرہ کِیا:‏ ”‏مَیں تو تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میرے بچے نہ ہوتے۔ ہم اُنہیں بہت سی اچھی چیزوں میں شریک کر سکتے ہیں۔“‏ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ بچے اتنے اچھے کیوں ہیں، ماں بیان کرتی ہے:‏ ”‏ہم ہمیشہ اکٹھے رہتے ہیں اور چیزوں کو مسرت‌بخش اور خوشگوار بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ہمیشہ بچوں کیلئے دُعا کرتے ہیں۔“‏

پرسکہ اُس محبت اور صبر کو یاد کرتی ہے جو اُس کے والدین نے اُسکے مسائل کے سلسلے میں ظاہر کی۔ ”‏وہ میرے حقیقی دوست تھے اور ہر بات میں میری مدد کرتے تھے،“‏ وہ بیان کرتی ہے۔ ”‏درحقیقت مَیں محسوس کرتی ہوں کہ ایک بچے کے طور پر میرے ساتھ ’‏یہوواہ کی طرف سے میراث‘‏ کے طور پر سلوک کِیا گیا۔“‏ (‏زبور ۱۲۷:‏۳‏)‏ کیوں نہ بہت سے دیگر والدین کی طرح بچوں کیساتھ ملکر وقت گزارنے کا شیڈول بنائیں تاکہ آپ ملکر بائبل اور مسیحی مطبوعات کا مطالعہ کر سکیں؟ بائبل کے بیانات اور اصولوں پر مثبت انداز سے غور کرنا آپ کے بچوں کی پُراعتماد ہونے اور مستقبل کی بابت ایک حقیقی اُمید رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔‏

جب تمام بچے محفوظ ہونگے

اگرچہ آجکل بہت سے بچوں کیلئے مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے تو بھی خدا کا کلام ضمانت دیتا ہے کہ جلد ہی زمین نوعِ‌انسان کیلئے ایک محفوظ گھر بن جائیگی۔ ذرا اُس وقت کا تصور کریں جب خدا کی موعودہ نئی دُنیا میں والدین کو اپنے بچوں کی سلامتی کی بابت فکرمند نہیں ہونا پڑیگا!‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ اس پیشینگوئی کی شاندار تکمیل کا تصور کرنے کی کوشش کریں:‏ ”‏پس بھیڑیا بّرہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھیگا اور بچھڑا اور شیر بچہ اور پلا ہؤا بیل مل‌جل کر رہینگے اور ننھا بچہ اُنکی پیش‌رویِ کریگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۱۱:‏۶‏)‏ آجکل بھی یہوواہ کی خدمت کرنے والوں کے درمیان اس اقتباس میں بیان کردہ روحانی تحفظ کی علامتی مفہوم میں تکمیل ہوتی ہے۔ اُن کے درمیان آپ یہوواہ کی پُرمحبت فکرمندی کو محسوس کرینگے۔ اگر آپ یہوواہ کیلئے محبت ظاہر کرتے ہیں تو آپ یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ ایک ماں یا باپ کے طور پر آپ کے جذبات کو سمجھے گا اور آپ کی راہ میں آنے والی پریشانیوں اور آزمائشوں سے نپٹنے میں آپکی مدد کریگا۔ اُسکے کلام کا مطالعہ کریں اور اپنی اُمید اُسکی بادشاہت پر رکھیں۔‏

ایک عمدہ نمونہ قائم کرنے سے اپنے بچوں کی ہمیشہ کی زندگی کی راہ پر چلنے میں مدد کریں۔ اگر آپ یہوواہ خدا میں پناہ حاصل کرتے ہیں تو آپکا اور آپکے بچوں کا مستقبل آپکی تمام توقعات سے بڑھ کر ہو گا۔ آپ بھی زبورنویس کی طرح پُراعتماد ہو سکتے ہیں جس نے نغمہ‌سرائی کی:‏ ”‏خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مُرادیں پوری کریگا۔“‏—‏زبور ۳۷:‏۴‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اس مضمون میں استعمال کئے جانے والے نام فرضی ہیں۔‏

b واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ خاندانی خوشی کا راز کتاب کے ۵ تا ۷ ابواب دیکھئے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں