تجہیزوتکفین کی رسومات کی بابت مسیحی نظریہ
کسی عزیز کی اچانک، غیرمتوقع موت خاص طور پر المناک ہوتی ہے۔ یہ صدمہ بعدازاں شدید جذباتی تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ کسی عزیز کو طویل اور تکلیفدہ علالت کے بعد موت میں سوتے دیکھنا اگرچہ مختلف ہے تو بھی دکھ اور کسی کو کھو دینے کا غم باقی رہتا ہے۔
کسی عزیز کی موت کے حالات سے قطعنظر، سوگوار افراد کو تسلی اور حوصلہافزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سوگوار مسیحی کو اُن لوگوں کی وجہ سے بھی تکلیف اُٹھانا پڑتی ہے جو تجہیزوتکفین کے سلسلے میں غیرصحیفائی رسومات کی پابندی کرنے کا اصرار کرتے ہیں۔ بیشتر افریقی ممالک اور دُنیا کے بعض دیگر حصوں میں بھی یہ بات عام ہے۔
ایک سوگوار مسیحی کو تجہیزوتکفین کی غیرصحیفائی رسومات سے گریز کرنے میں کیا چیز مدد دیگی؟ ساتھی ایماندار آزمائش کے اس وقت میں کیسے حمایت کر سکتے ہیں؟ یہوواہ کو شاد کرنے کے خواہاں تمام لوگ ان سوالات کے جوابات میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ”ہمارے خدا اور باپ کے نزدیک خالص اور بےعیب دینداری یہ ہے کہ یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت کے وقت انکی خبر لیں اور اپنے آپ کو دُنیا سے بیداغ رکھیں۔“—یعقوب ۱:۲۷۔
ایک عقیدے سے منسلک
تجہیزوتکفین کی بہت سی رسومات کو باہم مربوط کرنے والا عنصر ایک مشترکہ عقیدہ ہے کہ مُردے آباؤاجداد کے ایک نادیدہ عالم میں زندہ رہتے ہیں۔ بہتیرے اُنہیں خوش کرنے کی خاطر بعض مذہبی رسومات کی ادائیگی کو ایک فریضہ خیال کرتے ہیں۔ یا وہ اُن پڑوسیوں کی ناراضگی مول لینے سے خوفزدہ ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ بعض مذہبی رسومات کی پابندی نہ کرنے کی صورت میں ساری آبادی کو مصیبت برداشت کرنا ہو گی۔
ایک سچے مسیحی کو انسان کے خوف کی وجہ سے خدا کو ناراض کرنے والی رسومات میں حصہ نہیں لینا چاہئے۔ (امثال ۲۹:۲۵؛ متی ۱۰:۲۸) بائبل ظاہر کرتی ہے کہ مُردے بےخبر ہیں کیونکہ یہ بیان کرتی ہے: ”زندہ جانتے ہیں کہ وہ مرینگے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے . . . جو کام تیرا ہاتھ کرنے کو پائے اُسے مقدوربھر کر کیونکہ پاتال میں جہاں تُو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ۔ نہ علم نہ حکمت۔“ (واعظ ۹:۵، ۱۰) اسلئے قدیم وقتوں میں یہوواہ خدا نے اپنے لوگوں کو مُردوں کو خوش کرنے یا اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کرنے کے خلاف آگاہ کِیا تھا۔ (استثنا ۱۴:۱؛ ۱۸:۱۰-۱۲؛ یسعیاہ ۸:۱۹، ۲۰) یہ بائبل سچائیاں تجہیزوتکفین کی بہت سی عام رسومات سے متصادم ہیں۔
”جنسی صفائی“ کی بابت کیا ہے؟
وسطی افریقہ کے بعض ممالک میں سوگوار شریکِحیات سے مُتوَفی کے کسی قریبی عزیز کیساتھ جنسی مباشرت کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ یہ یقین کِیا جاتا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مُردہ شخص پسماندہ خاندان کو نقصان پہنچائیگا۔ اس مذہبی رسم کو ”جنسی صفائی“ کا نام دیا جاتا ہے۔ تاہم بائبل شادی سے باہر کسی بھی جنسی تعلق کو ”حرامکاری“ قرار دیتی ہے۔ چونکہ مسیحیوں کو ”حرامکاری سے بھاگنا“ ہے لہٰذا وہ دلیری کیساتھ اس رسم کے خلاف آواز اُٹھاتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۶:۱۸۔
مرسی نامی ایک بیوہ پر غور کریں۔a جب ۱۹۸۹ میں اُسکا شوہر وفات پا گیا تو رشتےداروں نے اُس سے ایک رشتےدار کیساتھ جنسی صفائی کی رسم ادا کرنے کا تقاضا کِیا۔ اُس نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ رسم خدا کے آئین کے خلاف ہے۔ رشتےدار غموغصے کے عالم میں اُسے سخت بُرابھلا کہتے ہوئے چلے گئے۔ ایک مہینے کے بعد اُنہوں نے اُسکے گھر پر حملہ کر کے اُسکے گھر کی لوہے کی چھت اُتار کر لے گئے۔ ”تمہارا مذہب تمہاری فکر کر سکتا ہے،“ اُنہوں نے کہا۔
کلیسیا نے مرسی کو تسلی دی اور اُسے ایک نیا گھر تعمیر کر دیا۔ پڑوسی اس قدر متاثر ہوئے کہ بعض نے اس کام میں حصہ لینے کا فیصلہ کِیا اور چھت کیلئے گھاس کا انتظام کرنے والوں میں کیتھولک سردار کی بیوی پیشپیش تھی۔ مرسی کا وفادارانہ چالچلن اُسکے بچوں کیلئے حوصلہافزائی کا باعث بنا۔ اُن میں سے چار نے یہوواہ خدا کیلئے کچھ عرصہ پہلے ہی مخصوصیت کی ہے جبکہ ایک نے حال ہی میں منسٹریل ٹریننگ سکول سے تربیت حاصل کی ہے۔
جنسی صفائی کی اس روایت کے سبب بعض مسیحیوں نے خود کو ایک بےایمان سے شادی کیلئے دباؤ میں آنے کی اجازت دی ہے۔ مثلاً ایک رنڈوا شخص جو ۷۰ کے دہے میں ہے، اُس نے ایک نوجوان لڑکی سے عجلت میں شادی کر لی جو اُسکی بیوی کی عزیز تھی۔ ایسا کرنے سے وہ یہ دعویٰ کرنے کے لائق تھا کہ اُس نے ”جنسی صفائی“ کی رسم ادا کی ہے۔ تاہم یہ روش بائبل کی اس مشورت سے ٹکراتی ہے کہ مسیحیوں کو ”صرف خداوند میں“ بیاہ کرنا چاہئے۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳۹۔
شببیداری کی رسومات
بہتیرے ممالک میں سوگوار اشخاص مُتوَفّی کے گھر جمع ہو جاتے ہیں اور شب بیداری کرتے ہیں۔ ایسی شب بیداری میں اکثر ضیافت اور موسیقی شامل ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ یقین کِیا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے مُردہ شخص خوش ہوگا اور پسماندہ خاندان کالے جادو سے محفوظ رہے گا۔ مُردہ شخص کی مقبولیت حاصل کرنے کیلئے خوشامدانہ تقاریر کی جاتی ہیں۔ ایک تقریر کے بعد سوگوار لوگ ایک مذہبی گیت گاتے ہیں جس کے بعد دوسری تقریر پیش کی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ پو پھٹنے تک جاری رہتا ہے۔b
ایک سچا مسیحی شب بیداری کی ایسی رسومات میں حصہ نہیں لیتا کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے کہ مُردے زندہ لوگوں کی مدد کرنے یا اُنہیں نقصان پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔ (پیدایش ۳:۱۹؛ زبور ۱۴۶:۳، ۴؛ یوحنا ۱۱:۱۱-۱۴) صحائف ارواح پرستی کے کاموں کی مذمت کرتے ہیں۔ (مکاشفہ ۹:۲۱؛ ۲۲:۱۵) تاہم ایک بیوہ مسیحی خاتون شاید دوسروں کو ارواحی کاموں کا آغاز کرنے سے روکنا مشکل پائے۔ وہ اُس کے گھر میں شببیداری کی رسم ادا کرنے کیلئے اصرار کر سکتے ہیں۔ اس سوگوار شخص کی اس اضافی مشکل کو برداشت کرنے میں ساتھی مسیحی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
کلیسیائی بزرگ اکثر رشتےداروں اور پڑوسیوں سے استدلال کرنے سے سوگوار مسیحی خاندان کی حمایت کرنے کے قابل رہے ہیں۔ ایسی باتچیت کے بعد شاید یہ لوگ خاموشی کیساتھ وہاں سے جانے پر آمادہ ہوں اور تجہیزوتکفین کی عبادت کیلئے پھر کسی دن جمع ہوں۔ تاہم اگر کوئی لڑنے مرنے پر آمادہ ہو تو کیا ہو؟ مزید دلائل دینے کی کوششیں تشددآمیز کارروائی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ’مناسب نہیں کہ خداوند کا بندہ جھگڑا کرے بلکہ بدی کے وقت بھی قائم رہے۔‘ (۲-تیمتھیس ۲:۲۴) پس اگر تعاون نہ کرنے والے رشتہدار جارحانہ طور پر معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو ایک مسیحی بیوہ اور اُسکے بچے شاید اسے روکنے کے قابل نہ ہوں۔ تاہم وہ اپنے گھر میں انجام پانے والی جھوٹے مذہب سے وابستہ کسی بھی تقریب میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ وہ بائبل کے اس حکم کی پابندی کرتے ہیں: ”بےایمانوں کے ساتھ ناہموار جوئے میں نہ جتو۔“—۲-کرنتھیوں ۶:۱۴۔
اس اصول کا اطلاق تدفین پر بھی ہوتا ہے۔ یہوواہ کے گواہ جھوٹے مذہب کے کسی خادم کے تحت گیت گانے، دُعا کرنے یا دیگر رسومات کی ادائیگی میں حصہ نہیں لیں گے۔ اگر قریبی اہلِخانہ جو مسیحی ہیں عبادت پر حاضر ہونا ضروری خیال کرتے ہیں تو بھی وہ اس میں حصہ نہیں لیتے۔—۲-کرنتھیوں ۶:۱۷؛ مکاشفہ ۱۸:۴۔
تجہیزوتکفین کی باوقار عبادت
یہوواہ کے گواہ تجہیزوتکفین کی جس عبادت کا اہتمام کرتے ہیں اُس میں مُردوں کو خوش کرنے والی رسومات شامل نہیں ہوتیں۔ کنگڈمہال، جنازہگاہ، مُتوَفی کی رہائشگاہ یا قبرستان میں بائبل پر مبنی ایک تقریر دی جاتی ہے۔ اس تقریر کا مقصد سوگواروں کو موت اور قیامت کی اُمید کے متعلق بائبل کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے تسلی دینا ہے۔ (یوحنا ۱۱:۲۵؛ رومیوں ۵:۱۲؛ ۲-پطرس ۳:۱۳) صحائف پر مبنی گیت گایا جا سکتا ہے اور عبادت کو تسلیبخش دُعا کیساتھ ختم کِیا جا سکتا ہے۔
حال ہی میں یہوواہ کی ایک گواہ کیلئے ایسی ہی عبادت کا انتظام کِیا گیا جو جنوبی افریقہ کے صدر نیلسن منڈیلا کی سب سے چھوٹی بہن تھی۔ عبادت کے بعد صدر نے بڑے خلوص سے مقرر کا شکریہ ادا کِیا۔ بہت سے معزز اور اعلیٰ افسران موقع پر موجود تھے۔ کابینہ کے ایک رکن نے کہا: ”مَیں نے اس سے قبل ایسا باوقار جنازہ کبھی نہیں دیکھا۔“
کیا ماتمی لباس قابلِقبول ہے؟
یہوواہ کے گواہ اپنے عزیزوں کی موت پر ماتم کرتے ہیں۔ یسوع کی طرح شاید وہ روتے بھی ہیں۔ (یوحنا ۱۱:۳۵، ۳۶) تاہم وہ کسی ظاہری چیز کے ذریعے اپنے غم کے علانیہ اظہار کو ضروری خیال نہیں کرتے۔ (مقابلہ کریں متی ۶:۱۶-۱۸۔) بیشتر ممالک میں مُردوں کو خوش کرنے کیلئے بیواؤں سے خاص ماتمی لباس پہننے کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسا لباس تجہیزوتکفین کے بعد کئی مہینوں یا بعضاوقات ایک سال تک پہنا جاتا ہے اور اسے اتارنا ایک اور ضیافت کا موقع بخشتا ہے۔
غم کے اظہار میں ناکامی کو مُردہ شخص کے خلاف گناہ تصور کِیا جاتا ہے۔ اسی سبب سے سوازیلینڈ کے بعض علاقوں میں قبائلی سرداروں نے یہوواہ کے گواہوں کو اُنکے گھروں اور زمین سے بےدخل کر دیا۔ تاہم دیگر جگہوں پر رہنے والے انکے روحانی بھائیوں کی طرف سے ان وفادار مسیحیوں کیلئے ہمیشہ فکرمندی کا اظہار کِیا گیا ہے۔
سوازیلینڈ کی اعلیٰ عدالت نے یہ بیان دیتے ہوئے یہوواہ کے گواہوں کے حق میں فیصلہ دیا ہے کہ اُنہیں اپنے گھروں اور زمینوں پر واپس جانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ایک اور مقدمے میں ایک مسیحی بیوہ کو اُس کے مکان میں رہنے کی اجازت دی گئی جب اُس نے اپنے مرحوم شوہر کی طرف سے ایک خط اور ٹیپ پر ریکارڈ بیان پیش کِیا جس میں اُس کے شوہر نے واضح طور پر بیان کِیا تھا کہ اُس کی بیوی ماتمی لباس نہیں پہنے گی۔ پس وہ یہ ثابت کرنے کے قابل ہوئی کہ وہ اپنے خاوند کا احترام کرتی تھی۔
جہاں غیرصحیفائی کام عام ہیں وہاں کسی شخص کا اپنی موت سے قبل ہی تجہیزوتکفین سے متعلق واضح ہدایات وضع کر دینا انتہائی قدروقیمت کا حامل ہے۔ کیمرون کے ایک باشندے وکٹر کی مثال پر غور کریں۔ اُس نے وہ پروگرام تحریر کِیا جس پر اُس کی تجہیزوتکفین کے وقت عمل کِیا جانا تھا۔ اُس کے خاندان میں بہت سے ایسے بااثر افراد تھے جو مُردوں کے حوالے سے پُختہ رسومات کی پابند ثقافت کا حصہ تھے جس میں انسانی کھوپڑیوں کی پرستش کرنا بھی شامل ہے۔ چونکہ وکٹر خاندان کا ایک معزز شخص تھا پس وہ جانتا تھا کہ اُسکی کھوپڑی کیساتھ بھی ایسا ہی کِیا جائیگا۔ اسلئے اُس نے واضح ہدایات دیں کہ یہوواہ کے گواہوں کو اُسکے تجہیزوتکفین کے معاملات کو کس طرح نپٹانا چاہئے۔ اس چیز نے اُسکی بیوی اور بچوں کیلئے حالات کو سہل بنا دیا اور اُنکے علاقے میں یہ اچھی گواہی ثابت ہوئی۔
غیرصحیفائی رسومات سے بچیں
بائبل کا علم رکھنے والے بعض لوگ مختلف نظر آنے سے ڈرتے ہیں۔ اذیت سے بچنے کیلئے، اُنہوں نے یہ تاثر دیتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ مُردے کیلئے روایتی شببیداری کی رسم کی پابندی کر رہے ہیں۔ اگرچہ سوگوار اشخاص کو تسلی دینے کیلئے ملاقات کرنا قابلِتعریف ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ تجہیزوتکفین سے قبل ہر شب مُتوَفی کے گھر عبادت کا بندوبست کِیا جائے۔ ایسا کرنا مشاہدین کیلئے ٹھوکر کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ وہ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ بائبل مُردوں کی حالت کی بابت جو کچھ کہتی ہے، شرکاء درحقیقت اُس پر یقین نہیں رکھتے۔—۱-کرنتھیوں ۱۰:۳۲۔
بائبل مسیحیوں کی حوصلہافزائی کرتی ہے کہ وہ زندگی میں خدا کی پرستش کو مقدم رکھیں اور اپنے وقت کا دانشمندانہ استعمال کریں۔ (متی ۶:۳۳؛ افسیوں ۵:۱۵، ۱۶) تاہم، بعض جگہوں پر تجہیزوتکفین کے باعث کلیسیا کی کارکردگی پورے ہفتے یا اس سے زیادہ وقت کیلئے تعطل کا شکار ہو جاتی ہے۔ افریقہ میں یہ مسئلہ غیرمعمولی نہیں ہے۔ جنوبی امریکہ سے ایک جنازے کے سلسلے میں رپورٹ یوں بیان کرتی ہے: ”تین کلیسیائی اجلاسوں پر حاضری بہت ہی کم تھی۔ میدانی خدمتگزاری میں تقریباً دس دن تک کوئی کام نہیں کِیا گیا۔ کلیسیا سے باہر کے لوگوں اور بائبل طالبعلموں کو بھی ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو تجہیزوتکفین میں حصہ لیتے دیکھکر حیرت اور مایوسی ہوئی تھی۔“
بعض علاقوں میں سوگوار خاندان تجہیزوتکفین کے بعد شاید چند قریبی دوستوں کو ہلکےپھلکے کھانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔ تاہم افریقہ کے بیشتر حصوں میں تجہیزوتکفین میں شرکت کرنے والے سینکڑوں لوگ مُتوَفی کے گھر جاتے اور ضیافت کی توقع رکھتے ہیں جس میں عموماً جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ مسیحی کلیسیا سے رفاقت رکھنے والے بعض اشخاص نے یہ تاثر دیتے ہوئے اس رسم کی تقلید کی ہے کہ وہ مُردے کی روح کو خوش کرنے کیلئے روایتی ضیافت کا اہتمام کر رہے ہیں۔
یہوواہ کے گواہ تجہیزوتکفین کی جس عبادت کا بندوبست کرتے ہیں وہ سوگوار خاندان پر کسی مالی بوجھ کا باعث نہیں بنتی۔ پس تجہیزوتکفین کے بےتحاشا اخراجات پورے کرنے کیلئے وہاں موجود لوگوں سے پیسے جمع کرنے کا انتظام کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر ایک غریب بیوہ ضروری اخراجات برداشت نہیں کر سکتی تو بِلاشُبہ کلیسیا کے ارکان اُسکی مدد کر کے خوش ہونگے۔ اگر ایسی مدد ناکافی ہو تو شاید بزرگ حقیقی ضرورتمندوں کی مالی مدد کرنے کا انتظام کریں۔—۱-تیمتھیس ۵:۳، ۴۔
تجہیزوتکفین کی رسومات ہمیشہ بائبل اصولوں سے متصادم نہیں ہوتیں۔ تاہم جب ایسا ہوتا ہے تو مسیحیوں سے صحائف کی مطابقت میں عمل کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔c (اعمال ۵:۲۹) اگرچہ ایسا کرنا اضافی تکلیف کا باعث بنتا ہے تو بھی خدا کے بہتیرے خادم اسکی تصدیق کر سکتے ہیں کہ اُنہوں نے کامیابی سے ان آزمائشوں کا مقابلہ کِیا ہے۔ اُنہوں نے یہوواہ کی مدد سے ایسا کِیا ہے جو ”ہر طرح کی تسلی کا خدا ہے“ اور ساتھی ایمانداروں کی مدد سے جنہوں نے مصیبت کے دوران اُنہیں تسلی دی ہے۔—۲-کرنتھیوں ۱:۳، ۴۔
[فٹنوٹ]
a اس مضمون میں استعمال کئے جانے والے نام فرضی ہیں۔
b بعض لسانیگروہوں اور ثقافتوں میں اصطلاح ”شببیداری“ کا اطلاق سوگوار افراد کو تسلی دینے کیلئے مختصر ملاقات کرنے پر بھی ہوتا ہے۔ اس میں شاید کوئی غیرصحیفائی بات شامل نہ ہو۔ مئی ۲۲، ۱۹۷۹ کے اویک! کے صفحات ۲۷-۲۸ دیکھیں۔
c جب تجہیزوتکفین کی رسومات کے باعث ایک مسیحی پر سنگین آزمائشوں کے آنے کی توقع ہو تو بزرگ بپتسمہ کے اُمیدوار کو آئندہ پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے تیار کر سکتے ہیں۔ جب ان نئے اشخاص سے بائبل کی بنیادی تعلیمات کتابچے سے گفتگو کی جائے تو ”جان، گناہ اور موت،“ اور ”بینالاعتقادی“ کے حصے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان دونوں میں گفتگو کے لئے اختیاری سوالات شامل ہیں۔ بزرگ تجہیزوتکفین کے سلسلے میں غیرصحیفائی رسومات کی بابت معلومات فراہم کر سکتے ہیں تاکہ بائبل طالبعلم اس بات سے واقف ہو جائے کہ خدا کا کلام اُس سے ایسی صورتحال میں کیا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
[صفحہ 10 پر بکس]
اپنے مضبوط ایمان کیلئے برکت پائی
سیبونجلی سوازیلینڈ میں رہنے والی ایک دلیر بیوہ ہے۔ حال ہی میں اپنے شوہر کی وفات کے بعد اُس نے ایسی رسومات کی پابندی کرنے سے انکار کر دیا جنہیں بہتیرے مُردوں کو خوش کرنے کیلئے ادا کرتے تھے۔ مثلاً اُس نے اپنے سر کے بال نہ منڈوائے۔ (استثنا ۱۴:۱) اس بات پر آٹھ افرادِخانہ انتہائی برہم ہوئے اور زبردستی اُسکا سر منڈ دیا۔ علاوہازیں اُنہوں نے سیبونجلی کو تسلی دینے کیلئے آنے والے یہوواہ کے گواہوں کو بھی ملاقات سے منع کر دیا۔ تاہم بادشاہتی پیغام میں دلچسپی رکھنے والے دیگر اشخاص اُس سے ملکر اور بزرگوں کی طرف سے حوصلہافزائی کے خطوط اُسے پہنچا کر خوش ہوتے تھے۔ اُس دن ایک حیرانکُن بات واقع ہوئی جس دن سیبونجلی نے ماتمی لباس پہننا تھا۔ خاندان کے ایک بااثر شخص نے اظہارِغم کی مروجہ روایات اپنانے سے اسکے انکار پر اُسکی خواہش کے مطابق غور کرنے کیلئے ایک اجلاس بلایا۔
سیبونجلی بیان کرتی ہے: ”اُنہوں نے پوچھا کہ کیا میرے مذہبی نظریات مجھے اظہارِغم کیلئے سیاہ ماتمی لباس پہننے کی اجازت دیتے ہیں۔ جب مَیں نے اپنا نقطۂنظر اُن پر واضح کر دیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے مجبور نہیں کرینگے۔ مَیں حیران تھی کہ اُن سب نے مجھ سے معذرت کی کہ اُنہوں نے میری خواہش کے خلاف زبردستی میرا سر منڈوا دیا تھا۔ اُن تمام نے مجھ سے معافی مانگی۔“ بعدازاں سیبونجلی کی بہن نے تسلیم کِیا کہ یہوواہ کے گواہوں کا مذہب سچا ہے اور بائبل مطالعے کی درخواست کی۔
ایک اَور مثال پر غور کریں: جنوبی افریقہ کے بینجمن نامی ایک ۲۹سالہ شخص نے اپنے والد کی اچانک وفات کی خبر سنی۔ اُس وقت بینجمن اپنے خاندان میں واحد گواہ تھا۔ تدفین کے وقت سب سے توقع کی گئی تھی کہ وہ قبر کے گرد قطار بنا کر قبر پر ایک مٹھی مٹی ڈالیں۔d تدفین کے بعد خاندان کے تمام قریبی افراد نے اپنے سر منڈوا لئے تھے۔ چونکہ بینجمن نے ان مذہبی رسومات میں حصہ نہیں لیا لہٰذا پڑوسیوں اور افرادِخانہ کا خیال تھا کہ اُسکے مُردہ باپ کی روح اُسے سزا دے گی۔
بینجمن بیان کرتا ہے ”یہوواہ پر بھروسہ رکھنے کی وجہ سے مجھے کچھ بھی نہ ہوا۔“ خاندان کے افراد نے مشاہدہ کِیا کہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اُن میں سے بہتیروں نے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعہ شروع کِیا اور اپنی مخصوصیت کے اظہار میں بپتسمہ لیا۔ تاہم، بینجمن نے کیا کِیا؟ اُس نے کُلوقتی خدمت اختیار کر لی۔ گزشتہ چند سالوں سے اُسے سفری نگہبان کی حیثیت سے یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں کی خدمت کرنے کا عمدہ شرف حاصل ہے۔ [فٹنوٹ]
d بعض لوگ قبر پر کچھ پھول رکھنے۔ مٹی ڈالنے اور اگر بتیاں جلانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ تاہم، اگر لوگ اسے مُردوں کی روحوں کو خوش کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں یا یہ اُس مذہبی تقریب کا حصہ ہے جو جھوٹے مذہب کا کوئی خادم ادا کرتا ہے تو ایک مسیحی کو اس سے گریز کرنا چاہئے۔—مارچ ۲۲، ۱۹۷۷ کے اویک! کے صفحہ ۱۵ کو دیکھیں۔